بند کریں
منگل فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اے کیہ کری جانا ایں !
حکمرانوں کے غیر ملکی دوروں پر عوام کا سوال۔۔۔۔۔ موجودہ حکمران بھی غیر ملکی دوروں پر جاتے ہوئے اپنے اہل خانہ اور سرکار دربار کے وابستگان اور حاثیہ بردراروں کو ساتھ لے جانا نہیں بھولتے
محمد نعیم مرزا :
معیشت پھل پھول رہی ہو، عوام کے روز وشب معاشی تفکرات سے آزاد نہیں تو کم از کم صورتحال اُن کیلئے قابل برداشت ہو، بیروزگاری اور امن و امان کے مسائل کے مکمل خاتمے کی بجائے اُن میں کمی ہی دکھائی دے رہی ہو تو حکمرانوں کے غیر ملکی دورے عوام پر گراں نہیں گزرتے ۔ صورتحال اس کے برعکس ہو تو حکمرانوں کے ہر غیر ملکی دورے پر عوام کو غصے ،بے بسی اور محرومی کے دورے لامحالہ پڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے بانی اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو بھی اکثر غیر ملکی دوروں پر تشریف لے جاتے تھے۔ اُن کے دوروں کی نوعیت معاشی سے زیادہ سفارتی ہوتی تھی۔ اُن کے ہمراہ اُن کے اہلخانہ اور دیگر مصاجبین کی فوج ظفر موج بھی ہوا کرتی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے سانحہ مشرقی پاکستان سے قبل اور بعد میں متعدد غیر ملکی دورے کئے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے ایسے ہی دوروں پر اُس وقت پنجابی زبان کے معروف شاعر اُستاد دامن نے اپنی ایک نظم میں بھرپور انداز میں تبصرہ کیا تھا۔
یہ نظم حکمرانوں کے دوروں پر عوام کے ردعمل کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ استاد دامن نے حکمرانوں کا دامن کچھ یوں کھینچ کر اُنہیں عوام کی بیزاری کا احساس دلانے کی کوشش کی تھی:
اے کیہ کری جانا ایں!
اے کیہ کری جانا ایں!
کدے شملے جاناں ایں
کدے مری جاناں ایں
لاہی کھیس جاناں ایں
کھچی دری جاناں ایں
اے کیہ کری جانا ایں!
اے کیہ کری جانا ایں!
دھسا دھس جاناں ایں
دھسا دھوس جاناں ایں
جتھے جاناں ایں
توں بن کے جلوس جاناں ایں
اے کیہ کری جانا ایں!
اے کیہ کری جانا ایں!
کدی چین جاناں ایں
کدی روس جاناں ایں
بن کے توں امریکی
اُڈائی قوم دا توں پھلوس جاناں ایں
اے کیہ کری جاناایں!
اے کیہ کری جانا ایں!
لاہی کوٹ جاناں ایں
ٹنگی باہواں جاناں ایں
بڑھکاں مار دا ایں
نالے ڈری جاناں ایں
اے کیہ کری جانا ایں!
اے کیہ کری جانا ایں!
استاد دامن کی یہ نظم آج بھی اُسی قدر درست اور موٴثر ہے جس قدر یہ بھٹو صاحب کے زمانے میں تھی کہ انداز حکمرانی آج بھی وہی ہے ،چہرے اگرچہ بدل گئے ہیں۔
موجودہ حکمران بھی غیر ملکی دوروں پر جاتے ہوئے اپنے اہل خانہ اور سرکار دربار کے وابستگان اور حاثیہ بردراروں کو ساتھ لے جانا نہیں بھولتے اور ان دوروں کا بنیادی مقصد یا تو عوام کی نظروں سے پوشیدہ رکھا جاتا ہے یا اُن حکمرانوں کو خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ پاکستان میں چند روز قیام کے بعد پھر غیر ملکی دورے پر کیوں روانہ ہو جاتے ہیں ؟
وزیراعظم کا حالیہ دورہ چین اور اس کے فوراََ بعد دورہ جرمنی کے بعد بھی عوام کا ردعمل وہی ہے جو استاد دامن کی نظم میں بخوبی بیان کیا گیا ہے۔
دورہ چین کے دوران میں دونوں ممالک کے درمیان مجموعی طورپر 4 5 ارب ڈالر مالیت کے مختلف معاہدے طے پائے لیکن جرمنی نے یہ کہہ کر ٹرخا دیا کہ پاکستان میں اَمن و امان کی صورتحال بیرونی سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جہاں تک چین کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں کا تعلق ہے تو عوام آج تک یہ بھی نہیں جانتے کہ 45ارب ڈالر ایک مخلص دوست ملک کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری ، ایک سچے ہمدرد کی جانب سے ایک غریب دوست ملک کیلئے امداد ہے یا ایک سخت گیر ساہوکار کی جانب سے بھاری سود پر دیا جانے والا قرض ہے؟
اس میں شک نہیں ہے کہ پاکستان اس وقت توانائی کے شدید اور معاشی حوالے سے شدید ترین بحران کا شکار ہے۔
ان دونوں بحرانوں سے نجات کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ملک کے اندار بد عنوانی ،نااہلی اور اقر باروری کا خاتمہ کیا جائے اور زیادہ سے زیادی غیر ملکی سرمایہ کاری پاکستان لائی جائے۔ ہمارے موجودہ وسائل یکے بعد دیگرے آنے والی فوج وسول حکومتوں کی انااہلی ،سیاسی مفاد پرستی اور شرمناک بدعنوانی کے باعث اس قدر سُکڑ چکے ہیں کہ ان کو نچوڑ کر مزید کچھ برآمد کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہو چکا ہے ۔
ان وسائل کو بچانے اور اُنہیں دوبارہ کار آمد بنانے کیلئے اُن کی رگوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی صورت نیاخون شامل کرنا ضروری ہے لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے ایسی شرائط قبول نہ کی جائیں کہ مستقبل میں ان کو پورا کرنا ناممکن ہوجائے۔
ماضی میں پاکستان ریلویز کیلئے جوانجن خریدے گئے تھے۔ اُن میں سے زیادہ تر ناکارہ تھے اور ریلویز کو چلانے کی بجائے اُس کو مکمل طور پر گرانے کا باعث بن گئے۔
اُن انجنوں کی خریداری میں چینی کمپنیوں نے پاکستانی حکام کو بھاری کمشن ادا کی تھی۔
” چین اپنا یار ہے “ لیکن یاری نبھانے کیلئے ہم اپنی قربانی پیش نہیں کر سکتے ۔ چین دیرینہ اورسفارتی سطح پر پاکستان کے کام آتا ہے تو پاکستان بھی ہمیشہ چینی مفادات کے عالمی سطح پر تحفظ کیلئے اُسکے شانہ بشانہ کھڑا ہوتا ہے۔ آج پاکستان اگر اپنے بقاکی جنگ لڑرہا ہے تو یہ بات چین کو سمجھنی چاہیے کہ پاکستان کی داخلی سلامتی بقا اور ترقی و خوشحالی چین کیلئے بھی ضروری ہے کیونکہ خاکم بدھن اگر پاکستان اپنا دفاع کرنے کے قابل نہیں رہتا یا معاشی بدحالی اپنی انتہا کو پہنچ کر ریاست پاکستان کو مفلوف کر کے رکھ دیتی ہے تو اس کے نتیجے میں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ چین کی سلامتی کو بھی خطرات لاحق ہونگے۔
چینی قیادت یہ بات اچھی طرح سمجھتی ہے اور یہی وہ ہے کہ اُسے عوالمی سیاسی وسفارتی سطح پرپاکستان کی حمایت کرتے ہوئے کسی جھجک کا سامنا نہیں ہوتا۔ ضرورت اس اَمر کی ہے کہ پاکستان کے ساتھ تجارتی و اقتصادی معاہدات کرتے ہوئے پاکستانی عوام اور ریاست کی مشکلات کو ذہن میں رکھا جائے۔ دوسری جانب پاکستانی حکمرانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے معاملات میں شفافیت پیدا کریں، بد عنوانی اورکرپشن کا کاتمہ کریں اُمنگوں کی ترجمانی اور ملکی مفادات کی نگرانی اور تحفظ کا فریضہ بطریق احسن سرانجام دیں۔

جرمنی اور برطانیہ کا پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک ہی موقف ہے ۔ ان ممالک کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ پاکستان اس وقت دہشتگردی کے خلاف ایک فیصلہ کن اور بھر پور جنگ لڑ رہا ہے ۔ اگر خدا نخواستہ اس جنگ میں پاکستان ناکام ہو گیا توا س کے نتیجے میں عالمی امن کو ایک ایسا شدید دھچکا پہنچے گا کہ جس کے اثرات شاید کبھی پوری طرح ختم نہیں ہونگے۔
یورپی ممالک اور امریکہ کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ پاکستان اس وقت عالمی امن کی بقاکی جنگ لڑنے میں مصروف ہے اور ایسے وقت میں اُسے معاشی بحران سے بچانے کی اشدضرورت ہے تاکہ وہ یکسوئی سے اس جنگ میں کامیابی حاصل کر سکے لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے ۔ امریکہ پہلے تو جنگ اور دہشتگردی کو ہماری سرحدوں کے اندر لے آیا اور اب پاکستان کو ایک مستقل پریشانی میں مبتلا کرنے کی عرض سے بھارت کی پیٹھ ٹھونک رہا ہے ۔
امریکہ ، یورپ اور پاکستان کے بعض ہمسایہ ممالک کے”عملی تعاون “ سے بھارت نہ صرف پورے پاکستان بلکہ خاص طور پر بلوچستان میں نفرتوں، تشدد اور فرقہ وارانہ منافرت کی آگ کو ہوا دے رہا ہے اور اُس کامربی و سرپرست امریکہ پاکستان کو ہی دہشتگردوں میں ملوث ہونے کی جھوٹی اور بے بنیاد رپورٹس جاری کر رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ہمارے حکمران اپنے غیر ملکی دوروں کے دوران میں پاکستان کے حالات کی خرابی میں غیر ملکی ہاتھ ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہونے کے باوجود احتجاج کیوں نہیں کرتے؟ اس کا ممکنہ جواب یہ ہے کہ حکمرانوں نے ذاتی مفادات ، غیر بنکوں میں رکھا سرمایہ اور دیار غیر میں وسیع وعریض کاروبار اور جائیدادوں نے اُن لے لب سی رکھے ہیں۔
ہمارے حکمران عوام کے سامنے بقول استاد دامن:
ٹنگی باہواں جاناں ایں
بڑھکاں مار دا ایں
نالے ڈری جانا ایں
کی تصویربنے ہوئے ہیں۔اُن کے غیر ملکی دوروں کے نتیجے میں نہ توابھی تک پاکستان میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنا شروع ہوئی ہیں اور نہ ہی یہاں امن کی فاختہ کی اُڑانیں دیکھنے میں آرہی ہیں لیکن دورے ہیں کہ پے درپے جاری ہیں اور عوام بے اختیار یہ کہنے پرمجبور ہیں کہ
اے کیہ کری جاناں ایں !
تاریخ اشاعت: 2014-11-22

(0) ووٹ وصول ہوئے