بند کریں
منگل جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
دوررس اثرات کے حامل زرعی پیکج کا اعلان
حال ہی میں وزیراعظم پاکستان نے کسانوں کے مسائل کے حل کے لیے تاریخی پیکچ کا اعلان کیا۔ اس ریلیف پیکچ کی تیاری کے لیے تمام فریقین کو اعتماد میں لیا گیا اور اس میں تمام سٹیک ہولڈرز کی رائے بھی شامل کی گئی
حاجی میاں محمد طارق:
پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس کی ترقی کا راز زراعت پر ہے زرعی معیشت کو فروغ دینے کے لیے اس پر خاص توجہ کی ضرورت ہے افسوس کہ سابقہ حکومت نے اس پر کوئی توجہ نہ دی جبکہ موجودہ حکومت اس پر نہ صرف بھر پور توجہ دے رہی ہے بلکہ عملی سطح پر بھی کام جار ی ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے ملک کے لاکھوں محنت کش کھیت مزدوروں کی زندگی بدلنے کے لیے تاریخی قدم اٹھایا ہے جس کے زرعی معیشت پر دوررس اثرات مرتب ہو گئے۔
وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ملک کا کسان اور کاشتکار خوشحال ہو گا تو ملک خوشحال اور ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ حال ہی میں وزیراعظم پاکستان نے کسانوں کے مسائل کے حل کے لیے تاریخی پیکچ کا اعلان کیا۔ اس ریلیف پیکچ کی تیاری کے لیے تمام فریقین کو اعتماد میں لیا گیا اور اس میں تمام سٹیک ہولڈرز کی رائے بھی شامل کی گئی تاکہ ایک بہتر پالیسی عمل میں آسکے۔
حکومت کسانوں کے مسائل سے پوری طرح واقف ہے اور کسانوں کے تمام مسائل کے حل کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھانے کے لیے عملی سطح پرکام ہورہا ہے۔ زرعی پیکچ کے تحت چھوٹے کسانوں کو بہت فائدہ ہو گاخاص تو پر 12.5 ایکڑ سے کم زمین رکھنے والے کسانوں کے مسائل حل ہو جائیں گے۔ چھوٹے کسانوں کے لیے 341 ارب روپے کے ریلیف پیکج کسانوں کو براہ راست نقد امدا کے ساتھ ساتھ آسان زرعی قرضے بھی فراہم کئے جائیں گے۔
اوریہ ون ونڈو آپریشن ہو گا جس سے زرعی شعبہ میں کافی ترقی کی اُمید ہے اور کسان بھی خوشحال ہو گا۔ اس پیکج کے تحت ملک میں زراعت کو جدید اور سائنسی بنیادوں پر استوار کرنے کیساتھ ساتھ تمام بڑی اور چھوٹی فصلوں کی پیداواری لاگت میں کمی آئے گئی نہ صرف چھوٹے کاشتکاروں کا منافع بڑھے گا بلکہ موجودہ حکومت کے مثبت اقدامات سے کاشتکاروں کی مشکلات میں کمی بھی آئے گی۔
اور ملک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ کاشتکاری کے جدید طریقے اختیار کرنے سے مقامی زرعی اجناس بین الاقوامی منڈیوں میں مسابقت کے قابل ہو سکیں گی جس سے ملک میں غیر ملکی زرمبادلہ آئے گا۔ وزیراعظم کے ریلیف پیکج پر عملدرآمد سے زراعت پر مبنی صنعت کو فروغ ملے گا۔ کھادوں کے مناسب استعمال سے فی ایکڑ پیداوار اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہو گا جبکہ یہ بات بھی بڑے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ دیہی علاقوں سے غربت کے خاتمہ ہوگا۔

وزیراعظم نے اپنی کسان دوست سوچ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے 314ارب روپے کا زرعی پیکج دے کر کھیت کھلیانوں میں خوشی کی لہر دوڑے گی۔ منتخب حکومت نے اپنا وعدہ پورا کیا اور وعدے کے مطابق زرعت کے شعبے میں انقلابی اقدامات کر کے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا زرعی ریلیف پیکج ملک میں سبز انقلاب برپا کر دے گا اس سے پاکستان میں کسانوں اور کاشتکاروں کی تقدیر بدل جائے گئی پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ حکومت پنجاب نے صحت کے شعبہ پر کام کیا جس کا ثبوت اخبارات کی شہ سرخیاں ہیں۔

نیشنل ہیلتھ انشورنس کا پروگرام پہلے مرحلے پر 23 اضلاغ میں چلے گا جسے بعد میں پھیلایا جائے گا یہ اربوں روپے کا منصوبہ اس میں شفافیت کو یقینی بنایا جاے گا لیکن دوسری طرف مخالفت برائے مخالفت اور تنقید برائے تنقید جاری ہے یہ حکومت پر لگائے گئے الزامات، بیانات، جمہوریت اور جمہوری اداروں پر وار کے مترادف ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ حکومت احتساب کے لیے حاضر ہے۔

دوسری طرف وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے دیہی علاقوں کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ” روڈ پروگرام“ پر پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے دیہی روڈ پروگرامز کے تحت جنوبی پنجاب کے اضلاع کے لیے دس فیصد زائد حصہ رکھنے کا اعلان کیا اورکہا کہ پنجاب حکومت شہری اور دیہی علاقوں کی متوازن ترقی پر عمل پیرا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-09-22

(0) ووٹ وصول ہوئے