بند کریں
اتوار فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
دہشت گردی کو آرمی ایکٹ میں لانے کے لئے ترمیم منظور
اب 21ویں آئینی ترمیم آئین کا حصہ بن چکی ہے جبکہ آرمی ایکٹ 1952ء میں ترمیم کے بعد فوجی عدالتوں کا دائرہ اختیار از سر نو مرتب کیا گیا ہے۔ آئندہ چند دنوں میں نئی فوجی عدالتوں کا قیام بھی عمل میں آجائے گا
نواز رضا:
پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے آئین میں 21 ویں ترمیم اور آرمی ایکٹ 1952ء میں ترمیم کی متفقہ طور پر منظوری کے بعد صدر مملکت کی جانب سے اس کی توثیق کر دی گئی ہے۔ اب 21ویں آئینی ترمیم آئین کا حصہ بن چکی ہے جبکہ آرمی ایکٹ 1952ء میں ترمیم کے بعد فوجی عدالتوں کا دائرہ اختیار از سر نو مرتب کیا گیا ہے۔ آئندہ چند دنوں میں نئی فوجی عدالتوں کا قیام بھی عمل میں آجائے گا۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں آرمی ایکٹ میں ترمیم کر کے فوجی عدالتوں کا دائرہ اختیار بڑھانا غیر معمولی فیصلہ ہے جسے اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے ”کڑوا گھونٹ“ سمجھ کر پی لیا ہے۔ حکومت کو سیاسی جماعتوں کو فوجی عدالتوں کے قیام کے لئے آ مادہ کرنے میں دو ہفتے سے لگ گئے وزیر اعظم محمد نواز شریف کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قومی سیاسی و عسکری قیادت کو ایک ہی صف میں لانے کیلئے تین کانفرنسیں منعقد کرنا پڑیں لیکن جب آئین میں 21ویں ترمیم کے مسودہ میں ”مذہب ، اور فرقے “ کی بنیاد پر دہشت گردی کے الفاظ شامل کئے گئے تو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اتحادی جماعت جمعیت علما ء اسلام (ف) جس نے فوجی عدالتوں کے دائرہ اختیار میں اضافہ کی حمایت کی تھی مولانا فضل الرحمن نے اس خدشے کی بنا پر کہ کل یہی بل دینی مدارس کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے بل کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے سابق وزیر اعظم ذالفقار علی بھٹو کی سالگرہ کی وجہ سے سپیکر قومی اسمبلی سے آئینی ترمیم ایک روز کے لئے موخر کرنے کی استدعا کی جس کے باعث آئین میں 21ویں ترمیم اور آرمی ایکٹ میں ترمیم ایک روز کیلئے موخر کر دی یہ بات قابل ذکر ہے وزیر اعظم محمد نواز شریف آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کی منظوری کرانے کیلئے اپنا دورہ بحرین ایک روز کیلئے موخر کردیا اور بدھ کو بحرین روانہ ہوئے اور وہ اس وقت تک پارلیمنٹ میں موجود رہے جب تک آئین میں 21ویں ترمیم اور آرمی ایکٹ 1952 ء کی ترمیم منظور نہیں کرائی وفاقی وزیر خزانہ و اقتصادی امور سینیٹر محمد اسحق ڈار اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات و قانون و انصاف سینیٹر پرویز رشید نے جمعیت علما ء اسلام (ف) مولانا فضل الرحمن کومطمئن کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں دونوں وزراء سے کہہ دیا ہے وہ آئینی ترمیم سے ”مذہب اور فرقے “ کی بنیاد پر دہشت گردی کے الفاظ نکال دینے کی صورت میں ہی حمایت کر سکتے ہیں بصورت دیگر وہ اس کی حمایت کرنے کا گناہ نہیں کر سکتے۔
حکومت نے آئینی ترمیم سے ”مذہب اور فرقے “ کے الفاظ تو نہیں نکالے لیکن اس بات کی وضاحت کر دی فرقہ کا مطلب کوئی بھی مذہبی فرقہ ہے۔ اس میں فی الوقت نافذ العمل کسی قانون کے تحت رجسٹرڈ شدہ کوئی سیاسی جماعت شامل تصورنہیں ہو گی۔ آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2015کے مسودے میں تبدیلی کرکے اس میں ایسے دہشتگرد ،گروہ یاتنظیم کو گرفت میں لایا گیا ہے جو مذہب یاکسی فرقے کانام استعمال کر ے ، اس سے تعلق کادعویٰ کرے یااس کے تعلق سے پہچانا جائے۔
جبکہ اس نئی شق کو شامل کرکے آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2015،کے ضمن میں دوسال بعد اس کے نافذالعمل رہنے کی گنجائش ختم کر نے کیلئے ایوان کی سادہ اکثریت سے قرارداد بھی منظورکر لی گئی ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں آئینی ترمیم کی مخالفت میں جمعیت علما ء اسلام (ف) کی دیکھا دیکھی جماعت اسلامی نے بھی شرکت نہ کی۔ تحریک انصاف کے ارکان پہلے ہی سپیکر اسمبلی کو استعفے بھجوا چکے ہیں تاہم عمران خان قومی سیاسی و عسکری قیادت کی کانفرنس میں اس آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ 1952ء میں ترمیم کی حمایت کر چکے ہیں۔
یک رکنی جماعت کے قائد شیخ رشید احمد جنہیں ان کے وزیر اعظم محمد نواز شریف کے بارے میں” توہین آمیز“ زبان استعمال کرنے پر اب کسی حکومتی کانفرنس میں مدعو کیا جا تا ہے اور نہ ہی عمران خان انہیں اب کوئی اہمیت دلوا سکے ہیں۔ چنانچہ342 ارکان کے ایوان میں 247 نے آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیئے اور 95ارکان ایوان سے غیر حاضر رہے۔ غیر حاضر ارکان میں کابینہ کے 3 ارکان سمیت مسلم لیگ (ن) کے 11، پی پی پی کے 10، جے یو آئی کے 12،تحریک انصاف کے 34، جماعت اسلامی کے 4، فاٹا کے 2 اور عوامی جمہوری اتحاد ، عوامی مسلم لیگ اور بی این پی کا ایک ایک رکن اسمبلی شامل ہیں۔
یہ بات قابل ذکر ہے جب سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے فوجی عدالتوں کے قیام کیلئے آئین میں 21 ویں ترمیم کے بل کی منظوری کا اعلان کیا تو بعض ارکان فوجی عدالتوں کے حق میں پر جوش انداز میں ڈیسک بجاتے رہے۔جمعیت علماء اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن نے تو آئینی ترمیم کی منظوری کے گناہ میں شریک نہ ہونے پر ” اللہ کا شکر ادا کیا۔
ان کا موقف ہے کہ پارلیمنٹ میں 21ویں آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ ترمیم منظور کرالی گئی مگر دونوں مسودوں کی تیاری کے وقت ہمیں اعتماد میں نہیں لیاگیا۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ آئینی ترمیم میں امتیازی اشارات کو ختم کیاجائے اس سے ملک میں تقسیم پیدا ہوگی، لیکن ان کی بات پر توجہ نہ دی گئی۔ مولانا فضل الرحمن نے آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ 1952ء میں ترمیم میں اپنے آپ کو obstain کر کے اپنی سیاست توبچا لی ہے لیکن ان کے اس اقدام سے حکومت اور جمعیت علما اسلام(ف) کے درمیان فاصلے او رشکوک و شبہات پیدا کر دئیے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا ہے کہ اسلامی پاکستان کو کسی صورت سیکولر پاکستان نہیں بننے دیا جائیگا۔ ماضی قریب میں ہمیں ایل ایف او اور سترھویں ترمیم کا طعنہ دینے والے اب ملٹری کورٹس کا کیا جواز دے سکتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن ایک جہاندیدہ سیاستدان ہیں وہ دورس نتائج کے حامل فیصلے کرتے ہیں انہوں نے جہاں دینی مدارس کی حمایت میں غیر معمولی فیصلہ کیا ہے وہاں مستقبل قریب میں ان کے لئے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں وہ کسی وقت بھی نواز شریف حکومت کو داغ مفارقت دے سکتے ہیں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے بھی 21 مولانا فضل الرحمن کو یقین دئانی کرائی21 ویں آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ 1952ء میں کی جانیوالی ترامیم کا مقصد مساجد مدارس یا دینی جماعتوں کو نشانہ بنانا نہیں ، مولانا فضل الرحمنٰ نے ان کی کوئی بات نہیں مانی ایوان بالا میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے بارے میں پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے ارکان کے دلوں میں ناراضی کے جذ بات پائے جاتے ہیں وہ ان کے خلاف شور شرابہ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔
لہذا کم و بیش ایک سال ہونے کو ہے چوہدری نثار علی خان نے ایوان بالا کے غیر دوستانہ ماحول کی راہ ہی چھوڑ رکھی ہے۔ ایوان بالا میں اپوزیشن نے سانحہ پشاور پر بحث کو سمیٹنے کیلئے بھی وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو ایوان میں آنے پر زور دیا لیکن چوہدری نثار علی خان ایوان میں نہ آئے۔ وزیر اعظم نے چوہدری نثار علی خان کو کسی مشکل میں ڈالنے کی بجائے خود بحث کو سمیٹا۔
اسی طرح آئینی ترمیم کی منظوری کے وقت بھی وزیر اعظم نے خود آئینی ترمیم کے خدو خال پر روشنی ڈالی ، پیپلز پارٹی کے سینیٹر مولا بخش چانڈیو بھی وفاقی وزیر داخلہ کو” حکومت کا لاڈلہ وزیر“ قرار دیتے ہیں لیکن وفاقی وزیر داخلہ ایوان بالا میں آکر سیاسی ٹمپریچر بڑھانا نہیں چاہتے۔ وہ 12مارچ2015ء کا بڑی شدت سے انتظار کر رہے ہیں جب ایوان بالا کی ہیئت ترکیبی تبدیل ہو جائے گی۔
ان کے کئی سیاسی مخالف ریٹائر ہو کر اپنے گھروں میں چکے ہوں گے۔ آئینی ترمیم سے پہلے اور اس ترمیم کے بعد وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا دینی مدارس کی قیادت سے مسلسل رابطہ ہے۔انہوں نے دینی جماعتوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت دینی مدارس کے خلاف نیا محاذ نہیں کھولے گی اور وزارت داخلہ تمام کیسز کا جائزہ لے کرا نہیں فوجی عدالتوں کو بھجوائے گی۔
سینیٹ میں بھی 21 ویں آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ میں ترمیم پرمتفقہ منظو ر ی حاصل ہو گئی ہے۔ ترامیم کے حق میں ایوان بالا کے 78 ارکان نے ووٹ ڈالا جبکہ کسی بھی رکن نے اس کی مخالفت نہیں کی۔ میاں رضا ربانی کا شمار پاکستان پیپلز پارٹی کے ان رہنماؤں میں ہوتا ہے، آمریت کے خلاف جد و جہد جن کی سیاسی زندگی کا طرہ امتیاز ہے۔ میاں رضا ربانی آئینی ترمیم پر بحث کرتے ہوئے تو وہ رو ہی دئیے اور ادھوری تقریر چھوڑ کر چلے گئے۔
میاں رضا ربانی کی بے بسی بلا شبہ جواز رکھتی ہے لیکن انہیں اس بات کا علم ہے کہ ان کے قائد آصف علی زرداری نے زمینی حقائق کو پیش نظر رکھ کر ہی فوجی عدالتوں کے قیام کی حمایت کی ہے، ورنہ ایوان بالا میں پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر یہ آئینی ترمیم منظور نہیں ہو سکتی تھی۔
تاریخ اشاعت: 2015-01-09

(0) ووٹ وصول ہوئے