بند کریں
پیر جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
دہشت گرد کون؟
ہم سوچ کی بجائے حُلیہ کو معیار بنائے ہوئے ہیں پاکستان میں دہشتگردی کے حوالے سے ایک مخصوص ”مائنڈ سیٹ“ بن چکا ہے ۔ ہم اسے مذہب ،فرقہ ،حلیہ اور علاقہ کی بنیاد پر پرکھنے لگے ہیں جو انتہائی خطر ناک ہے۔
اسعد نقوی :
ہمارے ہاں لوگ اور پولیس دونو ں ہی دہشتگردوں کے حوالے سے ذہن میں ایک خاص حلیہ بنائے ہوئے ہیں۔ پولیس ناکوں پر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے دہشتگرد کیلئے محسود، حقانی ،باریش اور بختون ہونا لازمی ہے۔ اس رویہ سے نہ صرف اصل دہشتگردوں کو محفوظ راستہ مل جاتا ہے بلکہ عام شہری کی عزت نفس بھی مجروح ہوتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس اور عوام دونوں کیلئے تربیتی نشستیں اور آگہی مہم شروع کی جائے۔

پاکستان میں دہشتگردی کے حوالے سے ایک مخصوص ”مائنڈ سیٹ“ بن چکا ہے ۔ ہم اسے مذہب ،فرقہ ،حلیہ اور علاقہ کی بنیاد پر پرکھنے لگے ہیں جو انتہائی خطر ناک ہے۔ ہمارے ہاں یہ تصور بھی پایا جانے لگا ہے کہ ہر داڑھی والا شخص دہشتگرد ہے۔ صورتحال اس نہج پر پہنچ گئی ہے کہ پولیس اہلکار تک ناکوں پر کلین شیو شخص کو تا جانے دیتے ہیں لیکن باریش شخص کوروک کر تلاشی لینے لگتے ہیں۔
شہر میں داخلے کے راستوں پر جن گاڑیوں میں باریش شخص بیٹھا ہو یا کسی کے ہاتھ میں تسبیح ہو تو اُسے گاڑی سے اُتار کر کر خطر ناک مجرم کی طرح تلاشی لی جاتی ہے۔ دوسری جانب جو شخص موبائل پر گانے سن رہا ہو اور اس نے موڈرن حلیہ اپنایا ہو اسکے ساتھ پولیس کا رویہ یکسر مختلف ہوتا ہے ۔ ایک طرف تویہ رویہ ہے دوسری طرف چند ماہ قبل ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں بتایاگیا تھا کہ دہشتگرد شہروں میں داخل ہونے کیلئے حلیہ بدل چکے ہیں۔
اب وہ کلین شیو اور ماڈرن برگر حلیے میں آتے ہوئے اپنی منزل تک پہنچ جاتے ہیں۔
ہمارے ہاں صرف باریش افراد کو ہی دہشتگرد نہیں سمجھا جاتا بلکہ قومیت اور علاقائیت کی بنیاد پر بھی اندازے لگائے جاتے ہیں۔ خیبر پختونخوا محب وطن پاکستانیوں سے بھرا ہوا ہے۔ پختون ہر موقع پر پاکستان کیلئے قربانیاں دیتے رہے ہیں ۔ اسکے باوجود صورتحا ل یہ ہے کہ چند افراد کی وجہ سے ساری پختون پٹی کوہی مشکوک سمجھا لیا گیا ہے۔
لوگ اپنے گھر کے نزدیک کسی محنت کش پٹھان کی ریڑھی دیکھنے کے ردادار نہیں ہیں۔ بازاروں میں لوگوں کے اردگرد کوئی پختون ہو تو لوگ محتاط نظر آنے لگتے ہیں۔ہم اس لمحے ڈاکٹر عبدالقدید خان سے لے کر عمران خان تک بے شمار مثالیں بھول جاتے ہیں۔
باریش افراد اور پٹھان کے ساتھ ساتھ کچھ خاص قبائل سے تعلق رکھنے والے محبت وطن پاکستانی بھی ایسی ہی اَذیت کا شکار ہیں۔
تحریک طالبان پاکستان کے سربراہوں اور اہم کمانڈروں میں بیت اللہ محسوس، حکیم اللہ محسو د اور ولی الرحمٰن محسود جیسے نام شامل ہونے کی وجہ سے پولیس اہلکاروں کے نزدیک ہر محسود مشکوک ہو چکا ہے۔ اسی طرح حقانی سلسلے سے تعلق رکھنے والے متعدد علماء کرام اپنی تمام تر امن پسندی کے باوجود اَذیت کا شکار ہیں ۔ محسوس قبیلے کے بہت سے نو جوان اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔
ان میں ڈاکٹر ، انجینئر ،صحافی اور کاروباری افراد بھی شامل ہیں۔ اُن کی حب الوطنی کسی سرٹیفکیٹ کی محتاج نہیں۔ اسی طرح حقانی سلسلہ سے تعلق رکھنے والے علماء کرام پاکستان بھر کی مساجد اور مدارس میں اپنے فرائض سر انجام دے رے ہیں۔ اُن کی اکثریت پرُامن اور محب وطن ہے ۔ دوسری جانب پولیس اہلکار نام کے ساتھ محسود یا حقانی دیکھتے ہی اپنا رویہ بدل لیتے ہیں۔
اب تک ایسے کئی افراد پولیس مقابلوں میں مارے جا چکے ہیں جنہیں نام کی وجہ سے تحریک طالبان پاکستان کا کمانڈر قرار دیا گیا لیکن بعد میں معلوم ہوا وہ عام شہری تھے۔ یہاں تک کہ ان میں سیاسی جماعتوں کے اراکین اور مقامی رہنما بھی شامل ہیں۔ مثال کے طور پر 17 نومبر کو مارے جانے والے مفتی شاہ فیصل محسود کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنما تھے۔
28 دسمبر کو اسی طرح نذیر اللہ محسود مارا گیا جو کنواری کالونی کا رہائشی اور تحریک انصاف کاممبر تھا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس اہلکارروں کو دہشتگردی کے حوالے سے خصوصی تربیت دی جائے ۔ اسی طرح عوام سطح پر بھی آگہی مہم چلائی جائے تاکہ عوام اور پولیس دونوں کو معلوم ہو سکے کہ دہشتگردی کا تعلق علاقہ ، مذہب یا قبیلہ سے نہیں بلکہ یہ ایک سوچ ہے ۔
ہمیں اس سوچ کا خاتمہ کرنا ہے جو ملک میں دہشتگردی کی حمایت کرتی ہے۔ اسی طرح جن لوگوں کو دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں، ان کے حقوق کا بھی خیال رکھنا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اصل دہشتگردوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے لیکن معصوم شہریوں کی عزت نفس کو برقرار رکھا جائے ۔ اگر ایسا نہ ہو ا تو ایک دہشتگردوں کو اپنے بچاوٴ کار استہ ملتا رہے گا اور دوسری طرف عام شہری کے ذہن میں منفی سوچ جنم لینے لگے گی۔
تاریخ اشاعت: 2015-01-20

(3) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان