بند کریں
اتوار جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
دہشتگردوں کے عزائم کھل کر سامنے آ گئے
ملزمان کے عزائم بہت خوفناک تھے وہ مسافروں سے بھرے ہوئے لاؤنجوں، طیاروں کو یرغمال بنا کر ان کو بموں سے اڑانا چاہتے تھے اور راشن ساتھ لائے تھے،جس وقت حملہ ہوا جناح ٹرمینل کے لاؤنج بھرے ہوئے تھے
شہزاد چغتائی:
مہران نیول بیس کے بعد کراچی ایئر پورٹ پر غیر ملکی دہشت گردوں کا حملہ درحقیقت ملک کی سکیورٹی اور حساس اداروں پر دھاوا تھا جو کہ اپنے پیچھے کئی سوال چھوڑ گیا یہ کارروائی پاکستان کو غیر محفوظ ملک قرار دینے اور غیر مستحکم کرنے کی سازش بھی تھی۔ پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے نہ صرف یہ کہ دہشت گردوں ان کے سرپرستوں کو منہ توڑ جواب دیا بلکہ چند گھنٹے میں کراچی ایئر پورٹ کو واگزار کر کے نئی مثال قائم کردی حملہ میں جہاں 19 سویلین ہلاک اور زخمی ہوئے وہاں 10 غیر ملکی دہشت گرد جو کہ حلیئے سے ازبک لگتے تھے موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے۔
ملزمان کے عزائم بہت خوفناک تھے وہ مسافروں سے بھرے ہوئے لاؤنجوں، طیاروں کو یرغمال بنا کر ان کو بموں سے اڑانا چاہتے تھے اور راشن ساتھ لائے تھے۔ جس وقت حملہ ہوا جناح ٹرمینل کے لاؤنج بھرے ہوئے تھے اور تین طیاروں میں مسافر سوار تھے جن میں ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار ‘ صوبائی وزیر مراد علی شاہ ‘ عامر لیاقت شامل تھے۔ فاروق ستار دبئی جا رہے تھے۔
ایئر پورٹ پر حملے کے بعد ایک گھنٹے تک تو انتشار اور افراتفری کا عالم تھا۔ ایئر پورٹ کے اندر اور رن وے پر دہشت گرد آزادانہ گھوم رہے تھے اور اہداف کو نشانہ بنا رہے تھے جو ان کو چیلنج کررہا تھا وہ گولیوں کا نشانہ بن رہا تھا۔ اس موقع پر کسی کو نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے جو کہ محصور ہو چکے تھے۔ ایئر پورٹ کے مختلف مقامات پر فائرنگ کا تبادلہ جاری تھا، دھماکے ہو رہے تھے اور دھواں اٹھ رہا تھا ساڑھے 12 بجے کے بعد فوج کے تازہ دستے ایئر پورٹ پہنچے جنہوں نے دہشت گردوں کو للکارا اور ان کے تعاقب کا کام شروع ہوا ایک جانب آپریشن جاری تھا تو دوسری جانب افواہوں کا بازار گرم ہوگیا اور یہ اطلاعات پھیل گئیں کہ کئی جہاز ہائی جیک کر لئے گئے ہیں اور ملزمان مسافروں سے بھرے ہوئے جہازوں میں داخل ہو گئے ہیں دراصل ملزمان کے عزائم بھی یہ تھے جو کہ ناکام بنا دیئے گئے اور فورسز ان کو محدود کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا۔
صبح آپریشن مکمل ہونے پر نعرہ تکبر اللہ اکبر کے نعرے بلند ہوئے اور مسافروں کو ہوٹل منتقل کیا گیا۔ ملزمان نے دو جانب سے کراچی ایئر پورٹ پر دیدہ دلیری کے ساتھ شب خون بہایا وہ چھوٹے قد کے غیر ملکی تھے جنہوں نے اے ایس ایف جوانوں پر اندھادھند فائرنگ کی۔ فوکر گیٹ ٹرمینل پر پی آئی اے کے چیئرمین کے آفس کے سامنے ہے اس وقت اصفہانی ہینگر میں پی آئی اے کے 400 انجینئرز موجود تھے اور کام ہو رہا تھا۔
اے ایس ایف کے جوانوں کو مارنے کے بعد ان کو کھلی چھوٹ مل گئی اور یہ ایئر پورٹ کے چاروں جانب پھیل گئے، دوسری طرف کارگو گیٹ سے داخل ہونے والے دہشت گردوں نے تباہی پھیلائی کراچی ایئر پورٹ اور مہران ایئر بیس پر حملے میں مماثلت پائی جاتی ہے دونوں حملے رات کو ہوئے لیکن مہران ایئر بیس پر حملہ کرنے والے دیوار سے سیڑھی لگا کر چوری چھپے داخل ہوئے تھے لیکن کراچی ایئر پورٹ پر دو جانب سے گیٹ پر یلغار کی گئی جس کے ساتھ اے ایس ایف کی سکیورٹی سوالیہ نشان بن گئی۔
طالبان کی دھمکیوں اور ان کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد پورے ملک کے ایئر پورٹوں پر ہائی الرٹ تھا اور اے ایس ایف کو وزارت داخلہ نے وارننگ بھی دی تھی۔ طالبان نے وزیرستان کے ڈرون حملوں کا بدلہ کراچی میں لیا اور بے گناہوں کو خون میں نہلادیا گیا۔ اب تک ملک کے کئی ایئر پورٹوں پر حملے ہو چکے ہیں۔ مہران ایئر بیس پر․․․ بار حملہ ہوا ہے، دہشت گردوں کے حملوں میں کمرشل اور حساس نوعیت کے ہوائی جہازوں کو نقصان بھی پہنچا ہے اتوار کو بھی اربوں روپے کا نقصان ہوا۔
پی آئی اے دوسری ایئر لائنوں کا آپریشن درہم برہم ہو گیا۔ ایک جانب کراچی سے پروازوں کی روانگی منسوخ کر دی گئی تو دوسری جانب ملک دشمنوں نے کراچی ایئر پورٹ کو ایک ایسے موقع پر نشانہ بنایا جب پاکستان میں سرمایہ کاری شروع ہوئی تھی سرمایہ کاروں کے وفود آ رہے تھے، غیر ملکی ٹیمیں پاکستان آنے پر رضا مند ہوگئی تھیں، کئی مغربی ممالک پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہے تھے، شرح نمو4 فیصد سے بڑھ گئی تھی۔
حکومت نے بنکوں سے قرضے لینا بند کر دیئے گئے، سٹاک مارکیٹ کا انڈیکس 29 ہزار 400 ہو گیا تھا اتوار کے حملہ نے نواز شریف حکومت کو دوبارہ 11 مئی 2013 ء کی پوزیشن میں کھڑا کر دیا بلکہ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان اس سے بھی پیچھے چلا گیا۔ ملک کے سب سے بڑے ایئر پورٹ پر اب اُلو بولیں گے، سٹاک مارکیٹ بھائیں بھائیں کرے گی۔کراچی ایئر پورٹ پر حملے کے بعد محب وطن حلقوں میں زبردست تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ اس حملے کے نتیجے میں کراچی سمیت ملک بھر کے ایئر پورٹ غیر محفوظ ہو گئے ہیں اور ملک میں فضائی سفر غیر محفوظ ہونے کا تاثر ابھرا ہے۔

شہری ہوا بازی کے حلقوں کے مطابق غیر ملکی فضائی کمپنیاں آپریشن بند کر سکتی ہیں، پشاور ایئرپورٹ پر حملے کے بعد غیر ملکی فضائی کمپنیوں نے آپریشن بند کر دیا تھا جبکہ پی آئی اے کے پائلٹوں نے پشاور میں طیارہ کی لینڈنگ سے انکار کر دیا تھا۔ پی سی ہوٹل پر حملے میں پی آئی اے کا پائلٹ اور فضائی میزبان جاں بحق ہوئے تھے اب کراچی ایئر پورٹ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے اتوار کو دھاوے میں اربوں روپے کا نقصان ہوا۔
آنے والے دنوں میں شہری ہوا بازی کی صنعت زبردست خسارے میں جا سکتی ہے، طیاروں کی اوور ہالنگ اور ری فیولنگ بند ہوسکتی ہے۔ جس وقت حملہ ہوا 8 طیارے اوور ہالنگ کیلئے کھڑے تھے کئی فضائی کمپنیاں پی آئی اے سے طیارے اوور ہال کراتی ہیں جبکہ کراچی ایئر پورٹ پر بڑی تعداد میں جہا ری فیولنگ کے لئے اترتے ہیں، یہ جہاز اب دبئی سے تیل لیں گے اور اوور ہالنگ کے کنٹریکٹ دوسرے ملکوں کو ملک جائیں گے۔
حملہ کے بعد عسکری قیادت جاگ رہی تھی، کور کمانڈر سجاد غنی ایئر پورٹ پر موجود تھے اور آرمی چیف راحیل شریف سے ہدایات حاصل کر رہے تھے۔ حملہ کے بعد وفاق حکومت الگ تھلگ دکھائی دی۔ دوپہر تک کوئی وفاقی وزیر آن لائن نہیں آیا نہ کسی نے لب کشائی کی۔ وزارت دفاع اور وزارت داخلہ کی جانب سے خاموشی کا روزہ توڑنے میں بہت زیادہ تاخیر کی گئی۔ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران کراچی وزارت دفاع غیر حاضر تھی کراچی ایئر پورٹ پر کرائسینس مینجمنٹ گروپ قائم نہیں کیا گیا نہ اس کا اجلاس ہوا۔
کراچی ایئر پورٹ پر دہشت گردی کی کارروائی کے بعد پورے کراچی سے فورسز کو طلب کر لیا گیا تھا جن میں ریجنرز دوسرے ادارے شامل تھے جبکہ پورے شہر کی کئی سو ایمبولینسیں‘ فائر بریگیڈ گاڑیاں‘ ریسکیو وین ‘ پولیس موبائلیں‘ بکتر بند ‘ ایئر پورٹ پر تعینات تھیں۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی تھی پورا کراچی جاگ رہا تھا حملے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح شہر میں پھیل گئی تھی جس کے ساتھ خوف و ہراس کی فضا نے جنم لیا اور سڑکیں ویران ہو گئیں اور رات گئے کھلی رہنے والی فوڈ سٹریٹ بند ہو گئیں۔
تخریب کار رات 11 بجکر 18 منٹ پر فوکر گیٹ گارگو گیٹ سے گھسے اس دوران انہوں نے جدید اسلحہ استعمال کیا اور دستی بم پھینکے، چھوٹے دھماکے تو بہت ہوئے لیکن 8 دھماکے اعصاب شکن تھے جن کی آوازیں دور دور تک سنی گئیں اور سوئے ہوئے لوگ جاگ گئے۔ ایک دہشت گرد نے طیاروں کو راکٹ سے اڑانے کی لئے پوزیشن لے لی تھی لیکن کو مار دیا گیا۔ ملزمان کے پاس اور اوان گولے بھی تھے، روسی ساختہ یہ گولے لیاری کے گینگسٹر بھی استعمال کرتے ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل راضوان اختر نے کہا ملزمان کے پاس بھارتی اسلحہ بھی برآمد ہوا۔ وہ چہرے سے ازبک اور چیچن لگتے تھے۔ کراچی ائیر پورٹ پر 30 سال کے بعد دوبارہ حملہ ہوا، اس سے قبل 86ء میں پان ایم کے جہاز کو اغوا کرنے والے بھی فوکر گیٹ سے سوزوکی پک اپ میں بیٹھ کر اندر گھس گئے تھے بعد میں ان کے خلاف کمانڈو آپریشن کے کرکے طیارے کو واگزار کرا لیا گیا تھا۔ اس آپریشن میں 30 افراد جاں بحق ہوگئے۔
تاریخ اشاعت: 2014-06-11

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان