بند کریں
بدھ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
دہشت گردی کے خلاف جنگ
فتح کیلئے کرپشن کا سلسلہ روکنا ہوگا ۔۔۔۔اس جنگ میں دہشت گردوں کو کرپٹ مگراہم عہدوں پر فائز شخصیات کی مدد حاصل ہے ۔ غیر قانونی ذرائع سے رقم حاصل کرنے اور اسے محفوظ رکھنے کے سلسلے میں دہشت گردوں اور اہم شخصیات میں گٹھ جوڑ قائم ہے
ابن ظفر :
پاکستان طویل عرصہ سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہا ہے ۔اس جنگ میں دہشت گردوں کو کرپٹ مگراہم عہدوں پر فائز شخصیات کی مدد حاصل ہے ۔ غیر قانونی ذرائع سے رقم حاصل کرنے اور اسے محفوظ رکھنے کے سلسلے میں دہشت گردوں اور اہم شخصیات میں گٹھ جوڑ قائم ہے اس لیے یہ واضح ہے کہ جب کرپشن کے خلاف جنگ میں کامیابی نہیں ملی تب تک دہشت گردی کے خلاف میں مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی ۔
اس میں دورائے نہیں کہ دسمبر 2014ء میں پشاور آرمی سکول پر ہوانیوالے حملے نے پوری قوم کو شدت پسندوں کیخلاف متحد کردیا تھا ۔ اس حملے میں 133طالبعلم جاں بحق ہوئے زخمیوں کی تعداداس سے کہیں زیادہ تھی ۔ اس سانحہ نے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو بھی اختلافات ختم کر کے ایک میزپر بیٹھنے پر مجبور کر دیا ۔اس دوران دہشت گردی اور طالبان کیخلاف نیشنل ایکشن پلان پر اتفاق رائے ہوگیا اور سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر اس مقصد کیلئے آئینی ترمیم بھی کی تھی ۔
نیشنل ایکشن پلان کے مطابق فیصلہ کیاگیا کہ ملک بھرمیں قیام امن کیلئے دہشت گردوں کیخلاف تیز اور موثر آپریشن کیا جائے گا۔ اسی طرح دہشت گردوں کے رابطہ کاراو سر پرستوں کیساتھ ساتھ ان کے مددگاروں کے گرد بھی گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ ہوا تھا ۔
یہ سچ ہے کہ پاکستان کی بعض اہم اور قدآور سیاسی شخصیات بھی دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتی ہیں ۔
اسی طرح متعددسیاسی جماعتوں نے اپنے مسلح ونگز بنار رکھے ہیں ۔ غیر قانونی سرگرمیوں سے حاصل شدہ رقم بھی باقاعدگی سے سیاسی شخصیات کو بھیجی جاتی ہے ۔ لہٰذا جب ملک بھر میں دہشت گردوں کیخلاف ایکشن لیا گیا تو اس کیساتھ ہی ان شخصیات کے گرد بھی گھیرا تنگ ہونے لگا جو ان شدت پسندوں کو مالی مدد دیا سہولیات فراہم کرتی تھی ۔ دوسری جانب خصوصی فوجی عدالت نے بھی دہشت گردی میں ملوث ملزموں کو سزائیں سنانے کا عمل شروع کر دیا۔
اب ایک طرف تو دہشت گردوں کیخلاف اپریشن شروع ہوچکا تھا تو دوسری جانب ان کے مددگاروں کے گردگھیرا تنگ کیا جانے لگا تو تیسری طرف گرفتار ملزموں کو تیزی سے سزائیں سنانے اور پھانسیاں دینے کا عمل شروع ہوگیا ۔ اس صورتحال کا فائدہ عام شہری کو ہوا ۔ قانون نافذکرنیوالے اداروں نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے پہلے تو دہشت گردوں کی سرپرستی کرنیوالی سیاسی جماعتوں کے دفاتر پر چھاپے مارنے شروع کردیئے پھر کرپشن کے تالاب میں دبکیاں لگانے والے اعلیٰ افسروں کو بھی گرفتار کرنا شروع کردیا ۔
اس صورتحال پر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے احتجاجی رویہ اختیار کیا لیکن قانون نافذ کرنیوالے ادارے تاحال اپنا کام کرتے چلے جارہے ہیں ۔ اس سلسلہ میں 6جون کو ڈائریکٹر جنرل رینجرزمیجر جنرل بلال اکبر نے بتایا کہ ہر سال 230بلین روپے کرپشن کی نذرہورہے ہیں جس سے کئی بڑے سیاست دان فائدہ اٹھارہے ہیں ۔
یہ بات سب پر عیاں ہے کہ پاکستان کا بڑا مسئلہ کرپشن اور بیڈگورننس ہے ۔
پر حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ صورتحال کو بہتری کی جانب لے جارہی ہے اور ہر اپوزیشن یہی دعویٰ کرتی ہے کہ اس کو حکومت ملی تو کرپشن کے خاتمے کے ساتھ ساتھ گذگورننس بھی عام ہو جائے گی ۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک عوام کو اسی طرح خواب دکھائے جارہے ہیں ۔ ہر بارحکومتی جماعت اپوزیشن میں جانے پر تبدیلی کے نعرے لگانے لگتی ہے اور اپوزیشن جماعتیں حکومت ملنے پر اپنی گڈگورننس کے جھوٹے اعلانات شروع کر دیتی ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانیوں نے 200ملین ڈالر کی رقم سوئس بنکوں میں چھپائی ہوئی ہے ۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں کرپشن کی رقم بظاہر دفتری ہیرا پھیری اور لوٹ مار سے اکٹھی کی گئی ہے لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس کو محفوظ رکھنے اور خود کو بچانے کے لیے باقاعدہ جرائم پیشہ افراد پالے جاتے ہیں ۔ اسی طرح متعدد سیاسی جماعتیں اور سیاسی رہنمابھی دولت حاصل کرنے کیلئے لوٹ مار کر نیوالے گروہوں کی سر پرستی کرتے ہیں اس لیے یہ بات واضح ہے کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک ملک بھر میں کرپشن کیخلاف بھی جنگ نہ لڑی جائے ۔
یہ جنگ اتنی آسان نہیں جتنی کہ سمجھی جاتی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کرپٹ مافیابے پناہ دولت اور اعلیٰ عہدوں کا حامل ہے ۔ بیوروکریسی سے لے کر لینڈمافیا اور سیاستدان سبھی اس مافیا کا حصہ ہیں ۔ ان کے آپس میں اختلافات چلتے رہتے ہیں لیکن اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے یہ سب متحدہو جاتے ہیں ۔ لہٰذا کسی ایمااندار شخص کا ان کے خلاف زیادہ دیر کھڑا رہنا مشکل ہوجاتا ہے ۔

اب پاک فوج نے ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کیساتھ ساتھ کرپشن کے خاتمے کا بھی بیڑا اٹھالیا ہے ۔ اس سلسلے میں حال ہی میں ہونیوالے رینجرزکے آپریشن واضح مثال ہیں ۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق کراچی میں ہونیوالی ٹارگٹ اور دیگر دہشت گردی کے نیٹ ورک کو سیاسی اور مذہبی جماعتیں ہی چلارہی تھیں ۔ ان سیاسی جماعتوں کی طرف سے قانون کو کھلونا بنالیا گیا تھا ۔
اس سلسلے میں عدلیہ کے ریمارکس بھی ریکارڈپر ہیں ۔ اب یوں محسوس ہورہاہے کہ سکیورٹی ادارے دہشگردوں کے اصل ہینڈلرز اور آقاؤں کو بھی گرفت میں لینے کا فیصلہ کر چکے ہیں ۔ یہ آپریشن مرحلہ وارجاری ہے ۔ پہلے مرحلے میں ایم کیو ایم کے نائن زیرویر چھاپے مارے گئے اور خطرناک اسلحہ سمیت متعدد دہشت گرد گرفتار کیے گئے ۔ متحدہ کیخلاف صولت مرزااور دیگر ٹارگٹ کلرزنے بھی بیانات ریکارڈ کروائے ۔
اس کے بعد عزیربلوچ سمیت ایسے خطرناک دہشت گرد گرفتار ہوئے جنہوں نے پیپلزپارٹی کے خلاف بیانات ریکارڈ کرادئیے اس کے علاوہ اعلیٰ سرکاری اور سیاسی شخصیات کو بھی گرفتار کر لیا گیا جنہوں نے انکشاف کیا کہ کرپشن اور بھة کا بڑا حصہ بلاول ہاؤس بھیجا جاتا تھا ۔ اسی طرح سنی تحریک کے مرکز پر بھی چھاپے مارے گئے ۔ اب صورتحال یہ ہے کہ سندھ میں موجودہ اور سابق وزراء سمیت متعدد اعلیٰ شخصیات حفاظتی ضمانت کرواچکی ہیں تاکہ گرفتاری سے بچاجاسکے ۔
ذرائع کے مطابق اس صورتحال سے پورے ملک کی بااثر شخصیات کو گزرنا پڑیگا اور سکیورٹی ادارے ایک ایک کر کے سبھی کو احتساب کے عمل سے گزاریں گے ۔
اگر ہم دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا جائزہ لیں تو بھی یہ بات سامنے آتی ہے کہ دہشت گردی کی کارروائیوں کیلئے بھاری سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ دوسری جانب یہ بھی درست ہے کہ کسی قسم کی سیاسی یاسرکاری سر پرستی کے بغیر شدت پسند عناصر کسی علاقے میں زیادہ دیر کام نہیں کرسکتے ۔
ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں کرپٹ بیوروکریسی نے جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ حصہ طے کر رکھا ہوتا ہے تو دسری طرف بناتنخواہ کام کرنیوالے سیاستدانوں کے اثاثوں اور رہن سہن کے انداز میں بھی تیزی سے بہتری آتی چلی جاتی ہے ۔ اس سارے نظام میں دہشت گردان سیاسی شخصیات اور سرکاری افسروں کیلئے کام کرتے نظر آتے ہیں تو دوسری جانب یہ شخصیات دہشت گردوں کو محفوظ راستہ فراہم کرتی چلی جاتی ہیں اس لیے یہ نیٹ ورک اس وقت نہیں تباہ ہوسکتا جب تک کرپشن اور دہشت گردی دونوں کے خلاف محاذ نہ کھولا جائے ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی کے ساتھ ساتھ کرپٹ مافیا کیخلاف بھی کارروائی مزید تیز کی جائے ۔ اگر کرپٹ عناصر کو چھوڑ دیا گیا تو عین ممکن ہے کہ یہ کچھ عرصہ بعد دوبارہ ایسے دہشت گرد ونگز تیار کرلیں جوان کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے لوٹ کے مال سے انہیں حصہ دیں ۔ اگر ہم ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں بھتہ مافیا ، ٹارگٹ کلنگ اور لوٹ مارنہ ہوتو پھر ہمیں ان افراد کو بھی قانون کے کٹہرے میں لانا ہوگا جو ہر بار بچ جاتے ہیں ۔
ماضی میں جب بھی احتساب کاعمل شروع ہوا تو عام طور پر یا تو چند مہروں کو گرفتار کی گیا یا پھر مک ، مکا اور ڈیل کے ذریعے اصل افراد کو بچالیا گیا ۔ اگر اس بار ایسا نہ ہوا اور حقیقی معنوں میں ان افراد کیخلاف کارروائی کی گئی جنہوں نے پاکستان کولوٹ کے میدان میں بدل رکھا ہے تو یقینا حقیقی تبدیلی نظر آنے لگے گی ۔
تاریخ اشاعت: 2015-07-30

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان