بند کریں
بدھ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
دہشت گردوں کی اندرونی مدد کا معاملہ
ایئر پورٹ حملہ کی ذمہ داری عمر خراسانی گروپ نے قبول کر لی جبکہ اتوار کے سانحہ ایئر پورٹ کی ذمہ داری طالبان کے مہمند گروپ نے قبول کی تھی۔ عمر خراسانی نے کہاکہ دیکھیں ہم پھر اے ایس ایف ہیڈ کوارٹر تک پہنچ گئے
شہزاد چغتائی:
کراچی کے سوگوار شہری اتوار کے روز ہونے والی قیامت خیز دہشت گردی سے سنبھل نہیں پائے تھے کہ منگل کو ایئر پورٹ پر قائم اے ایس ایف اکیڈمی اور گرلز ہاسٹل پر فائرنگ کے واقعات نے ان کے اعصاب شل کر دئیے۔ سب سے تشویشناک بات یہ تھی کہ 48 گھنٹوں کے دوران فلائٹ آپریشن دوسری بار معطل کرنا پڑا اور دوبارہ پروازوں کا رخ نواب شاہ ایئر پورٹ پر موڑ دیا گیا۔
اے ایس ایف اکیڈمی پر فائرنگ اور اس کے نتیجے میں فضائی آپریشن کی ایک گھنٹے تک بندش کے بعد کراچی ایئر پورٹ کو فوج کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ فوج تاحکم ثانی کراچی ایئر پورٹ پر سیکورٹی کی دیکھ بھال جاری رکھے گی اور کراچی کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد واپس جائے گی۔ اے ایس ایف کی اکیڈمی پر حملے کے بعد پورے شہر میں زبردست خوف و ہراس پھیل گیا ،جس پر بندرگاہ سمیت تمام اداروں کے دروازے بند کر دئیے گئے۔
اس وقت سندھ سیکرٹریٹ میں امن و امان کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس ہو رہا تھا اس اجلاس کو عجلت میں ختم کر کے حکام ایئر پورٹ روانہ ہو گئے۔ اس دوران کور کمانڈر کراچی سجاد غنی اور ڈی جی رینجرز بھی موقع پر پہنچ گئے جنہیں ڈا ئریکٹرجنرل اے ایس ایف نے بریفنگ دی۔
منگل کو اے ایس ایف اکیڈمی اور گرلز ہاسٹل پر حملہ کرنے والے قریبی کچی آبادی پہلوان گوٹھ سے داخل ہوئے تھے جن کا اے ایس ایف کے جوانوں نے تعاقب بھی کیا۔
ایک خیال یہ بھی تھا کہ یہ وہ دہشت گرد تھے جو کہ اتوار کو بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ وفاقی حکومت نے حالانکہ اے ایس ایف کی اکیڈمی اور گرلز ہاسٹل پر حملے کو بے بنیاد قرار دے دیا تھا مگر کراچی ایئر پورٹ پر فائرنگ کی ذمہ داری طالبان کے عمر خراسانی گروپ نے قبول کر لی جبکہ اتوار کے سانحہ ایئر پورٹ کی ذمہ داری طالبان کے مہمند گروپ نے قبول کی تھی۔
عمر خراسانی نے کہاکہ دیکھیں ہم پھر اے ایس ایف ہیڈ کوارٹر تک پہنچ گئے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کراچی ائرپورٹ پر 8 جون کو دہشت گردوں کا حملہ اس قدر منظم تھا کہ وہ کسی گروپ کی کارروائی قرار نہیں دیا جا سکتا لیکن بعض ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ حملہ طالبان نے کیا ہے‘ پس منظر میں غیر ملکی ہاتھ ہے۔ اس الزام کو یوں بھی تقویت ملتی ہے کہ جون کے حملے میں کوئی دہشت گرد زندہ نہیں بچا۔
کراچی ائرپورٹ پر زیادہ نقصان دہشت گردوں کو زندہ پکڑنے کی کوشش میں ہوا۔ دہشت گردوں نے گرفتاری دینے سے انکار کیا جس کے بعد مقابلے میں ان کی ہلاکت ہوئی۔ تمام دہشت گرد غیر ملکی تھے ایک چہرہ پختون یا افغان نہیں تھا۔ ان کے حلئے ازبک اور چیچن باشندوں کے جیسے تھے۔ لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملہ کرنے والوں اور مہران ائربیس پر شب خون مارنے والوں کے حلیے اور لباس بھی ایک جیسے تھے جو سب پتلون قمیض میں ملبوس تھے۔

کراچی ایئر پورٹ کے کولڈ اسٹوریج میں غیر ملکی کارگو کمپنی کے 8 ملازمین کی ہلاکت معمہ بن گئی۔ ان ملازمین کی سوختہ لاشیں منگل کی صبح بہت کوششوں کے بعد برآمد کی گئیں۔ یہ ملازمین چوبیس گھنٹے تک پھنسے رہے تھے۔ اس دوران انہوں نے اپنے گھر والوں کو فون بھی کئے۔ شام تک جب ان کا کچھ پتہ نہ چلا تو ان کے لواحقین نے سڑکوں پر احتجاج کیا جس کا حکومت نے نوٹس لیا۔
جب 8 افراد کو نکالنے کیلئے ریسیکو آپریشن شروع ہواتو خیال تھا کہ وہ زندہ ہوں گے کیونکہ گزشتہ شب 3 بجے تک وہ فون پر بات کرتے رہے۔ یہ افراد پناہ لینے کی غرض سے کولڈ اسٹوریج میں جا گھسے تھے لیکن تپش سے کولڈ اسٹوریج کی چھت گر گئی اور وہ جاں بحق ہو گئے۔ مرنے والے کارگو کمپنی جیری ڈناٹا کے ملازم تھے۔ آگ سے جیری ڈناٹا کے کارگو ٹرمینل میں اربوں روپے کا درآمدی سامان بھی جل گیا جس میں کئی ہزار جدید موبائل فون‘ لیپ ٹاپ‘ سرجیکل آلات اور جان بچانے والی ادویات شامل تھیں۔
کارگو ٹرمینل کی تباہی کا سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ ایک دہشت گرد نے ٹرمینل میں داخل ہو کر خود کو دھماکے سے اْڑا لیا تھا۔ دہشت گرد طیاروں کو اڑانے میں ناکام رہے لیکن کچھ طیاروں کو نقصان پہنچا اور ان کو گولیاں بھی لگیں جن میں بوئنگ 777 طیارے شامل تھے۔ کراچی ائرپورٹ کے سانحہ کے ساتھ جہاں فلائٹ آپریشن بری طرح متاثر ہوا ،وفاقی اور صوبائی سطح پر حکومتی عہدیداروں اور سرکاری اداروں کے درمیان کشمکش بھی سامنے آ گئی۔
صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہاکہ کولڈ اسٹوریج میں 8 بے گناہوں کی ہلاکت کی ذمہ دار سول ایوی ایشن ہے کیونکہ سول ایوی ایشن نے دوپہر اس بات کی کلیئرنس دی تھی کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔ جبکہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نے کہاکہ 8 افراد کی ہلاکت کا ذمہ دار ان کا ادارہ نہیں۔ مرنے والوں کے لواحقین کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ حملے کی اطلاع ملتے ہی وزیر اطلاعات شرجیل میمن کے ساتھ ائرپورٹ پہنچ گئے تھے۔
جس پر یہ سوال بھی اٹھایا گیاکہ قائم علی شاہ کیوں آئے ہیں ،یہ ذمہ داری تو چودھری نثار‘ خواجہ آصف اور شجاعت عظیم کی تھی۔ لواحقین کو جب کولڈ اسٹوریج کے اندر سے فون آ رہے تھے تو لا محالہ یہ 8 افراد سول ایوی ایشن اتھارٹی کی غفلت کی نذر ہو گئے۔ سانحہ کراچی ائرپورٹ کے ساتھ یہ ثابت ہو گیا کہ ہمارے اداروں کے پاس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کا کوئی پلان نہیں ہے۔
اس موقع پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور وفاقی حکومت کے کرائسز مینجمنٹ گروپ کا کوئی وجود دکھائی نہیں دیا۔ اے ایس ایف نے نامساعد حالات میں جانوں کا نذرانہ دے کر ناممکن کو ممکن بنا دیا اور دہشت گردوں کا بے جگری سے‘ بہادری اور شجاعت کے ساتھ مقابلے کیا جس کی مثال نہیں ملتی۔ اے ایس ایف کے جوانوں نے کئی ہزار مسافروں کی‘ سرکاری ملازمین کی جان بچائی اور قومی اثاثوں کی حفاظت کی ورنہ دہشت گرد مسافروں سے بھرے ہوئے طیاروں‘ جناح ٹرمینل کی بلڈنگ اور امریکن کارگو کو اڑا دیتے۔
دہشت گرد امریکن کارگو‘ جناح ٹرمینل اور مسافر طیاروں کی جانب بڑھ رہے تھے لیکن اے ایس ایف کے جوانوں نے ان کو روکے رکھا اور دوبدو مقابلہ کیا۔ جوانوں نے اپنے 11 ساتھیوں کی لاشوں کی پرواہ نہیں کی اور دہشت گردوں کے راستے کی دیوار بنے رہے۔ جبکہ فوج کی کمک ملنے کے بعد دہشت گردوں کو مزید محدود کر دیا گیا۔ کراچی میں یہ باتیں ہو رہی ہیں کہ دشمن ہمارے شہر کے اندر بیٹھا ہوا ہے اور ہم بے بسی سے سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔
دفاعی ماہرین کہتے ہیں کہ دہشت گردوں کو اندر سے سپورٹ حاصل تھی ورنہ دہشت گرد اتنا اسلحہ اندر نہیں لا سکتے تھے۔ پولیس حکام کو یقین ہے کہ اتوار کی شب کراچی ایئر پورٹ پر حملے کرنے والے 10 دہشت گرد ان کچی آبادیوں میں مقیم تھے اور کئی دنوں سے دہشت گردی کے آپریشنل پلان پر عملدرآمد کی ریہرسل بھی کر رہے تھے۔سانحہ گزر جانے کے بعد کراچی ایئر پورٹ اور اس کے اطراف کی آبادیوں کو سکیورٹی رسک قرار دیا جارہا ہے ، حالانکہ ایک سال قبل وفاقی حکومت متعلقہ اداروں کو خطرات سے آگاہ کر چکی تھی۔

اتوار کو قائداعظم انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر شب خون مارنے والے فوری طور پر تین اہداف حاصل کرنا چاہتے تھے جس کے حصول میں وہ کامیاب رہے۔ دہشت گردی کی اس منظم کارروائی کا مقصد کراچی کو غیر مستحکم کرنا‘ نوازشریف حکومت کے قیام کے بعد سرمایہ کاری کے بہاوٴ کو روکنا اور کراچی میں بین الاقوامی میچوں کے انعقاد کو ناکام بنانا تھا۔ ذرائع کے مطابق منظم دہشت گردی کا ایک مقصد مختلف ایئر لائنز اور غیر ملکی کارگو کمپنیوں کے آپریشن اور ٹرمینلز کو بند کرانا تھا۔
اتوار کی شب ملزمان جیری ڈناٹا کے کارگو ٹرمینل کو اْڑانے میں بھی کامیاب ہو گئے۔ کراچی میں یورپ سمیت دنیا بھر سے کارگو کے ذریعے سامان آتا ہے۔ ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھ گئی تھی اور نیوزی لینڈ سمیت مختلف ممالک سرمایہ کاری کر رہے تھے۔ اسٹاک مارکیٹ بلندی پر جا رہی تھی اور اس کا انڈیکس 30 ہزار کے تاریخی اور نفسیاتی ہدف کو چھونے والا تھا۔
دوسری جانب کراچی میں بین الاقوامی میچوں کے امکانات بڑھ گئے تھے۔ جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کے کھلاڑی پاکستان آنے والے تھے۔ ادھر سری لنکا کے صدر کی ہدایت پر سری لنکا کی ٹیم بھی پاکستان آنے والی تھی۔ حال ہی میں دوست ممالک کی سرمایہ کاری سے پاکستان کی رینکنگ 106 سے کم ہو کر 97 ہو گئی تھی اور شرح نمو 4 فیصد ہو گئی تھی جبکہ حکومت نے بنکوں سے قرضے لینا بند کر دئیے تھے۔
تاریخ اشاعت: 2014-06-14

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان