بند کریں
اتوار جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
دیہی روڈ پروگرام تاریخی انقلابی قدم
آئندہ 3برس کے دوران مرحلہ وار پروگرام کے تحت پنجاب کی تمام دیہی سڑکوں کی تعمیر و بحالی پر 150ارب روپے کی خطیر رقم خرچ کی جائے گی۔”خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام “کے تحت جنوری2018ء تک تمام دیہی سڑکوں کی تعمیر و بحالی کا کام مکمل کر لیا جائے گا۔
چودھری امجد علی جاوید
دور حاضر میں آمدورفت کے ذرائع کو بہتربنائے بغیرترقی کی دوڑ میں شامل نہیں ہوا جاسکتا ۔ لوگوں کی خوشحالی علاقے میں سڑکوں کے جال سے وابستہ ہوتی ہے،” جہاں سڑک پکی، وہاں ترقی“ کے سلوگن پر اگرچہ بہت دیربعد عمل کیا گیا پھر بھی اس پر توجہ مرکوز کیا جانا ایک خوش آئند بات ہے۔ پنجاب میں اس وقت ملک کی سڑکوں کی کشادگی مرمت اورتعمیر کے تاریخ کے سب سے بڑے منصوبے’ ’ خادم پنجاب دیہی روڈ ز پروگرام “ پر تیز رفتاری سے کام جاری ہے اور آئندہ 3برس کے دوران مرحلہ وار پروگرام کے تحت پنجاب کی تمام دیہی سڑکوں کی تعمیر و بحالی پر 150ارب روپے کی خطیر رقم خرچ کی جائے گی۔
”خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام “کے تحت جنوری2018ء تک تمام دیہی سڑکوں کی تعمیر و بحالی کا کام مکمل کر لیا جائے گا۔ ”خادم پنجاب دیہی روڈزپروگرام“ کا براہ راست فائدہ کسانوں اور دیہات میں بسنے والے افراد کو ہو گا۔ دیہی روڈزپروگرام “ کا میگا پراجیکٹ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور یہ پروگرام دیہی معیشت کیلئے ایک گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے ۔
ترقیاتی منصوبوں کی بروقت، معیاری اور شفاف تکمیل حکومت کی پالیسی کا حصہ ہے اور اسی چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے مسلم لیگ ن کی حکومت ملک میں ایسے اقدامات کر رہی ہے کہ جس سے خوشحالی کا دور دورہ ہو گا۔ بڑے شہروں کو ملانے والی شاہراہوں کے علاوہ بین الاضلاعی روڈز بستی سے بستی اسی طرح مرکزی شاہراہ سے لنک روڈ اور کھیت سے منڈی تک پختہ سڑکوں کا جال اقتصادی انقلاب کی راہ ہموار کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔
حکومت پنجاب نے روڈ نیٹ ورک اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لئے کئی پروگرام شروع کئے ہیں تاکہ ذرائع نقل و حمل کو تیز کرکے نہ صرف وقت کی بچت کی جاسکے بلکہ پیداوار کی منڈیوں تک رسائی کو سہل بنایا جاسکے اور شہروں کی طرف انتقال آبادی کے عمل کو روک کر شہروں پر آبادی کے بڑھتے ہوئے دباوٴکو کم کیاجاسکے۔ اس منصوبہ کی خاص بات یہ ہے کہ دیہات کی رابطہ سڑکیں اور فارم ٹو مارکیٹ روڈز کو نہ صرف مرمت کیا جائے گا بلکہ ان کی چوڑائی کو دس فٹ سے بڑھا کر بارہ فٹ کیا جائے گا اور ساتھ ہی ان سڑکوں کو عام طارکول کی بجائے کارپیٹیڈ روڈز میں تبدیل کیا جائے گا اور اس کے کناورں کو بھی پختہ کی جائے گا تاکہ اس کو ٹوٹ پھوٹ سے بچایا جا سکے۔
وزیر اعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے اس منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کرتے ہوئے اس امر کا اظہار بھی کیا ہے کہ معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گااور اس پروگرام کے تحت بننے والی سڑکوں کے حوالے سے شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا۔اس کی تعمیر اورنگرانی کے عمل کو موثر بنانے کے لئے بہترین کریڈایبلٹی کی حامل مشاورتی فرموں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں
وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف کا ”دیہی روڈز پروگرام“ قابل تحسین ہے اور وہ بڑی نیک نیتی کے ساتھ عوام کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر پہنچانے کیلئے ہرممکن کوشش کر رہے ہیں لیکن بظاہر حکمرانوں کے ہر حکم پر گردن جھکانے اور تسلیم کی خو رکھنے جبکہ درحقیقت ہر حکمران کو اپنے رنگ میں رنگنے کا ہنر رکھنے والی پنجاب کی بیورکریسی خادم اعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف کے خدمت اور بہت کچھ کر گزرنے کے جنون سے کھیل رہی ہے
حکومت کے دیگر منصوبوں کی طرح خادم اعلی دیہی روڈز پروگرام میں بھی بہتری کی بہت گنجائیش موجود ہے اس پر نظر ثانی کی جانی چاہیے اگر یہ پروگرام اسی طرح جاری رہا تو سستی روٹی پروگرام کی طرح فائدے کی بجائے نقصان زیادہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ کاغذوں کے اوپر تو یہ منصوبے بہت اچھے لگتے ہیں لیکن اگر ہم زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پر عمل نہیں کریں گے تو اس سے جہاں پیسے کا ضیاع ہو گا وہیں لوگ بھی اس سے پوری طرح مستفید نہیں ہو سکیں گے،”دیہی روڈز پروگرام “کی بھی کچھ ایسی ہی حالت ہے،اس منصوبے کے کئی پہلو ایسے ہیں جن پر نظر ثانی کی ضرورت ہے اگر ایسا نہ کیا گیا تو اس کے فائدے کی بجائے نقصان کا ہی اندیشہ ہے۔
کہنے کو تو یہ بہت خوبصورت بات لگتی ہے کہ دیہات میں شہروں کی طرح خوبصورت سڑکیں بنا دی جائیں، لیکن برسر زمین حقائق اورصورتحال اس کے برعکس ہیں۔ دیہی روڈز پروگرام میں جن باتوں کو نظر انداز کیا گیا ہے ان میں سرفہرست اس پر آنے والی لاگت ہے دستیاب معلومات کے مطابق موجودہ انفراسٹریکچر کی سڑکوں کی جاری منصوبہ کے مطابق مرمت یا کارپٹ کرنے پر تقریبا ایک کروڑ روپیہ فی کلو میڑلاگت آئے گی جبکہ اگر اسی سڑک TSTیعنی تارکول والی سڑک بنائی جائے تو اتنی مالیت سے تقریبا تین گنا سڑکیں مرمت ہو سکتی ہیں اس منصوبے کا دوسرا بڑا نقص یعنی ان سڑکوں کو کارپٹ کرنے کایہ ہے کہ ان سڑکوں پر کارپٹ کرنے کے لئے دو انچ کی بجری اور تارکول کی تہہ بچھائی جائے گی جو ہمارے صوبہ کے گرم موسم اور ان سڑکوں پر چلنے والی ٹریفک جو کہ گنے اور دیگر اجناس سے لدی ہیوی لوڈڈ ٹرالیاں اور ٹریلرز کو بوجھ برداشت نہیں کرپائے گی اور جلد ہی سڑک کے جگہ جگہ سے بیٹھ جانے سے یہ سڑک ٹریفک کے قابل بھی نہیں رہے گی اور سرکاری خزانے کا اربوں روپیہ ضائع ہو جائے گا۔
تیسرا اہم نقص جو اس منصوبہ کی موجودہ شکل میں موجود ہے وہ تعمیر کے بعد اس کی دیکھ بھال اور مرمت کا ہے ضلع حکومت اور اس کا روڈ ڈیپارٹمنٹ جو اس کی دیکھ بھال کا زمہ دار ہوگا وہ اس امر کی اہلیت اور صلاحیت ہی نہین رکھتا کہ وہ کارپٹ روڈز کی مرمت کر یا کروا سکے کیونکہ اس وقت بھی حکومت کو پورے پنجاب میں سے صرف سینتالیس فرمیں دستیاب ہوئی ہیں جو کارپٹ روڈز بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ خالص میڈ ا ن دیہات ،میڈ ان پنجاب اور میڈ ان پاکستان فارمولے پر عمل کیا جائے تاکہ اس منصوبے پر جو اتنی رقم خرچ کی جا رہی ہے اس سے استفادہ کیا جا سکے۔
اس منصوبے کا از سر نو جائزہ لے کردیہات اور متعلقہ لوگوں کی رائے کا بھی احترام کیا جائے تاکہ اس منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار کیا جاسکے۔
تاریخ اشاعت: 2015-06-27

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان