بند کریں
بدھ فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
درآمدی کوئلے سے بجلی کی پیداوار میں لوٹ کھسوٹ
وفاقی حکومت کی پالیسی کے تحت ملک میں کوئلہ سے بجلی تیار کرنے کی پالیسی اورترغیبات کے نتیجہ میں کوئلہ کی درآمد میں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے اورگزشتہ ایک سال کی مدت میں 70لاکھ ٹن سے زائد کوئلہ درآمد کیا گیا ہے
عبدالقدوس فائق:
وفاقی حکومت کی پالیسی کے تحت ملک میں کوئلہ سے بجلی تیار کرنے کی پالیسی اورترغیبات کے نتیجہ میں کوئلہ کی درآمد میں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے اورگزشتہ ایک سال کی مدت میں 70لاکھ ٹن سے زائد کوئلہ درآمد کیا گیا ہے درآمد کردہ 70لاکھ ٹن میں سے 41لاکھ ٹن صرف کے پی ٹی پراتارا گیا اوراس کوئلہ کی درآمد پر 60کروڑ 20لاکھ امریکی ڈالرز سے 61کروڑ ڈالرز کا زرمبادلہ خرچ ہوا ہے اس وقت عالمی منڈیوں میں کوئلہ کا بھاؤ 85ڈالرز فی ٹن سے 86ڈالرفی ٹن کے درمیان ہے اوراگر ملک کے تمام بجلی گھر کوئلہ سے بجلی تیار کرنے لگیں اورگوادر میں چینی امداد سے تیار ہونے والے 1200میگاواٹ کے بجلی گھروں نے پیداوار شروع کی تو کوئلہ کی درآمد ڈھائی کروڑ ٹن سے تین کروڑ ٹن تک پہنچ سکتی ہے۔
اس طرح ہمیں کوئلہ کی درآمد پر 2ارب 60کروڑ امریکی ڈالرز سے 3ارب امریکی ڈالرز یعنی 3کھرب روپے سالانہ تک خرچ کرنا ہوں گے۔ یہ بھی لمحہ فکریہ ہے کہ تھر میں ہمارے پاس کم از کم 20ارب ٹن کوئلہ کے ذخائر موجود ہیں ، مگر گزشتہ 30سالوں سے سوائے زبانی جمع خرچ کے ان سے استفادہ نہیں کیا گیا۔ 30سال پہلے سیٹلائٹ کے ذریعہ ان ذخائر کا پتہ لگایا گیا اور اسی سیٹلائٹ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تھر کے اس عظیم ریگستان میں ایک بڑا دریا بھی زیرزمین بہہ رہا ہے۔
ابتداء میں حکومتوں نے بڑے خوش آئند اعلانات کئے بعض سرمایہ کار بھی آئے جو بہت جلد بیورو کریسی کے ہتھکنڈوں اورسیاسی سودے بازی کے باعث واپس چلے گئے۔ جبکہ اندرونی کہانی کے مطابق سندھ کے صاحبان اقتدار اپنے ملکی وسائل دوسروں کے ہاتھوں میں دینے پر تیار نہیں تھے اور انہیں اس سلسلہ میں امریکی آشیرباد بھی حاصل تھی کئی چینی کمپنیوں اور متعدد یورپی کمپنیوں نے کان کنی اوربجلی گھروں کی تعمیر میں دلچسپی لی مگر انہیں مختلف ہتھکنڈوں سے بھگادیا گیا۔
جبکہ ماضی میں تقریباً 25سال تک تھر کی کوئلہ کی ان کانوں کی ملکیت وفاق اورحکومت سندھ کے درمیان کا تنازع بنی رہی۔ کبھی وفاقی حکومت ان کا انتظام سنبھال لیتی کبھی صوبائی حکومتیں مگر پیپلز پارٹی کے سربراہ اورسابق صدر آصف علی زرداری نے اپنے دور حکومت میں میاں نواز شریف کی جانب سے 1973ء کے آئین کی بحالی کیلئے 18ویں ترمیم کے مطابق صوبوں کے اس حق ملکیت کو تسلیم کر کے اس شق کو دستور پاکستان میں شامل کروا لیا ۔
اس ترمیم کے فوراً بعد انہوں نے تھر کے کوئلہ سے استفادے کے اقدامات شروع کئے اینگرو پاکستان کے سربراہ اسد عمر نے ان کے ساتھ مل کر سندھ اینگرو کول مائنگ کمپنی اور سندھ اینگرو پاور کمپنی تشکیل دی۔ زرداری صاحب کی کوششوں سے چین کا ایگزم بینک اس میں 1.5ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری پر تیار ہوا اس کمپنی کے 51 فیصد حصص خود حکومت سندھ کی ملکیت قرار پائے۔
اس طرح سندھ کی حکومت کوئلے کی ان کانوں پروفاق سے اپنا حق لے لینے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ جہاں تک وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی اس تقسیم پر ہم آنگی کا تعلق ہے اس کا عملی ثبوت اس وقت دیکھنے میں آیا جب وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اورسابق صدر آصف علی زرداری نے مشترکہ طورپر تھر میں اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا۔ مگر افسوس کہ چینی صدر کے دورہ پاکستان موخر ہونے سے اس منصوبہ پر پیش رفت تعطل کا شکار ہوگئی ہے اور اب تازہ ترین اطلاعات کے مطابق چینی صدر آئندہ ماہ پاکستان کے دورے پر آرہے ہیں۔
اس موقع پر دیگر منصوبوں کے ساتھ اس منصوبے پر بھی دستخط ہوں گے۔ سندھ اینگروکمپنی ابتداء میں تین سال کی مدت میں کوئلہ نکالنے کے ساتھ ساتھ 660میگاواٹ بجلی تیارکرنے کے دو بجلی گھر قائم کرے گی ان میں ہرو ایک کی استعداد 330میگاواٹ ہوگی اورمنصوبے کے تحت ہر3سال بعد660میگاواٹ کے بجلی گھر قائم کئے جائیں جو 6ہزار میگاواٹ تک بجلی پیدا کریں گے۔
اس سے اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ یہ کمپنی صرف اپنے بجلی گھروں کیلئے کوئلہ نکالے گی اور فروخت کرنے کیلئے نہیں۔ ماہرین اراضیات کی رپورٹ کے مطابق تھر میں کوئلہ کی زیرزمین کانوں کے 12بلاکس ہیں جن میں سے ہر ایک میں 2ارب ٹن کے ذخائر ہیں۔ ماہرین ان زیر زمین ذخائر میں کان کنی کے سلسلے میں پریشان ہیں اس لئے کہ تھر کی زمین ریتلی ہے پہاڑی یا سخت نہیں اس لئے سرنگوں کے ذریعہ کان کنی ممکن نہیں۔
اسی لئے سندھ اینگرومائننگ کمپنی نے طویل ڈھلانوں کے ذریعہ نیچے جاکر کوئلہ نکالنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اوربڑا مسئلہ درپیش ہے وہ یہ کہ 120میٹرز گہرائی میں بھاری مقدار میں پانی ہے جسے نکال کر 160میٹرز کی گہرائی میں کوئلہ تک پہنچنا ہوگا اورنکالے جانے والے اس کوئلہ سے گندھک اوردیگر مضر اثرات سے پاک کرنے کیلئے ایک ریفائنری بھی لگانا ہوگی۔
حکومت سندھ کی پالیسی اورخطہ میں امریکی پالیسی کے نتیجہ میں کوئی بھی تھر کے دیگربلاکس میں بھاری سرمایہ کاری پر ہرگز تیار نہیں ہوگا۔ دوسری طرف بعض ماہرین نے سندھ اینگرومائننگ اورسندھ اینگروپاور کے اس منصوبے پر لاگت پر تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ لاگت حد سے زیادہ ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگے سے مہنگے بجلی گھر اور اس کے لوازمات پر زیادہ سے زیادہ 30لاکھ ڈالر فی میگاواٹ لاگت آتی ہے۔
جبکہ 3ارب امریکی ڈالر کی لاگت اس سے تقریباً دوگنا ہے۔ اس سے اس منصوبے کی شناخت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ پاکستان میں 15/20سال قبل شکر اورسیمنٹ کی صنعتوں نے اپنے بجلی گھروں کے لئے کوئلہ کی درآمد شروع کی تھی تو انہیں 90ڈالر فی ٹن کی قیمت پر کوئلہ درآمد کرکے بھی پاکستان بجلی کے مقابلہ میں نصف قیمت پر بجلی حاصل ہوتی تھی اور اب جب بڑے بجلی گھر اسے استعمال کررہے ہیں تو ان کا یہ دعویٰ سراسرغلط ہے کہ پیداواری لاگت 10روپے سے 12روپے یونٹ ہے۔
اس طرح نجی شعبہ کے یہ بجلی گھر لوٹ مار میں مصروف ہیں بعض ماہرین کا دعویٰ ہے کہ کوئلہ سے پیدا ہونے والی بجلی کسی بھی طرح 4روپے یونٹ سے زائد نہیں۔ اس کے لئے حکو ت جس قدر جلد ممکن ہو غیر جانبدار انجینئرز اورآڈیٹرز پر مشتمل تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دے تاکہ ملکی زر مبادلہ کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔
تاریخ اشاعت: 2014-10-28

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان