بند کریں
پیر فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
داعش اور پاکستانی طالبان رابطے ٹھنڈے پڑ گئے
ابوبکر البغدادی نے طالبان کی بیعت کو باہمی اتحاد سے مشروط کر دیا۔۔۔۔ امریکہ کے ڈرون دسمبر میں پاکستانی طالبان کے سرکردہ لیڈروں کو ہدف بنا رہے ہیں
محمد رضوان خان :
عراق اور شام میں قائم ہونے والی دولت اسلامیہ نے مغرب اور امریکہ کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں اور اس تمام تر توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ اس نومولود ریاست کو ختم کیا جائے امریکہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے دولت اسلامیہ کو تقریباََ ختم کر دیا ہے۔ امریکی دعویٰ ایک طرف تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس کے خلاف ابھی کارروائی جاری ہے۔
امریکہ اور مغربی دنیا دولت اسلامیہ سے اس لئے زیادہ خائف تھے اور ہیں کیونکہ اس کے پاس باقاعدہ زمین کا ٹکڑا بھی موجود ہے جس کو وہ اپنی سلطنت گردانتے ہیں گویا دولت اسلامیہ کوئی تخیلاتی داستان کا ملک نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی ریاست ہے۔ دولت اسلامیہ کی اس مملکت کو امریکہ اس وقت جب وہ افغانستان سے اپنا بوریا بستر لپیٹ رہا ہے اپنے لئے سب سے بڑاخطرہ تصور کر رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ امریکہ دولت اسلامیہ کے درپے ہے تودوسری طرف دولت اسلامیہ کی بھی یہ کوشش ہے کہ وہ اپنی نہ صرف حمایت بڑھائے بلکہامت مسلمہ کی کھوئی ہوئی خلافت کی بحالی کو بھی ممکن بنانے کی سعی کی جا رہی ہے۔ دولت خلافت کی بحالی کو بھی ممکن بنانے کی سعی کی جا رہی ہے۔ دولت اسلامیہ اس وقت دنیا بھی کے جنگجووٴں سے حمایت حاصل کرنے کی تگ دودو میں جتی ہوئی ہے کہ تاکہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں مجاہدین اور اسلامی ممالک کی طرف سے قبولیت کی سند حاصل کی جائے اور دنیا کو یہ باور کرایا جا سکے کہ دولت اسلامیہ کی کس قدر حمایت موجود ہے۔
یہ حمایت اس لئے حاصل کی جار ہی ہے کہ دولت اسلامیہ دنیا میں سفارتی نیٹ ورک قائم کر سکے۔ اس سلسلے میں سفارت کاری میں اضافے کا امکان توکم ہی نظر آتا ہے تاہم دولت اسلامیہ کی یہ بھی کوشش ہے کہ دفاعی اعتبار سے بھی وہ اپنا نیٹ ورک دنیا کے کونے کونے تک پہنچائے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کیلئے مسلح جدوجہد کرنے والے جنگجووٴں کی تعداد میں اضافہ بھی کیاجائے اس مقصد کیلئے دولت اسلامیہ کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کے طالبان سے بھی رابطہ کیا جس کے دوران انہیں افغانستان میں ان طالبان نے مثبت ردعمل دیا جو ملا عمر کی زات یا ان کی پالیسیوں سے اختلاف رکھتے تھے یا پھر انہیں ملا عمرسے کوئی ذاتی پرخاش تھی لیکن اس اختلاف کے باوجود بھی یہ لوگ طالبان تحریک سے چپکے رہے کیونکہ انہیں کوئی دوسری جائے پناہ نہیں مل رہی تھی اس لئے انہوں نے عافیت اسی میں جانی کہ جب تک حالات موافق نہ ہوں تب تک چپ سادہ لی جائے لیکن ان حلقوں نے دولت اسلامیہ کے سامنے آتے ہی آنکھیں پھیر لیں اور ان کی طرف اپنا جھکاوٴد کھا یا ۔
افغانستان کے علاوہ سرحد کے اس پار پاکستان میں بھی حالات کچھ زیادہ مختلف نہ تھے کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے دولت اسلامیہ کی حمایت کا اعلان کرکے سب کو روطہ حیرت میں مبتلاء کر دیا یہ اعلان باقاعدہ طور پر کالعدم تحریک پاکستان طالبان کے سابق ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کیا تھا جس میں انہوں نے اپنے علاوہ دیگر اہم کمانڈروں کی طرف سے بھی دولت اسلامیہ کے امیر المومنین ابو بکر ابغدادی کی بیعت کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔
اس معاملے پر پہلے سے بٹی تحریک طالبان کی تنظیم مزید حصوں میں بٹ گئی تھی جس میں ایک گروپ پہلے ہی مہمندایجنسی کے کمانڈر عمر خالد خراسانی گروپ اور چند دیگر مخرف کمانڈروں کی صورت میں تنظیم الحرار بنا چکا تھا۔ قارئین کو یا دہوگا کہ پانچ پاکستانی جنگجووٴں نے جن میں ہنگو اور پشاور کے علاوہ اور کزئی، کرم اور خیبر ایجنسی کے رہنما شامل تھے انہون نے دولت اسلامیہ کی راہ لی ۔
ان افراد میں سابق ترجمان شاہد اللہ شاہد کے علاوہ سعید خان، فاتح گل زمان، دولت اللہ، مفتی حسن اور خالد منصور شامل تھے جنہوں نے اپنی وفاداریاں دولت اسلامیہ کی طرف کر دی تھیں ۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے دولت اسلامیہ سے الحاق کرنے والوں کے خلاف فوری ایکشن لیتے ہوئے انہیں تنظیم سے ہی خارج کر دیا ۔ یو ں دنیا میں یہ تاثر چلا گیا کہ پاکستان سے دولت اسلامیہ کی حمایت ذاتی حیثیت میں تو کی گئی ہے لیکن طالبان بحیثیت تنظیم اس سے لاتعلق ہیں۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان طالبان سے دولت اسلامیہ کی کشتی میں چھلانگ لگانے میں اس قدر سرعت کیوں دکھائی تو اس سے بڑی وجہ یہ تھی کہ پاکستانی طالبان آپریشن ضرب عضب میں ہونے والی کارروائیوں کے دوران اس قدر نقصان اٹھا چکے تھے کہ وہ اپنا مرکزی کمانڈاینڈ کنٹرول سسٹم گنوا چکے تھے اور اپنی منتشر قوت کو دوبارہ جوڑنے کیلئے ہاتھ پاوٴں مار رہے تھے ایسے میں جب دولت اسلامیہ کا آپشن سامنے آیا توان میں سے دو جنگجوجو زیادہ بے وقعت ہو چکے تھے انہوں نے خو د کو دوبارہ مضبوط بنانے کیلئے اپنے آپ کو دولت اسلامیہ سے جوڑنے کی کوشش شروع کر دی۔
بظاہر دیکھا جائے تو یہ ایک لحاظ سے بقاء کا مرحلہ تھا جس میں کوشش یہ کی جا رہی تھی کہ پاکستان کے طالبان ذاتی حیثیت یا پھر چھوٹے گروپس کی شکل میں دولت اسلامیہ کا ساتھ دیں۔ ان پاکستانی طالبان کا عام تاثریہ تھاکہ دولت اسلامیہ ان کو ہاتھوں ہاتھ لے گی ا ور شروع میں کچھ ایسا ہی ہوا کہ دولت اسلامیہ میں نچلی سطح پر ہی سہی لیکن ان طالبان کا خیر مقدم کیا گیا تاہم یہ قربتیں اس وقت روک دی گئی جب دولت اسلامیہ کی حمایت کرنے والے طالبان کو پاکستانی طالبان کی مرکزی قیادت نے تنظیم سے بے دخل کر دیا۔

دولت اسلامیہ کی کشتی میں جو طالبان سوار ہوئے انکے خلاف جس انداز سے ایکشن ہوا وہ سب کے سامنے ہے انہیں الگ کر دیا گیا۔ اس علیحدگی کے بعد افغان طالبان کے جنگجو مولانا قہار نے باقاعدہ دولت اسلامیہ کا مبینہ دورہ بھی کیا جہاں افغان طالبان کی مجبوریاں تو دولت اسلامیہ کے کرتا دھرتا کی سمجھ میں آگئیں لیکن پاکستان کے حوالے سے جو فیصلہ کیا گیا وہ بڑا ہم ہے۔
اس فیصلے تحت دولت اسلامیہ کے امیر ابوبکر البغدادی کی طرف سے بغیر کسی لگی لپٹی رکھے کہا گیا کہ وہ کسی بھی پاکستانی جنگجو سے اس وقت تک بیعت نہیں لیں گئے جب تک کہ پاکستانی طالبان اپنے باہمی اختلافات بھلا کر متحد نہیں ہو جاتے ۔ یہ فیصلہ حال ہی میں مبینہ طور پر اس وفد نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران پاکستانی طالبان کوبتایا جس کی قیادت مولانا زبیر الکویتی کر رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق اس تین رکنی وفد میں سعودی عرب سے شیخ یوسف اور ازبکستان کے فہیم الہادی بھی ان کے ہم رکاب تھے ۔ اس وفد کے بارے میں ذرائع کا کہنا اس نے پاک افغان سرحد کے دونوں اطراف میں ملاقاتیں کی یہ ملاقاتیں مبینہ طور پر 11 نومبر سے 5دسمبر کے دوران مختلف مقامات پرکی گئیں جن میں قبائلی اور بندوبستی دونوں طرز کے علاقے شامل ہیں۔سرکاری حکام یہ بات ماننے کو سرے سے تیار نہیں کہ کوئی ایسا گروپ یا وفد پاکستان آیا ہے ان حلقوں کا استدلال ہے کہ پاکستان میں دولت اسلامیہ کی کسی بھی سطح پر تنظیم کا وجود ایک وہم سے زیادہ بڑھ کر نہیں تاہم ذاتی پسند یا نا پسند پر پہرے نہیں بیٹھائے جا سکتے۔
اس موقف کے برعکس دولت اسلامیہ کے مبینہ وفد کی تفصیلات بھی بتائی جارہی ہیں تاہم اس تفصیل سے قطع نظراب جو تازہ ترین انکار دولت اسلامیہ کی طرف سے سامنے آیا ہے اس کے بعد ہونا تو یہ چاہیے کہ وہ تمام لوگ جو خود کو پاکستان میں دولت اسلامیہ کا نمائندہ قرار دیتے تھے انکواب اپنی اپنی دکانیں بند کر دینی چاہئیں کیونکہ ابو بکر البغدادی جو خود حالت جنگ میں ہیں وہ کسی منتشر گروپ کو اس لئے ساتھ نہیں ملانا چاہتے کیونکہ اس طرح یہ منفی تاثر دولت اسلامیہ کے بارے میں جائے گا کہ اس تنظیم کو جو خلافت کی بحالی کیلئے نکلی ہے انکی قبولیت ہی مشکوک ہو چکی ہے۔
دولت اسلامیہ کے اعتبار سے دیکھا جائے تو انہیں ان جنگجووٴں کی منقسم حمایت کی اس بناء پر ضرورت نہیں کہ اس نے ان لوگوں کوبلا کر متحارب کارروائیوں میں حصہ تو نہیں ڈلوانا تھا بلکہ ایک اخلاقی حمایت درکار تھی جو اگر متحد ہوتی تو دولت اسلامیہ اسے دنیاکے سامنے پیش کرتی کہ اسے تحریک طالبان پاکستان کی حمایت حاصل ہے لیکن جب ان یہ کوشش الٹا ایسے تاثر کی طرف جارہی ہے جہاں متعلقہ تنظیم میں ان لوگوں ہی کی گنجائش باقی نہیں رہ پار ہی جو داعش کی حمایت کر رہے ہیں تو پھ رابوبکر کی طرف سے یہ عذر جاری ہوا ہے جس میں طالبان کو اتحاد کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

دولت اسلامیہ کے حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نے پاکستانی طالبان کے حوالے سے تو ایک اہم فیصلہ کر لیا ہے لیکن افغانستان میں بھی کام جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق وہاں کے بارے میں کیا فیصلہ ہوتا ہے یہ خاصی اہم پیشرفت ہوگی کیونکہ اگر بات منقسم ہونے پر بگڑی ہے تو پھر افغانستان میں حالات کچھ زیادہ مختلف نہیں ہوں گئے وہاں تو طالبان کی اکثریت ملا عمر کا بہت زیادہ احترام کرتی ہے ایسے میں افغانستان کے اندر بھی دولت اسلامیہ کو کوئی بڑی کامیابی کا ملنا زیادہ آسان نہیں ہوگا۔
اس لحاظ سے تو بعض حلقے افغان طالبان کے مستقبل بارے میں بھی کچھ پاکستان سے ملتی جلتی پیشن گوئی کر رہے ہیں اور قرائن بھی ایسا ہی کچھ ظاہر کرر ہے ہیں لیکن اب یہ وقت ہی بتائے گا کہ افغانستان میں دولت اسلامیہ کس طرح نفوذ کرتی ہے۔ افغانستان کے بارے میں فیصلہ جلد ہو جائے گا لیکن پاکستان میں بہت سے معاملات اب واضح ہو جائیں گے جبکہ اس انکار کے بعد وہ طالبان جو دولت اسلامیہ اپنے الحاق کی صورت میں خود کو بین الاقوامی درجے کا جنگجو قرار دینے لگے تھے ان کیلئے اپنا میعار نیچے لانے میں ضرورسبکی ہو گی بہرحال یہی وقت کا فیصلہ ہے۔
پاکستان کی داخلی سلامتی کے حوالے سے اگر دیکھا جائے تو اس فیصلے سے ملک کے اندر داخلی استحکام بڑھے گا کیونکہ وہ طالبان جو آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے زیر زمین چلے گئے تھے ان کے سر اٹھانے کی سردست کوئی سبیل نظر نہیں آرہی جو دولت اسلامیہ کیلئے بہتر ہو یا نہ ہولیکن ابوبکر البغدادی کے اس انکار سے پاکستان کے اندر ایک اور ممکنہ فتنہ جو کھڑا ہو سکتا تھا دب گیا ہے۔
حکومتی حلقے اس صورتحال کو آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے ثمرات قرار دے رہے ہیں جبکہ پاکستان کے عسکری حلقوں اور امریکہ کے درمیان اس وقت جو مفاہمت پائی جا رہی ہے اس کے تحت اب سرحد کے اس پار پاکستانی حدود میں بھی جو ڈرون ہو رہے ہیں وہ جاتے دسمبر میں ہی مکمل کئے جائیں گے۔ امریکہ کی ان کارروائیوں سے پاکستانی طالبان کے سرکردہ لیڈروں کو بھی چن چن کرنشانہ بنایا جا رہاہے جو شائد فرست ہینڈ انفارمیشن شئیر نگ کا کمال ہے یا امریکہ نے اپنے سیٹلائٹ کے ذریعے جاسوسی کو اس قدر بڑھا دیا ہے کہ اس کے نشانے ٹھیک ٹھیک لگ رہے ہیں جس سے پاکستان کا داخلی امن مستحکم ہوا ہے اس لحاظ سے یہ بات بھی کہی جا سکتی ہے کہ پاکستان میں دیر پا امن کیلئے معاون ثابت ہو رہے ہیں جو خوش کن ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-12-24

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان