بند کریں
منگل فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کرپشن
اس حمام میں سب ننگے ہیں۔۔۔۔۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ پورے معاشرے میں اوپر سے نیچے تک کرپشن سرایت کرچکی ہے۔ اگر بڑے سیاستدان اور بیورو کریسی کے بادشاہ اربوں کی کرپشن کرتے ہیں
اسعد نقوی:
کرپشن کسی بھی ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ کسی زمانے میں اگر کوئی کرپشن کرتا تو اس کی کوشش ہوتی تھی کہ اسکے جرائم کا کسی کو علم نہ ہو۔ شرفا کرپٹ لوگوں کی صحبت سے بچتے تھے اور بے ایمان یا اختیارات سے تجاوز کرنے والے کو پسند نہیں کیا جاتا تھا۔ اختیارات سے تجاوز، رشوت، بے ایمانی اور چور راستوں کے متلاشی کو پسند نہیں کیا جاتا تھا۔
اب صورتحال یکسر الٹ ہے۔ صورتحال اس قدر بگڑ چکی ہے کہ کرپشن کو ”سٹیٹس سمبل“ سمجھا جانے لگا ہے۔ بے ایمانی اور اختیارات ک ے غلط استعمال کے ذریعے دولت کمانے والوں کو معزز اور معتبر سمجھا جانے لگا ہے۔ اب رشوت لینے والے ڈنکے کی چوٹ پر رشول طلب کرتے ہیں اور ہم عہدوں پر فائز شخص ایمانداری کو اپنا شعار بنائے تو اسے بے وقوف، احمق اور جانے کیا کچھ سمجھا جاتا ہے۔
جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے ک یہ ہمارے معاشرے کا مجموعی رویہ بن چکا ہے۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ پورے معاشرے میں اوپر سے نیچے تک کرپشن سرایت کرچکی ہے۔ اگر بڑے سیاستدان اور بیورو کریسی کے بادشاہ اربوں کی کرپشن کرتے ہیں تو سبزی فروش تول میں ڈنڈی مار کر اور دودھ بیچنے والا پانی ملا کر دو تین روپے کی کرپشن کرلیتے ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ جس کا جتنا بس چلتا ہے وہ اسی حد تک ہاتھ مارلیتا ہے۔
اس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ گلیمر کے اس دور میں معیار زندگی اوپر جارہا ہے لیکن جائز آمدن کے ذرائع اس کا مقابلہ نہیں کرپارہے۔ ہمارے ہاں دو طبقات کرپشن کو جائز سمجھنے لگے ہیں۔ ایک امراء جبکہ دوسرے غریب بظاہر ان دونوں طبقات میں زمین آسمان کا فرق لیکن کرپشن کے معاملے میں انکی سوچ یکساں ہے۔
دولت مند طبقے نے اپنا رہن سہن اس قدر مشکل بنالیا ہے کہ اس کے دوازمات پورے کرنا بعض اوقات ممکن نہیں رہتا۔
گلیمر اور ڈراموں کی چکا چوند سے متاثر ہوکر ایک بار اس طرح کا رہن سہن اپنا لیا جائے تو پھر اس سے کم میں گزارہ کرنا زندگی موت کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ ایسے افراد اپنے گرد ایسے ہی لوگوں کو اکٹھا کرلیتے ہیں۔ اسے ہائی سوسائٹی کا نام دیا جاتا ہے۔ شہر کے مہنگے فارم ہاؤس اور کلب کو سالانہ لاکھوں روپے ممبر شپ فیس ادا کی جاتی ہے۔ اس ”ہائی سوسائٹی“ میں لاکھوں روپے صرف کسی جگہ بیٹھنے کی مد میں ہی خرچ کردئیے جاتے ہیں۔
وجہ یہ ہے کہ ان کلبوں میں عام شخص داخل نہیں ہو پاتا۔ یہاں مزید اعلیٰ سطحی تعلق بنتے ہیں جن کی مدد سے بڑے پراجیکٹ حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے اور بڑی کاروباری ڈیل ہوتی ہیں۔ اس تعلقات کو قائم رکھنے او اس طرز کی لگژری زندگی کو جاری رکھنے کیلئے کرپشن کو جائز سمجھا جاتاہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ایسے فارم ہاؤسز اور کلب میں بیٹھنے والوں کی اکثریت ایک ہی حمام میں نگی ہوتی ہے۔
اسلئے وہ فخر سے اپنی بے ایمانیوں اور کرپشن کے نت نئے طریقوں کی داستانیں سناتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں۔ ایک ہی تھیلی کے یہ چٹے بٹے نئے آنے ولاے کو بھی اپنے رنگ میں رنگنے کی مہاریت رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک کرپشن ایک فن ہے اور اگر انسان کسی عہدے پر فائز ہوتو اسے اس کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔
دوسرا طبقہ وہ ہے جو غربت کی چکی میں پس رہا ہے۔
ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ غربت انسان کو کفر تک لے جاتی ہے۔ یہاں کچھ ایسی ہی صورتحال نظر آتی ہے۔ غربت سے تنگ آئے عام شہری جب اپنے اردگردک ی صورتحال دیکھتے ہیں تو ان کے قدم بھی لڑکھڑاجاتے ہیں۔ ان کے یہاں عام تاثر یہ ہے کہ جب بڑے مگر مچھ کھارہے ہیں تو پھر ان کا بھی حق ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ عام آدمی جتنی کرپشن کرتا ہے اتنے میں تو بڑے مگر مچھ کی داڑھ بھی گیلی نہیں ہوتی۔
اسی طرح یہ بات بھی عام ہے کہ موجودہ حالات اور مہنگائی کے باعث عام آدمی کیلئے کرپشن جائز ہوچکی ہے۔ ہمارے ہاں ایسے نیم ملاؤں کی کمی نہیں ہے جو یہ فتویٰ جاری کر چکے ہیں کہ اگر بجلی چوری ہورہی ہے۔ اور لائن لاسز کا بوجھ عام آدمی پر بھی ڈلااجارہا ہے۔ ان حالات میں کہ آپ بجلی چوری میں ملوث نہیں لیکن بجلی چوروں کی وجہ سے ہونے والے نقصان میں آپ کو بھی حصہ دار بنایا جاتا ہے تو آپ پر بجلی چوری کرنا جائز ہے۔
دوسری جانب اسی قسم کے فتویٰ بھی داغ دئیے گئے کہ بنکوں سے فراڈ کرنا جائز ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ورلڈ بنک یہودیوں کی ملکیت ہے اور تمام بنکنگ سسٹم اسی کے تابع ہیں اسلئے بنکوں سے فراڈ اور بنک لوٹنا جائز اور مال غنیمت ہے۔ ایسے فتویٰ دینے والوں کا حلیہ تو شرعی ہی ہوتا ہے لیکن ان کی اسلامی تعلیمات سے آگہی اور علم ایسے فتوؤں سے ہی واضح ہوجاتی ہے۔
ایسے فتویٰ بڑے مدارس اور جامعہ سے جاری نہیں ہوتے کیونکہ جامعہ اور مدارس میں موجود علماء کرام اسلامی تعلیمات سے بخوبی واقف ہیں۔ البتہ خودساختہ مفتیان اور نیم ملا ذاتی مفادات کیلئے اس قسم کی باتیں کردیتے ہیں اور پورا یقین بھی دلاتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں۔ اس کا جتنا نقصان ملک کو ہوتا ہے اس سے کہیں زیادہ نقصان اسلام کو ہورہا ہے۔
سچ تلخ ہی سہی لیکن بہر حال بہتری کا راستہ دکھاتا ہے اور سچ یہی ہے کہ ہمارے ہاں اگر کوئی اعلیٰ شخصیت اربوں کی کرپشن کرتی ہے تو ایک عام آدمی بھی دو چار روپے کی کرپشن کرنے میں مصروف ہتا ہے۔
ہم اپنے کمپیوٹر میں غیر رجسٹر سوفٹ وئیر انسٹال کرتے ہیں اور اپنے اس عمل کو جائز سمجھتے ہیں حالانکہ یہ بھی ہزاروں روپے کی کرپشن ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ کرپشن کی روک تھام کیلئے الزام تراشیوں کی بجائے کردار سازی پر توجہ دی جائے۔ جب تک عوام مجموعی طور پر کرپشن سے پاک نہیں ہوگی تب تک جتنے مرضی مظاہرے کرلئے جائیں اور جتنے مرضی دھرنے دئیے جائیں کرپشن کا طوفان نہیں تھم سکتا ۔ وجہ یہ ہے کہ اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد بھی عوام میں سے ہی منتخب ہوتے ہیں اور یہ ہمارا ہی مجموعی آئینہ ہوتے ہیں
تاریخ اشاعت: 2014-07-08

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان