بند کریں
جمعہ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
چین کی 45 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ، پاکستان میں ترقی کا نیا باب شروع ہو گا
لیاقت بلوچ کے پی ٹی آئی کی قلابازیوں پر تحفظات۔۔۔۔ بھٹو کی پارٹی سے دلبرداشتہ سابق وفاق وزیر اطلاعات ملک احمد سعید اعوان کی رحلت
احمد کمال نظامی
ہفتہ رفتہ کے دوران جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے المرکز الاسلامی چنیوٹ بازار میں جماعت کے مقامی رہنماوٴں سردار ظفر حسین خان اور انجینئر عظیم رندھاوا کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملک میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے چین کی طرف سے 45 بلین ڈالرکی سرمایہ کاری کو پاک چین دوستی کا کی عمدہ مثال اور ملک میں ترقی کے نئے دور کا آغاز قرار دیا۔
لیاقت بلوچ نے اپنی پریس کانفرنس میں زور دے کر کہا کہ حکومت کے ترقیاتی منصوبوں میں سب سے زیادہ زور ملک کو درپیش انرجی بحران کے خاتمے پر دینا چاہئے۔ جب تک ملک میں انرجی کا بحران ختم نہیں ہو گا اور امن و امان کی حالت بہتر نہیں ہو گی۔ فیصل آباد جیسے صنعتی شہر میں بجلی کا بحران گرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی ملک کو درپیش بجلی بحران کی نسبت دوچند ہو گیا ہے۔
وفاقی وزیر بجلی و پانی خواجہ محمد آصف کی طرف سے بجلی کی پیداوار میں اضافہ کے دعووں کے باوجودبدترین لوڈشیڈنگ سے کاروبار زندگی معطل ہو چکا ہے۔ لیاقت بلوچ اور جماعت اسلامی کے مقامی لیڈروں نے اپنی پریس کانفرنس میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ہنگامی بنیاد پر بجلی بحران کے خاتمہ کے لئے اقدامات کرے۔ لیاقت بلوچ نے پریس کانفرنس کے علاوہ تحصیل ہیڈکوارٹر جڑانوالہ کا دورہ بھی کیا اور کہا کہ امام کعبہ خالد الغامدی کا دورہ پاکستان اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ بعض بین الاقوامی طاقتیں یمن بحران کی آڑ میں حرمین شریفین کے حفاظتی نیٹ ورک کو توڑ کر عالم اسلام کو فرقہ واریت کی آگ میں جھونکنا چاہتی ہیں لیکن پاکستان میں بیٹھے بعض نام نہاد دانشوروں اور غیراہم سیاست دانوں کو پاکستان کی طرف سے سعودی عرب کی عسکری امداد، بین الاقوامی ضابطوں کی خلاف ورزی نظر آتی ہے۔
جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ حرمین شریفین کی حفاظت کے لئے پوری قوم متحد ہے۔لہٰذا حکمرانوں کو سعودی عرب کا بازوئے شمشیرزن بن کر یمن میں پیدا کی گئی شورش کا آگے بڑھ کر قلع قمع کرنا چاہئے، کیونکہ سعودی دفاع اور سلامتی پاکستان کی اولین ترجیح میں شامل ہے۔ سعودی عرب یا حرمین شریف کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت پر خاموش نہیں رہیں گے۔
سعودی عرب کے خلاف ناپاک عزائم رکھنے والے جان لیں کہ سعودی عرب کی سالمیت کو خطرہ ہوا تو سعوی عرب کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں گے۔ ملکی سطح پر بعض سیاستدانوں نے غیرجانبداری کے بخار میں مبتلا ہوکر حکمرانوں کو پارلیمنٹ کی مشترکہ قرارداد کے ذریعے مصلحت آمیز طرز عمل میں جکڑ لیا ہے۔ ملک کے اکثر سیاسی حلقوں کو حیرت ہے کہ کنٹونمنٹ ایریاز کے بلدیاتی انتخابات میں حکمران مسلم لیگ(ن) کو پی ٹی آئی جیسی عوامی جماعت کے مقابلے میں واضح برتری کیسے ملی۔
126دنوں تک دھرنے کے سحر میں رہنے والا اسلام آباد اور اس کے کنٹونمنٹ ایریاز میں پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امیدواروں کو مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کے مقابلے میں کم پذیرائی کیوں ملی ؟ اس کا وضح مطلب یہ ہے کہ سعودی عرب پر منڈلاتے موجودہ خطرات میں پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے سعودی مطالبات کے برعکس پارلیمنٹ کی قرارداد کے ساتھ کھڑے ہونے اور کڑے وقت میں سعودی عرب کا دست وبازو بننے کی بجائے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی رٹ لگانا اس کی عوامی مقبولیت کم کرنے کا باعث بنا ہے۔
عمران خان کی طرف سے اسی طرح کے دیگر جذباتی فیصلے اور بعد میں سیاسی قلابازیاں کھانے کے علاوہ قومی اسمبلی سے استعفوں کے بعد اسی اسمبلی میں شرکت کے اقدام نے اس کے سیاسی مووٴقف کی نفی کی ہے۔جس کے نتیجے میں عوام اب عمران خان سے آہستہ آہستہ دوری اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے بالکل بجا کہا ہے کہ ملک کے عوام اس معاملہ میں سعودی حکمرانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
بلا شبہ ہمارا ملک امریکہ کی مسلط کردہ جنگ میں دہشت گردی کا شکار ہے اور افواج پاکستان کو ضرب عضب کی صورت میں پاک افواج کے جوانوں اور افسروں کی زندگیوں کے نذرانے دینے پڑے ہیں۔ لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ پاکستان تحریک انصاف سمیت ملک کی بعض بڑی سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کو ڈیڑھ عشرہ پہلے امریکہ کی طرف سے افغانستان میں شروع کی گئی امریکہ اور مغربی طاقتوں کی نام نہاد دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ میں جنرل پرویزمشرف کے ہاتھوں کو پاکستان کو اس نام نہاد عالمی اتحاد کا ہراول دستہ بنا دینا اپنی افواج کو سعودی عرب کا بازوئے شمشیرزن بنائے جانے کے مصداق نظر آتا ہے۔

ہفتہ رفتہ کے دوران فیصل آباد کے سیاسی حلقوں کو پاکستان پیپلزپارٹی کے ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو دور کے ایک معروف لیڈر ملک احمد سعید اعوان کی سفر آخرت پر روانگی کا صدمہ اٹھانا پڑا۔ ملک احمد سعید اعوان پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی رکن تھے۔ 1988ء کے انتخابات میں انہوں نے فیصل آباد شہر کی مرکزی نشست میاں زاہد سرفراز اور راجہ نادر پرویز جیسے قدآور سیاست دانوں کو شکست دے کر جیتی تھی اور پیپلزپارٹی کی حکومت میں وفاقی وزیر اطلاعات بنائے گئے تھے۔
1993ء کے انتخابات میں وہ قومی اسمبلی کا الیکشن ہار گئے تو محترمہ بینظیر بھٹو نے انہیں لاہور ہائیکورٹ کا جج مقرر کر دیا تھا۔ 1997ء میں پاکستان مسلم لیگ اقتدار میں آئی تو انہیں لاہور ہائی کورٹ کے جج کی پوزیشن برقرار رکھنا مشکل ہو گیا اور بعد میں انہیں ان کے عہدے سے ریٹائر کر دیا گیا۔ وہ بنیادی طور پر ایک زیرک سیاست دان تھے۔ اس لئے وہ سیاست سے سو فیصد کنارہ کش تو کبھی بھی نہیں ہوئے۔
ان کے پاس انتخابات میں حصہ لینے کے لئے اربوں روپے مالیت کے نوٹ اور اموال نہیں تھے۔ لہٰذا انہوں نے الیکشن 2002ء اور الیکشن 2008ء میں پارٹی کی طرف سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کی پیشکش تو قبول نہیں کی البتہ اپنی پارٹی قائد محترمہ بینظیر بھٹو سے لے کر پیپلزپارٹی کے مقامی کارکنوں کی فکری رہنمائی ضرور کرتے رہے۔ انہیں گذشتہ ہفتے اللہ کو پیارا ہو جانے پر منوں مٹی تلے اتارا گیا ہے لیکن ایک سیاسی کارکن کے طور پر ان کی وفات اس وقت ہو گئی تھی جب 27دسمبر 2007ء کو محترمہ بینظیر بھٹو کو راولپنڈی کے لیاقت باغ کے دروازے پر شہید کر دیا گیا اور ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی نواب شاہ کے آصف علی زرداری کے لئے پارٹی کی قیادت اور ملک کی صدارت کا باعث بن گئی۔
وہ دلبرداشتہ ہو کر گوشہ نشین ہو گئے لیکن جب بھی ان سے پارٹی کے متعلق کوئی سوال کیا جاتا تھا تو وہ مسکرا کر کہا کرتے تھے پارٹی زرداری نے اغوا کر لی ہے اور اب یہ دس پندرہ سالوں میں عوام کے لئے قصہ پارینہ بن جائے گی۔ ملک احمد سعید اعوان کی نماز جنازہ میں پیپلزپارٹی کے کسی بڑے نے شرکت نہیں کی۔ پیپلزپارٹی شہر کے صدر رانا مشتاق احمد خاں کا ایک بیان بعض اخبارات میں چھپا ہے۔
راجہ ریاض احمد سمیت پارٹی کے مقامی بڑوں میں سے کسی کو پارٹی کے لئے ملک احمد سعید اعوان کی جدوجہد اور ان کی خدمات کا اعتراف کرنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ شاید یہ بھی ”بلاول ہاوٴس“ یا زرداری مکتبہ فکر کے پارٹی سیاست دانوں کی پارٹی پالیسی ہو۔ ملک احمد سعید اعوان کی رحلت سے پیپلزپارٹی فیصل آباد کی جدوجہد کا ایک باب ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-05-05

(0) ووٹ وصول ہوئے