بند کریں
بدھ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بیورو کریٹس۔۔۔۔۔۔ ہر دور کے حکمران
یہ عوام کو اپنی رعایا اور خود کو عقلِ گُل سمجھتے ہیں ہمارا افسر شاہی نظام جمود کا شکار ہے اور وہ اپنے اس ماضی کے کردار کو تاحال فراموش نہیں کرسکا جو غیر ملکی حکمرانون کے لئے تو ساز گار تھا
محمد نعیم مرزا :
آج پاکستان میں بیور کریسی (آفسر شاہی) کا جو نظام رائج ہے وہ انگریز حکمرانوں کی دین ہے بیوروکریسی کے اس موجودہ نظام کے خدوخال لارڈ کارنیوالس نے وضع کئے تھے۔ اس نظام کو بجاطور پر ”آہنی شکنجہ “قرار دیا جاتا تھا کیونکہ اس کے ذریعے انگریزوں نے قریب 150برس تک برصغیر کو غلام بنائے رکھا ۔ کہنے کی حد تک بیوروکریٹس کو سول سرونٹس یا عوامی خادم قرار دیا جا تا ہے لیکن حقیقت میں یہ لوگ ہر زمانے میں بے تاج بادشاہ بلکہ حقیقی معنوں میں بادشاہ گر ہوتے ہیں۔
ضیاء الحق مرحوم بیورو کریسی کو ایک منہ زور گھوڑے سے تشبیہ دیا کرتے تھے اور سچی بات یہ کے ک اس گھوڑے نے پاکستان پر حکمرانی کرنے والے ہر شخص ، فوجی یا سیاستدان، کو ایک مخصوص مدت کے لئے اپنے اوپر سواری کرنے کی اجازت دی اور جونہی سوار نے خود کو شہہ سوار سمجھنا شروع کیا نو یہ منہ زور گھوڑا اُسے نیچے گرا کرروندتا ہوا چلا گیا۔
جب تک انگریز برصغیر پر حکمران رہے بیوروکریسی کا یہ نظام ان کے مخصوص مفادات کی مکمل نگہبانی کرتا رہا۔
اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ اس زمانے کی بیوروکریسی میں تمام تر اعلیٰ عہدے خود انگریزوں کے پاس تھے اور ان کی تاج برطانیہ اور برطانیوی مفادات کے ساتھ وفاداری اور وابستگی ہر قسم کے شک وشبہ سے بالا تر تھی ۔
انگریزوں نے جو نظام اپنے اقتدار اور مفادات کے تحفظ کیلئے وضع کیا تھا وہ کسی بھی حوالے سے پاکستان کے مخصوص حالات سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔
اس لئے ضروری تھا کہ اس میں ضروری تبدیلیاں متعارف کروائی جاتیں اور افسروں کی تربیت اس انداز میں کی جاتی کہ وہ خود بادشاہ سمجھنے کی بجائے حقیقی معنوں میں عوام فلاح و بہود کے اعلیٰ نظریے کے تحت کار ریاست سر انجام دیتے۔ امن وامان کی بحالی کو یقینی بنانے اورمحصولات کے نظام کو بدعنوانی کے اندھے کنویں میں گرنے سے بچاتے۔لیکن افسوس کہ ایسا نہیں کیا گیا اور آج ہم من حیث القوم اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔

ہمارا افسر شاہی نظام جمود کا شکار ہے اور وہ اپنے اس ماضی کے کردار کو تاحال فراموش نہیں کرسکا جو غیر ملکی حکمرانون کے لئے تو ساز گار تھالیکن پاکستان کے لئے کسی حوالے سے بھی سودمندثابت نہیں ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ” سول سرونٹس“ آج بھی بادشاہ ہیں جو عوام کو اپنی رعایا اور خود کو عقل گُل سمجھتے ہیں لیکن عوامی مسائل کے حل اور خاتمے کی بجائے یہ لوگ یکسر لاتعلق دکھائی دیتے ہیں۔
دراصل افسر شاہی نے اپنا وجود پر قرار رکھنے کا شاطرانہ اور انتہائی موثر طریقہ یہ نکالا کہ حکمران فوجی ہو یا سیاستدان اس سے اپنی مرضی کے فیصلے کروائے جائیں، حکمرانوں کے خوس رکھا جائے، عوام اور حکمرانوں کے درمیان دوریاں پیدا کی جائیں اور اس طرح اپنی حکمرانی کو دوام بخشا جائے۔
1958 ء جسٹس اے آر کار نیلیس کی سربراہی میں پاکستانی بیورو کریسی میں اصلاحات کی غرض سے ایک کمیٹی قائم کی گئی جس کی رپورٹ میں واضح طور کہاگیا کہ ”سیٹل فریم“ کی شہرت رکھنے والی بیوروکریسی کو کرپشن کا زنگ لگ چکا ہے جو بہت جلد پورے پاکستانی معاشرے کو زنگ آلودہ کر دے گا۔

1971ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے بیورکریٹس کو اپنے سرکاری امو ر کی انجام دہی کے لئے کئے جانے والے فیصلوں پرحاصل عدالتی کارروائی سے استثنیٰ ختم کر دیا۔ افسران کے تقرر و تبادلے کا اختیار بیوروکریسی سے واپس لے کر عوامی نمائندوں کے سپر د کر دیا گیا۔ توقع یہ تھی کہ اس طرح بیوروکریسی کے مجموعی مزاج سے ” شاہانہ تیور“ ختم ہو جائیں گئے لیکن اس کا نتیجہ توقعات کے خلاف سامنے آنا۔
بیوروکریسی نے اپنے اختیار پر قدغن کو کام نہ کرنے کا جواز بنالیا۔ 90 فیصد عوامی مسائل کے حل کی بجائے افسروں نے یہ وطیرہ اختیار کر لیا کہ ان پر سیاسی دباوٴ ہے جس کی وجہ سے ہی کام نہیں کیاجاسکتا۔ اپنے مسائل کے حل کیلئے اب عوام کے پاس پٹواری‘ تھانیداری اور ایس ڈی او وغیرہ ہی رہ گئے تھے اور انہوں نے عوام کو خوب جی بھر کر لوٹا اور آج تک لوٹ رہے ہیں۔

2001ء میں ملک میں مقامی حکومتوں کا نظام متعارف کروایا گیا جس کے تحت ڈپٹی کمشنر کا عہدہ ختم کر دیا گیا جو عوام اور حکومت کے درمیان رابطے کا ایک بہترین ذریعہ ثابت ہوتا تھا۔ اس عہدے کے خاتمے کیساتھ ہی امن وامان شہریوں کے جان ومال کی سلامتی و حفاظت، محاصل کی جمع بندی اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی جیسے اہم امور بھی خوب وخیال ہوگئے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ اپنے قیام کے چند برس بعد2008میں اس کا خاتمہ ہو گیا۔
بھٹو نے اپنے دور میں بیوروکریسی کو کنٹرول کرنے کیلئے جا ااقدامات کیے تھے ان کے نتیجے میں افسران نے خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہوئے اپنی نوکری بچانے کے لئے سیاسی چھتری تلاش کرنا شروع کر دی تھی اس کے نتیجے میں سیاسی حکمرانوں نے بیوروکریسی کو اپنے مفادات کے حسول کا ذریعہ بنا لیا ۔
اپنی مرضی کی پوسٹنگ لینے کے لیے افسران نے سیاستدانوں کی چاپلوی اورخدمت گزاری کا کام دھڑ لے سے سر انجام دیا یوں سیاستدان بھی مزے میں رہے اور افسروں کی بھی چاندی ہوتی رہی۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ افسر اسی صورت اپنے کار منصبی پوری دل جمعی سے انجام دے سکتا ہے جب اس کی عزت، ترقی اور روزگار محفوظ ہو۔ تاہم اس کیلئے افسر کا ایمانداری ، دیانت داری اور فرض شناسی جیسے خصائص کا حامل ہونا شرط اولین ہے۔
سول سروس وفاقی ہو کر یا صوبائی اس میں ترقی و تبادلے اور تقرری کے حوالے سے سب کیلئے یکساں اسول اپنایا جائے اورمیرٹ کو ترجیح دی جائے ۔ ہر افسر کو اعلیٰ ترین عہدے پرفائز ہونے کا حق دیا جائے اور پالیسی سازی میں اسکے کردار کو یقینی بنایا جائے۔ حکمرانوں سے لے کر ریاستی اعمال تک کسی کوبھی حکومت و ریاست کی ادائیگی کے حوالے سے عدالتی استثنیٰ حاصل نہیں ہونا چاہیے۔
تاہم افسروں اور حکمرانوں کے بے جا اور لایعنی مقدمات سے بچانے کے لئے کوئی ایسا فریم روک وضع کرنے کی ضرور ت ہے جس کی وجہ سے انہیں بلا جواز عدالتوں میں گھسیٹنے کا سلسلہ شروع نہ ہو سکے۔ اس مقصد کیلئے مختلف سطحات پر ایسی کمیٹیاں قائم کی جا سکتی ہیں جو افسران اور حکمرانوں کے خلاف شکایات سامنے آنے پر تحقیقات کے ذریعہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انداز میں فیصلہ کریں کہ ان کے خلاف عدالتوں میں مقدمات دائر کئے جائیں یا نہیں۔
افسروں اور حکمرانوں پر بے بنیاد اور بلا جواز الزامات کی حوصلہ شکنی ضروری ہے تو اس کے ساتھ ساتھ ان کی بدعنوانی اور نا اہلی پر ان کا مواخزہ بھی ناگزیرہے۔
افسران کی ترقی کو ان کی کار گزاری کے ساتھ مشروط کر دیا جائے۔ کار کردگی کا ہی میرٹ قرار دیا جائے تو پھر اہل اور قابل افسران ہی آگے آئیں گئے اور بیوروکریسی حقیقی معنوں میں عوامی خدمتگار کا درجہ حاصل کر پائے گی۔
تاریخ اشاعت: 2014-02-08

(1) ووٹ وصول ہوئے