بند کریں
ہفتہ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
آئندہ بجٹ اورعوام کیلئے ریلیف؟
شرح ٹیکس بڑھ گئی ٹیکس دہندگان کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہوسکا۔۔۔۔۔وزیرخزانہ محمداسحٰق ڈار3جون 2014ء کوآئندہ مالی سال یعنی 2014-2015ء کاوفاقی بجٹ پیش کررہےہیں۔عوام میں بجٹ سے پہلے شدید بے چینی اور اضطراب ہے
عبدالقدوس فائق:
وزیرخزانہ محمد اسحٰق ڈار 3جون 2014ء کو آئندہ مالی سال یعنی 2014-2015ء کا وفاقی بجٹ پیش کررہے ہیں۔ عوام میں بجٹ سے پہلے شدید بے چینی اور اضطراب ہے۔ یہ تشویش اس لئے ہے کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس اصلاحات کے نام پر ملک میں سیلز ٹیکس کی شرح بڑھا کر 17سے 21فیصد کرنے کے ساتھ ساتھ ود ہولڈنگ ٹیکس کی طرح میں بھی اضافہ کیا گیا تھا جس کی وجہ سے سال بھر مہنگائی میں اضافہ کا سلسلہ جاری رہا۔
ٹیکسوں میں جس شرح سے اضافہ ہوا تھا اسی قدر ٹیکس کی چوری کی شرح بھی دو گنا ہوگئی‘ اس کا یہ نتیجہ نکلا کہ نہ تو حکومت کا ٹیکس کی وصولی کا ہدف پور ہوسکا نہ ہی قومی معیشت کا کوئی ہدف پورا ہوا۔ وزارت خزانہ نے مالی سال 2013-2014ء کے ابتدائی 10ماہ کی کارکردگی پر مشتمل اکنامک سروے آف پاکستان جاری کردیا ہے‘ جس میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ حکومت اپنے پہلے ہی مالی سال کا کوئی ہدف پورا نہیں کرسکی۔
عوام پر ٹیکسز بڑھا کر رواں مالی سال میں ٹیکس ریونیو کا ہدف 24کھرب 75ارب روپے مقرر کیا تھا‘ رواں مالی سال کے ابتدائی 10ماہ یعنی جولائی 2013ء سے اپریل 2014ء تک 17کھرب 45ارب روپے وصول ہوسکا اور 30جون 2014ء کے اختتام پر یہ اسی طرح سے بڑھ کر 20کھرب 95ارب تک مشکل سے نیچے جائے گا۔ رواں مالی سال کے ابتدائی 10ماہ میں وصول ہونے والے ٹیکس ریونیو میں 10کھرب 87ارب روپے بلواسطہ ٹیکسوں سیلز ٹیکس‘ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی‘ کسٹمز ڈیوٹی وغیرہ کے ہیں‘ جبکہ 6کھرب 98ارب روپے انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکسز کے بلواسطہ ٹیکسز کے شامل ہیں۔

یہی نہیں بلکہ اس مدت میں جی ڈی پی کی شرح جس کا ہدف 4.4فیصد تصور کیا گیا‘ اسکی شرح 4.1فیصد رہی اور افراط زر کی شرح 8.7فیصد بتائی گئی ہے۔ اس کا ہدف 8.5فیصد مقرر کیا گیا تھا‘ اسی طرح زرعی شعبہ کی افزائش کی شرح بھی ہدف کے مقابلہ میں کم رہی۔ یہ سب کیسے ہوا؟ اس لئے کہ جب ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ ہوگا تو ٹیکسوں کی چوری بڑھے گی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت ملک میں ٹیکسوں کی چوری 30کھرب روپے سے بھی تجاوز کرگئی ہے جو پورے ٹیکس ریونیو سے زیادہ ہے۔
ٹیکس بڑھنے سے عوام بدحال اور بدعنوانی اور چور تاجر و صنعت کار اور ٹیکس دہندگان کے وارے نیارے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مضبوط لابی ٹیکس کی شرح میں کمی نہیں ہونے دیتی اور تمام ایسی ٹھوس تجاویز کو ٹیکس کی شرح میں کمی کر کے ٹیکس کی وصولی میں اضافہ کیلئے پیش کی جاتی ہیں۔ انہیں مسترد کردیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے وزراء خزانہ جو صرف پالیسی سازی کرتے ہیں‘ اس طبقے کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں کیونکہ یہی طبقہ ان کیلئے بجٹ سازی کرتا ہے‘ موجودہ حکومت کی ایک سال کی کارکردگی بھی یہی ظاہر کرتی ہے۔
اس بڑی ناکامی کے بعد ہونا تو یہی چاہئے تھا کہ وزیر خزانہ اور وزارت خزانہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو اپنی ناکامی کے اسباب تلاش کرتے ان کے سامنے روز روشن کی طرح یہ سب کچھ سامنے آجاتا‘ مگر اس بار بھی پھر ٹیکسوں میں مزید اجافہ کا فیصلہ کرلیا گیا ہے اور اطلاعات کے مطابق سیمنٹ‘ سرئیے‘ تمباکو سمیت متعدد سامان پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں 10فیصد اضافہ کے علاوہ نیٹ وارنش‘ کاسمیٹکس اور دیگر پر بھی 10فیصد مزید فیڈرل ایکسائز ڈیوٹٰ عائد کی جائے گی جبکہ کسٹمز نے اپھنی ڈیوٹیز کی وصولی کے ہدف میں نمایاں کمی کے بعد خام پیٹرول(کروڈ آئل) پر مزید ڈیوٹی میں اضافہ کی سفارش کی ہے۔
اس طرح پیڑولیم مہنگا ہونے سے خود بخود تمام اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ ان تمام اقدامات سے ملک کا عام طبقہ جو پہلے ہی مہنگائی میں پس رہا ہے‘ اس کے لئے زندہ رہنا مشکل ہوجائے گا یہ بھی یاد رکھئیے کہ ملک جو اس وقت ایک کروڑ سے زائد مکانات کی قلت کا شکار ہے اور اسکی تعمیراتی صنعت تباہی سے دوچار ہے‘ اس میں سیمنٹ‘ سرئیے’ نیٹ وارنش پر مزید 10فیصد ایکسائز ڈیوٹی سے تعمیراتی صنعت مزید تباہ و برباد ہوگی۔
پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ سے آٹا‘ چاول‘ دال‘ چنا‘ سبزیوں‘ پھلوں سمیت تمام اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ سیلز ٹیکس کی شرح 10فیصد سے کم کر کے ہر قسم کا ریفنڈ اور ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا خاتمہ کردیا جاتا‘ او ہر شخص کو اور ہر طبقہ کو ٹیکس نیٹ میں لاکر ٹیکس وصول کیا جائے‘ مگر موجودہ حکومت کے ایک سال کی مدت میں ٹیکس دہندگان کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہوسکا‘ نہ ہی اب تک اس پر کوئی توجہ دی گئی جبکہ 2سال قبل 26لاکھ ایسے افراد کا سراغ لگایا گیا تھا جو 400گز سے بڑے مکانات میں رہتے اور ان کے مالک ہیں‘ 1000سی سی یا اس سے زائد کی کاروں میں گھومتے ہیں‘ ان کے مالک ہیں۔
سال میں دو اور اس سے زائد غیر ملکی دورے کرتے ہیں‘ جن کے بچوں کی ماہانہ اسکول کی فیس لاکھوں روپے ہے مگر ان سے کیا وصول کیا گیا‘ اب تک صیغہ راز میں ہے۔ بڑے بڑے جاگیردار‘ وڈیرے‘ زمیندار ہر سال زراعت سے اربوں روپے کمانے والوں پر کوئی ٹیکس نہیں’ صرف ٹیکس ادا کرنے والے دیانت دار افراد جن میں زیادہ تر ملازمین اور عوام جو ہر چیز کی خریداری پر بھاری ٹیکس ادا کرتے ہیں‘ وہی یہ سب کچھ ادا کررہے ہیں‘ گھی خریدنے جاتے ہیں 17فیصد کی شرح سے سیلز ٹیکس ادا کررہے ہیں‘ شکر خریدیں‘ چائے خریدیں‘ ڈبوں میں بند یا پیک بسکٹ خریدلیں‘ پیک اور مصالحہ جات خریدیں‘ پانی کی بوتل خریدیں‘ شربت یا بیوریج‘ گھر پر بجلی استعمال کریں یا ٹیلی فون سیلز ٹیکس کے ساتھ بجلی اور ٹیلی فون پر انکم ٹیکس بھی ادا کررہے ہیں‘ اس وجہ سے ٹیکس کا پورا انتظام غیر منصفانہ اور غیر شفاف ہے۔
حال ہی میں فیڈریشن کی ماہرین کی کمیٹی نے سیلز ٹیکس پر سرکاری اعداد و شما ر سے جو کام کای ہے اس سے یہ معلوم ہوا ہے کہ سیلز ٹیکس جس کی شرح 17 فیصد سے 21فیصدہے۔ حکومت کو اوسطاََ 3.2فیصد وصول ہوتا ہے۔ اور باقی ریفنڈ اور ایڈجسٹمنٹ کے نام پر ہڑپ کرلیا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں آنے والے بجٹ سے عوام آدمی بری طرح خائف ہے اور اگر ڈار صاحب نے مالی سال 2014-2015ء کے بجٹ کو بھی ٹیکس ریونیو میں اضافہ کا بجٹ بنایا تو موجودہ حکومت کی مقبولیت پر برے اثرات مرتب ہوں گے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے عوام پر ٹیکسز کا بوجھ مزید بڑھا کر سرکاری ملازمین کیلئے 10سے 15فیصد کی شرح سے تنخواہوں میں اضافہ کی شفارش کی ہے۔ جس کے مطابق تنخواہوں میں 10فیصد اضافہ سے اخراجات میں مزید 30ارب روپے اور 15فیصد کی صورت میں 45ارب روپے اضافہ ہوگا۔ اس صورتحال میں وزیر خزانہ کی جانب سے عوام کو خوشخبریاں دینے میں بھی شدید دشواری کا سامنا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-06-03

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان