بند کریں
منگل فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بلاول بھٹو کی سکیورٹی پر پھر سوالیہ نشان
متحدہ اور پی پی میں دوریاں برقرار۔۔۔۔ بلاول بھٹّو کو ایک سال سے کم مدت میں دوسری بار شدت پسندوں کی جانب سے سنگین نتائج کی دھمکیاں ملی ہیں جن پر ملک کی دوسری سیاسی جماعتوں کے رہنماوں نے بھی تشویش کا اظہارکیا ہے
شہزاد چغتائی :
پاکستان پیپلز پارٹی کے سر پرست اعلیٰ بلاول بھٹّو زرداری کی سکیورٹی ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ بلاول بھٹّو کو ایک سال سے کم مدت میں دوسری بار شدت پسندوں کی جانب سے سنگین نتائج کی دھمکیاں ملی ہیں جن پر ملک کی دوسری سیاسی جماعتوں کے رہنماوں نے بھی تشویش کا اظہارکیا ہے۔ کالعدم تنظیم کی دھمکیوں کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے پنجاب کا دورہ منسوخ کر دیا اور کہا کہ انہیں کچھ ہوا تو اس کی ذمہ دار حکومت پنجاب ہو گئی۔

بلاول بھٹو ملنے والی دھمکیوں کی بازگشت سندھ اسمبلی میں بھی سُنائی دی اور ارکان اسمبلی نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ۔ مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر عرفان اللہ مروت نے کہا کہ بلاول بھٹو ملک اور قوم کا اثاثہ ہیں۔ اس معاملے پر مسلم لیگ (ن) اور حکومت پنجاب کے درمیان رابطے قائم ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما آغا سراج درانی نے صوبائی وزیر رانا ثناء اللہ خان کے اس بیان کا بہت بُرا منایا جس میں انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری کو سابق وفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک نے دھمکی آمیز خط لکھا ہے ۔
اس سے قبل کراچی میں بلاول بھٹو زرداری کو بم سے اُڑانے کی سازش پکڑی گئی اور پولیس نے بارود سے بھری گاڑی برآمد کر کے تحریک طالبان پاکستان کے ایک رہنما کو گرفتار کر لیا تھا۔
صوبائی وزیر نثار کھوڑو نے بھی رانا ثناء اللہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اشتعال انگیز بیانات نہ دیں ۔ ممتاز بھٹو نے بھی بلاول کو طالبان کیخلاف بیانات دینے کی بجائے اپنے جانثاروں سے بچنے کا مشورہ دیا ہے کیونکہ جب پیپلز پارٹی پر بُرا وقت آتا ہے تو یہ غائب ہو جاتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کا المیہ یہ ہے کہ وہ اب انتہا پسندوں اور شدت پسندوں کے ہدف ہے۔ عام انتخابات میں بلاول نے دھمکیوں کے بعد انتخائی مہم نہیں چلائی تھی اور دبئی چلے گے تھے۔ بعد میں الزام لگادیا کہ ہم سے الیکشن میں 100نشستیں چھین لی گئیں۔
بلاول بھٹو نے سخت بیان دے کر حکومت میں شمولیت کے لئے پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو بھی ناکام بنا دیا ہے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا جب گورنر سندھ اور وزیر اعلیٰ سندھ نے مخلوط حکومت بنانے کا باقاعدہ اعلان کر دیا تھا اورحلف برداری کی تیاریاں شروع ہو گئی تھیں۔ خورشید شاہ نے جب ایم کیو ایم کے خلاف بیان دیا تو ہم نے انہی کالموں میں لکھا تھا کہ خورشید شاہ نے قیادت کے اشارے پر ہی سخت بیان دیا ہے اور جب بلاول نے کہا کے مارشل لاء کی حمایت اورسندھ توڑنے کے بیانات دینے والوں کو حکومت میں کیسے شامل کر سکتے ہیں تو بلی تھیلے سے باہر آگئی۔
بلاول کے بیان کو ایم کیو ایم نے سنجیدگی سے نہیں لیا لیکن اس کے رُکن صوبائی اسمبلی نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیں کئی بار حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے ، ہم حکومت کا حصہ بننے کا ارادہ نہیں رکھتے ۔ علی رضا عابدی کے بیان کے بعد دونوں جانب خاموشی چھا گئی، مفاہمت کے جادو گر گھر جا کر بیٹھ گئے اور مذاکرات کا عمل ختم ہو گیا۔ لیکن سیاسی حلقے مذاکرات میں تعطل کو تسلیم نہیں کرتے۔
ان کا دعویٰ ہے کہ ایم کیو ایم اور حکومت کے درمیان پس پردہ رابطے بر قرار ہیں اور دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے لئے نرم گوشہ رکھتی ہیں جس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ جب بلاول کی سکیورٹی کے معاملے پر پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کے بیانات کی جنگ ہوئی توالطاف حسین نے بلاول کے حق میں بیان دیا جس پر سب کو حیرت ہوئی۔
سیاسی حلقوں کے مطابق ایم کیو ایم باریک بینی سے پیپلز پارٹی کی حکومت میں شمولیت کا جائزہ لے رہی ہے اور مخلوط حکومت بنانے کے فیصلے کے باوجود بعض تحفظات رکھتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بلاول کے بیان کا بھی دونوں جماعتوں نے جائزہ لیا ہے اور مشاورت کے بعد ایم کیو ایم مطمئن دکھائی دیتی ہے حالانکہ پس پردہ رابطے برقرار ہیں لیکن مثبت پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔
تخریب کاری اور دہشت گردی کے خطرات کے باعث مزار قائداعظم کے اندر اور اطراف پولیس اور رینجرز کا پہرہ لگا دیا گیا ہے۔اطراف کی سڑکیں بھی بند کر دی گئی ہیں۔
مزار کے اندر پاررکنگ پر پابندی ہے اور فاتحہ کے لیے جانے والوں کی جامہ تلاشی لی جارہی ہے۔ سکیورٹی سخت ہونے کے باعث مزار کی رونقیں ماند پڑ گئی ہیں اور مزار سنسان پڑاہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ مزار کی سکیورٹی بھی بڑھائی جار ہی ہے۔مزار کے اندر پولیس اور رینجرز کا پہرہ ہے ۔ ایک ہفتہ قبل ان اطلاعات کی تصدیق کی گئی تھی کہ تخریب کار مزار قائد کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
اس سے قبل زیارت ریذیڈنسی کو اُڑایا گیا تھا جہاں سکیورٹی کے کوئی انتظامات نہیں تھے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مرکزی مقبرہ پر تینوں مسلح افواج کے گارڈ 24گھنٹے پہرہ دیتے ہیں۔ شہر میں پولیس اور رینجرز کی توجہ دہشت گردی سے زیادہ مقبروں، مزاروں، قیدیوں، فورسز کے دفاتر اور تنصیبات پر مرکوز ہے۔ کراچی جیل میں قیدیوں کی حفاظت کا نظام موثر بنانے پر ا ب تک کروڑوں روپے خرچ ہو چکے ہیں جسے شہریوں نے ڈرامہ قراد دیتے ہوئے نا پسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔
شہریوں کا کہناہے کہ جیل ٹوٹنے کا خطرہ ہے تو قیدیوں کو شفٹ کر دیا جائے۔ شہریوں کو تنگ کرنے کیا جواز ہے؟ کراچی جیل اور مزار قائد کے اطراف سڑکوں پر رکھے گئے بڑے بڑے پتھروں سے ٹکرا کر کئی گاڑیاں تباہ ہوچکی ہیں۔ ان حادثات میں کئی افراد ہلاک اور زخمی بھی ہوئے ہیں لیکن کسی کو پرواہ نہیں ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-04-17

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان