بند کریں
اتوار فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بجلی صارفین کیلئے زائد رقوم کی واپسی پالیسی کا خوش آئند فیصلہ
وزیراعظم نے کہا کہ بجلی کی قیمتیں کم کرنے اور سستی بجلی پیدا کرنے کے لئے وہ ماہرین سے رہنمائی لے رہے ہیں۔پچھلے پندرہ برس سے مہنگی بجلی پیدا کی جاتی رہی ہے اس کے باعث آج بھی بجلی کی موجودہ قیمت پر حکومت سبسڈی دے رہی ہے
فرخ سعید خواجہ:
محرم الحرام کا مہینہ شروع ہو چکا ہے، سیاسی سرگرمیاں ماند پڑ گئی ہیں۔ ڈاکٹر طاہرالقادری امریکہ اور کینیڈا کے دورے پر چلے گئے ہیں۔ عمران خان 30 نومبر کو دوبارہ اسلام آباد جانے کی تیاریوں میں مشغول ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا اب اسلام آباد جانے کا پروگرام نہیں وہ امریکہ روانہ ہونے سے پہلے کہہ گئے ہیں کہ اب ان کا اسلام آباد جانے کا پروگرام نہیں وہ آگے بڑھ رہے ہیں۔
ڈاکٹر طاہرالقادری نے جس طرح اپنے تمام فیصلوں اور انقلاب مارچ کا جائزہ لے کر مستقبل کا لائحہ عمل تیار کیا ہے اور خود کو عوام کی عدالت میں پیش کرکے ووٹ کی پرچی سے عوامی طاقت حاصل کرکے اسلام آباد جانے کا پروگرام بنایا ہے وہ پاکستان کی سیاست کے لئے خوش آئند ہے۔ کاش عمران خان نے بھی ضد اور انا کا سہارا لینے کی بجائے اپنی کوتاہیوں، غلطیوں اور کامیابیوں کا تحمل سے جائزہ لینے کی کوشش کی ہوتی تو وہ اپنے لوگوں کو تصادم کے خطرات میں ڈالنے کی بجائے بہتر فیصلہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے۔

ہماری رائے میں الیکشن 2013ء میں صوبہ پختونخواہ کی حکومت کا حصول، صوبہ پنجاب میں ان کا قائد حزب اختلاف آنا اور تحریک انصاف کا قومی اسمبلی کی تیسری بڑی جماعت بن کر ابھرنا بہت بڑی کامیابی تھی۔ خان صاحب کی الیکشن شفاف ہونے کے بارے میں شکایتیں اپنی جگہ تھیں، الیکشن 2013ء میں ہونے والی کوتاہیوں، غفلت یا بدنیتی پر قابو پانے کی منصوبہ بندی کی جاتی۔
تمام سیاسی جماعتیں بشمول مرکز، پنجاب، سندھ، بلوچستان کی حکمران جماعتوں کو الیکشن شفاف کروانے کے ایجنڈے پر لایا جاتا تو یقیناً بہتری کے امکانات اور مواقع بڑھ جاتے۔ پاکستان میں آزاد عدلیہ اور انتظامی و مالی طور پر خود مختار الیکشن کمشن کے لئے اپوزیشن جماعتوں کی طویل جدوجہد ریکارڈ پر ہے۔ الیکشن 2013ء کو پچھلے عام انتخابات کی نسبت بہتر قرار دیا جاتا ہے۔
اس کا کریڈٹ بلاشبہ سیاسی جماعتوں کی ماضی کی جدوجہد کو جاتا ہے۔
آزادی مارچ اور انقلاب مارچ سے جہاں ملک کو نقصان پہنچا وہاں سیاسی بیداری میں اضافہ ہوا۔ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کی سیاسی قوتیں ”اکتوبر گروپ“ کے خلاف یکجا ہوئیں۔ اسٹیبلشمنٹ کو سیاسی قوتوں کے اتحاد نے شکست دی۔ سیاسی قوتوں کے مابین معاہدے کے لئے سیاسی قوتیں ”جرگہ“ میں شامل ہوئیں۔
لگ بھگ معاہدہ طے پا گیا تھا۔ اب پارلیمنٹ میں رہ کر جدوجہد کرنے کی بجائے اسمبلیوں سے استعفے کشتیاں جلانے کے مترادف ہے۔ لگتا یوں ہے کہ سڑکوں پر سیاست اور عدالت سے فیصلہ لینے کی تمنا ہے۔ الیکشن کمشن، ریٹرننگ افسروں، پریذائڈنگ افسروں کے خلاف دھاندلی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی استدعا پر مبنی رٹ درخواست کی سماعت آج جمعرات 29 اکتوبر کو چیف جسٹس پاکستان ناصر الملک، جسٹس امیر اور جسٹس اعجاز احمد چودھری کر رہے ہیں۔
ایک اور عدالت میں آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے حوالے سے کیس بھی زیر سماعت ہے۔ سو آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔
جہاں تک حکمرانوں کے کیمپ کا تعلق ہے کابینہ میں حقیقی تبدیلیاں لانے کے لئے موجودہ کابینہ کو تحلیل کرنے اور بجلی کے اگست 2014ء کے اضافی بلوں کو واپس لے کر صارفین سے پچھلے برس اگست 2013ء میں جتنے یونٹ بجلی استعمال کی گئی تھی اتنے یونٹ کا بل وصول کرنے کے اصولی فیصلے ہو گئے ہیں جن کا رسمی اعلان حکومت کی جانب سے کیا جانا باقی ہے۔
پٹرول کی قیمتوں میں عوام کو ریلیف دیا جائے گا جبکہ وزیراعظم نواز شریف کا عزم ہے کہ نہ صرف لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہو گا اور بجلی کی قیمتیں کم کریں گے بلکہ سستی بجلی پیدا کرکے غریبوں کو مفت بھی بجلی فراہم کی جائے گی۔ ہمارے پاس یہ معلومات وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کا نتیجہ ہیں۔ اس ڈرامائی ملاقات کا سبب وزیراعظم کے پولیٹیکل سیکرٹری سید آصف کرمانی بنے۔
میں اپنے دوست سابق طالب علم لیڈر اور اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے پہلے منتخب صدر مقیم احمد خان کو حج کی مبارکباد دینے گیا تھا۔ ڈاکٹر آصف کرمانی کو علم ہوا تو انہوں نے وزیراعظم ہاؤس میں دوپہر کے کھانے پر مدعو کیا۔ وزیراعظم نواز شریف سے ہماری اتفاقیہ ملاقات تھی۔ وہ اپنے دفتر سے مشیر خارجہ سرتاج عزیز و دیگر کے ساتھ میٹنگ کرکے نکلے عین اس وقت دوسرے کمرے سے میں راہداری میں داخل ہوا۔
میاں صاحب کھل اٹھے اور بہت گرم جوشی سے گلے لگایا۔ پوچھا کب آئے؟ بال بچے کیسے ہیں؟ آپ کیسے ہو؟ میں نے انہیں ان کی باتوں کا جواب دیتے ہوئے مبارکباد پیش کی کہ وہ خطرات کے اہم فیز سے نکل گئے ہیں۔ اب آپ بھی عوام کو ریلیف دیں ، بالخصوص بجلی کی قیمتوں کو کم کرنا چاہئے۔ انہوں نے برجستہ کہا کہ کم قیمت پر بجلی پیدا کرنا اسے سستے داموں فراہم کرنا اور غریبوں کو مفت بجلی فراہم کرنا میری خواہش اور کوشش ہے۔
وہ مجھے اور ڈاکٹر آصف کرمانی کو ساتھ لے کر واپس اپنے دفتر میں آ گئے۔ ہماری گفتگو کے دوران ملٹری سیکرٹری دو مرتبہ تشریف لائے کہ وزیراعظم کی توجہ ان کے اگلے پروگرام کی طرف دلائی لیکن وہ مسلسل سیاسی صورت احوال اور عوام کی مشکلات پر گفتگو کر رہے تھے۔ بالخصوص انہیں بجلی کے زائد بلوں پر تشویش تھی۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے جو زائد بل آئے تھے میں نے اس پر آڈٹ کمیٹیاں قائم کیں اور اب اصولی فیصلہ کر لیا ہے کہ اگست 2014ء کے زائد بلوں کی بجائے صارفین سے صرف اتنے یونٹس کا بل لیا جائے جتنے انہوں نے پچھلے سال اگست 2013ء میں استعمال کئے تھے۔
اس طرح انہیں زائد ادا کی ہوئی رقم واپس کر دی جائے گی۔ جناب وزیراعظم نے کہا کہ بجلی کی قیمتیں کم کرنے اور سستی بجلی پیدا کرنے کے لئے وہ ماہرین سے رہنمائی لے رہے ہیں۔ پچھلے پندرہ برس سے مہنگی بجلی پیدا کی جاتی رہی ہے اس کے باعث آج بھی بجلی کی موجودہ قیمت پر حکومت اچھی خاصی سبسڈی دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن سے پہلے بھی کہا تھا اور آج بھی کہتا ہوں کہ اپنی حکومت کے پانچ سال مکمل کرنے تک ہم نہ صرف لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کر دیں گے بلکہ سستی بجلی پیدا کرنے اور فراہم کرنے میں بھی کامیابی حاصل کر لیں گے۔
عوام کو ریلیف دینا ہماری اولین ترجیح ہے تاہم دھرنوں نے پاکستان کی معیشت کو بہت نقصان پہنچایا اور ڈالر کی قیمت 98 روپے سے ایک مرتبہ پھر 103 روپے پر آگئی۔ اس سبب بین الاقوامی مارکیٹ میں پٹرولیم کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان کوئی بہت زیادہ فائدہ نہیں اٹھا سکتا تاہم حکومت پٹرولیم کی مصنوعات میں عوام کو ریلیف دے گی۔ وہ پرعزم دکھائی دئیے کہ دھرنوں نے پاکستان کو جو نقصان پہنچایا ہے اس کا جلد ازالہ کر لیا جائے گا۔
اس موقع پر انہوں نے ماضی کے حوالے سے یادیں تازہ کیں۔ صبح سے شام تک میٹنگوں کی مصروفیات کے باوجود ان کے چہرے پر زندگی سے بھرپور مسکراہٹ تھی اور اپنے مخصوص خوشگوار انداز میں میری گفتگو پر تبصرہ کرتے رہے۔ وہ مسلم لیگ (ن) کو فعال بنانے کے خواہاں دکھائی دئیے۔
تاریخ اشاعت: 2014-10-30

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان