بند کریں
اتوار جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین

فیصل آباد

بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ کے بعد پٹرول کی باری
ہفتہ رفتہ کے دوران پاکستان کے تیسرے بڑے شہر فیصل آباد میں پٹرول پمپوں پر گاڑیوں، موٹرسائیکلوں، رکشاوٴں، ویگنوں اور بسوں کی قطاریں لگی رہیں، پٹرول پمپوں پر پٹرول کم اور خجل خواری زیادہ ملی
احمد کمال نظامی:
ہفتہ رفتہ کے دوران پاکستان کے تیسرے بڑے شہر فیصل آباد میں پٹرول پمپوں پر گاڑیوں، موٹرسائیکلوں، رکشاوٴں، ویگنوں اور بسوں کی قطاریں لگی رہیں، پٹرول پمپوں پر پٹرول کم اور خجل خواری زیادہ ملی اور یوں محسوس ہوتا رہا کہ حکومت عوام کی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ بجلی اور گیس تو پہلے ہی نایاب تھے بلکہ بجلی کی روزانہ کی کم و بیش 12 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے اکثر گھروں میں پانی کا مسئلہ بھی ایک دائمی صورت اختیار کر گیا تھا اور اب اچانک پٹرول بھی مارکیٹ سے ندارد ہو گیا اور زندگی کا پہیہ جام ہو گیا۔
جب ملک میں پٹرول پمپوں پر عوام پٹرول کے حصول کے لئے خوار ہو رہے تھے تو وزیراعظم ملک سے باہر خانہ خداکے طواف سے اپنا دامن اللہ تعالیٰ کی برکات بھر رہے تھے۔ لیکن جب وہ پاکستان میں واپس آئے تو انہیں ایئرپورٹ سے باہر نکلنے سے پہلی اطلاع یہی ملی کہ بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کے ستم رسیدہ لوگوں کو اپنی وہیکلز کا پہیہ چلتا رکھنے کے لئے پٹرول پمپوں پر خوار ہونا پڑ رہا ہے۔
وزیراعظم نے ایئرپورٹ پر ہی پٹرول کی فراہمی کے ذمہ داران کا اجلاس طلب کر لیا اور ایئرپورٹ سے باہر آنے سے پہلے وفاقی سیکرٹری وزارت پٹرولیم سمیت چار اعلیٰ افسروں کو معطل کر کے یہ کہتے ہوئے وزیراعظم ہاوٴس کو روانہ ہو گئے کہ پٹرول بحران کے ذمہ داران نے عوام کے سامنے ان کی سبکی کرا دی ہے۔ اگلے روز پٹرولیم کے وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی سمیت وفاقی کابینہ کے اہم وزراء کا اجلاس بلا کر ان کے مشورے سے پٹرول بحران کے ذمہ داران کا کھوج لگانے کے لئے تحقیقاتی کمیٹی مقرر کر دی گئی مگر وفاقی وزیر سمیت وفاقی کابینہ کے کسی رکن نے خود کو پٹرول کا ذمہ دار قرار دے کر اپنی وزارت سے مستعفی ہونے کا اعلان نہیں کیا۔

وجوہات کچھ اور بھی ہو سکتی ہیں لیکن یہ سچ ہے کہ ملک میں پٹرول کے بحران سے حکومت کی صرف اپنے عوام کے سامنے ہی سبکی نہیں ہوئی بلکہ بہت زیادہ جگ ہنسائی بھی ہوئی ہے۔ فیصل آباد کے مسلم لیگی چوہدری شیرعلی جو ماضی میں متعدد مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن اور سابق میونسپل کارپوریشن کے میئر بھی رہ چکے ہیں انہوں نے بھی وزیراعظم میاں نوازشریف کی طرح اعتراف کیا ہے کہ پٹرول کے بحران سے حکومت کو بے حد سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اگر اس بحران کے ذمہ دار اپنی پارٹی اور اپنے قائد سے مخلص ہیں تو انہیں اپنی نااہلی تسلیم کرتے ہوئے ازخود مستعفی ہو جانا چاہیے۔
فیصل آباد میں بجلی اور گیس کی بندش بھی آئے روز کا معمول ہے۔ ملک میں گیس کی بندش کے ذمہ دار بھی ہمارے حکمران ہیں کہ گیس پائپ لائن منصوبہ کے مطابق حکمرانوں کو 31دسمبر 2014ء تک پاکستان میں گیس پائپ لائن بچھانا تھی لیکن امریکی دباوٴ کے باعث موجودہ حکومت نے اس سلسلہ میں کوئی بھی پیش رفت نہیں کی۔ بنیادی طور پر یہ سہ فریقی منصوبہ تھا لیکن بعد میں بھارت اس منصوبے سے الگ ہو گیا تھا۔
سابق صدر آصف علی زرداری نے ملک کو توانائی کے مستقل بحران سے نکالنے کے لئے اس سلسلہ میں امریکی دباوٴ کو مسترد کرتے ہوئے خود ایران میں جا کر پاک ایران گیس منصوبے پر دستخط کر دیئے تھے۔ اس معاہدے کے مطابق 31دسمبر تک ملک میں گیس پائپ لائن نہ بچھانے پر پاکستان کو اربوں ڈالر جرمانہ ادا کرنا بھی لازم ہے۔ ایران نے نہ صرف پاکستان سے گیس پائپ لائن منصوبہ بروقت مکمل نہ کرنے پر کوئی جرمانہ وصول نہیں کیا بلکہ اب بھی یہ توقع رکھے ہوئے ہے کہ پاکستان جتنی جلدی ممکن ہو اس منصوبے کو مکمل کر لے کیونکہ ایران پاکستان سرحد تک گیس پائپ لائن بچھانے کا کام مکمل ہو چکا ہے۔
ان دنوں موسم سرما ہے اور گھروں میں بجلی کی کھپت بہت زیادہ کم ہے لیکن اس کے باوجود بجلی کی لوڈشیڈنگ عوام کے لئے سوال بنی ہوئی ہے کہ گرمیوں میں کیا ہو گا۔ لوگوں کو کئی کئی سالوں تک گیس کے نئے کنکشن نہیں ملتے۔ بجلی اور گیس چوری ہوتی ہے اور اگر کسی محکمانہ کارروائی کے دوران بجلی گیس کے چور بے نقاب ہو جاتے ہیں تو سیاسی سفارشوں کے ذریعے تادیبی کارروائی سے بچ نکلتے ہیں۔

پورے ملک میں لاء اینڈ آرڈر نام کی کوئی شے نہیں ہے۔ دن دیہاڑے لوگوں سے ان کے موبائل اور پرس چھین کر ان پر گولی تک چلا دینے سے گریز نہیں کیا جاتا۔ گزشتہ چند روز کے دوران شہر کے دو نوجوان تاجروں کو اغوا برائے تاوان اور ڈکیتی کی وارداتوں میں قتل کر دیا۔ سرگودھا روڈ کے علاقہ ہجویری ٹاوٴن کے 22سالہ عبدالرحمن کو اغوا کر لیا گیا اور جب چار پانچ دنوں تک وہ اپنی رہائی کے لئے اپنے لواحقین کے ساتھ کوئی معاملہ نہ کر سکا تو کسی تیزدار آلہ سے اس کے سر کو اس کے دھڑ سے الگ کر کے اس کی نعش پھینک دی گئی۔
نعش کی شناخت جیب سے نکلنے والے قومی شناختی کارڈ سے ہوئی۔ شہر میں پولیس ناکوں کے باوجود ڈاکووٴں نے ات مچا رکھی ہے۔ کینال روڈ پر واقع ٹریٹ بیکری مدینہ ٹاوٴن کے باہر اپنے دو بچوں کے ساتھ کھڑے شہر کے معروف تاجر فیصل سے دو موٹرسائیکل سواروں نے دن دیہاڑے پہلے موبائل ٹیلی فون نکلوایا پھر پرس نکالنے کو کہا۔ فیصل نے جیب سے پانچ ہزار روپے کا نوٹ نکال کر وہ بھی ان کے حوالے کر دیا۔
وہ ٹریٹ بیکری پر خریداری کے لئے آیا تھا۔ ڈاکووٴں نے کہا کہ وہ پرس بھی ان کے حوالے کرے۔ اس نے بتایا کہ وہ پرس گھر سے نہیں لایا۔ جیب میں پانچ ہزار روپے ڈال کر گھر سے آ گیا تھا۔ ڈاکووٴں نے اس کی بات کا یقین نہیں کیا اور اسے گولی مار کر وہاں سے چلے گئے۔ اسی طرح شہر کے معروف اور بارونق علاقے پیپلزکالونی کے حبیب جالب روڈ پر 40سالہ تاجر عبدالرحمن کو ڈاکووٴں نے مزاحمت کرنے پر اس وقت قتل کر دیا جب وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ سٹور سے خریداری کر کے گھر جا رہے تھے کہ دونوں موٹرسائیکل سواروں نے انہیں لوٹنا چاہا اور مزاحمت کرنے پر فائرنگ کر کے زخمی کر دیا جس کے نتیجے میں وہ ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔
سی پی او فیصل آباد سہیل حبیب تاجک نے گذشتہ دنوں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں شہر کے امن و امان کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا تو انکشاف کر دیا ہے کہ پولیس نے عبدالرحمن اور فیصل کے قاتلوں کو شناخت کر لیا ہے مگر یہ ملزم ابھی تک گرفتار نہیں ہو سکے۔ فیصل آباد کراچی کے بعد ملک کو سب سے زیادہ ریونیو دینے والا دوسرا شہر ہے ، صنعت کاروں کیلئے اورگھروں میں بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ پہلے ہی پریشان کن ہے۔
اب پٹرول کے بحران نے پانچ دنوں میں اس شہر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ شہریوں کو پہلی مرتبہ احساس ہوا ہے کہ پٹرول کتنی بڑی نعمت ہے۔ اس شہر سے ہی تعلق رکھنے والے بجلی و پانی کے وزیرمملکت عابد شیرعلی نے شہر میں پٹرول کے بحران کے باعث ”گونوازگو“ کے نعروں کے جواب میں عوام کو یقین دلایا ہے کہ نہروں کی بندش سے ہائیڈرو پاور پیداوار میں کمی کی وجہ سے بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوا تھا ، اس پر کچھ مس مینجمنٹ کی وجہ سے پٹرول درآمد کرنے والی کمپنیوں نے پٹرول درآمد کرنے میں غفلت کا مظاہرہ کر کے عوام کو مزید پریشان کر دیا ہے۔
انہو ں نے یقین دلایا کہ 25جنوری تک پٹرول کی قلت اور بجلی کی کمی دونوں پر قابو پا لیا جائے گا۔ پٹرول درآمد کرنے والی کمپنیوں کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ ان کمپنیوں نے عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل کمی کی وجہ سے پٹرول کی درآمد میں دانستہ غفلت کا مظاہرہ کیا تھا تاکہ مہنگے داموں درآمد کردہ پٹرول ملک میں پہنچنے تک اس کے ریٹس میں عالمی سطح پر مزید کمی ہو جانے کے باعث انہیں خسارہ نہ ہو۔
گویا پٹرول کی قیمتوں میں کمی ہی فی الحقیقت اس کے نایاب ہو جانے کی حقیقی وجہ تھی۔ پٹرول بحران پر درجنوں سوال اٹھ رہے ہیں۔ کسی نے وفاقی وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی کی اس بات کو درست تسلیم نہیں کیا کہ یہ بحران غیرمعمولی طلب سے پیدا ہوا۔ پی ایس او کے مطابق اس بحران کے خاتمے کے لئے 100ارب روپے اور دوماہ درکار ہیں لیکن سچ یہی ہے کہ مملکت خداداد بحرانوں سے دوچار ہے۔
ہر حکومت نے عوام کو وعدوں کے سبزباغ تو دکھائے لیکن ہر آنے والی حکومت عوام کے لئے زیادہ اور نت نئے مسائل لے کر آئی۔ ملک کے 18کروڑ عوام مہنگائی سے، بجلی، گیس اور شفاف پانی کی قلت سے کتنی بھی دوچار رہے یہ عوام ہر رات کچھ نہ کچھ کھا کر ہی سوتے ہیں کیونکہ انسان کے لئے رزق کی فراہمی اللہ کا وعدہ ہے۔ یہ تمدنی سہولتیں ہیں جن کا فقدان اس لئے ہے کہ حکمران خود عوام کے مینڈیٹ سے اقتدار میں آتے ہیں اور اقتدار میں آ کر عوام سے زیادہ انہیں اپنی فکر تو ہوتی ہے عوام کی بالکل کوئی فکر نہیں ہوتی۔ ایک طرف ملک کو عسکریت پسندوں کی دہشت گردی کا سامنا ہے اور دوسری طرف حکمرانوں کی نااہلی عوام کے لئے معاشی اور معاشرتی ناانصافیوں کا باعث بن رہی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-01-23

(0) ووٹ وصول ہوئے