بند کریں
منگل جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بجلی کی کمی نہیں ، تقسیم غلط ہے
فوری طور پر9 ہزار میگاواٹ بجلی بچائی جا سکتی ہے۔۔۔۔۔پاکستان کی بجلی کی طلب اس وقت 17ہزار میگاواٹ اور موجودہ پیداوار 13 سے 15ہزار میگاواٹ ہے ۔
واصف کلیم :
ملک میں ایک طویل عرصے سے جاری بجلی کے بحران میں اگرچہ کمی آئی ہے لیکن سکون و اطمینان کا یہ وقفہ عارضی ثابت ہوگا اور لوڈشیڈنگ کا بھوت بہت جلد ایک مرتبہ پھر گلیوں اور بازاروں میں ناچتا اور عوام الناس اس پر سراپا احتجاج دکھائی دیں گے۔ حکومت اپنے تیئں ملک کو لوڈشیڈنگ سے نجات دلانے کے لئے متعدد منصوبہ جات پر کام کر رہی ہے۔
ان میں شمسی توانائی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے سمیت دیگر منصوبے شامل ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے کچھ عرصہ قبل سابق صدر زرداری کے ہمراہ تھرکول منصوبے کا بھی افتتاح کیا تھا۔
سوال یہ ہے کہ کیا واقعی بجلی پیدا کرنے کے لئے منصوبہ جات لگانا ضروری ہیں؟ کیا ان کی تکمیل کے بعد ہم ان کے چلانے کے قابل ہونگے؟ کیا ان کی وجہ سے ملک لوڈشیڈنگ کے نجات حاصل کر لے گا؟ یہ تمام سوالات اپنی جگہ اہمیت کے حامل ہیں اور ان کے جواب کیلئے ہمیں سب سے پہلے یہ دیکھنا ہو گاکہ ہماری بجلی کی طلب کیا ہے؟ ہم کتنی بجلی پیدا کر رہے ہیں اور موجودہ انفراسٹر کچر کے ساتھ کتنی بجلی پیدا کرنے کے صلاحیت رکھتے ہیں؟
پاکستان کی بجلی کی طلب اس وقت 17ہزار میگاواٹ اور موجودہ پیداوار 13 سے 15ہزار میگاواٹ ہے ۔
گویا ہمارا شارٹ فال 2سے 4ہزار ایندھن کی فراہمی یا پن بلی کے حوالے سے پانی کی دستیابی کے حساب سے کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔
پاکستان اس وقت پانی،تیل، کوئلے، گیس اور ایٹمی مواس بجلی پیدا کر رہاہے۔ موجودہ انفراسٹرکچر کو اس کی پوری صلاحیت کی مطابق کا م میں لایاجائے تو ہم 23 ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی پیدا کر سکتے ہیں۔گویا ہم بجلی کی پیداوار کے لئے نئے یونٹس لگانے کی بجائے اپنے موجودہ ذرائع سے ہی اپنی ضروریات سے5ہزار میگاواٹ بجلی زیادہ پیدا کر نے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہمیں بجلی کی پیداوار میں اضافے کے لئے نئے منصوبے شروع کرنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن اس سے قبل یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے دستیاب وسائل کو مکمل طور پر استعمال میں لائیں۔ مقام حیرت ہے کہ ہماری حکومت نئے منصوبے شروع کرنے میں تو بے حد دلچسپی لے رہی ہے لیکن موجودہ صلاحیت سے بھر پور استفادہ کرنے میں ہرگز کسی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی ۔
شمسی توانائی یا ہوا سے بجلی پیدا کرنے کا عمل بظاہر بہت سستا دکھائی دیتا ہے لیکن درحقیقت یہ ایک مہنگا طریقہ کار ہے اور ایسے منصوبوں پر ابتدائی بھارتی اخراجات کے علاوہ ان کی دیکھ بھال پر بھی بہت زیادہ اخراجات اٹھتے ہیں کیونکہ ان میں استعمال ہونے والی بیٹریاں ایک مقررہ مدت کے بعد کام کرنا چھوڑ دیتی ہیں او انہیں تبدیل کرنا پڑتا ہے ۔
اس کے مقابلے میں پن بجلی کی پیداوار نہ صرف ماحول دوست بلکہ انتہائی سستی بھی ہے۔ مستقبل میں ہمیں زرعی مقاصد کیلئے پانی کے شدید بحران کا سامنا ہوگا کیونکہ گزشتہ کئی برسوں سے ملک میں پانی ذخریہ کرنے کی گنجائش میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ اس سلسلے میں سب سے اہم منصوبے ، کالاباغ ڈیم، کو سیاسی مسئلہ بنا کر طاق نسیاں میں رکھ دیا گیا ہے۔ ملک کے مستقبل کے لئے ناگزیر اس منصوبے کیلئے نام نہاد ”قومی اتفاق رائے“ پیدا کرنے پر زور دیا جاتا ہے لیکن اس سلسلے میں عملی طور پر کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا۔
حقیقت یہ ہے کہ ملک میں جو منصوبے یا فیصلے ”قومی اتفاق رائے“ سے کئے گئے ان کا حال بھی سب کے سامنے ہے۔ پھر ایک خالصتاََ تکنیکی مسئلے کو وقتی سیاسی مفادا کے پیش نظر متنازعہ بنادیا گیا ہے۔ شنید ہے کہ پاکستان کو بنجر بنانے کے مکررو منصوبے پر عمل پیرا بھارت کاالا باغ ڈیم کی تعمیر رکوانے کیلئے سالانہ 12ارب روپیہ خرچ کرتا ہے اور یہ رقم کس کو ملتی ہے یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔

تیل، گیس اور دیگر ذرائع سے پیدا ہونے والی مہنگی ترین بجلی کی اوسط قیمت کم کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ نیشنل گرڈ میں پن بجلی کا حصہ بڑھایا جائے لیکن اس جانب کوئی خاص توجہ نہیں دی جارہی۔ کالا باغ ڈیم منصوبہ متنازعہ ہوچکا ہے لیکن دیگر منصوبہ جات کو کیوں لٹکایا جارہا ہے؟ یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے۔
ماہرین کے اندازے کے مطابق صرف صوبہ خیبر پختونخوا میں پن بجلی کے مختلف چھوٹے چھوٹے یونٹس قائم کر کے ہزاروں میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے لیکن اس سلسلے میں ہنوز کوئی پیشرفت سامنے نہیں آئی۔

لوڈشیڈنگ سے نجات حاصل کرنے کیلئے بجلی پیدا کرنے کے نئے منصوبے بنانا طویل المدت حل ہے لیکن اس بحران کے خاتمے کا فوری حل بھی موجود ہے جسے بُری طرح نظر انداز کیا جارہا ہے۔ ملک کے سرکاری ادارے اس وقت بجلی کی مد میں کم و بیش 825ارب روپے کے نادہندہ ہیں۔ ان اداروں سے یہ واجبات وصول کئے جائیں تو صورتحال پر احسن انداز میں قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔
بزنس سنٹرز، کمیونٹی سنٹرز، ہوٹلز، بڑے بڑے شاپنگ مالز اور بنک وغیرہ مکمل طور پر ائرکنڈیشنڈ ہوتے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق ان اداروں میں بجلی کی مجموعی کھپت 6ہزار میگاواٹ کے قریب ہے۔ اس کھپت میں کمی کیلئے ضروری ہے کہ تمام بڑے بڑے ہوٹلز، بینکوں، شاپنگ مالز اور بزنس و کمیونٹی سنٹرز کو مختصر نوٹس پر اپنا انرجی آڈٹ کروانے اوراپنی ضروریات کیلئے شمسی توانائی سے بجلی حاصل کرنے کا پابند بنایا جائے۔
سرکاری اداروں کیلئے گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے ایک قابل تقلید مثال قائم کرتے ہوئے گورنرز ہاؤ میں اے سی کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے۔ پالیمان ، وزیراعظم سیکرٹریٹ، ایوان صدر ڈپلومیٹک انکلیوو اور دیگر حکومتی اداروں کو لوڈشیڈنگ سے حاصل استثنیٰ کو فوری ختم کرنے کی ضوررت ہے۔ اگر پنجاب کے گونرز ہاؤس میں اے سی کے استعمال پر پابندی عائد ہوسکتی ہے تو دیگر حکومتی اداروں میں ایسا کیونکر ممکن نہیں ہے۔
ان اداروں میں بھی شمسی توانائی کے استعمال کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
اگر حکومت درجہ بالا اقدامات صدق دل اور خلوص نیت سے اٹھالیتی ہے تو اس کے نتیجے میں ایک واٹ بجلی مزید پیدا کئے بغیر ہی لوڈ شیڈنگ کافی الفور خاتمہ کیا کاسکتا ہے۔ ماضی میں بھی حکومت نے رات 8یا 9بجے تک مارکیٹیں وغیرہ بند کرنے اور سڑکوں پر نصب الیکٹرانک اشتہاری بورڈز کو بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن اس پر مکمل طریقے سے عملدرآمد نہیں کروایا جاسکا جس کی وجہ سے خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔
موجودہ حکومت کو دوبارہ یہ شیڈول نہ صرف نافذ کرنے بلکہ اس پر سختی سے عمل درآمد کرانے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں تاجروں اور عوام کو بھی اپنا کرداد اد کرنا ہوگا۔ صبح 12بجے دکان کھولنے ولاا اگر یہی کام صبح 8بجے کرتا ہے تو وہ شام 8بجے تک اپنا کاروبار سمیٹ کر گھو واپس جاسکتا ہے۔ اس طرح عوام الناس آدھی رات کو شاپنگ کیلئے نکلنے کی بجائے یہی کام دن کی روشنی میں انجام دے لیں تو یہ ملک و قوم کی خدمت کے مترادف ہوگا۔

آج ہمارے ملک میں بجلی کی طلب 17ہزار میگا واٹ ہے تو مستقبل میں یقیناََ اس میں اضافہ ہوگا۔ اس مقصد کیلئے بجلی کے نئے پیداواری منصوبے ناگزیر ہیں اور اس سلسلے میں اولین ترجیح پن بجلی کے منصوبوں کو دینا ہوگی۔ شمسی توانائی ، ہوا سے بجلی پیدا کرنا اور ایٹمی توانائی کے حصول کے منصوبے لگانا بھی ضروری ہیں لیکن ان سے حاصل ہونے والی مہنگی بجلی کی اوسط قیمت کم سے کم رکھنا بھی اسی قدر ضروری ہے۔
مہنگے ترین منصوبوں سے اگر بجلی کی پیداوار میں اضافہ کر بھی لیا گیا تو اس قدر مہنگی بجلی خریدنے کا کون محتمل ہوگا؟
ہمارے ہاں سالانہ اربوں روپے کی بجلی چوری کرلی جاتی ہے۔ اس کھلے ڈاکے میں واپڈا اور بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں کے اہلکار ملوث ہوتے ہیں۔ اپنی اس چوری کو چھپانے کیلئے ”لائن لاسز“ کی اصطلاح گھڑلی گئی ہے۔ سوال یہ ہے بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں کا ہر علاقے کے حوالے سے مکمل سیٹ اپ قائم ہے۔
اگر کسی فیڈر سے بجلی چوری ہوتی ہے تو وہاں ذمہ وار اہلکاروں کے خلاف کاروائی بھی ضروری ہے کیونکہ اگر ”لائن لاسز“ کا بہانہ تسلیم کیا جاتا رہا تو پھر اس کی آڑ میں بجلی پر ڈالے جانے والے ڈاکے کو روکنا ممکن نہیں ہوگا۔ چند روز پانی و بجلی کے وزیر مملکت عابد شیر علی کی جانب سے ان فیڈرز کی ایک فہرست جاری کی گئی جو بجلی چوری سمیت سب سے آگے ہیں۔ اس فہرست میں قصور کا ایک نوحی علاقہ کنگن پور سب سے آگے ہے جہاں 70فیصد بجلی چوری کی جاتی ہے۔ اس کو نشان عبرت بنا دیا جائے تو دیگر بجلی چور یقیناََ اپنے رویے پر نظر ثانی پر مجبور ہوجائیں گے۔
تاریخ اشاعت: 2014-05-28

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان