بند کریں
بدھ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بجلی کا بحران
تمام شعبہ جات جن میں صنعت اور زراعت بھی شامل ہیں کی ترقی کے حوالے سے بات کی جائے تو ان کی پیداوار پچھلے مالی سال سے بہت کم رہی ہے جیسا کہ صنعتی ترقی جولائی سے نومبر2013ء میں 6فیصد تھی
احمد جمال نظامی:
حکومت 2017ء کے آخر تک ملک سے بجلی کا بحران ختم کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ ایک بیان میں وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ آئندہ تین برسوں کے دوران 10500میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہو جائے گی۔ صدرمملکت ممنون حسین نے بھی لاہور کے فورٹریس سٹیڈیم میں نیشنل ہارس اینڈ کیٹل شو کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایسے ہی جذبات کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان عالمی بینک کے تعاون سے بجلی پیدا کرنے کے 15بڑے منصوبوں پر کام کر رہا ہے اور اس کیلئے نئے ڈیموں پر کام کا آغاز ہو چکا ہے۔
دوسری جانب انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمرز کے مینجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر حفیظ پاشا نے مالی سال 2014-15ء کے پہلے چھ ماہ (جولائی 2014ء سے دسمبر 2014ء تک) پر مشتمل جائزہ رپورٹ میں معیشت کی غیرتسلی بخش حالت کی طرف اشارہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ان چھ ماہ کے دوران صنعتی ترقی مزید 4فیصد کم ہو گئی ہے اور صنعتی ترقی میں اس کمی کی وجہ ملک کو درپیش توانائی بحران ہے۔
رپورٹ میں غالباً ان کا اشارہ یہ ہے کہ ملک کو بجلی بحران سے صرف اس صورت میں ہی نجات مل سکتی ہے کہ وہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر چھوٹے صوبوں کے بلاجواز تحفظات کی پرواہ کئے بغیر اس کی تعمیر اور اس کے ساتھ ہائیڈروالیکٹرک پاورپلانٹ کی تنصیب کا اعلان کرے۔
انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز کے مینجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر حفیظ پاشا نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ معاشی ترقی کا حکومت کا مقررکردہ ہدف 5.1سے بھی نیچے رہا ہے۔
تمام شعبہ جات جن میں صنعت اور زراعت بھی شامل ہیں کی ترقی کے حوالے سے بات کی جائے تو ان کی پیداوار پچھلے مالی سال سے بہت کم رہی ہے جیسا کہ صنعتی ترقی جولائی سے نومبر2013ء میں 6فیصد تھی جو کہ جولائی تا نومبر2014ء میں صرف 2.5فیصد رہ گئی ہے۔ صنعتی ترقی کا ہدف 7فیصد تھا جبکہ بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ نے صرف 1.5فیصد ترقی کی۔ اسی طرح اہم فصلوں کی پیداوار بھی منفی سمت میں رہی۔
جولائی تا دسمبر 2013ء میں یہ ترقی 3.7فیصد تھی جبکہ جولائی تا دسمبر 2014ء میں یہ صرف 2.5فیصد رہ گئی۔تاہم چھوٹی فصلوں اور لائیو سٹاک میں کچھ اضافہ ضرور دیکھنے میں آیا ہے اور صنعت و زراعت کی پیداوار میں کمی کا جو رجحان رہا ہے یہ زیادہ تر ملک میں بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ کا شاخسانہ ہے۔ ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ متواتر جاری ہے۔ پچھلے دو سال میں(موجودہ حکومت کے دورمیں) بجلی کی پیداوار میں پیپلزپارٹی کی گذشتہ حکومت کے مقابلے میں پانچ فیصد اضافہ ہو چکا ہے لیکن بجلی کی پیداوار میں اضافہ کی نسبت اس کی کھپت میں زیادہ اضافہ ہونے کی وجہ سے صنعتی پیداوار اور زراعت کے فروغ کے لئے بجلی کی قلت رہی ہے۔
ڈاکٹر حفیظ پاشا کی جائزہ رپورٹ کے مطابق ملک میں تجارتی خسارہ 36فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ بیرون ملک سے بھیجی گئی رقوم اور ملک کو ملنے والے کولیشن سپورٹ فنڈز کی وجہ سے حالت کچھ بہتر ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ بھی بانڈز کے اجراء اور آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی وجہ سے ہے۔ وفاقی حکومت نے سٹیٹ بینک کا قرض واپس کرنے کے لئے دوبارہ کمرشل بینکوں سے قرض لینا شروع کر دیا ہے اور ایک ہفتے کے دوران حکومت نے سٹیٹ بینک سے قرض لے کر کمرشل بینکوں کا قرض واپس کیا تھا۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق فروری کے تیسرے ہفتے کے دوران وفاقی حکومت نے کمرشل بینکوں سے مجموعی طور پر 81ارب 24کروڑ روپے قرضہ حاصل کیا ہے۔ جس کے بعد رواں مالی سال کے دوران اب تک وفاقی حکومت کی طرف سے کمرشل بینکوں سے لئے گئے قرضوں کا مجموعی حجم 912ارب 77کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ یاد رہے کہ گذشتہ مالی سال کے اس عرصے میں حکومت نے کمرشل بینکوں سے نئے قرضے لینے کی بجائے 152 ارب 50کروڑ روپے کے قرضے واپس کئے تھے۔
اس وقت مارکیٹ میں زیرگردش نوٹوں میں دوبارہ کمی شروع ہو گئی ہے۔ فروری کے تیسرے ہفتے کے دوران 19ارب 56کروڑ روپے سے زیادہ کی کمی ریکارڈ کی گئی۔جس کے بعد زیرگردش نوٹوں کا حجم 25کھرب 47ارب 75کروڑ 67لاکھ 54ہزار رہ گیا ہے۔ قبل ازیں فروری کے پہلے دو ہفتوں کے دوران حکومت کی طرف سے ریکارڈ مالیت میں 83ارب 65کروڑ 85لاکھ روپے نئے نوٹوں کے اجراء کے باعث ملک میں زیرِگردش نوٹوں کا حجم 25کھرب 67ارب 31کروڑ 85لاکھ 74ہزار روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔
اس دوران سٹیٹ بینک کے پاس وفاقی حکومت ڈیپازٹس کے حجم میں 3ارب 77کروڑ 10لاکھ 55ہزار روپے اور صوبائی حکومتوں کے ڈیپازٹس میں 49ارب 60کروڑ 8لاکھ 72ہزار روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سٹیٹ بینک کے پاس وفاقی حکومت کے ڈیپازٹس کا حجم 222ارب 3کروڑ 63لاھ 29ہزار روپے اور صوبائی حکومتوں کے ڈیپازٹس میں مجموعی حجم 227ارب 36کروڑ 94لاکھ 82ہزار روپے ہو گیا ہے۔
رواں مالی سال کی دوسری ششماہی میں وزارت خزانہ نے ابتدائی طور پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے تجارتی خسارے کے نقصانات پورے کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس سلسلہ میں اپٹما نے وزیراعظم کو سمری بنا کر بھیج دی تھی لیکن فروری کے آخری ہفتے میں ملکی زرمبادلہ کے ذخائر ایک مرتبہ پھر بڑھ کر 16 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے اور ان ذخائر میں 19کروڑ 29لاکھ ڈالر کا اضافہ نوٹ کیا گیا۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق گذشتہ ماہ کے اختتام تک ملکی زرمبادلہ کا مجموعی حجم 16ارب 13کروڑ 66لاکھ ڈالر ہو گیا جو ماہ فروری کے آخری ہفتہ کے آغاز میں 15ارب 94کروڑ 37لاکھ ڈالر تھا۔ اس دوران مرکزی بینک کے ذخائر 13کروڑ 23لاکھ ڈالر کے اضافے کے بعد 11ارب 20کروڑ 72لاکھ جبکہ کمرشل بینکو ں کے ذخائر 6کروڑ 6لاکھ ڈالر کے اضافے کے بعد 4ارب 92کروڑ 94لاکھ ڈالر ہو گئے۔
ہفتہ رواں کے دوران مرکزی بینک کو انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایسوسی ایشن کی طرف سے 5 کروڑ 10لاکھ ڈالر موصول ہو چکے ہیں جس سے روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی ہوئی ہے۔ انٹربینک اور مقامی اوپن کرنسی مارکیٹ میں مارچ 2015ء کے پہلے ہفتہ کے دوران روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یورو کی قیمت خرید 112.50اور قیمت فروخت 112.75ہو گئی ہے۔
اسی طرح ایک روپے کمی سے برطانوی پاوٴنڈ کی قیمت خرید 155روپے رہ گئی ہے۔ اس وقت حکومت کی سرفہرست ترجیح یہی ہے کہ ملک کو توانائی بحران سے نجات مل سکے لہٰذا حکومت ایک طرف تو تمام بین الاقوامی بینکوں سمیت غیرملکی سرمایہ کاری کا رخ توانائی کے نئے منصوبوں کی طرف موڑے ہوئے ہے اور ساتھ ساتھ بجلی تقسیم کرنے کی استعداد میں اضافے، نئے گرڈ سٹیشنز کی تعمیر، ٹرانسمشن لائنوں کی توسیع بھی قومی ایجنڈے میں سرفہرست ہے۔
غیرملکی مالیاتی اداروں سے 2ارب 27کروڑ ڈالر کے قرضے حاصل کئے گئے ہیں اور ان رقوم سے بجلی کی ضروریات اور استعدادکار کو پورا کرنے کے لئے پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی(پیپکو) کے زیرانتظام کام کرنے والی کمپنیوں نے مختلف توانائی منصوبوں کے لئے ملکی بینکوں کے علاوہ غیرملکی اداروں سے بھی قرضے حاصل کئے ہیں۔ کویت کے سرمایہ کار توانائی کے شعبے میں 4ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔
78 ممبران پر مشتمل کویتی وفد نے یکم مارچ کو کراچی میں آغاز پذیر ہونے والی 9ویں ایکسپو میں شرکت کے بعد پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری کا حجم بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہالینڈ کے سفیر مارسل ڈی ونک نے بہاولپور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیراہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک پاکستان کے خصوصاً چھوٹے علاقوں میں سولر انرجی، زراعت اور لائیوسٹاک سمیت واٹر مینجمنٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری کر رہا ہے اور ڈچ کمپنیاں پاکستان میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں اور ان سب امکانات کے علاوہ وزیراعظم میاں نوازشریف کے سعودی عرب کے دورے سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں اور اس بحران سے نبردآزما ہونے کے لئے وزیراعظم میاں نوازشریف نے اپنے سعودی عرب کے دورے سے پہلے اٹامک انرجی کمیشن میں ایٹمی منصوبوں ”کے 2“ اور ”کے 3“ کے متعلق معلومات اور ان منصوبوں کے لئے این بی پی وڑن 2050ء کے متعلق بریفنگ حاصل کرنا ضروری کیوں سمجھا اور مشکل اقتصادی حالات کے باوجود کس بنیاد پر اٹامک انرجی کمیشن کو یقین دلایا کہ وڑن 2050ء کے مطابق فنڈز کا اہتمام کیا جائے گا۔
اگلے ہی روز وہ ملک میں سینٹ کے انتخابات کے باوجود سعودی عرب کے فرمانروا سے ملاقات کے لئے کیوں روانہ ہو گئے۔ سعودی عرب میں پاکستان کے وزیراعظم کو اتنا زیادہ پروٹوکول کیوں ملا۔ یہ تمام صورت حال ملک کی آئندہ معاشی حالت کے حوالے سے نہایت اہم اور حوصلہ افزا ء ہے۔ اس وقت 17لاکھ سے زائد پاکستانی سعودی عرب میں روزگار اور ملازمتوں سے وابستہ ہیں اور ان کی بھیجی ہوئی رقوم کا پاکستانی معیشت کے استحکام میں اہم حصہ ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان باقاعدہ تجارت کا حجم اس وقت ساڑھے چار ارب ڈالر سے زیادہ ہے اور وزیراعظم کا حالیہ دورہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔۔ گمان کیا جا رہا ہے کہ سعودی عرب نے اسرائیل کی طرف سے مسلم ممالک کے خلاف دھمکی آمیز رویئے کو دیکھتے ہوئے اسلامی ممالک کو درپیش دفاعی چیلنجوں سے نبردآزما ہونے کے لئے اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی کے پلیٹ فارم اور عسکری طور پر مضبوط مسلم ممالک سمیت تمام بین الاقوامی فورموں کو فعال بنانے پر بھی غور کیا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-03-10

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان