بند کریں
منگل جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بجلی کے خالص منافع کی رقم بڑھانے پر اتفاق
وفاقی اور صوبہ کے مابین فاصلے کم ہو رہے ہیں؟۔۔۔۔۔ خیبر پختونخوا اگر چہ امن وامان کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے تاہم دہشت گردی کے اکادُ کا واقعات سے لگتا ہے کہ دہشت گردی کی جڑیں ابھی ختم نہیں ہو سکیں
جمال الدین:
خیبر پختونخوا اگر چہ امن وامان کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے تاہم دہشت گردی کے اکادُ کا واقعات سے لگتا ہے کہ دہشت گردی کی جڑیں ابھی ختم نہیں ہو سکیں۔ پشاور میں اب قدرے سکون ہے لیکن بعض واقعات امن وامان کے قیام سے متعلق حکومتی اقدامات کے سامنے سوالیہ نشان ثبت کر دیتے ہیں۔ گزشتہ دنوں پشاور میں (ن) لیگ کے رہنما سردار مہمند کا قتل ممکنہ طور پر ٹارگٹ کلنگ کے کھاتے میں ڈالا جا رہا ہے۔
کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ ماضی میں جب یہاں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت تھی تو اے این پی کی حکومت نے کھل کر دہشت گردی کی بیخ کنی کیلئے اقدامات اُٹھائے تھے جس کی وجہ سے اے این پی کے کارکن اور عہدیدار ٹارگٹ پر رہے ۔ اب مرکز میں (ن) لیگ کی حکومت ہے جس نے فاٹا کے علاوہ کراچی میں بھی آپریشن شروع کر رکھا ہے او پشاور میں ایک لیگی کارکن کے قتل کو ٹارگٹ کلنگ کے تناظر میں ہی دیکھا جا رہا ہے تاہم حتمی طورپر کچھ کہنا قبل ازوقت ہو گا کیونکہ ایک رائے یہ بھی ہے کہ دہشت گردوں کی قوت اب کافی کمزور پڑ چکی ہے۔
بہر کیف اُمید کی جار ہی ہے کہ جلد امن وامان قائم ہو جائے گا اسی اُمید کی فضا میں ان دنوں قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنیوالے متاثرین کی واپسی کا پہلا مرحلہ شروع ہو چکا ہے جس میں تقریباََ 40 ہزار خاندان اپنے گھروں کو واپس لوٹیں گے جس کے بعد واپسی کا اگلا مرحلہ شروع ہونے پر فاٹا کے شورش زدہ علاقوں امن وامان کی صورتحال پوری طرح واضح ہو گئی۔
متاثرین کی واپسی کے عمل کیساتھ ہی شمالی وزیرستان اور خیبرایجنسی میں عسکریت پسندوں کیخلاف آپریشن بھی جاری ہیں۔ گزشتہ ہفتہ کے دوران خیبرایجنسی میں شدت پسندوں کو وادی تیراہ اور لنڈی کوتل میں نشانہ بنایا گیا جس میں درجنوں شدت پسند ہلاک ہوئے اور ان کے تھکانے تباہ کر دیئے گئے۔ اسی طرح صوبہ میں دہشت گردوں کا ”تعاقب“ بھی جاری ہے۔
اور سرچ آپریشن کے دوران درجنوں افغان باشندوں سمیت 500 سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے اس طرح قیام امن کیلئے کی ہونیوالی کوششوں کے نتیجہ خیز ہونے کے امکانات روشن ہیں اسی قسم کی پیشرفت سیاسی محاذ پر بھی دکھائی دے رہی ہے خیبر پختونخوا کو دوڈھائی دہائیوں سے گلہ ہے کہ اسے بجلی کے خالص منافع کی مد میں مناسب ادائیگی نہیں ہورہی اور 1991 سے سالانہ چھ ارب روپے دئیے جا رہے ہیں حالانکہ اس رقم میں سالانہ کی بنیاد پر اضافہ ہونا چاہیے۔
گزشتہ دنوں وفاقی وزیر پانی وبجلی خواجہ آصف کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں مرکز اور صوبہ کے نمائندے بجلی کے سالانہ منافع کی رقم میں اضافہ پر متفق ہو گئے ہیں اور جلد دونوں فریقین کے مابین باضابطہ معاہدہ ہو جائے گا جس کے تحت بجلی کے خالص منافع کی رقم چھ ار ب سے بڑھا کر 16 ارب روپے ہو سکتی ہے ۔ اگر ایسا ہوا تو یہ نہ صرف خیبر پختونخوا کیلئے اچھی خبر ہو گی بلکہ یہ فیصلہ مرکز اور صوبہ میں برسراقتدار جماعتوں کے مابین فاصلے مزید ک کر ے گا۔ جوڈیشنل کمیشن کے قیام پر متفق ہونے کی وجہ سے یہ فاصلے کافی حد تک پہلے ہی کم ہو چکے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-03-28

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان