بند کریں
پیر فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بجلی کی بچت: بحیثیت شہری ہمارا کردار
اس وقت اگر ہمیں لوڈشیڈنگ کوفوری ختم کرناہے تواس کیلئےیہی ہو سکتا ہے کہ بجلی پیدا کرنے کے جتنے بھی تھرمل یونٹ ہیں انہیں پوری کیپسٹی پرچلایاجائے جس کیلئےروزانہ 200 کروڑ روپے کا تیل درکار ہےجو کہ ظاہر ہےممکن نہیں
سلطان محمود:
موسم گرما میں شدت آتے ہی بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہو گیا ہے۔ شہروں اور دیہات میں 12 گھنٹے یا اس سے بھی زائد لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ اس لوڈشیڈنگ کی وجہ سے لوگوں کے معمولات زندگی اور کاروبار بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے کارخانے پوری طرح نہیں چل رہے۔ جس کی وجہ سے فیکٹریوں سے عملہ کم کیا جا رہا ہے اور بیروزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔
بجلی کی لوڈشیڈنگ اورٹیوب ویلوں کی بندش لازم و ملزوم ہو گئے ہیں۔ لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس جاتے ہیں۔ گھر، دفاتر، تعلیمی ادارے، ہسپتال اور تمام شعبہ ہائے زندگی حتیٰ کہ بعض اوقات مساجد میں بھی پانی میسر نہیں ہوتا۔ اس صورتحال میں کچھ لوگ سڑکوں پر احتجاج کی صورت میں غصہ نکال لیتے ہیں۔ اکثر لوگ چڑچڑاپن اور جھنجھلاہٹ کا شکار ہو رہے ہیں۔

اس وقت یہ نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہم اپنی قومی زندگی کے نہایت مشکل دور سے گزر رہے ہیں، ہمیں توانائی بحران کے علاوہ دہشت گردی، مہنگائی، بدامنی، کرپشن، جہالت، بیماری، فرقہ پرستی اور بہت سے دیگر مسائل کا سامنا ہے۔ درحقیقت یہ مسائل مہینوں اور برسوں میں نہیں عشروں میں پیدا ہوئے ہیں، ظاہر ہے ان کے حل کیلئے بھی وقت درکار ہے۔ خوش قسمتی سے ہماری قومی قیادت کو ان مسائل کا بھرپور ادراک ہے اور وہ ان مسائل کے حل کیلئے یکسو ہے۔
توانائی بحران کے حل کیلئے اس وقت بجلی کی پیداوار کے بہت سے منصوبوں پر کام جاری ہے۔لیکن چونکہ رد عمل ہنگامی نوعیت کا ہے اس لئے ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم اپنے بہتر طرز زندگی کے ذریعے کسی حد تک توانائی کو ضائع ہونے سے بچائیں اور ایک ذمہ دار شہری ہونے کا فریضہ ادا کریں۔
اس وقت اکثر حضرات یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ گزشتہ حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت بھی لوڈشیڈنگ کے خاتمے میں ناکام ہو چکی ہے، وغیرہ وغیرہ۔
ان حضرات کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ قومی نوعیت کے منصوبوں کی تکمیل میں وقت لگتا ہے، موجودہ حکومت نے جس طرح مختلف ممالک خصوصاً دوست ملک چین کی مدد سے بجلی کی پیداوار کے منصوبے شروع کئے ہیں چند ہی برسوں میں ہمارا توانائی کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ اس وقت اگر ہمیں لوڈشیڈنگ کو فوری ختم کرنا ہے تو اس کیلئے یہی ہو سکتا ہے کہ بجلی پیدا کرنے کے جتنے بھی تھرمل یونٹ ہیں انہیں پوری کیپسٹی پر چلایا جائے جس کیلئے روزانہ 200 کروڑ روپے کا تیل درکار ہے جو کہ ظاہر ہے ممکن نہیں۔
دوسری صورت میں بحیثیت قوم اس وقت یہی چارہ کار ہے کہ بجلی کے استعمال میں احتیاط کی جائے۔ اس کے لئے ہم انفرادی اور اجتماعی سطح پر چند ایسے اقدامات کر سکتے ہیں جس سے بجلی کا استعمال کم ہو سکے۔
برقی آلات کے سوچ کا ستعمال
جب آپ ٹی وی، کمپیوٹر، مائیکرو ویو اور دوسرے برقی آلات کو استعمال نہ کر رہے ہوں تو ان کا سوئچ آف کر دیجئے کیونکہ ”سٹینڈبائی“ لت میں بھی یہ آلات بجلی صرف کرتے ہیں۔
احاسی طرح جو آلات ریموٹ سے چلتے ہیں ان کا بھی سوئچ بند کر دیں۔اس بات کا خیال رکھیں کہ کسی کمرے میں بلاضرورت لائٹ یا پنکھا نہ چل رہا ہو۔ اسی طرح جب آپ کمرے سے باہر نکلیں تو بھی برقی آلات بند کر دیں۔ عام پنکھا تقریباً 120 واٹ کا ہوتا ہے، فالتو چلنے سے آپکے بل میں بھی اچھا خاصا اضافہ ہو جاتا ہے۔ عام بلب یا ٹیوب لائٹ کے مقابلے میں انرجی سیور بہت کم بجلی استعمال کرتے ہیں۔
اگر آپ ابھی بھی عام بلب یا ٹیوب لائٹ استعمال کرتے ہیں تو انہیں فوراً تبدیل کیجئے۔
ائرکنڈیشنر کا کم استعمال
آج سے چند سال قبل تک عام لوگوں کیلئے پنکھا بھی کسی عیاشی سے کم نہ تھا، ائرکنڈیشنر صرف امیر کبیر گھرانوں کے پاس ہوتا تھا، عشرہ قبل سپلٹ اے سی عام ہوئے تو لاکھوں گھروں میں اسکا استعمال شروع ہو گیا۔ ائرکنڈیشنر بھی لوڈشیڈنگ میں اضافے کا باعث ہیں۔
اگر اس کا استعمال کم کردیں، توانائی بحران کے حل میں مدد مل سکتی ہے اور بل بھی قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ بجلی کی بچت کیلئے ایئرکنڈیشنر کی سروس سال میں کم از کم ایک مرتبہ ضروری ہے۔ اس سے اے سی کی کارکردگی بہتر رہتی ہے اور بجلی کم خرچ ہوتی ہے۔
پانی کا استعمال کفایت شعاری سے
آجکل اکثر گھروں میں چھت پر پانی کی ٹینکیاں رکھی ہوتی ہیں جسے پمپ کے ذریعے بھرا جاتا ہے۔
آپ پانی احتیاط سے استعمال کرینگے تو آپکا پانی کا پمپ بھی کم چلے گا۔ ایک اندازے کے مطابق نصف درجن پر مشتمل گھرانہ روزانہ 200 گیلن پانی صرف کرتا ہے جس میں سے نصف سے زائد پانی واش روم میں بہا دیا جاتا ہے۔اپنے گھر کی پانی کی ٹینکی اس وقت بھریں جب پانی پوری مقدار میں آ رہا ہو۔ عام طور پر صبح سویرے اور شام کے اوقات میں پانی پریشر کے ساتھ آتا ہے جب ٹینکی چند منٹوں میں بھر جائیگی اور بجلی کا استعمال بھی کم ہو گا۔

ٹی وی کا محدود استعمال
ہمارے اکثر گھروں میں بعض خواتین و حضرات میں ٹی وی ریموٹ پکڑ کر بار بار چینل بدلنے کی عادت ہوتی ہے۔ جس کیلئے وقت کے ساتھ بجلی کا بھی ضیاع ہوتا ہے۔ روایتی ٹی وی کی بجائے ایل سی ڈی کم بجلی استعمال کرنے سے بھی بجلیکی بچت ممکن ہے۔
ریفریجریٹر کا دروازہ بار بار نہ کھولیں
ٹھنڈے پانی کیلئے ریفریجریٹر کا دروازہ بار بار کھولنے کی بجائے واٹر کولر کا استعمال کریں۔
ہر بار ریفریجریٹر کا دروازہ کھولنے سے ایک آدھ ڈگری درجہ حرارت ضائع ہو جاتا ہے۔ بازار سے مناسب سائز کا واٹر کولر لے لیں، اس میں ٹھنڈا پانی ڈال کر استعمال کرتے رہیں۔ اس سے یفریجریٹر کو بھی ”آرام“ ملے گا۔اگر آپ کو بازار سے تازہ سبزیاں، گوشت اور دیگر اشیاء مل جاتی ہیں تو اپنے ریفریجریٹر کو خواہ مخواہ ان اشیاء سے نہ ٹھونسیں۔استری کرتے وقت ملبوسات کی ترتیب لگا لیں، پہلے اس کپڑوں کو استری کیجئے جس میں زیادہ حرارت درکار ہوتی ہے، بعد میں عام کپڑوں کو استری کیجئے۔
اگر آپ کے پاس وقت ہے تو کپڑوں کو واشنگ مشین کی بجائے ہاتھ سے دھوئیں۔ گرمیوں کے ملبوسات ہلکے پھلکے ہوتے ہیں، جھاگ بنا کر کپڑوں کو ڈبو دیں اور دس پندرہ منٹ بعد کھنگال لیجئے۔ اسی طرح کپڑے دھونے کے بعد سکھانے کیلئے سپنر کا استعمال نہ کریں اور دھوپ میں پھیلا دیں۔
کام کاج کے اقات
رات کو جلدی سونا اور صبح جلدی اٹھنا ایک سنہری اصول ہے جس کے بے شمار فائدے ہیں۔
دیگر فوائد کے علاوہ سورج کی روشنی کا بھرپور استعمال ہے۔اگر ہم بحیثیت قوم خریداری دن کی روشنی میں کر لیں اور مارکیٹیں شام کو بند ہو جائیں تو تقریباً 1200 میگاواٹ بجلی کی بچت ہو سکتی ہے جس سے بجلی کا شارٹ فال کم ہونے سے لوڈشیڈنگ نصف رہ جائیگی۔ ریفریجریٹر، ائرکنڈیشنر، واشنگ مشین اور پنکھے اور دیگر برقی آلات ہمیشہ اچھی کمپنیوں کے استعمال کریں جونسبتاً کم بجلی استعمال کرتے ہیں۔ ہماری مارکیٹوں میں بعض اوقات ایک دکان میں درجنوں انرجی سیور لگے ہوتے ہیں جو کہ بجلی کا ضیاع ہے۔ مغربی ممالک کم روشنی اور دھوپ کے باوجود لوگ شمسی گیزر اور شمسی بلب استعمال کرتے ہیں، ہمارے ہاں تو تقریباً سارا سال دھوپ اور روشنی ہوتی ہے۔یہاں تو انکی کارکردگی بہت اچھی رہتی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-06-10

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان