بند کریں
منگل جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بھاری بجٹ اور درجنوں خُفیہ ادارے
عوام پھر بھی عدم تحفظ کا شکار۔۔۔۔ یوں لگتا ہے جیسے دہشت گردوں کا علم متعلقہ اداروں کے سوا سبھی کو ہے۔ رشوت خور اور اناہل افراد کو نکالا جائے تکہ عوام کو تحفظ میسر آئے
مصنف : سید بدر سعید
ایک طرف وطن عزیز میں خفیہ اداروں اور سیکورٹی فورسز کا انتہائی مضبوط جال بچھا ہے۔ قومی خزانے سے اربوں روپے عوام کی حفاظت کے نام پرخرچ کیے جاتے ہیں تو دوسری طرف شدت پسندی ، دہشت گردی اور دیگر جرائم بھی عروج پر ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے دہشت گردوں کا علم متعلقہ اداروں کے سوا سبھی کو ہے۔ رشوت خور اور اناہل افراد کو نکالا جائے تکہ عوام کو تحفظ میسر آئے۔

کسی بھی ریاست کا یہ فرض ہے کہ اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرے۔ اس لیے ہر ملک بیرونی حملہ آوروں سے حفاظت کے لیے فوج جبکہ اندورنی سطح پر پولیس سمیت مختلف سکیورٹی ادارے تشکیل دیتاہے۔ یہ نظام صدیوں سے دنیا بھر میں رائج ہے۔ اس لیے اگر ملک میں امن وامان ہو تو جہاں حکومت کی تعریف کی جاتی ہے، وہیں سیکورٹی اداروں کو بھی خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔
اسی طرح اگرملک میں بدامنی ہو توجہاں حکومت پر تنقید کی جاتی ہے وہیں سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ اگر پاکستان میں امن وامان کی صورت حال کا جائزہ لیں تو انتہائی مایوس کن صورت سامنے آتی ہے۔ ایک طرف زمینی حقائق ہیں جبکہ دوسری جانب سرکاری فائلیں اور حکومتی پالیسیوں کے بڑے بڑے اعدادوشمار ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان دونوں میں زمین آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔
سرکاری اعدادو شمار اورمنصوبے حوصلہ افزا ہیں ۔ حال ہی میں تیار کیا گیا قومی داخلی سلامتی پالیسی (این آئی ایس پی) کا مسودہ برائے 2014ء اور2018ء بہت کچھ کہہ رہا ہے۔ یہ پالیسی94صفحات پر مشتمل ہے۔ جس میں پاکستان کے انصاف کے نظام سمیت پولیس، سکیورٹی فورسز اور اداروں کی بہتری پر زور دیا گیا ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قومی داخلی سلامتی کے لئے کچھ نئے ادارے تشکیل دیئے جائیں گے اور کچھ پرانے اداروں کی بھی ازسر نو تشکیل کی جائے گئی۔
ان میں ناکٹا( نیشنل کاوٴنٹر ٹیرازم اتھارٹی) کا وٴنٹرٹیرازم ڈیپارٹمنٹ(سی ٹی وی) ، سول آرمڈفورسز ہیڈکوارٹر اور ریپڈ رسپانس فورس بھی شامل ہیں۔ اس پالیسی پر مل درآمد کے لئے قومی خزانے سے 32ارب خرچ ہوں گے۔ حکومت نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ تمام خفیہ اداروں کے اس بات کی پابند کیا جائے کہ وہ انٹیلی جنس سے متعلقہ تمام معلومات ناکٹا کو فراہم کریں۔
اس حوالے سے یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ملک میں 33سویلین اور ملٹری کی آپریشنل اور انٹیلی جنس ایجنسیاں موجود ہیں۔ خفیہ اداروں کے حوالے سے یہ بہت بڑی تعداد ہے ۔ دنیا بھر میں چند ممالک نے ہی اس قدر خفیہ ادارے بنائے ہیں۔ خفیہ اداروں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ملک میں امن وامان کے مسائل درپیش ہیں لیکن یہ بھی درست ہے کہ زمینی حقائق سے منہ نہیں موڑا جا سکتا ہے۔
اسی طرح یہ بھی قابل غور ہے کہ تمام خفیہ ایجنسیوں میں 6لاکھ افراد کا م کر رہے ہیں۔ یہ تعداد پاکستان کی ریگولر فوج سے بھی زیادہ ہے۔ اب حکومت ان تمام ایجنسیوں کا مشترکہ ڈائریکٹوریٹ بنا رہی ہے تاکہ ان کی کارکردگی میں مزید اضافہ ہو سکے ۔ یہ بات بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ ہر سال پولیس کے محکمے پر 155ارب روپے خرچ ہوتے ہیں،اس کے باوجود پولیس کارویہ اورکارکردگی سب کے سامنے ہیں۔
اسی طرح پنجاب حکومت نے بھی فوج کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے 10کروڑ کے بجٹ کی منظوری دے دی ۔ یہ بجٹ سپلیمنٹری گرانٹ کے طور پر ہے۔ بے شمار خفیہ اداروں کی موجودگی اور اربوں کے بجٹ کے باوجود فروری میں سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے چیئیر مین سینیٹر طلحہ کو کہنا پڑا کہ سابق سفیر حسین حقانی کی وجہ سے دیگر ممالک کی خفیہ ایجنسیاں پاکستان میں داخل کرائے گئے اور امریکہ سمیت دیگر ممالک کی خفیہ ایجنسیاں پاکستان میں جاری بدامنی ، دہشت گردی اور افراتفری میں ملوث ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سی آئی اے اور موساد کے اہلکار ملک میں موجود ہیں۔ بات یہیں تک محدود نہیں بلکہ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک میں36لاکھ 54ہزار سے زائد غیر ملکی غیر قانانی طور پر موجود ہیں۔ جن میں سے 4لاکھ افراد پاکستانی شناختی کارڈ بنوانے میں بھی کامیاب ہوچکے ہیں۔ ان غیر ملکیوں میں 18لاکھ افغانی، 2لاکھ 90ہزار بھارتی، 40ہزار نائجیرین جبکہ 36ہزار سے زائد امریکی بھی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ سری لنکا، کرغستان، برما، ترکمانستان، صومالیہ، ایران، بنگلہ دیش، ازبکستان اور عرب ممالک کے لاکھوں افراد بھی شامل ہیں۔ ان میں سے کئی افراد ہر 3یا 6ماہ بعد پاکستان سے باہر جاتے ہیں جن میں بھارت جانے والے بھی شامل ہیں۔ جبکہ امریکہ بھی کئی غیر ملکیوں کی مکمل فنڈنگ کررہا ہے۔بعض غیر ملکی ایسے بھی ہیں جو براہ راست دہشت گردی میں ملوث نہیں بلکہ اعلیٰ افسروں اور ملازموں کے ساتھ روابط بڑھا رہے ہیں۔
اعلیٰ سرکاری افسروں سے روابط بڑھانے کی وجوہات کا اندازہ عام شہری بھی بخوبی لگا سکتا ہے۔
ایک طرف بڑے بڑے حکومتی دعوے، اعلیٰ منصوبے اور خفیہ اداروں کا جال بچھا نظر آتا ہے تو دوسری جانب زمینی حقائق کچھ یوں ہیں کہ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے محض اقبال ٹاؤن ڈویژن میں ہی 3415سے زائد مطلوب اشتہاری مجرم پناہ لیے ہوئے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔
اسی علاقے میں 67قبضہ گروپ اور 6سو دیگر جرائم پیشہ عناصر بھی سرگرم ہیں۔ اس ڈویژن میں5سرکل، 10تھانے، 43ناکے، 20گشتی گاڑیاں اور ڈیڑھ سو کے قریب موٹر سائیکل سوار محافظ ہونے کے باوجود صورتحال ابتر نظر آتی ہے۔ یہاں اس ڈویژن کی مثال اس لیے بھی دی جارہی ہے کہ اسی کی حدود میں لاہور شہر کا اہم داخلی دروازہ بابو صابو انٹر چینج بھی آتا ہے جہاں سے ہر روز ہزاروں افراد لاہور آتے جاتے ہیں۔

ایک طرف پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی پوری توانائی صرف کیے ہوئے ہے اور پوری قوم پاس و آس کی سولی پر لٹکی ہوئی ہے تو دوسری طرف سرکاری عہدیدار ہی عوام کا خون بہانے کے انتظامات کررہے ہیں۔ مارچ میں یہ خبر بھی منظر عام پر آچکی ہے کہ 14بڑے اسلحہ ڈیلروں نے 15ارب کا ممنوعہ اسلحہ درآمد کرلیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق انہیں یہ”کامیابی“ کسٹم حکام کی ملی بھگت سے ملی۔
یہ بات ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ممنوعہ اسلحہ کا لائسنس نہیں جاری کیا جاتا۔ اس طرح یہ غیر قانونی ہتھیاروں میں شامل ہوتا ہے ۔ ایسا اسلحہ صرف خصوصی لائسنس پر ہی رکھا جاسکتا ہے۔ 15ارب کے ممنوعہ اسلحہ کا مطلب واضح ہے کہ یہ کن مقاصد کیلئے استعمال ہوگا۔ المیہ یہ ہے کہ چند پیسوں کیلئے کسٹم حکام اور اسلحہ ڈیلر ملک کو تباہی اور قتل و غارت کے دہانے پرلیجانے میں شرم محسوس نہیں کرتے۔
سرکاری اہلکاروں کی نااہلی اور کام چوی کے ساتھ ساتھ کرپشن کا منہ بولتا ثبوت بھی پوری قوم کے سامنے ہے۔ ہمارے ہاں عام شہری کو بھی بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ کون سا علاقہ کس اشتہاری اور جرائم پیشہ شخص کا اڈہ یا ڈیرہ کہلاتا ہے اور کس کے یہاں ٹارگٹ کلر سے لے کر خطرناک ڈاکو تک پناہ لیتے ہیں لیکن پولیس اہلکار اور افسران ان کے خلاف کارروائی تو دور کی بات ان کی موجودگی سے بھی لاعلمی کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔
گزشتہ کچھ عرصہ سے سیکیورٹی فنڈ کے نام پر پولیس سمیت دیگر کئی ادارے بھاری رقمیں حاصل کررہے ہیں لیکن عملی اقدامات کہیں نظر نہیں آرہے۔ سرکاری فائلیں اور پارلیمانی منصوبے بہت خوبصورت لگتے ہیں لیکن خدارا دفاتر سے باہر نکل کر زمینی حالات اور عوام کے اصل مسائل سے بھی آگہی حاصل کی جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ افسروں کی عیاشیوں کی بجائے عوامی فلاح کو مد نظر رکھتے ہوئے جامع اور عملی منصوبے تشکیل دئیے جائیں اور کرپٹ عناصر کو سرکاری اداروں سے نکال باہرکیا جائے۔ جب تک کالی بھیڑیں حکومت اور انتظامیہ میں موجود رہیں گی تب تک یہ بے حسی اور دورخی ہمارا استقبال کرتی رہے گی۔
تاریخ اشاعت: 2014-04-01

(1) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان