بند کریں
ہفتہ فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بے روزگاری
ایک بڑی وجہ یہ بھی سامنے آتی ہے کہ ہمارے ہاں تعلیمی رہنمائی کا فقدان ہے۔ اس حوالے سے نہ تو طالب علم کی رہنمائی کی جاتی ہے ، نہ ہی حکومت اور تعلیمی اداروں کے درمیان کوئی ”سٹریٹجک پلان“ ترتیب دیا جاتا ہے
اسعد نقوی:
پاکستان میں بیروزگاری کا مسئلہ تیزی سے بڑھتا چلا جارہا ہے۔ ناقص منصوبہ بندی، حکومتی نااہلی اور تعلیمی بدحالی اس میں مزید اضافہ کا باعث بن گئی ہے۔ اگر اس جانب فوری توجہ نہ دی گئی تو یہ مسئلہ نہ صرف موجودہ حکومت بلکہ آنے والی حکومتوں کے گلے کا پھندا بن جائے گا۔
پاکستان اس وقت متعدد مسائل کا شکار ہے۔ ان میں دہشتگردی، مذہبی اشتعال انگیزی اور فرقہ واریت سمیت لاء اینڈ آرڈر کی خراب صورتحال سرفہرست ہیں لیکن ہم جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان سب کے پیچھے ایک بڑا متحرک عنصر بیروزگاری ہے۔
وطن عزیز میں آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ بدقسمتی سے نوجوانوں کی اکثریت بیروزگاری کا شکار ہے۔ حالیہ رپورٹس اور اعدادو شمار کے مطابق نوجوانوں میں بیروزگاری کی شدت میں ہر چڑھتے سورج کے ساتھ اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ پاکستان بیورو آف سٹریٹجک کے 2012-13ء کے سروے کے مطابق 48.67فیصد پاکستان آبادی 24سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔
یہ وہ آبادی ہے جس کی اکثریت بیروزگار ہے اور اگلے چند سالوں میں بیروزگاری کا یہ طوفان کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ کسی عفریت سے کم نہ ہوگا۔
پاکستان میں بیروزگاری کے بڑھتے ہوئے طوفان کی کئی وجوہات ہیں۔ اگر ہم ان کا جائزہ لیں تو ایک بڑی وجہ یہ بھی سامنے آتی ہے کہ ہمارے ہاں تعلیمی رہنمائی کا فقدان ہے۔ اس حوالے سے نہ تو طالب علم کی رہنمائی کی جاتی ہے ، نہ ہی حکومت اور تعلیمی اداروں کے درمیان کوئی ”سٹریٹجک پلان“ ترتیب دیا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہم پاکستان میں تعلیم کے نام پر محض ”کلرک“ تیار کرتے چلے جارہے ہیں۔ پاکستان میں روزگار کے حوالے سے تکنیکی امور کے ماہرین کی اشد ضرورت ہے لیکن ہمارے ہاں گریجویشن یا ایم اے کرنے والے طالب علموں کی اکثریت کسی قسم کے ہنر سے واقف ہی نہیں ہوتی۔ عملی میدان میں یہ طالب علم اوسط درجے کی نوکری بھی بمشکل حاصل کر پاتے ہیں۔
اسی طرح معیار تعلیم کا یہ حال ہے کہ ایم اے اسلامیات یا ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کرنے والے بیشتر طالب علموں کے پاس نہ تو فکری پرواز ہوتی ہے اور نہ انہیں ادب کی شدھ بدھ حاصل ہوپاتی ہے۔ ایم اے نفسیات کرنے والے نفسیاتی گتھیاں سلجھانے کے اہل بھی نہیں ہوپاتے۔ ایسے ہی دیگر علوم کے ساتھ ہے کہ ہمارا یہ پڑھا لکھا طبقہ خود کو معاشرے میں فکر، سوچ ، معیار سمیت کوئی بھی تبدیلی لانے کا اہل ثابت نہیں کررہا۔
دیکھا جائے تو اس میں طالبعلموں سے زیادہ جامعات اور نصاب پر انگلی اٹھتی ہے۔
ہمارے ہاں فنی تعلیم کو زیادہ اچھا نہیں سمجھا جاتا حالانکہ دنیا بھر میں فنی تعلیم کو قابلیت اور ترقی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح ہمارے ہاں تعلیمی ادارے ہر سال ڈگری یافتہ طالب علموں کی ایک بڑی کھیپ میدان عمل میں دھکیل دیتے ہیں لیکن حکومتی سطح پر ان کیلئے ملازمت کا کوئی بندوبست ہی نہیں ہوتا۔
یہی وجہ ہے کہ نجی ادارے انکا استحصال کرتے ہیں اور ایسے طالب علموں کی مجبوری سے فائدہ اٹھایا جاتاہے۔
بیروزگاری کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں طبقاتی نظام اپنی جڑیں انتہائی مضبوط کرچکا ہے۔ ہمارا طالب علم ڈگری لینے کے بعد کسی ایسی ملازمت کی تلاش میں نظر آتا ہے جو اسے راتوں رات امیر بنادے یا پھر دیگر الفاظ میں ہمارے طالب علم کو ”افسری“ درکار ہوتی ہے۔
اگر ایسی ملازمت نہ ملے تو سرے سے ملازمت کی ہی نہیں جاتی۔ دوسری جانب دنیا بھرمیں ترقی یافتہ ممالک بھی اس طبقاتی نظام اور اونچ نیچ کو ختم کر چکے ہیں۔ یورپ مین انتہائی پڑھے لکھے افراد بھی ٹیکسی چلانے، پٹرول پمپ میں ملازمت کرنے یا کسی سٹور میں سیلز مین کی نوکری کو عار نہیں سمجھتے۔ ان ممالک میں ایسی ملازموں کو ہی تجربہ اور ترقی کیلئے سیڑھی بنایا جاتاہے لیکن ہمارے ہاں ایسا تصور اور ایسی ملازمتوں کو حقیر اور باعث ذلت سمجھا جاتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور دیگر ادارے بیروزگاری کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات کریں۔ یہ مسائل حل کرنے کیلئے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
اس کیلئے ایک ایسا ماحول پیدا کرنا ضروری ہے جس میں محنت مزدوری کو حقارت کی بجائے پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جائے۔ اس کے علاوہ حکومتی سطح پر نئی ملازمتوں کے ساتھ ساتھ کاروبار اور سرمایہ کاری کیلئے اہم اقدامات اٹھانے بہت ضروری ہیں۔ فنی تعلیم کی حوصلہ افزائی اور نصاب کی بہتری کے ساتھ ساتھ حکومتی اداروں اور تعلیمی اداروں کے درمیان مسائل کے حل کیلئے رابطہ ہونا لازم ہے۔ اگر ہم نے پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں لانا ہے تو بیروزگاری اور غربت کے ساتھ ساتھ تعلیمی مسائل کا خاتمہ کرنا ہوگا۔
تاریخ اشاعت: 2014-12-17

(2) ووٹ وصول ہوئے