بند کریں
پیر فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بے بس پاکستانیوں کی خودکشیاں
حکمرانوں کی نااہلی نے موت کو ”مسیحا“ بنا دیا۔۔ یہاں غریب عوام نے انصاف نہ ملنے پر ”فرار“ کی راہ اختیار کرناشروع کر دی ہے جس کی وجہ سے خودکشیوں میں خوفناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے
سید شعیب الدین احمد:
جو ریاست اپنے شہریوں کو تعلیم اور صحت کی سہولیات ، امن وامان ، ملاوٹ سے پاک غذا اور انصاف مہیا نہ کر سکے اسے کامیاب ریاست قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ بد قسمتی سے پاکستان کا شمار ایسی ہی ریاستوں میں کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے قیام پر ہندو انتہا پسندوں کو ”گاوٴماتا“ کے دو ٹکڑے ہونے کی جو تکلیف ہوئی اس کے نتیجے میں لوکھوں مسلمانوں کا خون بہا اور لاکھوں مسلمان خواتین کی عصمت دری کی گئی۔
لاکھوں قربانیوں کے بعد بننے والے اسلامی ملک میں عوام کوا نصاف بھی نہ ملے تو اس سے بڑی ریاستی ناکامی کیا ہو سکتی ہے؟ یہاں ”عام آدمی“ اور ”خاص آدمی“ کی اصطلاح نے تمام اخلاقیات بالاے طاق رکھ دی ہیں۔عام آدمی کو تعلیم اور علاج کی سہولیات میسر نہیں۔ اسے بچوں کو مہنگے نجی تعلیمی اداروں میں ”ناقص تعلیم“ دلوانا پڑتی ہے او سرکاری ہسپتالوں میں علاج کی سہولیات میسر نہ ہونے پر مہنگے نجی ہسپتالوں میں گھر کا سامان اور بیوی، بیٹی کا زیور بیچ کر علاج کروانا پڑتا ہے ۔
عدالتوں میں انصاف کے لیے جانا پڑ جائے تو وکلاء کی بھاری فیس ادا کرنا اس کے لیے مشکل ہوتا ہے اورایک بار پھر اپنے اثاثے بیجنا پڑتے ہیں۔ عوام کو ملاوٹ سے پاک غذا حتیٰ کہ صاف پانی بھی میسر نہیں۔ جو ریاست یہ سب کچھ نہ دے سکے اسے کامیاب کیسے کہا جا سکتا ہے؟ یہاں غریب عوام نے انصاف نہ ملنے پر ”فرار“ کی راہ اختیار کرناشروع کر دی ہے جس کی وجہ سے خودکشیوں میں خوفناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔
روزانہ دس سے پندرہ افراد حکوت ، عدالتوں ، پولیس، پٹوار اور اداروں سے مایوس ہو کر خوکشی کرتے ہیں مگر کوئی حکومت بے بس عوام کو حقوق دینے پر تیار نہیں۔اقتدار میں آنیوالے اور ان کے ساتھ ”جمہوری اداروں“ میں پہنچنے والے دیکھتے ہی دیکھتے متوسط طبقے سے ترقی کر کے طاقتور امیر طبقے کا حصہ بن جاتے ہیں اور مزید کروڑ اور ارب پتیوں کا اضافہ ہو جاتا ہے دوسری طرف غربت کی لکیر سے نیچے جانیوالوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
حکمران کو بھی روزانہ درجنوں خودکشیوں کی فکر نہیں کہ 18 کروڑ کی آبادی میں چند افراد کی کمی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جعلی ادویات سے مریض مرتے ہیں تو مرجائیں حکمرانوں کی صحت پر کوئی اثر نہیں کیونکہ ان کا علاج تو بیرون ملک ہوتا ہے۔ ان کے میڈیکل چیک اپ پاکستان میں خصوصاََ سرکاری ہسپتالوں میں ہونے لگیں تو کسی غریب آدمی کو علاج کہ سہولت نہ ملنے پر خود کشی نہ کرنا پڑے کہ ہسپتال انتظامیہ کو پتہ ہو گا کہ”VIP“ نے علاج کے لیے سرکاری ہسپتال ہی آنا ہے۔
عدالتوں میں ”وکلا گردی“ کا خاتمہ نہ ہوا اور زیرالتوا مقدمات کی تعداد یونہی بڑھتی رہی تو عوام کا عدالتی نظام پر رہا سہا اعتماد بھی اُٹھ جائیگا۔ صرف نظر ڈالیں تو اندازہ ہوجائے گا کہ لاہور میں صورتحال کیا ہے۔؟ میاں شہباز شریف کے تیسرے دور میں بھی عوام کے حالات نہیں بدلے۔ کشادہ سڑکوں،اوورہیڈز ، انڈر پاسز، میٹروبس اور اورنج ٹرین سے عوام کو روٹی، صاف پانی ، سستی تعلیم، سستا علاج، ملاوٹ سے پاک غذا میسر نہیں آجاتی۔
وہ زندہ رہیں گے تو ان سہولیات کا فائدہ اُٹھا سکیں گے۔ لاہور میں گزشتہ ہفتے سات بچوں کے باپ ہیڈ کانسٹیبل عظیم اختر نے تھانہ ڈیفنس میں اپنے سر میں گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ اس کے ساتھیوں کا کہنا تھا کہ وہ افسروں کی جھڑکیوں سے تنگ تھا جبکہ افسران کا کہنا تھا کہ عظیم اختر گھریلو پریشانیوں کا شکار تھا۔ عظیم کی پانچ بیٹیاں اور دو بیٹے تھے اور تمام زیرتعلیم تھے۔
پولیس افسران کو وضاحتیں دینے کی ضرورت نہیں۔ عظیم اختر کے لیے اپنی تنخواہ میں بچوں کو تعلیم دلوانا ہی بہت بڑا کام تھا۔ بجلی، ٹیلی فون ، گیس کے بل اور بچوں کے کھانے پینے کا خرچہ کہاں سے لاتا ہوگا؟ان حالات میں ذہنی طور پر پریشان رہتا ہو گا اور اَب سیٹ رہنے کی وجہ سے افسران کی جھڑکیاں بھی کھاتا ہو گا مگر خود کشی کر کے جہاں وہ بزدلی کا مظاہرہ کر گیا وہیں حکمرانوں کے آگے سوال بھی کھڑا کر گیا کہ کمزور اور بے بس افراد کہاں جائیں؟ گوجرانوالہ میں ایک شوہر اپنی حاملہ بیوی کو ہسپتال لے کر پہنچا مگر ہسپتال کے گائنی وارڈ میں لیڈی ڈاکٹر ملی اور نہ متعلقہ دیگر عملہ۔
ساجدہ بی بی رکشہ میں درد سے تڑپتی رہی اور وہیں بچی کو جنم دیا جو دم توڑ گئی۔ ہسپتال انتظامیہ کا موٴقف ہے کہ دوست محمد کو پرچی بنواکر لانے کو کہا گیا تھا لیکن ہو پرچی بنوا کر نہیں لایا۔ اس بھونڈے موٴقف کوکوئی ذی شعور قبول نہیں کر سکتا۔ درد سے تڑپتی خاتون کو آپریشن تھیٹر لے جانا ضروری تھا یا پرچی بنوانا؟ جس بچی کے دنیا میں آتے ہی سفر واپسی اختیار کر لیا اس کی موت کا ذمہ دار کون ہے؟ صوبے کے حکمران ، ہسپتال انتظامیہ ، لیڈی ڈاکٹر اور معاون عملہ، فیصلہ کون کرے گا؟
مظفر گڑھ میں 25 سالہ سونیا نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد تھانے کے سامنے مقدمہ درج نہ ہونے پر خود کشی کر لی۔
خود پر تیل چھڑک کر آگ لگانا اور جل کر مر جانا کتنامشکل ہے ؟ اس کا اندازہ کرنے کے لیے ایک اُنگلی کو دیا سلائی کی معمولی آگ سے جلا کر لگایا جا سکتا ہے۔سونیا کو گلہ تھا کہ پہلے سی آئی اے سٹاف کے سپ انسپکٹر نے چار ساتھیوں کیساتھ اس سے زیادتی کی اور جب مقدمہ درج کرانے تھانے گئی تو کسی نے مقدمہ درج نہیں کیاکیونکہ پیٹی بھائیوں کے خلاف کون مقدمہ درج کرتا ہے؟ سونیا اب جہاں چلی گئی ہے وہاں اسے ضرور انصاف ملے گامگر ضلع کے طاقتور ترین پولیس افسرڈی پی او کا موٴقف ہے کہ سونیا نے عصمت دری کی نہیں بلکہ بالیاں چھینے جانے کی شکایت کی تھی اور بعد ازاں صلح ہوجانے پر وہ درخواست بھی واپس لے لی تھی۔
سونیا کے کیس کا فیصلہ دنیا میں ”ڈی پی او“ نے سُنا دیاہے۔ طاقتور پولیس مافیا اب اس موٴقف کو سچ ثابت کر کے دکھا دے گا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سونیا کے مظلوم والدین سے مل کر انصاف کی یقین دہانی کروا کر آئے ہیں مگر یہ یقین دہانی وہ اس سے پہلے بہت سی سونیاوٴں اور ان کے والدین کو بھی کروا چکے ہیں ۔ اس انصاف نے نہ انہیں کچھ دیا اور نہ اب سونیا کو ملے گا مگر سونیا کے مظلوم والدین یقین رکھیں کہ اس نے مقدمہ جہاں پیش کر دیا ہے وہاں انصاف ہوتا ہے اور بڑا کڑا ہوتا ہے۔

فیصل آباد میں 5 برس سے بیروزگار عبدالواحد کی اہلیہ ثمینہ نے بجلی کا بل زیادہ آنے پر خود کشی کرلی مگر مرنے سے پہلے ہسپتال میں 8 ماہ کی حاملہ ثمینہ کنے ایک بچے کو جنم دے کر دنیا میں دُکھ اُٹھانے کے لیے چھوڑ دیا۔ ثمینہ کی اپنے شوہر سے زیادہ بل آنے پر جھڑپ بھی ہوئی تھی۔ اسے کم از کم اپنے پیٹ میں موجود بچے کا خیال کرنا چاہیے تھا مگر شوہر کی طویل بے روزگاری سے تنگ پریشان حال بے بس گھریلو عورت کیا کر سکتی تھی ؟ اس نے جو کیا وہ معاشرے اور حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ ہے ۔
مگرایسے طمانچے روزانہ اتنی تعداد میں پڑتے ہیں کہ اب حکمرانوں کو ان سے کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ وہ بجلی اتنی مہنگی کر چکے ہیں کہ اب لوگ بجلی استعمال کرتے بھی ڈرتے ہیں ۔ آئی ایم ایف کو حکمرانوں نے اربوں ڈالر وصو ل کر کے یہ اختیار دیدیا ہے کہ وہ مسلسل بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کروا رہی ہے ۔لوگ اب بجلی کے بل ادا نہیں کر سکتے۔ وہ بجلی کٹوا دے یا پھر ثمینہ کی طرح زندگی سے ٹکٹ کٹوالے۔
ملتا ن میں ہی پٹواری کے ستائے 32سالہ شہباز نے خود کشی کرلی۔ اس کے والد کی زمین 1970 میں ملتان ائیرپورٹ کے لیے حکومت نے لے کر 32 مرلہ زمین جواب میں دی تھی۔ جو پٹواری کی ”پٹواری گیری“ کی وجہ سے 45سال میں بھی نہ مل سکی اور شہباز نے تنگ آکر خود سوزی کر لی ۔ اس نوجوان کو جان خود لینے کا حساب دینا ہوگا مگرپٹواری سے پٹوار گیری کا حساب لینا حکمرانوں کا فرض ہے۔
بہاولپور میں دل کا مریض محمد اسلم دو پولیس اہلکاروں سے رشوت طلب کرنے پر بروقت وکٹوریہ ہسپتال نہ پہنچ سکا اور ناکے پر دم توڑ گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سونیاکی موت کو نوٹس لیکر مظفر گڑھ تو پہنچ گے مگر دیگر واقعات کو نوٹس لیکر ہر جگہ جانے لگے تو سارا وقت اسی کام میں گزر جائے گا ۔ وہ یقینا ایسا نہیں کر سکیں گے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرنا چاہتے تو نظام درست کرنا ہو گا کیونکہ نظام درست نہ ہوا تو حکمرانی بھی نہیں رہے گی۔
تاریخ اشاعت: 2015-10-31

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان