بند کریں
پیر جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بلوچستان
قیام امن کیلئے اس پر بھی توجہ دیں۔۔۔۔۔ بلوچستان کا مسئلہ کافی حد تک دب گیا ہے اور ابھی میڈیا بھی اس طرف متوجہ نہیں۔ بعض طاقتیں عالمی فورمز پر اسے بڑھا چڑھا کر دکھارہی ہیں
مصنف : سید بدر سعید
پاکستان شدت پسندی کے خلاف عملی طور پر میدان میں ڈٹا ہوا ہے۔ ملکی قیادت ہی نہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی واضح طور پر کہا جارہا ہے کہ وطن عزیز میں قیام امن کیلئے ہر ممکن اور فوری کوشش کی جائے۔ اب تک پاکستان دہشتگردی کے خلاف 60 ہزار سے زائد جانیں قربان کرچکا ہے۔ یہ اعداد و شمار حالیہ دہشتگردی اور بم دھماکوں کے ہیں۔ مجموعی طور پرہونے والے نقصان کا جائزہ لیں تو بات اس سے کہیں آگے چلی جاتی ہے۔

پاکستان کو بیک وقت کئی محاذوں پر لڑنا پڑرہا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کے علاوہ بھارتی سرحدی حملے اور بلوچستان میں ہونے والی شورش بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی۔ تحریک طالبان پاکستان اور دیگر ”جہادی گروپو“ کے خلاف تو بھرپور منصوبہ بندی کی جارہی ہے اور ”آپریشن ضرب عضب“ کے نام سے بڑے پیمانے پر عسکری کارروائی بھی ہورہی ہے۔
اس کا خاطر خواہ نتیجہ بھی سامنے آیا ہے۔ دوسری جانب اس سارے مسئلہ میں بلوچستان کا مسئلہ کافی حد تک دب گیا ہے اور ابھی میڈیا بھی اس طرف متوجہ نہیں۔ بعض طاقتیں عالمی فورمز پر اسے بڑھا چڑھا کر دکھارہی ہیں۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ بروقت بلوچستان کے مسئلہ کو بھی دیکھا جائے اور عالمی سطح پر بھی بھرپور جواب دیا جائے۔ یہ پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے اور پاکستان کو ہی اسے حل کرنا ہے۔

بلوچستان کے حوالے سے یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ پاکستان کے اسی بڑے صوبے میں ”را“، ”موساد“ اور سی آئی اے سمیت دیگر بڑی خفیہ ایجنسیاں اپنے اپنے مقاصد کیلئے خاصی متحرک ہیں۔ بلوچستان کے ساتھ افغانستان اور ایران کی سرحد ہے۔ اسی راستے سے بلوچستان میں عسکریت پسند بھیجے جاتے رہے ہیں۔ دوسری جانب کچھ بلوچ سردار بھی ذاتی مفادات کیلئے بلوچستان میں نفرت کو ہوا دیتے رہے ہیں۔
بلوچستان کے وزیراعلیٰ اور گورنر کے عہدوں پر معروف بلوچی سردار فائز ہیں لیکن یہی سردار ایک دوسرے پر اسٹیبلشمنٹ کے آلہ کار ہونے کا الزام بھی دھرتے رہے ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے اور حکومت گرانے میں بھی سرداروں کا ہاتھ رہا ہے۔ اسی طرح ایک تیسرا محاذ مختلف غیر ملکی این جی اوز کی صورت میں کھلا ہوا ہے۔ یہ این جی اوز بلوچستان کا مسئلہ حل کرنے کی بجائے مزید بڑھانا چاہتی ہیں۔
بعض بلوچ سردار ان کے ہاتھوں استعمال ہوتے ہیں یا پھر ان کے مفادات کی نگہبانی کرتے کرتے آلہ کار بن جاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک ہی سردار گھرانے میں بھی شدید نظریاتی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اس ساری صورتحال میں عسکریت پسند گروہوں کو ہی مفادات کے حصول کیلئے آگے بڑھایا جاتا ہے۔ پاکستانی حکومت متعدد بار بلوچستان میں غیر ملکی خفیہ اداروں کی موجودگی کے شواہد فراہم کرچکی ہے۔
اس میں خاص طور پر”راہ“ اور ”راما“ کا کردار کھل کر سامنے آیا ہے۔ بلوچ عسکریت پسندوں کو بھارت میں تربیت دینے سے متعلق ثبوت بھی ڈھکے چھپے نہیں رہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشتگری کے خلاف جنگ میں بلوچستان کے مسئلہ کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ ہمارے پالیسی سازوں کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ بلوچستا کا اصل مسئلہ کیسے حل ہوسکتا ہے۔
اگر بلوچ سرداروں کے ساتھ اکبر بگٹی جیسا سلوک کیا جائے گا تو یقیناََ یہ مزید دُکھ، محرومی اور نفرت کا باعث بنے گا۔ دوسری جانب فاٹا اور بلوچستان دونوں کے عوام کو بنیادی حقوق فراہم کر کے حالات کو بہتری کی جانب لایا جاسکتاہے۔ ہمیں پسماندہ علاقوں پر خصوصی توجہ دینی ہوگی اور ان کیلئے زیادہ فنڈز مختص کرنے ہوں گے۔ عام عافی کا اعلان اور بلوچستان پیکیج کے نام پر ان کے مسائل کا فوری حل ناراض بلوچیوں کو بھی قومی دھارے میں لاسکتا ہے۔
اس سلسلے میں یہ بات ہی کافی ہے کہ جب غیر ملکی ایجنڈے پر چلنے والی این جی اوز یہ تاثر پیدا کررہی تھیں کہ بلوچستان اب پاکستان سے الگ ہونا چاہتا ہے۔ دوسری جانب عالمی سطح پر قرار داد پیش کی جارہی تھی اور اس منظر نامے میں کامیابی کا رنگ بھرنے کیلئے شدت پسندوں نے زیارت میں قائداعظم ریزیڈینسی کو بم سے اڑا دیا تو اس کا بھرپور جواب بلوچیوں نے ہی دیا تھا۔
بلوچستان کے لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے قائداعظم سے محبت کا اظہار کیا۔ اُس روز بلوچستان کے لوگ اُس حملے کی شدید مذمت کرتے نظر آئے جس سے عالمی پاپیگنڈے کا پول کھل گیا۔ بلوچستان میں قیام امن کیلئے پالیسی بناتے ہوئے اس منظرنامے کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔ ہمیں بس اتنا کرنا ہے کہ بلوچستان کے عام شہری کو احساس محرومی سے نجاد دلانی ہے۔ باقی کام وہ خود کرلیں گے۔ اگر بروقت توجہ دی جائے تو بہت جلد بلوچستان مکمل طور پر شدت پسندی سے پاک ہوسکتا ہے جس کا اثر پاکستان کے دیگر علاقوں پر بھی پڑے گا۔ لہٰذا اگر ہم پاکستان میں مکمل امن چاہتے ہیں تو پھر ہمیں آپریشن ضرب عضب کے ساتھ ساتھ بلوچستان کا مسئلہ بھی جلد از جلد حل کرنا ہوگا۔
تاریخ اشاعت: 2015-01-12

(1) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان