بند کریں
منگل فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بلوچستان ،میئر اور ڈپٹی میئر کا فیصلہ نہ ہو سکا
صوبائی حکومت سیاسی مشکلات میں پھنس گئی تعلیمی پسماندگی عروج پر‘ اساتذہ کا مقصد تنخواہوں کا حصول اور مطالبات کرنا رہ گیا
عدن جی :
چند سال پہلے جب بلوچستان میں اساتذہ کی بہت بڑے پیمانے پر ٹارگٹ کلنگ کی گئی تو اس کے نتیجہ میں اساتذہ سمیت آباد کاروں کی بہت بڑی تعداد یہاں سے ہجرت کر گئی۔ جس کے نتیجہ میں پنجابی اساتذہ تو یہاں سے کوچ کر گئے یا مارے گئے مگر ان کی جگہ مقامی بلوچ افراد کو صوبے میں ان کے حق کے طورپر ملازمت تو مل گئی مگر ایک لاکھ سے زائد افراد کی ہجرت کے اثرات صوبے کی تعلیمی صورتحال کو بہت بُری طرح متاثر کر چکے ہیں اور اس وقت المیہ یہ ہے کہ یا تو تعلیمی اداروں میں اساتذہ جو کہ زیادہ تر بلوچ ہیں وہ تعلیمی معیار کو برقرار نہیں رکھ سکتے اور طلباء امتحانات میں کتابیں کھول کر پیپرز دیتے نظر آتے ہیں اور امتحانی عملے کی جرات نہیں کہ وہ اس عمل سے آنکھیں نہ چرائیں۔
دوسرے طریقے میں ان طلباء کے ساتھی امتحانی مرکز کے باہر فوٹو سٹیٹ کی دکانوں پر سوالات کی نقل تیار کر نے میں مصروف نظر آتے ہیں پھر کسی بھی اعلیٰ افسر کی آمد پر یہ سلسلہ کچھ دیر کے لئے رک جاتا ہے مگر اسلحے کے زور پر کی جانے والی نقل کو روکنا آسان نہیں ہوتا ۔ وزیراعلیٰ نے پچھلے دنوں امتحانی مراکز کا دورہ کیا توا نہیں شدت سے اس امر کا احساس ہوا کہ یہ بچے نقل کے ناسور کو کیسے ختم کریں گئے۔

بہت سارے بیانات اقدامات یقینا تعلیمی ترقی کے حوالے سے بہت اہم ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ایک اچھا قدم کیا کہ سالانہ بجٹ میں تعلیم کے لئے مختص رقم کو 4فیصد بڑھا کر 26فیصد کر دیا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے سرد علاقوں میں ساڑھے 45لاکھ کتابون کی مفت ترسیل مکمل ہو چکی ہے، 72لاکھ درسی کتابوں کی چھپائی مکمل ہو چکی ہے جو اب تعلیمی سال کے آغاز میں گورنمنٹ سکولوں کو مفت دی جائیں گئی۔
ان کا نعرہ ہے کہ ہم بچوں کو کلاشنکوف نہیں قلم دیں گے۔ ہم نے بلوچستان میں معیارتعلیم بلند کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔ انہوں نے کئی نئے اسکولوں کے کھولے جائے کا بھی اعلان کیا۔ مگر بلوچستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں سرکاری ملازمین جن میں اساتذہ بھی شامل ہیں صرف مراعات اور مطالبات کی بات کرتے ہیں۔اپنی ذمہ داریوں سے یوں پہلو تہی کرتے اور ان کا مقصد صرف اور صرف تنخواہوں کا حصول اور سیاست کرناہوتا ہے ان پر کام کے حوالے سے ذرا دباوٴ ڈالا جائے یا نا اہل استادوں کو فارغ کر دیا جائے جو سکول آتے ہی نہیں تو پھر ان کی سیاست احتجاج کی سیاست بن جاتی ہے اور اس میں طلباء کو بھی شامل کر لیا جاتا ہے۔

جیسا کہ ان دنوں گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن نے 10اپریل کو وزیر اعلیٰ ہاوس کے گھیراو کی دھمکی دی ہے ان کا کہنا ہے کہ اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے اوربلوچستان کے اندرونی علاقوں میں 60سے70فیصد اسکول بند پڑے ہیں یا مویشی بندھے ہیں جبکہ بلوچستان پیکیج کے نام پر اساتذہ کے جو جگہ ملازمتیں دی گئی ہیں وہ بھی عوام کو بروقت تنخواہیں نہ ملنے اور اساتذہ کے دو دو جگہ ملازمتوں کے باعث بھی تعلیمی صورتحال مخدوش ہے۔
اب تو بلوچستان کے طلباء کو بھی احساس ہو گیا ہے کہ بلوچستان میں تعلیمی پسماندگی عرج پرہے۔ بی ایس او نے اس امر پر احتجاجی مظاہرہ کیا ہے کہ ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں نہ ہائی سکول ہے نہ گرلز کالج ہے اور بیشتر طلباء کے سکولوں میں اساتذہ موجود ہی نہیں ہیں۔
دوسری جانب بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات تو ہو گئے مگر ابھی تک میئر اور ڈپٹی میئر کا فیصلہ نہیں ہو سکا۔
اس بارے میں الیکشن کمیشن نے حکومت سے وضاحت طلب کی ہے مگر حکومت خود اپنی سیاسی مشکلات کا شکار ہے۔ مسلم لیگ ن کے وزراء ناراض ہیں گلے شکووٴں کا انبار لئے بیٹھے ہیں ، اس کی وجہ وہ دفتروں میں نہیں بیٹھتے۔ عوام چکر لگا کر تھک گئے۔ ن لیگ کے وزراء آئندہ ہونے والے اجلاس کی حکمت عملی طے کر رہے ہیں جو یقینا وزیراعلیٰ کے خلاف شکایات کا دفتر ہوگا۔

وزیراعلیٰ اپنے ایک قبائلی ساتھ سردار یار محمد رند سے ملاقاتوں میں مصروف ہیں انہوں نے عام انتخابات سے قبل مسلم لیگ (ق) سے علیحدگی اختیار کی لی تھی اور یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ جے یو آئی یا نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کریں گے۔
وزیراعلیٰ کو اس وقت اپنے اراکین اسمبلی میں سے اکثریت کی مخالفت کا سامنا بھی ہے کہ اپوزیشن جماعتوں میں شامل جے یو آئی اور اے این پی حکومت کی جانب سے فنڈز کی بندش کے خلاف احتجاج کا پروگرام بنا رکھا ہے ایک ایم پی اے نے تو فنڈز کی بندش کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کر دیا ہے اور اس کے لئے وہ وزیراعلیٰ سمیت بیورو کریسی کو فریق بنائیں گے۔

اپوزیشن جماعتوں نے اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں فنڈز کی بندش کے خلاف بھر پور احتجاج کی حکمت عملی ترتیب دے دی ہے جبکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ فنڈز کی بندش کے معاملے پر ایم پی اے بلوچ اور پشتون دھٹروں میں بھی بٹے نظر آتے ہیں اوران کا موقف ہے کہ صرف پشتون علاقوں کے لئے فنڈز جاری کئے جار ہے ہیں۔ پشتونوں کا کہنا ہے کہ بلوچ ایم پی اے کو فنڈز ریلیز کیے جا رہے ہیں۔

ان ارکین نے وزیزاعلیٰ کے دور کو کرپشن کا سیار ترین دور قراد دیا ہے ان کے مطابق وزیراعلیٰ مالک بلوچ نے کرپشن کے خاتمے کے جو وعدے کیے تھے وہ سراسر فراڈ ہے۔ اس دورمیں کرپشن کے سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں موجودہ حکومت پر 4ارب روپے بلاک ایلوکیشن میں رکھنے کا بھی الزام عائد کیا جا رہا ہے جو حکومتی پارٹیوں نے وزیراعلیٰ کے ساتھ ملک کر تقسیم کئے ہیں۔
اب یہ وقت بتائے گا کہ ان سب الزامات میں کتنی صداقت ہے اور وزیراعلیٰ ان الزامات کو کیسے غلط ثابت کریں گے یا تعلیمی انقلاب لائیں گے؟
تاریخ اشاعت: 2014-03-28

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان