بند کریں
منگل فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟
پرائیویٹ آرمی ختم کر کے خفیہ اداروں کے کارڈ منسوخ کئے جائیں طاقت کا سرچشمہ پارلیمنٹ کو بنایا جائے
نعمت اللہ کا کڑ:
بلوستان میں ایک طویل عرصے سے ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکے، اغوا برائے تاوان، ماورائے این و قانون گرفتاریاں اور مسخ شدہ لاشوں کے ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔ جس میں اب فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ بھی شامل ہوگئی ہے۔ کوئٹہ شہر میں شیعہ اورر سنی علماء کرام کی ٹارگٹ کلنگ اور ہزارہ قبیلہ کے لوگ زیادہ مارے گئے ہیں جن کی جوہ سے کوئٹ شہر میں ہزارہ برادری نے اپناکاروبار سمیٹ لیا ہے اور ان کا کاروبار اپنے علاقوں تک محدود ہوگیا جبکہ بڑی تعداد میں ہزار قبیلے کے امیر طبقے کے لوگ مخدوش حالات کی وجہ سے آسٹریلیا اور دیگر ممالک نقل مکانی کرچکے ہیں۔
شیعہ کمیونٹی کے افراد کو زیادہ تر اس وقت نشانہ بنایا جاتا ہے جب وہ زیارتوں کی غرض سے کوئٹہ کے راستے ایران کانے یا پھر ایران سے پھر کوئٹہ آتے ہیں جس میں اکثریت غریب طبقے کے لوگوں کی ہوتی ہیں جو بسوں کے ذریعے طویل سفر اختیار کرتے ہیں۔ بلوستا میں 11مئی کے عام انتخابات کے بعد برسر اقتدار آنے والی مخلوط حکومت میں ماضی کی نسبت فرقہ واریت کے واقعات میں کمی واقی ہوئی ہے۔
لیکن سال نو کے آغاز میں پہلا دہشت گردی کا واقع زائر ین کی بس کو نشانہ بنا کر کیا گیا ۔ بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق حملے میں 80سے 100کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گای۔ بس میں 50سے زائد زائرین سوار تھے جن کا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان ، پشاور اور کوہاٹ سے تھا۔
کوئٹہ میں زائرین کی بس پر حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم جیش الاسلام نے قبول کرلی۔
ترجمان نے حکومت، پولیس، عدلیہ اور میڈیا کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پولیس اور میڈیا بھی اپنا قبلہ درست کریں۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی لگانے کا اعلان کرتے ہوئے امتحانی مراکز میں نقل کی روک تھام کیلئے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے اور گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کرنے والے اساتزہ کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ ضلع خضدار میں نیشنل پارٹی کے عہدیداروں ، قبائلی عمائدین اور سرکاری افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس قوم سے زیادہ بدقسمت کون ہوسکتا ہے جو اپنے اساتزہ اور ڈاکٹروں کو قتل کر دے ۔ نقل کا رجحان ختم نہ کیا تو ہماری نسلیں محض ڈگی یافتہ مگر علم و ہنر سے عاری ہونگی۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ مارچ تک صوبے میں تین میڈیکل کالجز اور چھ یونیورسٹیوں کو فعال کای جائے گا جبکہ سکولوں میں شرح داخلہ میں اضافہ، اساتزہ کی حاضریوں کو یقینی بنانے کے ساتھ ان کی استعداد میں بہتی ار نقل کے خاتمے کو یقینی بنایا جائے گا۔
واضح رہے کہ صوبائی حکومت نے امدری زبانوں میں تعلیم کے سلسلے میں پرائمری سطح کے نصاب میں مضامین شامل کرنے اک فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ تعلیم کے تحت پانچ ہازار محنتی اور غریب طلباء و طالبان کے وضائف فراہم کئے جائیں گے جبکہ صوبائی حکومت نے چھ ماہ کے دوران تین سو سے زائد بند سکولوں کو دوبارہ کھول کر فعال بنادیا ہے۔
تعلیمی اداروں میں اساتزہ کو حاضری کا پابند بنانا، امتحانات میں نقل کے ناسور کو ختم کرنا، محکمہ تعلیم میں کرپشن کا خاتمہ نئے میڈیکل کالجز یونیورسٹیوں کا قیام وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کیلئے کسی بڑے امتحان سے کم نہیں۔
یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ وزیر اعلیٰ اور اس کی مخلوط حکومت اپنے تعلیمی اژن اور اعلانات پر کس قدر عمل کرتی ہیں۔
پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے چیئر مین اور رکن قومی اسمبلی محمود کان اچکزئی نے کوئٹہ میں صحافیوں سے بات چیت کرنے ہوئے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا کہ سیاسی کیرئیر میں کسی خفیہ ادارے سے تعلق ثابت ہوجائے تو سیاست چھوڑ دوں گا۔
انہویں نے پاکستان کے دانشوروں اور صحافیوں سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہندوستان کی بجائے افغانستان کے ساتھ امن کی آشا شروع کرنے کی کبھی بات نہیں کی حالانکہ ہندوستان کے ساتھ پاکستان کی تین جنگیں ہوچکی ہیں۔ ایک جنگ کے نتیجے میں ملک دولخت ہوا لیکن افغانستان کے ساتھ کبھی پاکستان کی جنگ نہیں ہوئی۔ 1996ء اور 1971ء کے جنگوں میں افغانستان نے واضح طور پر غیر جانبدار رہنے کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف کے تمام ساتھیوں پر غداری ایکٹ لاگو ہوتا ہے۔ سابق صدر کے اقتدار پر قابض ہونے کو ہماری پارٹی کے علاوہ کسی نے بھی غیرآئینی قرار دینے کی جرأت نہیں کی تھی۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ چار چیزوں پر عمل ہوجائے تو 23مارچ 2014ء سے قبل پاکستان میں مکمل امن ہوسکتا ہے۔
1۔طاقت کا سرچشمہ عوام اور پارلیمنٹ ہوں۔

2۔پرائیویٹ آرمی ختم کی جائیں اور خفیہ اداروں کے کارڈ جو مخصوص افراد کو دئیے گئے انہیں منسوخ کیا جائے۔
3۔صوبوں میں پیدا ہونے والی نعمتوں پر وہاں کے عوام کا حق تسلیم کیا جائے۔
4۔ہمسایہ ممالک کے ساتھ عدم مداخلت اور برابری کی بنیاد پر تعلقات قائم کئے جائیں۔
محمود خان اچکزئی کی پارٹی پشتونخواہ ملی عامی پارٹی نے 11مئی کے انتخابات میں بلوچستان کے پشتون اضلاع سے اپنے روایتی حریف جمعیت علماء اسلام کو شکست دے کر زبردست کامیابی حاصل کی تھی لیکن محمد خان اچکزئی نے صوبے کے گورنر شپ کیلئے پارٹی کارکنوں اور رہنماؤں کے ناموں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے بھائی اور سابقہ ریٹارئر بیورو کریٹ محمد خان اچکزئی کو گورنر بلوچستان کے لئے نامزد کیااور اپنے دوسرے بھائی رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر حامد خان اچکزئی کو پانچ محکموں کے قلمدان سونپے جس سے پارٹی کے اندرونی حلقوں میں بے چینی کے ساتھ ساتھ محمود خان اچکزئی کو اپنے خاندان کو نوازنے کے حوالے سے مختلف حلقوں میں ہدف تنقید بنایا جارہا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-01-29

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان