بند کریں
ہفتہ فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بلوچستان کے حالات کی بہتری اور قیام امن کیلئے کوئی پیش رفت نہ ہوسکی
صوبائی حکومت کا ایک سال مکمل ہونے کے باوجود بلوچستان میں حالات کی بہتری اور قیام امن کیلئے کوششوں سے متعلق کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوسکی
عدن جی:
صوبائی حکومت کا ایک سال مکمل ہونے کے باووجود بلوچستان میں حالات کی بہتری اور قیام امن کیلئے کوششوں سے متعلق کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوسکی جس پر عوامی حلقوں میں حکومت کی کارکردگی و واقعات کے حوالے سے مایوسی و بے چینی میں اضافہ ہورہا ہے۔ اگرچہ حکومت نے فنڈز کے ضیاع کو روکنے ،کرپشن کے خاتمے اور قواعد ضوابط کے مطابق حکمرانی کو یقینی بنانے کے بلند و بانگ دعوے تو کیے تھے لیکن ایک ہی سال میں کیے جانے والے تمام حکومتی دعوؤں کی قلعی کھل گئی ہے۔

جبکہ موجودہ حکومت کی جانب سے قواعد و ضوابط کی بھی دھجیاں بکھیر دی گئی ہیں۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق پابندی کے باوجود سینکڑوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کو کنٹریکٹ پر رکھ لیا گیا۔ گونر ہاؤس کے ہی 20ملازمین کے کنٹریکٹ میں توسیع کردی گئی۔ کنٹریکٹ پر بھرتی کیلئے گئے ملازمین کی تعداد 22کے قریب ہے جن میں سے اکثریت ان ملازمین کی ہے جو گورنر ہاؤس کے ملازم ہیں، ان میں بعض ایسے ملازمین بھی ہیں جو قواعد وضوابط کے مطابق عمر کی مقررہ حد پوری کر چکے ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں کنٹریکٹ پر ملازم رکھ لیا گیا ہے۔

ادھر بلوچستان کے ضلع پنجگور میں نئے مسلح گروہ کی جانب سے تعلیمی اداروں پر بندش اور بچیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس پر پنجگور کے سیاسی و سماجی حلقوں نے شدید رد عمل کا اظہار کیا اور اس کو نہ ماننے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم بلوچستان اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی جانب سے صرف مذمت پر اکتفا کیا گیا لیکن صوبے کے سنجیدہ حلقے اسے اتنہائی حساس معاملہ سمجھتے ہیں۔
ان کا خیال ہے کہ بلوچستان میں انتہا پسندی و مذہبی جنونیت پھیلانے کی سازش کی جارہی ہے اگر اس کا راستہ نہ روکا گیا تو انتہائی خطرناک نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ دوسری جانب صوبائی وزیر داخلہ و قبائلی امور میر سرفراز بگٹی نے ایک بار پھر روایتی انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں 34تربیتی کیمپ موجود ہیں اور حکومت نے صوبے میں جاری بدامنی اور شورش کے پیچھے کارفرما قوتوں کو متنبہ کرتے ہوئے افغان حکام سے کہا ہے کہ وہ علیحدگی پسندوں کی سرپرستی تربیت اور مالی معاونت سے باز رہیں ۔
بلوچستان اور پاکستان کو کمزور کرنے کی ان سازشوں کو ناکام بنا دیا جائے گا۔ میر سرفراز بگٹی نے مزید کاہ کہ فرنٹیئر کور اور پولیس نے مشترکہ کارروائی کے ذریعے جنگل پیر علیزئی میں حساس اداروں کی نشاندہی پر کامیاب آپریشن کرتے ہوئے بڑی تعداد میں اسلحہ اور دھماکوں میں استعمال ہونے والا بارود اور دیگر اشیاء برآمد کرلی ہیں۔ جبکہ کافی عرصے سے انٹیلی جنس اداروں کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز نے ایک ٹرک کو قبضے میں لے لیا جو اسلحہ اور دیگر بارودی مواد لیکر کوئٹہ میں داخل ہورہا تھا یہ اسلحہ بلوچ علیحدگی پسند دہشت گردوں کیلئے لایا جارہا تھا جسے سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کر کے صوبے اور خاص کر کوئٹہ کو ایک بڑی دہشت گردی سے بچالیا ہے۔
سکیورٹی فورسز کی کارروائی قابل ستائش ہے۔ ان دہشت گرد عناصر کو بھارتی خفیہ ادارے ”را“ کی بھی سرپرستی حاصل ہے جن کا مقصد صرف پاکستان کو کمزو کرنا ہے مگر ہم واضح کرتے ہیں کہ ان کے عزائم کو خاک میں ملا کر پاکستان اور بلوچستان کو امن کا گہوارہ بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی کے دوران 2افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے جو پاکستانی شہریت رکھتے ہیں انہیں عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں فراری کیمپوں کی صحیح تعداد نہیں بتائی جاسکتی کیونکہ وقتاََ فوقتاََ وہ اپنے ٹھکانے تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ افغانستان کی نئی حکومت کے قیام سے متعلق انہوں نے کہا کہ ہم انہیں پیغام دیتے ہیں کہ وہ دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے پاکستان میں مداخلت سے گریز کرے اور افغانی سرزمین پر قائم علیحدگی پسندوں کے کیمپس کو بھی بند کیا جائے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے خلاف سابق وزیر اور بی این پی عوامی کے رہنما سید احسان شاہ نے جو انتخابی عذرداری داخل کرائی تھی اور ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی پی بی 48کیچ ون سے کامیابی کو چیلنج کیا گی تھا الیکشن ٹربیونل نے یہ انتخابی عذرداری خارج کردی ہے۔ اسی طرح صوبائی وزیر اطلاعات اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما عبدالرحیم زیار توال اور رکن اسمبلی منظور احمد کاکڑ کے خلاف بھی انتخابی عذرداریاں الیکشن ٹربیونل نے خارج کردی ہیں۔
بلوچستان اسمبلی کی نشست پی پی 48کیچ ون سے عام انتخابات میں رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہونے والے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو سید احسان شاہ نے الیکشن ٹربیونل میں چیلنج کررکھا تھا۔ انتخابی عذرداری کے خارج ہونے کو نیشنل پارٹی نے خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے حق و انصاف پر مبنی فیصلہ قرار دیا اور کہا کہ عوامی نمائندگی اور عوامی حقوق پر ماضی میں جعلی ووٹوں کے ذریعے ڈاکہ ڈالا جاتا رہا ہے جس کی وجہ سے سیاست کوکاروبار کی شکل دی گئی، اصل اور حقیقی نمائندوں کو دیوار سے لگا کر جعلی لیڈرشپ کو آگے لانے کی پالیسی نے آج بلوچستان کو اس نہج پر پہنچایا ہے کہ ہمارے نوجوان جمہوری سیاست سے بیگانہ ہوتے جارہے ہیں۔

بی این پی عوامی کے رہنما سید احسان شاہ نے انتخابی عذرداری کو مسترد کیے جانے کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کافیصلہ کیا ہے۔ بی این پی عوامی نے اس فیصلے پر اپنا موٴقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ گیارہ مئی کو ہونے والے انتخابات اور حقیقت اصل عوامی قوتوں کو محصور کرنے کی سازش تھی کیونکہ ان انتخابات میں بلوچستان بھر میں ریکارڈ دھاندلی کی گئی جبکہ کیچ میں عوامی مینڈیٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو کامیاب کرایا گیا۔ سیاسی حلقوں کے مطابق بلوچسان اسمبلی کے دیگر حلقوں کے بھی الیکشن ٹربیونل میں جاری کیسز کے فیصلے بھی آئندہ چند روز میں متوقع ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-05-29

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان