بند کریں
اتوار فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
عوام کِدھر جائیں ؟
انصاف کی تلاش میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے والے غریب عوام شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ ملک میں جنگل کا قانون رائج ہے اور یہاں ”جس کی لاٹھی اُس کی بھینس “ کا اصول تقویت پاچکا ہے
ریاض حسین :
ملک میں سیاسی کشیدگی و محاذ آرائی کوئی نئی بات نہیں ہے۔مگر گزشتہ چند ماہ سے اپوزیشن اور مخالف جماعتیں حکومت کے خلاف کچھ زیادہ ہی سرگرم عمل ہیں۔ دھرنا ، احتجاج اور جلسے جلوس کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے۔ عوام اپنے رہنماوٴں کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے بھاگے چلے آتے ہیں یہاں تک کہ بعض اوقات اپنی زندگیوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
سیاسی رہنماوٴں کے جلسے جلوسوں اور احتجاج میں اُن کے پیش نظر اپنی انا اور مقاصد ہوتے ہیں۔ ان سب معاملات میں نہتے عوام ہی ہیں ۔ مہنگائی ، غربت، بدامنی، بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث بے بس عوام آخر کدھر جائیں ؟
”احتجاجی مظاہرے میں شریک ہونے والا نوجوان پولیس کے تشدد کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلا گیا۔ ایک سیاسی رہنما کے جلسے میں بھگدڑ مچ جانے کے باعث کئی افراد جاں بحق اور زخمی ہو گئے“۔

یہ اور اس قسم کی خبریں اکثر وبیشتر منظر عام پر آتی ہیں۔غریب و متاثرہ افراد کے لواحقین انصاف کیلئے دربدر بھٹکنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
انصاف کی تلاش میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے والے غریب عوام شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ ملک میں جنگل کا قانون رائج ہے اور یہاں ”جس کی لاٹھی اُس کی بھینس “ کا اصول تقویت پاچکا ہے۔ملک میں گذشتہ 67 برسوں سے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان محاز آرائی جاری ہے ۔
برسراقتدار جماعت اپوزیشن میں ہوتی ہے تو حکومت پر تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی اور جب یہی پارٹی برسراقتدار ہوتی ہے تو اُسکے لئے عوام کے مسائل کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔اس کا مقصد محض اپنی حیثیت کو مستحکم کرنا اور ا ثاثے بنانا ہی رہ جاتا ہے۔ وی آئی پی کلچر کی نمائندہ سیاسی جماعتوں کیلئے عوام کی حیثیت کیڑے مکوڑے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔
اُن کیلئے صرف اُن کا اقتدار اور انا اہمیت رکھتی ہے۔ ایک دوسرے کی خلاف بیان بازی کرتے ہوئے بھی عوام کو درمیان میں پیستے جاتے ہیں۔
سیاسی رہنماوٴں کی باہمی کشمکش کے باعث ملک میں اندرونی انتشار اورکم وبیش ہر شعبہ زندگی میں بحران پیدا ہوا ہے جس کا سب سے زیادہ اثر غریب عوام پر پڑا ہے۔ امیر تو خود کو ان بحرانوں کی زد سے نکالنے کی کوئی نہ کوئی تدبیر نکال ہی لیتا ہے لیکن ان نامساعد حالات میں عوام کا کوئی پُرسان حال نہیں۔
سیاستدانوں کے احتجاج پر ان کا ساتھ دینے والے عوام پر موقع پر ان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ کسی جلسے کا انعقاد ہویا سڑکوں پر احتجاج ہو یا دھرنا۔عوام ہر موقع پر اپنے رہنماوں کی آواز پر لبیک کہتے بھاگے آتے ہیں لیکن جب کوئی تصادم یا سانحہ ہو جاتا ہے تو بیچارے عوا م ہی اس کی زد میں آکر پستے ہیں۔
تاریخ کا بغور جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں طاقت و اقتدار اور دولت کا سوال ہوتا ہے وہاں عوام لوگوں کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔
اُنہیں استعمال کیا جاتا ہے اور جب مقصد پورا ہو جاتا ہے تو انہیں مفلسی اور گمنامی میں ڈال دیا جاتا ہے ۔ جمہوری ممالک میں چونکہ عوام کو ووٹ کا حق ہوتا ہے لہٰذا اُن کی اس وقت تک قدر کی جاتی ہے جب تک ان سے ووٹ لیا جائے۔ اس کے بعد عوامی رائے کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔
پاکستان میں جب آمرانہ اور غیر جمہوری حکومتوں کا قیام عمل میں آیا تو ان کے اور لوگوں کے درمیان فاصلے بڑھ گئے حکمران طبقوں اور عوام دونوں میں ایک دوسرے کے خلاف بد اعتمادی کی فضا پیدا ہو گئی۔
ایسی صورت میں پولیس، خفیہ ادارے اور فوج ان سب کو عوامی مظاہروں کو دبانے اور کچلنے کیلئے استعمال کیا جانے لگا۔ مضحکمہ خیز امر یہ ہے کہ ایک طرف اقتدار کی ہوس میں مبتلا سیاست دانوں نے عوام کی طاقت کو اپنی حمایت میں استعمال کیا مگر جب اقتدار پر قابض ہوگئے تو یہی عوامی مجمع اُن کیلئے خطر ناک ہو گیا۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں برسراقتدار جماعت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی محاذ آرائی جاری رہتی ہے۔
دونوں ایک دوسرے پر تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔ دونوں کا مقصد محض اپنی حیثیت کو مستحکم کرنا رہ جاتا ہے ۔ان کے پیش نظر صرف ان کا اقتدار اور ”انا“ ہے۔
عوام کو محض خالی خولی وعدوں پر ٹرخایا جاتا ہے ۔ ماضی میں بھی ان کے ساتھ یہی سلوک روا رکھا جاتارہا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے روٹی، کپڑا، اور مکان کے نعرے پر اور ضیاء الحق نے مذہب کے نام پر اپنی سیاست کو خوب پروان چڑھایا۔ لیکن وقت سے ساتھ سب وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے اور عوام ان کا منہ تکتی رہ گئی۔
تاریخ اشاعت: 2014-11-26

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان