بند کریں
بدھ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اصل کہانی کچھ اور ہی ہے
الطاف حسین کو اچانک پاکستانی پاسپورٹ کی ضرورت کیوں پڑگئی؟۔۔۔۔انکی جماعت پاکستانی حکومت کا حصہ بنتی ہے انکے کارکن پاکستان میں وزیرکراچی جیسے بڑے شہر کے میئر بنتے ہیں
مصنف : سید بدر سعید
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین اپنی طویل خود ساختہ جلا وطنی ترک کر کے پاکستانی واپس آئیں گے یا نہیں۔ یہ ایک الگ سوال ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ وہ پاکستانی پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے بہت سنجیدہ نظر آتے ہیں۔ اس سلسلے میں نہ صرف انہوں نے حکومت پر دباؤ ڈالا بلکہ پاکستان میں موجودہ ایم کیو ایم کے رنہماؤں نے الطاف حسین کو پاسپورٹ نہ دینے پر سال بھر کے لیے کراچی بند کردینے کی بھی دھمکی دی۔
جو ایک قابل غور مسئلہ ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ الطاف حسین کو کس قدر شدت سے پاکستانی پاسپورٹ کی ضرورت محسوس ہورہی تھی۔ اس سے انکار نہیں کہ ایک سال تو بڑی مدت ہے، کراچی چند ہفتوں کیلئے بھی بند کردیا جائے تو نہ صرف ملکی معیشت کو بڑا دھچکا پہنچے گا بلکہ کاروباری طبقہ بھی دیگر ممالک کا رخ کرنے لگے گا۔
اہم سوال یہ ہے کہ الطاف حسین کو پاکستانی پاسپورٹ کی ضورت کیوں محسوس ہوئی وہ طویل عرصہ سے خود ساختہ جلا وطنی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
ان کی جماعت پاکستانی حکومت کا حصہ بنتی ہے اور انکے کارکن پاکستان میں وزیر اور کراچی جیسے بڑے شہر کے میئر بنتے ہیں۔ اس کے باوجود الطاف حسین برطانیہ جانے کے بعد کبھی پاکستان نہیں آئے۔ اپنی طویل خود ساختہ جلاوطنی کے دوران وہ لندن بیٹھ کر اپنی پارٹی چلاتے رہے اور وہیں سے طویل ٹیلی فونک خطاب کرتے رہے۔ ذرائع کے مطابق اب الطاف حسین کیلئے لندن میں رہنا خطرناک ہوچکا ہے۔
سکاٹ لینڈ یارڈ انکے گرد گھیرا تنگ کررہی ہے اور اب تک متعدد ثبوت اسکے ہاتھ لگ چکے ہیں۔ الطاف حسین کو لندن میں متعدد کیسز کا سامنا ہے اور ان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔
ایم کیو ایم کو اپنے آغاز یعنی 1984ء سے ہی بڑے مسائل کا سامنا رہا ہے۔ اس کے اہم لیڈروں کو ملک سے فرار ہونا پڑا اور ان کے خلاف آپریشن بھی کیا گیا۔ حالیہ چند سالوں میں الطاف حسین کو جن سنگین مسائل اور الزامات کاسامنا کرنا پڑا ان میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ذوالفقار مرزا، ایم کیو ایم کیلئے لوہے کا چنا ثابت ہوئے۔
خصوصاََ ذووالفقار مرزا کا قرآن پاک سر پر رکھ کر پریس کانفرنس کرنے سے ایم کیو ایم کیلئے خاصے مسائل ہوئے۔ اسی طرح ایم کیو ایم کے مخالفین ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا الزام بھی الطاف حسین پر لگاتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس قتل میں آلہ کار بننے والے دو نوجوان عمران فاروق کے قتل کے بعد کراچی ایئر پورٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے لیکن ایئرپورٹ سے انہیں کسی نے غائب کردیا۔
سکاٹ لینڈ یارڈ نے پاکستان سے ان نوجوانوں کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ اسی طرح لندن میں عمران فاروق قتل کیس کی تحقیقات میں الطاف حسین کو بھی دائرہ تفتیش میں لایا گیا جبکہ ان کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات بھی چل رہی ہیں۔ لندل پولیس الطاف حسین کے گھر چھاپہ مار کر خاصا مواد بھی اپنے ساتھ لے جاچکی ہے جس کے بارے میں الطاف حسین خود بھی اپنے ٹیلی فونک خطاب میں قوم کو بتا چکے ہیں۔
انہوں نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ عالمی اسٹیبلشمنٹ انہیں قتل کرنا چاہتی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ لندن میں الطاف حسین کے گرد گھیرا تنک کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے وہ لندن سے نکلنا چاہتے ہیں۔ الطاف حسین کی جانب سے پاکستانی پاسپورٹ کا مطالبہ کرنا اور ایم کوی ایم کا پاسپورٹ میں تاخیر ہونے پر اسے قومی ایشو بنا کر پیش کرنا ظاہر کرتا ہے کہ الطاف حسین شدید خطرے میں ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس نہ صرف برطانوی شہریت ہے بلکہ انہوں نے برطانوی پاسپورٹ بھی حاصل کیا تھا۔
الطاف حسین کے بارے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف برطانوی اداروں کو اس قدر ثبوت مل چکے ہیں کہ اب الطاف حسین کا برطانوی پاسپورٹ ضبط کیا جاچکا ہے۔ برطانیہ اپنے پاسپورٹ پر انہیں مقدمات ختم ہونے سے پہلے سفر کی اجازت دینے پر آمادہ نہیں۔
ایک خبر کے مطابق الطاف حسین کو یہ بھی خدشہ ہے کہ ان کا برطانوی پاسپورٹ منسوخ کردیا جائے گا۔
الطاف حسین کے حوالے سے بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وہ پاکستانی پاسپورٹ حاصل کرنے کے باوجود پاکستان نہیں آئیں گے۔ ان کا اصل مقصد برطانیہ سے باہر نکلنا ہے، اس لیے وہ پاکستانی پاسپورٹ پر سفر کرتے ہوئے دبئی یا ساؤتھ افریقہ جاسکتے ہیں۔
اگر الطاف حسین دبئی جاتے ہیں تو وہ اپنی سیاسی پہچان برقراررکھتے ہوئے اپنا سیاسی سفر آگے بڑھائیں گے لیکن حالات ان کے خلاف ہوتے چلے گئے تو پھر ان کیلئے ساؤتھ افریقہ بہترین پناہ گاہ ثابت ہوگا جہاں ایسی متعدد تنظیمیں اور گروہ مضبوط جڑیں رکھتے ہیں جو انہیں تحفظ اور پناہ گراہم کردیں گے لیکن ساؤتھ افریقہ الطاف حسین کا آخری سیاسی فیصلہ ہوگا۔ وہ ایک بڑی سیاسی جماعت کے قائد ہیں، اس لئے زیادہ امید یہی ہے کہ وہ دبئی یا ایسے ہی کسی دوسرے ملک کا رخ کریاں گے۔
تاریخ اشاعت: 2014-05-31

(5) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-