بند کریں
اتوار فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر کی برحق گونج
بھارتی ہندو قیادت کی اِس قدیم جنونیت سے سیاسی باشعور اہل ِ نظر یہ نتیجہ باآسانی ا خذ کرسکتا ہیں کہ ’ مسئلہ ِ کشمیر کو پْرامن اور با مقصد مذاکرا ت کے ذریعے سے طے کرنے پر نہ بھارت کل کبھی آمادہ تھا نہ آئندہ ہوگا ‘
ناصر رضا کاظمی:
بھارت کے ’باپو گاندھی جی ‘اور اْن کے ہم پلہ ہندو قائدین کے وہم وگمان میں بھی نہ ہوگا 60-70برس گزرنے کے بعداُنکے دیش پر ایک ایسا بُرا وقت بھی آسکتا ہے جب بھارت میں ایسے جنونی متشدد قائدین بھارت کے سیاہ سفید کے مالک بن بیٹھیں گے جو گاندھی جی کے ’اھنسا ‘ کے اْصولوں کو بالائے طاق رکھ کر اِس دیش کو جنونی فا شزم اور ناتسیت کی وحشت ودہشت کی راہ پر چلانے میں ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کی مذموم کوششیں اپنا لیں گے، بالا آخر آج بھارت پر یہ کڑا اور بْرا وقت آن پہنچا ہے ایسے جنونی آرایس ایس کے کارسیوکوں کا گروہ جو اہنسا یا عدم تشدد کے گاندھی جی کے نظرئیے کی کھلی ہوئی ضد ہیں ،وہ نئی دہلی کے ایوانوں میں براجمان ہوچکی ہیں، گاندھی جی کا بھارت دیش اب امن وسلامتی کی زندگی کیلئے شائد برسوں یونہی تر ستا رہے گا گو‘ عدم تشدد کا یہ نظریہ 66-67 برسوں سے بھارت کی مختلف سیاسی جماعتیں جو نئی دہلی کے اقتدار پر آئیں اْنکے انداز ِ حکمرانی میں کبھی کھلی ترشی کا اور کبھی چھپی ترشی کے رویہ دنیا نے دیکھا ‘ محسوس کیا اور جب بھارت نے پاکستان پر تین جنگیں زبردستی لادھ دیں تو یہ بات اور کھل کر عیاں ہوگئی کہ بھارت میں اصولاً سیکولر کانگریس اور جنونی آر ایس ایس نے ’ہندوتوا‘ کی متشدد جنونیت سے نہ ماضی میں ہاتھ اْٹھایا اور نہ کبھی ایسا ہوتا ہوا کسی نے دیکھاسب نے یہ مگر ضرور دیکھا کہ بھارت کبھی گاندھی جی کے اہنسا یا عدم تشدد کے راستے پر چلنے میں خود کو پابند نہ کرسکا اپنے قیام سے آج تک بھارت میں اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار ہیں غالباً آج بھارت میں ا قلیتوں کی یہ تیسری نسل ہوگی جو یہ نعرے سن رہی ہے بھارت میں رہنا ہے تو ’ہندو ‘ بن کر رہنا ہو گا اور تو اور آر ایس ایس کے جنونی کارسیکوں نے ’مدرٹریسا ‘ کی عظیم تاریخی انسانی خدمات کی قدر نہیں کی اْن پر بھی عیسائیت کی تبلیغ کے الزامات عائد کئے گئے، اگر آج پاکستانی وزیر اعظم نے جنرل اسمبلی کے عالمی فورم پر کشمیرکا تنازعہ اْٹھایا تو نریندرا مودی کیسا ’سیخ پا ‘ ہو ا کباب کی مانند بھن گیا، یہ کوئی نئی بات نہیں، نریندرا مودی تو کھلا ہوا آر ایس ایس جیسی متشدد جنونی تنظیم کا رکن ہے ،نریندرا مودی میں پائی جانیوالی نفرت پر مبنی اِن قبیح خرابیوں کی جڑیں دیکھیں کہاں تک پھیلی ہوئی ہیں ،بھارت میں آج کشمیر کے مسئلے کو عالمی فورم پر اْٹھانے پر جو جنونی فکری کسمساہٹ ہم اور آپ اور مجبور ومہقور کشمیری عوام دیکھ رہے ہیں، یہ سب بھارتی قیادت کی ابتدائی ظالمانہ وسفاکانہ غلط کاریاں ہیں جو نہرو نے شروع کی تھیں ،بھارت کی ان سفاکانہ اور عیارانہ حقیقتوں کو 1953 میں پروفیسر برٹنڈ رسل نے بے نقاب کردیا تھا، اْنہوں نے بہت پہلے بھارت کے چہرے پر پڑے ہوئے دھوکہ اور فریب کے سیکولر پردے چاک کردئیے عالمی ضمیروں کو جھنجھوڑنے کی غرض سے برٹنڈ رسل نے اہل ِ کشمیر کے جذبات کی ترجمانی اِن الفاظ میں کی تھی ’کہ یہ بات بہت افسوس ناک ہے کہ پنڈت نہرو جیسا شخص بھی کشمیر کے معاملے میں اپنے ہندوہونے کے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا ہندو پرستی کے جذبات کی رو میں بہہ گیا‘ ایک اندرا گاندھی اور نریندرا مودی پر ہی کیا منحصر؟ ‘یہا ں کا تو آوا کا آوا ہی’ اہنسا اور عدم تشدد ‘کی مالا جپنے کے باوجود فاشزم کی تباہ کن جنونیت کا شہکار دکھائی دیتا ہے بھارتی ہندو قیادت کی اِس قدیم جنونیت سے سیاسی باشعور اہل ِ نظر یہ نتیجہ باآسانی ا خذ کرسکتا ہیں کہ ’ مسئلہ ِ کشمیر کو پْرامن اور با مقصد مذاکرا ت کے ذریعے سے طے کرنے پر نہ بھارت کل کبھی آمادہ تھا نہ آئندہ ہوگا ‘ اقوام ِ متحدہ کی جنرل اسمبلی ہی تو وہ و احد فورم ہے‘ جہاں اِس مسئلہ کو بھارت خود لیکرگیا بھارتی فوج کی کشمیر میں غاصبانہ ’لشکرکشی ‘ کے اقدام کو اقوام ِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ’جارحانہ اقدام ‘ قرار دیا جسے بھارت نے تسلیم کیا کہ وہ کشمیر میں کشمیریوں کی مرضی کیمطابق حق ِ خود ارادیت کے انتظامات اقوام ِ متحدہ کی نگرانی میں کروائے گا لیکن کتنا عرصہ گزر گیا مگر آج تک بھارت نے اپنا یہ وعدہ ایفا نہیں کیا، بھارت نے دنیا کو فریب دینے کیلئے جتنی دیر چاہا سیکولر ازم کے نام پر دھوکہ میں رکھا اب وہاں جنونیت کی تباہ کن فاشزم نے اپنے پنجے گاڑھ دئیے امریکا اور مغربی دنیا کو ہوسکتا ہے اِس میں کچھ اپنا وقتی فائدہ نظرآرہا ہو؟ مگر یہ خوب یاد رہے کہ بھارت میں پنپنے والی ہندوتوا کی تباہ کن جنونیت کے یہ تباہ کن نتائج نہ صرف جنوبی ایشیا ‘بلکہ پورے ایشیا سمیت اردگرد کے براعظموں کے امن کو بھی اپنی خطرناک لپیٹ میں لے سکتے ہیں وزیر اعظم نواز شریف کی جنرل اسمبلی میں کی گئی تقریر انتہائی اہم تھی لیکن اْنکی تقریر پر بھارتی جواب غیر سنجیدہ تھا اب بھارت کا یہ کہنا کیسا مضحکہ خیز الزام ہے کہ ’پاکستان کی حکومت اپنے عوام کی توجہ اندرونی مسائل سے ہٹاکر اقوام ِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ”کشمیر کا مسئلہ “پیش کرنے جیسی باتوں سے اْنہیں بہلانے کی کوششیں کرر ہی ہے ‘شائد بھارتی بزرجمہروں کو یہ علم نہیں کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کا مسئلہ پاکستان کیلئے ’ابھی یا پھر کبھی نہیں ‘ کا انتہائی تشویش ناک اور سنگین مسئلہ بن چکا ہے آج بھی کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے مہارج! پاکستانی یہ حقیقت بھولے نہیں ہیں تاریخ سے بھارتی لاکھ نظریں چر ائیں مگر وہ تاریخ کو یوں جھٹلا نہیں سکتے پاکستان پر لغو اور جھوٹے بے سروپا الزامات کے شورشرابے میں جنوبی ایشیا کے امن کو لاحق بھارتی خطرات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا جس کیلئے خطہ میں امن واستحکام کیلئے پاکستان اور بھارت کے درمیان برسوں سے التواء کا شکار مسئلہ کشمیر کاحل اب انتہائی ضروری ہوچکا ہے دوسری جانب بھارتی میڈیا اور متعصب تبصرہ نگاروں کی اِن بے وزن الزامات میں کوئی وزن نہیں ہے کہ پاکستان نے گلگت بلتستان اور چترال سے ملحق بعض سرحدی علاقے کو چین دیدئیے ہیں یہ بالکل غلط اور گمراہ کن پروپیگنڈا ہے جبکہ اِسکی اصل حقیقت یہ ہے پا ک چین دشوار گزار سرحدی علاقوں میں پا ک چین مشترکہ معاہدوں کے تحت اہم ترقیاتی منصوبوں کو پائیہ تکمیل تک پہنچا نے کی غرض سے اِن علاقوں میں چینی انجینئرز اور تکنیکی اسٹاف کی حفاظت کیلئے چند چینی پیر املٹری کے دستے متعین کئے گئے ہیں جن میں پاکستانی سیکورٹی فورسنز بھی شامل ہے یو این او کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کی جانب سے مسئلہ کشمیر زور دار لب ولہجے اور ٹھوس تاریخی حقائق سے اْٹھائے جانے پر بھارت کی تلملا ہٹ اور کپکپا ہٹ ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان نے اْسکی ’دم ‘ پر اپنا پیر رکھ دیا ہو یہاں اْسے مزید ایک بڑی عالمی سفارتی ناکامی کا منہ یوں دیکھنا پڑاکہ امریکی صدر نے بھی نریندرامودی کی جان سے کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ ہونے کے بے بنیاد دعویٰ کو یکسر مسترد کردیا اور یہ کہا کہ” جنوبی ایشیا میں پائیدارامن کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے“۔
تاریخ اشاعت: 2015-11-11

(0) ووٹ وصول ہوئے