بند کریں
جمعرات فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اندورنی سکیورٹی فوج کے حوالے‘ سول انتظامیہ بے بس!
شمالی وزیرستان آپریشن کے ردعمل میں دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی۔۔۔۔۔ کیا دہشت گردوں کی جانب سے مسلسل خاموشی کسی ”طوفان“ کا پیش خیمہ ہے
اسرار بخاری :
کیا یہ سمجھا جائے کہ 14 اگست کو تحریک انصاف کا سونامی اتنا منہ زور ہوگا یا ڈاکٹر طاہر القادری کی احتجاجی تحریک وہ شدت اختیارکر سکتی ہے جو اسلام آباد پولیس سے نہیں سنبھالی جا سکے گی اور فوج ہی ان کی منہ زوری کے آگے بند باندھ سکتی ہے اگر ایسا ہے تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ حکومت سیا سی معاملات کو سیا سی انداز سے حل کرنے میں بے بس ہے جبکہ اس کا دوسرا پہلو حکومت کے لئے اس سلسلے میں جواز کی بنیاد بن سکتا ہے کہ شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کے نتیجے میں دہشت گردوں کی جانب سے ممکنہ ردعمل مختلف بڑے شہروں میں جو مخدوش صورتحال پیدا کر سکتی ہے اس سے نمٹنے کے لئے فوج ہی موٴثر ذریعہ ہے کہ کیونکہ ایسی صورت میں اگر سیا سی جماعتیں ملک کے اندر امن وامان کا مسئلہ پیدا کر دیں اور حکومت کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جائے تو یہ دہشت گردوں کے لئے سازگار فضا مہیا کر نے کے مترادف ہو گا اس لئے متنازع معاملات کے لئے احتجاجی ریلیاں نکالنا، مظاہرے کرنا اور شہری زندگی کو تہہ وبالا کرنا ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے اس مرحلے پر تمام سیاسی جماعتوں کو حکومت کے ساتھ دست تعاون بڑھا نا چاہئے تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ آپریشن ضرب عضب کے ممکنہ نتائج اور متوقع مسائل سے نمٹنے کے لئے توجہ دے سکے۔
یہ بات غور طلب ہے کہ گزشتہ تین ہفتوں سے دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا جہا ں اس پر خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے وہاں چوکنا بھی ضرور رہنا چاہئے کہ یہ خاموشی کسی ”طوفان“ کا پیش خیمہ نہ ہو۔تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کی یہ بیان جس میں بدلہ لینے کی بات کی گئی ہے محض بڑھک جان کر نظر انداز نہیں کرنا چاہتے۔ بندوبستی علاقے اور قبائلی علاقے کے لوگوں کا مائینڈسیٹ بہت مختلف ہے اگرچہ پاکستان کو کئی بحرانوں اور چیلنجز کا سامنا ہے لیکن ان میں سے سے بڑا چیلنج دہشت گردی ہے ضرب عضب اس چیلنچ سے نمٹنے کی عملی کو شش ہے اس لئے اس کوشش کو کامیاب کرنا ہر پاکستانی کا فرض ہے۔
سیاست ا ور سیاسی مخالفت ہر گرز قابل اعتراض نہیں لیکن عشاء کی نماز فجر کے وقت نہیں پڑھی جا سکتی یعنی ہر کا م کا ایک وقت مقررہے۔
ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق مسلح افواج کے شمالی وزیر ستان میں جاری آپریشن اور ملک کے مختلف شہروں میں جہاں جہاں بھی فوج سول حکومت کی مدد کے لئے تعینات کی گئی ہے اسے خصوصی اختیارات کے حامل آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت تحفظ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔
وزیراعظم محمد نواز شریف کی صدارت میں اعلیٰ سطح کے اجلاس میںآ ئین کے آرٹیکل 245 کے تحت سوس حکومت کی اعانت کے لئے فوج کو طلب کرنے کے معاملہ پر بات چیت ہوئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ شمالی وزیرستان میں فوج آپریشن کر رہی ہے جبکہ مختلف ائیرپورٹس سمیت بعض دوسری حساس تنصیبات کی حفاظت کے لئے بھی فوج آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت سول حکومت کی مدد کو آئی ہے ۔
فوج کی موجودگی کے بعد کے حالات سے نمٹنے کے لیے فوج کو آئینی اور قانونی تحفظ حاصل ہے۔ واضح رہے کہ آئین کے آرٹیکل 245 کی شق ایک کے تحت فوج وفاقی حکومت کی ہدایت پر سول حکومت کی مدد کے لئے بلائی جاتی ہے۔ آئین کے اس آرٹیکل کی دوسری شقوں کے تحت وفاقی حکومت کی طرف سے جاری کی گئی ہدایت کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ جن علاقوں میں فوج سول حکومت کی مدد کے لئے موجود ہے وہاں متعلقہ ہائیکورٹ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت اپنا اختیار استعمال نہیں کر سکتی ۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے سڑکوں پر آنے کے اعلانات کے تناظر میں حکمت عملی پر بھی بات چیت کی گئی۔ نجی ٹی وی اور ایجنسیوں کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف نے سول انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج کوآئین کے آرٹیکل245 کے تحت کارروائی کا خصوصی اختیار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس 2 گھنٹے تک جاری رہا۔
فیصلے کے مطابق آرٹیکل 245 کے تحت فوج سول انتظامیہ کی مدد کے لئے کارروائی کرے گی۔ سول انتظامیہ کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے فوج کو طلب کر سکے گی۔ فوج کو کار روائی کا یہ خصوصی اختیار شمالی وزیرستان آپریشن کے بعد ممکنہ ردعمل سے نمٹنے خصوصی کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے فیصلے سے متعلق احکامات جاری کردیئے ہیں۔
واضح رہے کہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اسلام آباد سمیت چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں پہلے ہی فوج تعینات کی جا چکی ہے جو اہم تنصیبات پر اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔ اس اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے شرکت نہیں کی۔ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ سے خواجہ سعد رفیق نے اجلاس میں شرکت کی درخواست کی تھی جس پر انہوں نے معذرت کر لی ۔
واضح رہے کہ آرٹیکل 245 کے تحت سوس انتظامیہ کی مدد کے لئے فوج کوکسی بھی جگہ طلب کی جا سکتا۔ اس آرٹیکل کے تحت فوج کے اختیاراتی سوس علاقوں میں ہائیکورٹ آرٹیکل 199 کے اختیارات استعمال نہیں کر سکتی ۔ حکومت کے فوج کو دئیے اختیارات کو کسی عدالت میں چیلنچ نہیں کیا جا سکتا۔نجی ٹی وی کے مطابق اجلاس میں لونگ مارچ کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں آرٹیکل 245 کے تحت تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے پیش نظر 14 اگست کو امن وامان بر قرار رکھنے کی ذمہ داری فوج کے حوالے کرنے پر غور گیا گیا ۔ اجلاس میں عمران خان کے چار حلقوں میں انگوٹھون کی تصدیق کے مطالبے پر بھی غور کیا گیا۔ دریں اثناء وزیراعظم محمد نواز شریف نے اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو بھی جمہوریت کو یر غمال بنانے کی اجازت نہیں دینگے، شمالی وزیرستان میں ضرب عضب آپریشن کی کامیابی کے لئے پوری قوم مسلح افواج کے ساتھ ہے، آپریشن کے متاثرین کو ہر سہولت کی فراہمی یقینی بنائی جائے گئی‘ اس ضمن میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کرونگا‘متاثرین کی دیکھ بھال کیلئے جتنے بھی مزید فنڈز درکار ہونگے جاری کئے جائیں گئے‘ بعض عناصر نہیں چاہتے پاکستان آگے بڑھے‘ لانگ مارچ اور سول نافرمانی کی دھمکیاں ملک ملک کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کی سازش ہیں‘ ملک اب مزید محاذ آرائی کامتحمل نہیں ہوسکتا، حکومت تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے۔
اجالس میں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، گورنر خیبر پی کے سردار مہتاب احمد خان عباسی، وزیر خزانہ اسحٰق ڈار، سیفران کے وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ، وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف، وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے شرکت کی۔ دیگر ذرائع کے مطابق چودھری نثار علی خان کو ناراضگی کے باعث مدعو نہیں کیا گیا تھا۔
اجلاس میں ملک کی تازہ ترین سیاسی صورتحال‘ پارٹی کے اندرونی معاملات‘ خاص طور پر چودھری نثار کی ناراضی‘ عمران خان کے 14اگست کو لانگ مارچ اور طاہر القادری کی سرکاری ملازمین کو حکومتی احکامات نہ ماننے کیلئے دی جانے والی کال سمیت دیگر اہم ایشوز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وزیرا عظم نواز شریف نے ساری صورتحال کو جمہوری حکومت کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ(ن) نے پہلے بھی ایسی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے ہم اب بھی جمہوری انداز میں ایسی ہر کوشش کا مقابلہ کریں گے۔
جمہوریت اور جمہوری اداروں کا مکمل تحفظ کیا جائے گا۔ آئین اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے گا۔ ذرائع کے مطاب وزیر اعظم نے میڈیا میں پارٹی کے اندرونی اختلافات بارے رپورٹس کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی پارٹی کے اندر گروپنگ کی اجازت نہیں ہم سب کو متحدہوکر عوام کے مسائل کے حل کے ایجنڈا پر کام کرنا ہے۔ اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ پارٹی کے اندر اختلافات کے بارے میں پیدا تاثر ختم کرنے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں۔
اجلاس میں شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کیخلاف فوجی آپریشن سے مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا گیا کہ حکومت دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے فوج کو تمام وسائل فراہم کرے گی۔ آپریشن کے متاثرین کو مشکل کی اس گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑا جائیگا ان کیلئے ہر طرح کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے شمالی وزیرستان آپریشن کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وہ متعدد مرتبہ متاثرین کے کیمپوں کے دورے کرچکے ہیں ۔
امدادی سامان کی تقسیم کی نگرانی بھی کی، مقامی قبائل کے عمائدین سے بھی ملاقاتیں کیں اور ان کی مشکلات کے جلد ازالے کیلئے یقین دہانی کرائی۔ جمعرات تک 566000 لوگوں کی رجسٹریشن مکمل ہوچکی ہے، متاثرین کے کیمپوں میں کھانے پینے کی اشیاء کے علاوہ دیگر سہولتیں دی گئیں ہیں خوش آئند بات یہ ہے کہ متاثرین کے کیمپوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ نہیں کی جارہی۔
کیمپوں میں پولیو کے انجکشن لگائے جارہے ہیں، موبائل کیش کے ذریعے رقوم کی تقسیم کا کام ہفتے کی اندر شروع کردیا جائے گا۔وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ شمالی وزیرستان کے لوگوں نے ملکی سالمیت اور استحکام کی خاطر بڑی قربانی دی ہے اور فوج علاقے میں امن قائم کرنے کیلئے آپریشن کررہی ہے اور شمالی وزیرستان کے لوگ ضرب عضب آپریشن کی وجہ سے گھر بار چھوڑ کر آئے ہیں۔
حکومت ان کو کیمپوں میں تمام وسائل مہیا کرے گی۔ آپریشن کے خاتمے کے بعد تمام متاثرین کو ان کے گھروں میں دوبارہ آباد کرنے کیلئے بھی حکومت تمام وسائل استعمال کرے گی۔
کیا یہ موجودہ صورتحال میں تحریک انصاف کی جانب سے لچک کا مظاہرہ ہے۔ عمران خان پر موجودہ صورتحال میں کوئی ایسا کام نہ کرنے کا جو سیاسی صحافتی اور عوامی حلقوں کی جانب سے دباؤ پڑرہا ہے جس سے دہشت گردوں کو کھل کھیلنے کا موقع ملا سکے تو کیا عمران خان نے اس دباؤ سے نکلنے کیلئے پیشکش کی ہے یا خود ہی درپیش صورتحال میں اپنے سخت گیر موقف میں لچک پیدا کی ہے۔
عمران خان نے کہا کہ اگر جسٹس عبدالملک کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن بنادیا جائے جو ہمیں دو ہفتے کے ٹائم فریم میں چار حلقوں میں ووٹوں کی تصدیق کرانے کی یقین دہانی کرادے تو ہم لانگ مارچ نہیں کریں گے اگر چار حلقوں میں دھاندلی ثابت ہوگئی تو حالات الیکشن کی طرف جاسکتے ہیں۔ اگر دھاندلی نہ نکلی تو میں خود نواز شریف کے پاس جا کر ہاتھ ملاؤں گا۔
عمران کان کی اس پیشکش سے حکومت کو بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے۔ اس پیشکش کے ذریعہ عمران خان نے گیند حکومت کے کورٹ میں پھینک دی ہے۔ اس طرح وفاقی وزیر اطلاعت و نشریات پرویز رشید نے چار حلقوں کی تصدیق کے مطالبے پر غور کا جو عندیہ دیا ہے اگر حکومت اس مسئلہ کو مذاکرات سے حل کرنا چاہتی ہے تو عمران خان کو بھی اس پر مثبت جواب دینا چاہئے تاکہ ملک میں افراتفری کی فضا نہ بن سکے۔
تاریخ اشاعت: 2014-07-16

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان