بند کریں
منگل جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اعتزاز حسن
تم ہمارا اعزاز ہو نویں جماعت کے اعتزاز حسن نے دلیری‘ شجاعت اور بہادری کی جو داستان رقم کی‘ اس کی خواہش کا چراغ ہر پاکستانی کے دل میں فروزاں رہتا ہے

محمد ریاض اختر:
نویں جماعت کے اعتزاز حسن نے دلیری‘ شجاعت اور بہادری کی جو داستان رقم کی‘ اس کی خواہش کا چراغ ہر پاکستانی کے دل میں فروزاں رہتا ہے۔ چودہ اور پندرہ سالہ نوعمر طالب علم نے قوم کا سر فخر و انسباط سے بلند کر دیا ہے۔ قوم اپنے ہیرو کو تحسین کے گلاب تقسیم کر رہی ہے۔ نئی نسل کیلئے اعتزاز امید کی علامت کے طور پر سامنے آیا ہے ۔

ہنگو کے اعتزاز کے قدم معمول کے مطابق اپنے دوستوں کے ہمراہ گورنمنٹ ہائی سکول ابراہیم زئی کی طرف بڑھ رہے تھے۔ تاہم راستے میں ایک اور مشکوک نوجوان نے اس سٹوڈنٹس گروپ سے سکول کا پتہ دریافت کیا۔ اعتزاز نے پوچھا کہ آپ تو ہمارے سکول کے طالب علم نہیں ہیں۔ آپ نے ہماری درسگاہ کی یونیفارم کیوں پہن رکھی ہے؟ دراصل وہ پر اسرار نوجوان تھا جو سکول میں خودکش حملہ کر کے خون کی ہولی کھیلنا چاہتا تھا۔
اعتزاز نے نوجوان کو سکول جانے سے روکنے کا فیصلہ کر لیا!! دوستوں نے اعتزاز کو روکنے کی کوشش کی لیکن وہ بہادر طالب علم اپنے ارادوں کو بلند کر چکا تھا اور جب شجاعت پسند قبیلے کے افرادکوئی فیصلہ کرلیں تو پھر ان کے پاوٴں متزلزل نہیں ہوتے۔ بالآخر اعتزاز حسن نے خودکش حملہ کو دبوچ لیا۔ اس کشمکش میں دھماکہ ہو گیا اورہنگو کا شہزادہ ملک و قوم پر قربان ہو گیا اعتزاز نے قربانی دے کر ایک ہزار طلباء کی جان محفوظ کر دی۔
خدانخواستہ اگر حملہ آور سکول اسمبلی کے دوران درسگاہ میں گھس جاتا تو تباہی و المناکی کی وہ داستان رقم ہوتی جس کے تصور سے ہی جسم کانپنے کے لئے کافی ہے حکومت پاکستان نے بہادریاور دلیری کے اس لازوال کارنامے پر ننھے اعتزاز کو تمغہ شجاعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ شنید ہے حکومت 23 مارچ کو شہید کے خاندان کو اس اعزاز سے نوازے گی۔ قوم اپنے ہیرو پر فخر و نازکے بلند مینار تعمیر کر رہی تھی، تاہم سیاسی طورپر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے اس بیان نے بھونچال پیدا کر دیا تھا جب لاہور میں پریس بریفنگ کے دوران وہ اپنی صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ پرویز خٹک پر برس پڑے۔
”اعتزاز قوم کا ہیرو ہے‘ مجھے صوبائی حکومت کے کردار پر افسوس ہے۔ وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو اعتزاز کے گھر جانا چاہئے تھا۔ انہوں نے تحریک انصاف کی طرف سے شہید طالب علم کے خاندان کی کفالت کرنے کا بھی اعلان کیا۔ عمران خان کے ”اس سیاسی اور حقیقت پسندی پر مبنی خیالات“ کے بعد صوبائی حکومت کو عوام دوستی کا خیال آیا۔ 13 جنوری کو گورنر خیبر پختونخواہ شہید طالب علم کے گھر گئے بعد ازاں انہوں نے صدر اور وزیراعظم کی طرف سے قبر پر پھول چڑھائے۔
اسی روز وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے مشیر امجد آفریدی‘ ایڈوائزر ضیاء احمد اور سیکرٹری اطلاعات اشتیاق شاہ نے اعتزاز حسن کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ 50لاکھ روپے شہید پیکج کے ساتھ گورنمنٹ ہائی سکول ابراہیم زئی کو اعتزاز حسن کے نام سے منسوب کرنے اور شہر میں شہید طالب علم کے نام سے نیا اسٹیڈیم تعمیر کرنے کا اعلان بھی کیا۔ 10 جنوری کو سینیٹ کے اجلاس میں چوہدری اسلم اور اعتزاز حسن کو خراج عقیدت کی متفقہ قرار داد منظور کی گئی۔
اگلے روز آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی طرف سے اعتزاز کی قبر پر پھول چڑھائے گئے اور فوجی دستے نے سلامی پیش کی۔ سپہ سالار کا کہنا تھا کہ قوم اعتزاز کی بہادری پر نازاں ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق بریگیڈئر ندیم نے شہید کے گھر جا کر آرمی چیف کی جانب سے اعتزاز کے خاندان سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ اعتزاز کے والد مجاہد علی بنگش اور بڑے بھائی مجتبیٰ حسن نے بتایا کہ انہیں اعتزازکی قربانی پر فخر ہے جس نے پاکستان اور دنیا کے لئے زریں مثال قائم کی۔
اعتزاز کے والد یو اے ای میں مزدوری کرتے ہیں۔ وہ اپنے بیٹے کی تدفین کے لئے گھر آئے تھے۔ ملالہ یوسف زئی نے اعتزاز کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنے بیٹوں پر فخر ہے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ملالہ یوسف زئی نے اپنی جانب سے اعتزاز کے خاندان کے لئے 50 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا۔ امریکہ اور برطانیہ سمیت عالمی ذرائع ابلاغ نے بھی شہید طالب علم کو زبردست خراج تحسین کیا ہے۔
آج پاکستان اور پاکستان سے باہر گلگت سے کراچی اور خیبر سے مٹھن کوٹ تک سب جگہ تمام شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد و شخصیات نو عمر بہادر طالب علم کی دلیری کو اپنے اپنے انداز سے سرا رہے ہیں۔ اہل پاکستان کا یہ خاصا ہے کہ جب بھی وطن ان سے ایثار و قربانی کا مطالبہ کرتا ہے یہ جانثاری اور سرفروشی میں سب سے آگے آگے ہوتے ہیں۔ دن اور رات کا رب ہمارے وطن اور ہماری قو م پر خاص کرم کرے اور اللہ کرے ہم سب پاکستان سے اعتزاز کی طرح محبت کرتے رہیں۔ بقول احسان دانش: ․․․․

ان سے مل کر ایسا بدلا نگاہوں کا مزاج
اب کی صورت کسی صورت پر پیار آتا نہیں
تاریخ اشاعت: 2014-01-18

(1) ووٹ وصول ہوئے