بند کریں
منگل جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
افغانستان کی ” اینڈ گیم“ اور حکومت طالبان مذاکرات
پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے قبائلی علاقوں میں انتشار پھیلایا گیا پاکستان کو نیٹو سپلائی کی گزر گاہ بنا کر فساد کی بنیاد ڈالی گئی، عالمی معاملات میں کلیدی کردار ادا کرنے کیلئے تیار
محمد انیس الرحمن :
گذشتہ صدی کے اوائل میں سرائیوو میں سربیا کا ولی عہد منصوبہ بندی سے قتل کیاجا چکا تھا جس نے یورپ میں پہلی جنگ عظیم کی چنگاری کو ہوا دے دی تھی۔ اس جنگ کا بڑا مقصد ترکی کو جنگ میں ملوث کرنا تھا جو اس وقت یورپ کی چھ بڑی طاقتوں میں سے ایک تھا لیکن داخلی کمزوری اور جدید عسکری ٹیکنالوجی میں کم مہارت کی وجہ سے خلیفہ جنگ میں شامل ہونے سے گریزاں تھے اس لئے ترکی کو جنگ میں شامل ہونے پر مجبور کرنے کیلئے روسی جنگی، بحری جہازوں کو بحیرہ باسفورس میں لانا ضروری تھا۔
اس مقصد کیلئے برطانیہ نے اس وقت روس سے ایک خفیہ معاہدہ کیا کہ جنگ عظیم کے اختتام پر کامیابی کی صورت میں استنبول روس کے حوالے کر دیا جائے گا۔ اس وعدے کی بنیاد پر روس نے اپن بحیری قوت کا بڑا رخ بحیرہ باسفورس کی جانب پھیر دیا۔ باسفورس میں روسی بحری جنگی جہازوں کا موڈ دیکھتے ہوئے مجبوراََ ترکی کو جرمنی کے اتحادی کے طور پر جنگ میں شمولیت اختیار کرنا پڑی۔
اسی جنگ کے آخر میں شمالی افریقہ اور عالم عرب میں خلافت اسلامیہ کے علاقوں پر قبضہ جما کر خلافت کے قلب یعنی ترکی میں نوجوانوں کی تحریک شروع کروا کر مصطفی کمال کو اس کا لیڈر بنوا دیا گیا۔ اس کے بعد مصطفی کمال کی قیاد ت میں گیلی پولی کے مقام پر ایک ایسی جنگ لڑی گئی جس میں برطانیہ نے جان بوجھ کر پسپائی اختیار کر کے مصطفی کمال کو ترکی کا نجات دہندہ ثابت کر دیا جس نے مغرب کے اشارے پر ترکی کی ہیئت ترکیبی بدل کر رکھ دی ۔
یوں فتح کے بعد استنبول حوالے کرنے کے معاملے میں روسیوں کے ساتھ بڑا ہاتھ کر دیا گیا۔ روسیوں کو استنبول سے دور رکھنے کی ایک بڑی وجہ تھی جو بہت کم افراد کے علم میں ہے۔
تاریخی طور پر قسطنطنیہ(استنبول) بازنطینی سلطنت کے مرکز کے ساتھ ساتھ مشرقی کلیسا کا مرکز شمار کیا جاتا تھا۔ یہ وہی بازنطینی سلطنت ہے جسے عرب ڈیڑھ ہزار برس قبل سلطنت روما کے نام سے جانتے تھے ( یہاں روما سے مراد اٹلی کا شہر روم نہ لیا جائے)۔
قرآن مجید میں مذکور سورتہ الروم میں شہر رومی (باز طینی) سلطنت کی جانب اشارہ ہے۔ مسلمانوں جس وقت سلطان محمد فاتح کی قیادت میں قسطنطنیہ (استنبول) پر قبضہ کیا تو مشرقی کلیسا یہاں سے منتقل ہو کر مغربی یورپ نہیں بلکہ ماسکو منتقل ہو گیا تھا اور روسی سلطنت زار روس کی قیادت میں مشرقی کلیسا یا دوسرے الفاظ میں آرتھوڑ کس کلیسا کی سب سے بڑی نگران مقرر ہوئی۔
پہلی عالمی جنگ کے شروع میں برطانیہ اس حقیقت سے پوری طرح واقف تھا کہ پرانے تعلق کی وجہ سے مشرقی کلیسا کی مقلد روسی سلطنت کی قسطنطنیہ میں دلچسپی ختم نہیں ہوئی ہے اسی لئے جنگ میں شامل کرنے کیلئے روس کو قسطنطنیہ سے دور رکھنے کا اصل سبب یہ تھا کہ پہلی جنگ عظیم کے بڑے کردار یورپ کو جنگی اخراجات کے ناقابل برداشت بوجھ تلے دبا کر یورپین یہودیوں کیلئے مقبوضہ فلسطین میں ایک نا وطن تشکیل دیا جا سکے اسی مقصد کے کے تحت 1917ء میں نیو یارک سے بالفور ڈیکلریشن کا اعلان کروایا گیا۔
اب اس اعلان کے تحت چالیس برس بعد جس اسرائیل کے قیام کا منصوبہ زیر غور تھا اس کا دنیا میں سب سے بڑا حریف یہی مشرقی کلیسا یعنی روس نے بننا تھا ‘ اس لئے اگر استنبول روسیوں کے حوالے کر دیا جاتا تو علاقائی سطح پر روس اور اسرائیل کے درمیان بحیرہ روم ہی کی رکاوٹ رہ جانی تھی اس کے علاوہ استنبول میں بیٹھ کر روس جغرافیائی طور پر عربوں کے بھی قریب ہو جاتا اور اسرائیل کے خلاف آسانی سے اپنے عرب حلیفوں کو قوت مہیا کر کے اسرائیل کیلئے مصیبت کھڑی کر دیتا ‘ یہی وجہ ہے کہ روس کو استنبول سے دور رکھا گیا ۔
ہمارے بہت سے قارئین کے لیے یہ بات انتہائی عجیب ہو گی کہ اسرائیل کیاصل دشمن تو عرب مسلمان تصور کئے جاتے ہیں پھر روس کے ساتھ اسرائیل کی دشمنی کے کیا معنی؟
بدقسمتی سے اسلامی دنیا کے بہت کم حلقے اس بات سے واقف ہیں کہ اسرائیل میں آباد اور یورپ اور امریکہ کے معاشی، سیاسی اور عسکری مدار پر قابض یہودی اور حقیقت نسلی بنیاد پر بنی اسرائیل سے تعلق نہیں رکھتے۔
یہ ایک ایسی پراسرار قوم ہیں جو ساتویں صدی عیسوی تک بحیرہ اسود سے برے اور بحیرہ قزوین (کیسپین) کے درمیان آباد ایک بت پرست اور نیم وحشی قوم تھی جسے ” خزار“ کے نام سے جانا جاتا تھا‘قدیم زمانے میں عرب بحیرہ اسود کو بھی ”بحیرہ خزارہ“ کے نام سے یاد کرتے تھے اس قوم کی شرارتون اور اقتدار پرستی کی سزا سب سے زیادی مشرقی کلیسا کی ریاست، مغرب کی جانب سے رومن کیتھولک حامل مغربی یورپ کے اور جنوب کی جانب سے عباسی خلافت کے نرغے میں تھے۔
اس صورتحال سے تنگ آکر اس قوم کے بادشاہ نے اپنی قوم سمیت یہودی مذہب اختیار کر لیا تھا کیونکہ بخت نصر کے زمانے سے بابل (عراق) میں قید بنی اسرائیل کے بہت سے افراد شمالی عراق میں براستہ موصل تجارت کر غرض سے بحیرہ اسود کے اس پار یعنی کزاریہ ریاست تک جایا کرتے تھے اس لئے قوم کے افراد یہودیت سے واقف تھے ۔ ساتویں صدی عیسوی تک جنوب کی جانب سے اسلام اور مشرق اور مغرب کی جانب سے عیسائیت نے ان کا ناطقہ بن کر دیا تھا‘ اس لئے تنگ آکر انہوں نے یہودیت اختیار کر لی لیکن رویسوں نے ان کا پھر بھی پیچھا نہ چھوڑا اور بالآخر آٹھویں صدی کے شروع میں روسیوں نے انہیں کیسپین اور بحیرہ اسود کے درمیان قائم ریاست سے بھی محروم کر کے انہیں مشرق یورپ کی جانب دھکیل دیا تھا۔
یہی وہ قوم ہے جس نے منتشر حالت میں مشرق یورپ میں داخل ہو کر وہاں فتنہ اور فساد کی بنیاد پر انقلابات کھڑے کر دیئے ۔ اس کے بعد اس قوم کے افراد نے مغربی یورپ کی راہ لی اور یہاں کے سماجی اور معاشی مراکز پر قبضہ جما کر کیتھولک عیسائیت کی بنیاد ہلا دی جس کے بعد ایک انتہائی یورو جوڈیہEuro-judiaاتحاد وجود میں آیا جس نے مغربی یورپ اور امریکہ میں بیٹھ کر مشرقی کلیسا کو ناقابل تلافی نقصان پہچائے زار روس کے خلاف بالشیورک انقلاب کی بنیاد رکھ ‘ مارکس اور لینن سمیت اس انقلاب کے تمام فکری اور تحریکی لیڈر ان اشکنازی یہودی تھے۔
کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ کارل مارکس کی زندگی کا بڑا حصہ لندن اور پیرس میں گزرا اور یہیں بیٹھ کر اس نے اپنا فلسفہ بھگارہ لیکن انقلاب روس میں آیا۔۔۔۔۔۔!! اس نکتے میں بہت کچھ سوچنے سمجھنے کا سامان ہے۔۔۔۔ روس کو کمیونزم کے حوالے کرنے کا اصل مقصد مشرقی کلیسا کی جڑ کاٹنا تھا جو ستر برس تک کاٹی گئی۔ دوری جانب اس عسکری عفریت سوویت یونین کا سامنا کرنے کے لیے Euro-Judiaاتحاد کے تحت نیٹو کا عسکری اتحاد تشکیل دیا گیا تھا جس کے تحت مقصد پورا ہونے پر اسی سوویت یونین (روس) کو کھینچ کر افغانستان لایا گیا تاکہ افغانستان کے میدان جنگ میں الجھا کر روسی معیشت کو تباہ کرنے کے بعد سوویت ریاست تحلیل کر دی جائے اور اس کے بعد روس کی جانب ایک اور عسکری حصار قائم کیا جا سکے جس کا مقابلہ روس گرتی ہوئی معیشت کی وجہ سے نہیں کر سکتا تھا۔
جزوقتی طور پرا ایسا ہی ہوا اس لے ساتھ ہی خطے میں پیش قدمی کے لئے امریکہ اور کے صہیونی صلیبی اتحادنیٹو کو افغانستان میں قدم جمانے تھے تاکہ ایک طرف روس اور چین کے قریب عسکری اڈے قائم کئے جاسکیں اور دوسری جانب پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کو اس شے چھینا جا سکے تا کہ اسرائیل کے راستے کی تمام دیواریں گر جائیں اور وہ آسانی سے مستقبل قریب میں عالم عرب کے تیل اور قدری وسائل پر ہاتھ صاف کر سکے۔
اس مقصد کے جواز کے لئے نائن الیون کا ڈارمہ کیا گیا اور افغانستان پر مغرب کی تمام قوتوں نے یکدم چڑھائی کر دی ۔ مغرب کے صہیونی سیسہ گروں نے افغانستان کے حوالے سے غلط تخمینہ لگا لیا۔ ان کے خیال میں سوویت یونین کی افغانستان میں شکست کی سب سے بڑی وجہ مجاہدین کی پشت پر موجود امریکہ اور یورپ سمیت تمام دنیا کی معاشی اور عسکری امداد تھی۔
ان کا خیال تھا کہ افغانستان طالبان کو پاکستان سمیت تمام دنیا سے کاٹ کر آسانی کے ساتھ ختم کرنے کے بعد یہاں ایک سال کے اند اندر اپنی مرضی کی حکومت قائم کرنے کے بعد تمام مستقل اڈے قائم کر دیئے جائیں گے جو اپنے اصل مقصد یعنی ایک طرف روس اور چین کو نرغے میں لیں گے دوسری جانب پاکستان کو جوہری صلاحیت سے محروم کر دیا جائے گا۔ یہ امریکہ کااور نیٹو کی پہلی تزویرانی غلطی تھی دوری بڑی غلطی انہوں نے یہ کی کہ عراق پر یہ سوچ کر چڑھائی کر دی کہ عراقی عوام امریکہ اور برطانیہ کیلئے آنکھیں بچھائے ہوں گے لیکن افغانیوں کی طرح عراقی مجاہدین نے اس قدر سخت مزاحمت کی کہ مغرب کی تمام منصوبہ بندی خاک میں مل گئی اورجو تین سال تک مکمل کرنے کا پروگرام بنایا گیا تھا وہ چودہ برس بعد بھی جوں کا توں تھا ۔
اس تمام دورانیہ میں سب سے زیادہ استفادہ روس نے کیا‘ پوٹن کی قیادت میں روس نے تیزی کے ساتھ بین الاقوامی قرضوں سے نجات حاصل کی اس کے ساتھ ساتھ معیشت کی بہتری کے لیے ایسے اقدامات کئے کہ محض ایک عشرے کے دوران روس ایک مرتبہ پھرمعاشی قوت کے طور پر اپنے پیروں پر کھڑا ہو گیا اور چین کے ساتھ مل کر اس نے یمن کے ساتھ ساتھ شمالی افریقہ تک میں بھاری سرمایہ کاری شروع کر دی۔
روس اور چین کی اس اقتصادی بساط کو لپیٹنے کیلئے شمالی افریقہ سے ”عرب اسپرنگ“ کی چنگاری سلگائی گئی جس نے بڑھتے بڑھتے تیونس، لیبیا،مصر ،یمن اور آخر میں شام کو اپنی لپیٹ میں لیے لیا۔عرب حکمرانوں کاخیال تھا کہ لیبیا کی طرح شام میں بھی حکومت کا تختہ الٹنے میں نیٹو اہم کردار ادا کرے گا۔ اس لئے شروع میں انتہائی گرمجوشی دکھائی گئی لیکن جیسے جیسے وقت گزرا غلط فہمی کے بادل چھٹتے چلے گئے اور عربوں کو اس وقت معاملات کی سمجھ آئی جب کافی وقت گزر چکا تھا امریکہ اور برطانیہ نے جان بوجھ کر شام میں بشارالاسد کی حکومت کا تختہ اُلٹنے سے گریز کیا اور روس اور چین کو مذاکرات کے نام پر پوری طرح مداخلت کا موقع فراہم کر دیا جس کے نتیجہ میں اب جینوا میں مذاکرات کے نام پر ایک نیا ڈرامہ رچایاجا رہا ہے۔
دوسری جانب مصر میں حسنی مبارک کا اقتدار ختم ہونے دیا گیا ار اخوانیوں کو اقتدار میں آنے کا موقع فراہم کر کے باقی عرب حکمرانوں کو خبر دار کر دیا گیا کہ اب تبدیلی کا یہ طوفان جلد ان کے علاقوں کی جانب رخ کرنے والا ہے۔ اس صورتحال نے عرب خصوصاََ خلیجی ممالک میں بے چینی کی کیفیت پیدا کر دی اور جس وقت ایک سال بعد اخوانیوں کی حکومت کا فوج نے تختہ الٹا اس وقت تمام عرب حکمران مصری فوج جرنیلوں کی پشت پر کھڑے ہو گئے اور مصر کے اندر عوام اور فوج کے درمیان ایک معرکہ شروع ہو گیا۔
یہی وہ صورتحال تھی جہاں پر امریکہ اور اسرائیل مصر کو لانا چاہتے تھے مصری فوج کے اپنے ہی عوام کی حمایت حاصل نہیں ہو گئی۔ اس آگ پر تیل چھڑکنے کئے لیے اب صحرائے سینا اور مصر کے دیگر خطوں میں فوج کے خلاف ایسی کار روائیاں کرائی جا رہی ہیں جن کا الزام اخوان پسند حلقوں پر لگا کر ان کے خلاف دوبارہ کریک ڈاوٴن شروع کر دیا جاتا ہے ۔ کیا یہ صورتحال ہم پاکستان میں بھی نہیں دیکھتے؟
اس ساری تاریخی تمہید کا اصل مقصد یہ ہے کہ اس وقت وطن عزیز میں حکومت نے ایک مرتبہ پھر تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا ڈول ڈال دیا ہے جس کی کامیابی پر تاحال بہت سے سوال اٹھ رہے ہیں۔
ماضی میں مشرف سے ایسے اقدامات کرائے گئے کہ عوام اور فوج کے درمیان فاصلے بڑھ سکیں ۔اس کے بعد قبائلی علاقوں میں جلتی ہوئی آگ پر ڈرون طیاروں کے ذریعے تیل چھڑکا گیا تاکہ ردعمل کی یہ آگ پھیل کر تمام ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ کراچی سے افغان بارڈر تک علاقے کو نیٹو اسلحے کی گزر گاہ بنایا گیا اس دوران بے شمار اسلحہ وطن عزیز میں ہی غائب کرادیا گیا تاکہ مستقبل میں شرپسند عناصر ملکی سیکورٹی فورس کو مصروف رکھ سکیں۔
لبرل جماعتوں اور میڈیا کے بڑے حصے کو اس غیر یقینی صورتحال پیدا کرنے کیلئے خرید لیا گیا۔ بڑے بڑے بزر جمہر میڈیا پر آکر قوم کے سامنے سری لنکا کے باغی تامل ٹائیگرز کی مثالیں دینے لگے کہ وہاں کی حکومت نے اس تحریک کو کچل کر رکھ دیا تھا لیکن و ہ اس بات سے واقف نہیں کہ سری لنکا اور قبائلی علاقوں میں زمین آسمان کا فرق ہے اور نہ ہی سری لنکا کی پشت پر کوئی افغانستان واقع تھا اور نہ وہاں سرحدوں کے دونوں جانب ایک ہی نسل کی قوم آباد تھی۔
لبر سیاسی جماعتیں جو مذاکرات میں بظاہر حکومتی موقف کی حمایت کر رہی ہیں درحقیقت تماشا دیکھ رہی ہیں امریکہ کبھی نہیں چاہے گا کہ تیس ہزار سے زائد پاکستانی طالبان حکومت سے کامیاب مذاکرات کرنے کے بعد اپنا رخ افغانستان کی جانب پھیرلیں اور امریکہ مستقبل میں اپنے جو اڈے قائم کرنا چاہتا ہے اس میں روڑے اٹکائیں۔ اس لئے مذاکرات کے تسلسل کو جاری رکھنے اور انہیں کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے انتہائی صبر اور برداشت کا دامن تھامنا ہوگا۔
تاریخ اشاعت: 2014-02-11

(3) ووٹ وصول ہوئے