بند کریں
ہفتہ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
افغان حکومت اور بھارت نئے کھیل کی تیاری میں!
متاثرین آپریشن ضرب عضب کے پاکستان دشمن میزبان۔۔۔۔آپریشن ضرب عضب کے ان متاثرین جواب صرف بنوں تک محدود نہیں بلکہ یہ پورے ملک میں پھیل چکے ہیں کے ان مطالبات کو کب پورا کیا جائے گا اس بارے میں سردست کوئی پیش گوئی بھی ممکن نہیں
محمد رضوان خان:
امریکہ اور اس کے اتحادی ایک عرصے سے اس اضطراب میں مبتلا تھے کہ پاکستان شمالی وزیرستان میں اس کی فرمائش پر آپریشن کیوں نہیں کررہا؟ امریکہ اس اصرار پر پاکستانی حکومت و فوج دونوں کا یہی جواب ہوا کرتا تھا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن تو ہوگا لیکن اس کیلئے وقت کا تعین پاکستان اپنے قومی مفادات کے تحت کرے گا۔ پاکستان کے اس جواب پر دونوں ممالک کے درمیان ایک طویل تلخی بھی چلتی رہی تاہم اگر بین الاقوامی تعلقات کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ موقف غلط بھی نہ تھا لیکن امریکہ اس بات پر اپنے تحفظات کا جابجا اظہار کرتا رہا۔
پاکستان میں یہ پالیسی جاری رہی کیونکہ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ پاکستانی فوج کئی محاذوں پر پہلے ہی مصروف تھی۔ فوج کی یہ مصروفیت بھی باقاعدہ ایک حکمت عملی کا حصہ تھا جس پر بغیر سوچے سمجھے سابق آرمی چیف جنرل کیانی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا حالانکہ حکمت عملی یہ تھی کہ خیبر ایجنسی سے لے کر شمالی وزیرستان تک جاری چھوٹے موٹے آپریشنز کے ذریعے جنگجوؤں کو آخری حد تک دھکیلا جائے اور اس کے بعد فیصلہ کن آپریشن کیا جائے۔
اس حکمت عملی کے تحت پچھلی پالیسی جاری تھی تاہم یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ نئے آرمی چیف نے اس پالیسی کی رفتار کو تیز کیا کیونکہ اس جنگ میں قوم کے جوانوں کا لہو ایندھن بن رہا تھا۔ ایسے میں 15جون 2014ء کی شب اچانک آپریشن ضرب عضب کا آغاز ہوگیا۔ آپریشن ضرب عضب کا یہ آغاز اس حوالے سے کوئی اچھنبے کی بات نہ تھی لیکن ایک ایسے وقت میں رمضان المبارک وارد ہونے کو تھا اس آپریشن کے آغاز نے سب کو ورطہ حیرت میں مبتلا کردیا۔
آپریشن ضرب عضب سے پاکستان نے کئی فوائد حاصل کئے اس میں اگر ایک طرف امریکہ اور اس کے حواریوں کے منہ وقتی طور پر بند ہوئے تو دوسری طرف پاکستان نے اپنے قریبی دوست کو راضی کرلیا اور وہ تناؤ جو دونوں دوستوں کے درمیان آڑے آرہا تھا وہ بھی ختم ہوگیا لیکن امریکہ نے کچھ ہی عرصے بعد پاکستان کو بتادیا کہ حقانی نیٹ ورک کے اعتبار سے اس کے خدشات بدستو ر ہیں۔
آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے حوالے سے ابھی تک بعض سوالات کا واضح نہیں ہوسکا جس میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے فرزندان کی تاحال حوالگی نہ ہونا از خود آپریشن پر سوال بن رہا ہے تاہم مغویوں کی اس فہرست میں ایک نام جو وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی پروفیسر اجمل خان کا تھا وہ بخیریت گھر لوٹ آئے ہیں لیکن باقی ماندہ دونوں مغویوں کی عدم بازیابی پر اب بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں جبکہ امریکیوں کو بھی بتادیا گیا ہے کہ وہ خاطر جمع رکھیںآ پریشن ضرب عضب کا اگلا ہدف اب شوال ہوگا۔
اس بارے میں باقاعدہ طور پر امریکی کانگریس کو چند روز قبل امریکہ میں متعین پاکستانی سفیر نے بریفنگ بھی دی تھی۔ اس لحاظ سے ایک تو اس بات کا بھی امکان موجود ہے کہ آپریشن ضرب عضب کی شوال میں کارروائی ہوگی جس کا مطلب یہ ہوا کہ آپریشن ضرب عضب اب مزید طوالت اختیار کرے گا اور وہ متاثرین جو 15جون سے بے گھر ہوچکے ہیں انکی مشکلات میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔

آپریشن ضرب عضب کے ان متاثرین کی آمد کے بارے میں وقتا فوقتاََ مختلف اعداد و شمار شائر ہوتے رہے ہیں ابتداء میں تو کہا گیا تھا کہ ان کی تعاداد 10لاکھ ہے لیکن بعدازاں اسے گھٹا کر سات لاکھ بتایا گیا۔ ان متاثرین آپریشن ضرب عضب کے ٹھہرانے کیلئے بکاخیل کیمپ سمیت مختلف مقامت پر انتظامات کئے گئے تھے۔ یہ انتظامات حکومت خود کررہی تھی یا یوں کہہ لیجئے کہ ایسا تصور دیا جارہا تھا کہ حکومت متاثرین کی دیکھ بھال خود کررہی ہے جو یقیناََ حیران کن بات تھی کیونکہ اس ملک میں تو ہمیشہ یہ وطیرہ رہا ہے کہ جب بھی اس قسم کے حالات آئے تو حکومتی اہلکاروں کے وارے نیارے ہوئے۔
مقام حیرت یہ تھا کہ حکومت کی طرف سے واضح طور پراس بات کی تشہیر کی گئی کہ آپریشن ضرب عضب کے متاثرین کی دیکھ بھال کیلئے کسی سے ایک دھیلا نہیں لیا جائے گا اس سلسلے میں بہت سی رضاکار تنظیموں نے بھی پیشکش کی لیکن اس شکرئیے کے ساتھ واپس کردیا گیا۔ جس کی دو وجوہات ہیں۔ ذرائع کا استدلال ہے کہ پہلی وجہ یہ تھی کہ حکومت نہیں چاہتی تھی کہ ان این جی اوز کو شمالی وزیرستان بھیجا جائے جو اس سے قبل سوات آپریشن میں کام کرچکی تھیں کیونکہ سوات اور شمالی وزیرستان کے زمینی حالات یکسر مختلف تھے سوات باقاعدہ طور پر بندوبستی علاقہ تھا جبکہ شمالی وزیرستان افغانستان سے متصل علاقہ غیر کا حصہ جہاں ان تنظیموں کو اس اندازے سے تحفظ بھی نہیں دیا جاسکتا تھا اس لئے انہیں روک دیا گیا تاہم دوسری اور اہم بات جو ذرائع کا دعویٰ ہے وہ اس حوالے سے تھی کہ متاثرین آپریشن ضرب عضب پر بھی جو اخراجات ہورہے تھے وہ بھی دوست ملک نے وافر مقدار میں مہیا کررکھے تھے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ فنڈز کی کثرت کا یہ عالم تھا کہ نہ صرف متاثرین کو ہاتھ کا چھالا بنا کر رکھا گیا بلکہ متاثرین اپنے ساتھ جو مال مویشی لائے تھے ان کی دیکھ بھال بھی انتظامیہ کے سر تھی۔ یہاں پشاور کے ایک صحافی جس نے تمام رمضان المبارک متاثرین کے ہمراہ گزارا کیا یہ جملہ من وعن پیش ہے کہ ”آپریشن ضرب عضب کے متاثرین کیلئے تو دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں وہ لوگ اس قدر آرام میں ہیں کہ گھر کو بھول چکے ہیں“ اس جملے سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہاں فنڈز کی کس قدر فراوانی تھی۔
اس فراوانی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے متاثرین کو جو فنڈز دئیے گئے تو اس کے بعد پشاور میں مختلف ایجنسیوں کے متااثرین نے احتجاجی کیمپ لگالے جس میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ انہیں شمالی وزیرستان کے متاثرین کے برابر معاوضہ دیا جائے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے متاثرین گھر سے باہر ہونے کے باوجود بہترین حالات میں تھے لیکن ایس دکھائی دیتا ہے کہ ان متاثرین کو نظر لگ گئی ان کی گرانٹ بھی کم ہوگئی اور وہ نوازشات کا ساون بھی ختم ہوگیا ہے جس کے بعد اب مطالبات کی ایک طویل فہرست بن چکی ہے جس میں سرفہرست مطالبہ یہ ہوچکا ہے کہ ان کی گھر واپسی کا اہتمام کیا جائے۔
دوسری طرف حکومت نے بھی اپنی روایت دیر سے سہی لیکن اس کا پالن کرتے ہوئے کشکول پھر ہاتھ میں پکڑلیا ہے اور ”اقوام عالم“ سے متاثرین کیلئے فنڈز کی فراہمی کا مطالبہ بھی سامنے آچکا ہے۔
آپریشن ضرب عضب کے ان متاثرین جواب صرف بنوں تک محدود نہیں بلکہ یہ پورے ملک میں پھیل چکے ہیں کے ان مطالبات کو کب پورا کیا جائے گا اس بارے میں سردست کوئی پیش گوئی بھی ممکن نہیں کیونکہ اب تو امریکہ کے بھی مطالبات پورے کئے جائیں گے۔
امریکہ کیلئے اس میں پس و پیش کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ اس کی سب سے زیادہ اعتماد والی برطانوی فوج امریکہ اور افغانستان میں ہونے والے دو طرفہ سیکیورٹی کے معاہدے کے بعد افغانستان سے جاچکی ہے اور باقی نیٹو ممالک نے بھی افغانستان چھوڑنے میں سرعت دکھا رکھی ہے۔ اس لحاظ سے اب شوال میں جو کچھ ہونے والا ہے اس پر امریکہ کو پاکستان کی ناز برادری کرنا ہوگی جس کے طفیل آپریشن ضرب عضب کے متاثرین کی بھی دیکھ بھال کو بہتر بنایا جائے گا تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ متاثرین اس وقت تک پاکستانی انتظامیہ کی راہ تکتے رہیں گے یا کوئی اور راستہ اختیار کریں گے۔
متاثرین کے پاس اب بھی شائد اپنے دیگر عزیزواقارب کی طرح افغانستان جانے کا آپشن موجود ہے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ جب آپریشن ضرب عضب شروع ہوا تھا تو اس وقت متاثرین کی ایک بڑی تعداد نے بنوں آنے کے بچائے افغانستان کا رخ کیا تھا۔ ان متاثرین کی افغانستان میں جس انداز سے آؤ بھگت ہو رہی تھی اور ہورہی ہے اس کی تفصیل حیران کن ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ شمالی وزیرستان کے جتنے بھی متاثرین وہاں گئے ہیں تو افغان حکومت نے ان کیلئے نہ صرف دیدہ دل فرش راہ کئے بلکہ ان کی تن من دھن سے میزبانی کی۔
ان متاثرین کی آنکھوں کو جاتے ہی ڈالرز کی چمک سے خیرہ کیا گیا۔ انہیں کھانے پینے کی انواع و اقسام کی اشیاء فراہم کی گئیں۔ روزانہ ان متاثرین کی دیکھ بھال کیلئے افغان حکومت کے افسران نے بھی اپنی باری لگائی ہوئی تھی یہ حکومتی افسران متاثرین کو کوشش کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ کمپنی دیتے ہیں اور اس گپ شپ کے دوران اپنے مطلب کی باتیں بھی اگلواتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان کے ایک باسی کے مطابق افغانستان جانے والے ان کے رشتہ دار وہاں اس قدر مطمئن ہیں کہ وہ اپنے پاکستان میں موجود متاثرین قرابت داروں پر مسلسل زور دے رہے ہیں کہ وہ پاکستان چھوڑ کر افغاسنتان آجائیں۔ متاثرین شمالی وزیرستان کو ابھی تک کشش دی جارہی ہے کہ وہ افغاسنتان چلے آئیں۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ بنوں اور دیگر علاقوں میں پاک فوج نے بھی ان متاثرین کی بہترین خدمت کی جس کی وجہ سے قبائلیوں کا فوج ر اعتماد بھی بڑھا تھا اور شائد اسی وجہ سے شمالی وزیرستان کے بعض متاثرین جو آپریشن ضرب عضب شروع ہونے پر افغانستان چلے گئے تھے وہ از خود واپس بھی آئے لیکن یہ واپسی بہت کم رہی اور اب تو حالات زیادہ دگرگوں ہیں کیونکہ آپریشن ضڑب عضب کے متاثرین کی ایک بڑی تعداد اب بھی افغانستان میں موجود ہے جہاں ان کی آؤ بھگت روز اول کی ہی طرح جارہی ہے جس کی وجہ سے ان متاثرین اور افغانوں کے روپ میں وہاں کے میزبانوں میں قربت بڑھ رہی ہے۔
ذرائع ان میزبانوں میں ”را“ اور دیگر پاکستان دشمن ایجنسیوں کے امکان کو خارج ازامکان قرار نہیں دے رہے۔ قبائلی حلقوں کا خیال ہے کہ لگ بھگ ایک لاکھ کے قریب شمالی وزیرستان کے متاثرین افغانستان میں ہیں تاہم حکومت پاکستان کا دعویٰ ہے کہ یہ تعداد 29ہزار تک ہے جبکہ افغان حکومت کے مطابق یہ تعداد دو لاکھ ہے۔
آپریشن ضرب عضب کے وہ متاثرین جنہوں نے افغانستان کی راہ لی کے بارے میں حکومت پاکستان کا دعویٰ ہے کہ ابتدا میں یہ تعداد 68ہزار کے لگ بھگ تھی جو اب کم ہوکر 29ہزار کے قریب رہ گئی ہے۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ 38ہزار سے زائد پاکستان آپریشن ضرب عضب کے آغاز سے بعد ایک ہفتے کے اندر وطن واپس آگئے تھے جبکہ باقی وہاں اپنے عزیزواقارب کے پاس رہ گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق افغانستان کے صوبہ خوست اور پکتیکا میں ہجرت کرکے آنیوالے پاکستانی خاندانوں کی رجسٹرڈ تعداد 54ہزار 80ہے اور یہ تعداد وہاں اس وقت کیمپوں اور اپنے رشتہ داروں کے ہاں مقیم ہے۔
یو اے این ایچ سی آر کے مطابق شمالی وزیرستان کے ان متاثرین کی تعدادا میں کمی کے بجائے اضافہ ہوگیا جس کی وجہ آپریشن ضرب عضب میں توسیع بتائی جارہی ہے اس تعداد میں یکم اکتوبر یو اے این ایچ سی آر کے مطابق 30ہزار 112 خاندانوں کا مزید اضافہ ہوا ہے۔ امدادی اداروں کے مطابق افغاسنتان کے ان دونوں صوبوں میں موسم سرما میں سردی کی شدت شمالی و جنوبی وزیرستان سے کہیں زیادہ ہوتی ہے جس بچانے کیلئے تدابیر کی جارہی ہیں تاہم پاکستان کے اعتبار سے یہ متاثرین وہاں جس قدر زیادہ وقت گزاریں گے تو اسی قدر ان کی برین واشنگ کا خطرہ موجود ہے تاہم قبائلی استدلال ہے کہ انہوں نے نصف صدی تک کسی کے کہنے پر ملک کی سرحدات کی حفاظت نہیں کی بلکہ اسے اپنا قومی فریضہ جان کر یہ کام کیا۔
قبائیل حلقوں کا یہ انکار اپنی جگہ لیکن یہ متاثرین اس وقت پاکستان کیلئے زیادہ اہم ہیں کیونکہ ان بیروزگار جوانوں کو جو آپریشن کی وجہ سے وہاں گئے ہیں ان کو وہاں موجود پاکستان دشمن عناصر ٹریپ کرسکتے ہیں جس کیلئے فوری سد باب اسی صورت ممکن ہے کہ آپریش ضرب عضب کے متاثرین کی حسب سابق دیکھ بھال کی جائے اور ساتھ ہی عزت کے ساتھ ان کی واپسی بھی کی جائے تاکہ ان کی دیکھا دیکھی جیسے پہلے افغانستان سے پاکستانی متاثرین واپس آگئے تھے تو اب بھی ان کی واپسی کی راہ ہموار ہو جائے اور اس کیلئے حکومت کو افغانستان جیسی سہولتیں متاثرین کو دینا ہوگنی بصورت دیگر جانے والے متاثرین کو اگر ورغلا لیا گیا تو آپریشن ضرب عضب کے نتائج الٹ بھی سکتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-11-11

(2) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان