بند کریں
جمعہ فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
عالمی ایوانوں میں مسئلہ کشمیر کی گونج
میاں نواز شریف نے جنرل اسمبلی اور عالمی رہنماوں کے سامنے مسئلہ کشمیر کو اٹھایا۔۔۔۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ اچھے ہمسایوں جیسے تعلقات قائم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے لیکن بھارت نے ان کا مثبت جواب نہیں دیا
سلطان سکندر:
” ہوتا ہے جاوہ پیما پھر کاررواں ہمارا“
کے مصداق نیویارک میں جاری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں بھارت کی تمام تر ریشہ دوانیوں او ر امریکی صدر بارک اوبامہ کے خطاب میں مغربی ایشیاء کی صورتحال، پاک بھارت کشیدگی اور مسئلہ کشمیر کا ذکر نہ کیے جانے کے باوجود نہ صرف جنرل اسمبلی بلکہ او آئی سی کی وزراء خارجہ کانفرنس اور کشمیر رابطہ گروپ کے علاوہ جنیوا میں جاری اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے اجلاسوں میں مسئلہ کشمیر چھایا رہا۔
وزیراعظم نواز شریف نے جنرل اسمبلی سے خطاب اور عالمی رہنماوٴں سے ملاقتوں میں مسئلہ کشمیر موثر انداز میں اٹھایا اوروزیراعظم پاکستان کو امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ملاقات کے دوران یقین دہانی کرائی کہ امریکہ پاک بھارت کشیدگی میں کمی کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرے گا۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ اچھے ہمسایوں جیسے تعلقات قائم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے لیکن بھارت نے ان کا مثبت جواب نہیں دیا۔
لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باوٴنڈری پر بھارتی خلاف ورزیوں کی ورک تھام کے لیے یو این او اور فوجی مبصرین کا کردار موثر بنایا جائے وزیراعظم سے جنوبی کوریا اور سینیگال کے صدر اور دیگر عالمی رہنماوٴں نے بھی ملاقاتیں کر کے خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ اس طرح اوفا میں پاک بھارت وزراء اعظم ملاقات کے نتیجے میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پائی جانے والی مایوسی کی کیفیت ختم ہو گئی ہے جس کے لیے نئی دہلی میں حریت کانفرنس کے رہنماوٴں سے ملاقات نہ کرنے کی بھارتی ہٹ دھرمی پر مبنی شرط مسترد کیے جانے پرپاک بھارت قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات منسوخ ہو جانے اور وزیراعظم نواز شریف اور دفتر خارجہ کی طرف سے کشمیریوں کی شرکت کے بغیر مسئلہ کا منصفانہ حل ممکن نہ ہونے کے دو ٹوک اور واضح موقف سے بڑی تقویت ملی تھی اور کشمیری عوام اور قیادت کے حوصلے بلند ہوئے تھے ۔
جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ہی نیو یارک میں او آئی سی وزراء خارجہ کانفرنس اور کشمیر رابطہ گروپ کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی پُرزور مذمت کی گئی اور کشمیر میں غیر جانبردار مبصرین بھیجنے کی اجازت دینے اور کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں استصواب رائے کاحق دینے کا مطالبہ کیا گیا ان اجلاسوں میں آزاد کشمیر جموں و کشمیر کے صدر سردار محمد یعقوب خان اور حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ (علی گیلانی) کے اشتیاق حمید نے شرکت کی۔
حریت قائدین سید علی گیلانی اور میرواعظ عمر فاروق پاسپورٹ کے مسائل اور محترمہ آسیہ اندرابی گائے، ذبحہ کرنے کے مسئلے پر جیل میں بند ہونے کی وجہ سے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کی طرف سے دعوت ملنے کے باجود نیویارک نہ جا سکے۔ حریت کانفرنس آزاد کشمیر (علی گیلانی) کے کنوینر غلام محمد صفی کو گزشتہ کئی سال سے امریکی ویزہ دئیے جانے سے انکار کیا جاتا رہا ہے صدر سردار محمد یعقوب خان ماضی میں وزیراعظم اور گزشتہ چار سال کے دوران صدر ریاست کی حیثیت سے متعدد بار او آئی کے اجلاسوں میں کشمیریوں کی نمائندگی کرنے کے اعزاز رکھتے ہیں۔

انہوں نے او آئی سی کے حالیہ اجلاسوں میں اس بات پر زو دیا کہ او آئی سی کے رکن ممالک تحریک آزادی کشمیر کے حق میں اور بھارتی جارحیت کے خلاف موثر آواز اٹھائیں تنازعہ کشمیر کے حل کے بغیر خطہ میں امن کا قیام ممکن نہیں ،بھارت کو سمجھ لینا چاہیے کہ جوں کی توں صورتحال تنازعے کا حل نہیں اور نہ ہی یہ خطے اور عالمی امن کے مفاد میں ہے۔ بین الاقوامی برادری مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھارت پر دباوٴ ڈالے اور کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دیا جائے۔
انہی دنوں جنیوا میں ہونے والے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشن کے مہینہ بھر اجلاس کی پامالیوں، بھارتی مظالم، گرفتاریوں، خواتین اور بچوں پر مظالم کے حوالے سے مقدمہ کشمیر موثر طریقے سے پیش کیا۔ کشمیر وفد میں آزاد کشمیر حکومت کی نمائندگی سابق مشیرحکومت اور حکمران پی پی پی کے رہنما سردار امجد یوسف اور حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے دونوں گروپوں کے نمائندوں سید فیض نقشبندی اور الطاف حسین نے کی اور عالمی برادری کو بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی پامالیوں سے آگاہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ بھارتی مظالم کا سلسلہ ، قفس کی تبدیلیوں سے لیکر شاخ آشیاں تک ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-10-02

(0) ووٹ وصول ہوئے