بند کریں
بدھ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
آئینی ترمیم سے متعلق پارلیمنٹ کا اختیار تسلیم
سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی نوعیت کا ہے جس میں سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کر لیا ہے۔ اس فیصلے سے ملک میں جہاں دہشت گردی کی حوصلہ شکنی ہو گی وہاں آئین سے ماورا اقدام کے امکانات ختم ہو گئے ہیں
نواز رضا:
سپریم کورٹ نے آئین میں 18ویں اور21 ویں ترامیم کے خلاف درخواستیں خارج کرتے ہوئے فوجی عدالتوں کے قیام کو آئینی قرار دیدیا ہے 21ویں آئینی ترمیم کے خلاف تمام درخواستیں کثرت رائے سے خارج کردی گئیں‘ چیف جسٹس ناصر الملک سمیت سپریم کورٹ کے 11ججوں نے فوجی عدالتوں کے قیام کے حق میں جبکہ جسٹس جواد ایس خواجہ سمیت6ججوں نے مخالفت میں اختلافی نوٹ لکھا 18ویں آئینی ترمیم کے حق میں 14ججوں جبکہ 3ججوں نے مخالفت کی ہے ‘ فوجی عدالتوں کا قیام اس سال 7 جنوری کو عمل میں لایا گیا تھا‘ان عدالتوں کی جانب سے 6دہشت گردوں کو سزائے موت سنائی گئی تھی جن پر حکم امتناعی کے باعث عمل درآمد روک دیا گیا تھا جبکہ فیصلے کے تحت اس حکم امتناعی کو بھی خارج کردیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی نوعیت کا ہے جس میں سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کر لیا ہے۔ اس فیصلے سے ملک میں جہاں دہشت گردی کی حوصلہ شکنی ہو گی وہاں آئین سے ماورا اقدام کے امکانات ختم ہو گئے ہیں صدر ممنون حسین اور وزیراعظم محمدنواز شریف نے 18ویں اور21ویں آئینی ترامیم سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ اور کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ مثبت ہے۔
اس فیصلے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو تقویت ملے گی۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ ‘ طاہر القادری‘ حاجی عدیل‘ قمر زمان کائرہ سمیت دیگر سیاستدانوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو سراہا ہے البتہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر بعض آئینی ماہرین نے اسے سراہا ہے جبکہ کچھ نے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے۔ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کو پارلیمنٹ کی فتح اور بالادستی قرار دیا ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے نے سیاسی و قانونی حلقوں میں ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے آنے والے دنوں میں صورت حال واضح ہو جائے گی کہ اس فیصلے کے دہشت گردی کے خاتمہ میں کس حد تک مثبت اثرات مرتب ہوں گے اس سوال کا جواب 21ویں آئینی ترمیم کے اپنی مدت مقررہ پرختم ہونے پر ملے گا۔
جوڈیشل کمشن کی جانب سے 2013ء کے عام انتخابات کو شفاف قرار دینے کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے بعد سیاسی منظر بڑی حد تک واضح ہو گیا ہے 2015ء کو انتخابات کا سال قرار دینے والی جماعت تحریک انصاف کو تو ”چپ“ ہی لگ گئی ہے تحریک انصاف کی قیادت عام انتخابات کی شفافیت کے خلاف اپنا کیس ہارنے کے بعد رپورٹ کے بارے مختلف تاویلیں پیش کر رہی ہے تحریک انصاف ایک طرف جوڈیشل کمشن کا فیصلہ قبول کرتی ہے تو دوسری جانب عام انتخابات کے بارے میں الزامات کے باوجود قومی اسمبلی میں بھی براجمان ہے۔
حالانکہ جس تحریری معاہدہ کے تحت جوڈیشل کمشن بنایا گیا ہے اس میں تحریک انصاف نے فیصلہ خلاف آنے کی صورت میں الزامات واپس لینے کی کمٹمنٹ کی تھی۔ دو سال قبل قومی سیاست میں عمران خان کا اضافہ ایک نیک شگون تصور کیا جاتا تھا لیکن پچھلے دوسال میں”کپتان “نے پے در پے سیاسی غلطیاں کر کے اپنا نام ”قلابازی و یوٹرن خان“ رکھوا دیا ہے اس وقت پاکستان تحریک انصاف اندرونی خلفشار کا شکار ہے پارٹی سینئر لیڈروں حامد علی خان اور جسٹس(ر) وجہیہ الدین احمد کھلم کھلا جہانگیر ترین کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔
اب بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ عمران خان نے کھلے عام پارٹی کی پالیسیوں پر تنقید کرنے پر پابندی لگا کر ”باغی ارکان “ کو ڈسپلن کی خلاف ورزی پر پارٹی سے نکال باہر کرنے کی دھمکی دے دی ہے اور اس کارروائی کا پہلا نشانہ جسٹس وجیہہ الدین ہی کو بنایا گیا ہے۔
عمران خان ”چو مکھی“ لڑائی لڑ رہے ہیں وہ مسلسل شکست کے باوجود ”بے مزہ“ نہیں ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف سے ”عزت افزائی “ کے بعد انہوں نے پارلیمنٹ کا رخ نہیں کیا اب تو ان کی جماعت کے ارکان نے بھی ”ڈی سیٹ“ ہونے کی تلوار ہٹائے جانے تک قومی اسمبلی میں واپس نہ آنے کا اعلا ن کر دیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف ایم کیو ایم اور جے یو آئی(ف) کی جانب سے پیش کی گئی ”ڈی سیٹ “ کرنے کی تحاریک کو نمٹانے کے لئے حکومت کو آنکھیں دکھا رہی ہے منگل ان تحاریک پر رائے شماری ہونا تھی لیکن اس معاملہ کا ایوان سے باہر حل نکالنے کے لئے تحریک پر رائے شماری دو روز کے لئے موخر کر دی گئی ہے پی ٹی آئی اپنی غلطیوں پر پشیمان ہونے کی بجائے یہ کہہ کر ایوان سے اٹھ کر چلی گئی ہے کہ” اگر ایوان نے ہماری رکنیت کے حق میں فیصلہ دیا تو واپس آئے گی بصورت دیگر عوام کی عدالت سے رجوع کرے گی “یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ حکومت تحریک انصاف کے ارکان کو ڈی سیٹ کر کے” سیاسی ٹمپریچر “ میں اضافہ نہیں کرنا چاہتی اسی لئے تحریک انصاف نے بھی حکومت کی اس کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ”ڈی سیٹ “کرنے کی تحاریک پر فیصلہ آنے تک ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔
سر دست قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے پی ٹی آئی کے ارکان کو ڈی سیٹ کرنے کی تحریک آج تک موخر کر دی ہے ، سپیکر چیمبر میں سردار ایاز صادق کی زیر صدارت پارلیمانی جماعتوں کے اجلاس میں طویل بحث کے بعد طے کیا گیا کہ حکومت اور قائد حزب اختلاف کو مزید وقت دیا جائے تا کہ وہ تحاریک پیش کرنے والی جماعتوں، ایم کیو ایم اور جے یو آئی کے قائدین سے بات چیت کر کے پی ٹی آئی ارکان کو ڈی سیٹ کرنے کی تحاریک واپس لینے پر آمادہ کر سکیں منگل کو نماز ظہر کے وقفے کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے تجویز پیش کی کہ جے یو آئی اور ایم کیو ایم کے مطالبے پر تحریک پر ووٹنگ جمعرات تک موخر کر دی جائے تا کہ اس بارے اتفاق رائے سے کوئی فیصلہ کیا جا سکے۔

دریں اثناء وزیر اعظم نواز شریف نے بالآخرگزشتہ روز ایم کیو ایم اور جمعیت علماء اسلام کے قائدین سے تحریک انصاف کے خلاف اس کے اراکین کو ڈی سیٹ کروانے کی تحاریک واپس لینے کی با ضابطہ استدعا کر دی ہے۔قومی اسمبلی میں وزیر اعظم کے خطاب کا جواب دیتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے واضح کیا کہ تحریک انصاف بحالیء رکنیت کیلئے منت سماجت بھی کرتی ہے اور دوسری طرف غنڈہ گردی بھی۔
تاہم سپیکر اسمبلی کی جانب سے غنڈہ گردی کا لفظ کارروائی سے حذف کئے جانے کے بعد مولاناکو خیرات اور بدمعاشی کے متبادل الفاظ پر اکتفا کرنا پڑا۔جس پر سپیکر ایاز صادق نے غنیمت جانتے ہوئے کہ وہ بدمعاشی کے معنی اور مفہوم کا جائزہ بھی لے لیں گے،یہ کہ کر کارروائی نمٹا دی۔
تجویز کے مطابق یہ معاملہ اگرچہ جمعرات تک موٴخر کر دیا گیا ہے تاہم صورت حال جوں کی توں ہے اور تحریک انصاف کے ارکان کو ڈی سیٹ کرنے کے معاملے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
سردست حکمران اتحاد تحریک انصاف کے 28ارکان کو ”ڈی سیٹ“ کرنے کے ایشو پر منقسم ہے۔ رائے شماری کی صورت میں دونوں جماعتوں کوحکومت کے حتمی موقف سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ اس بات کا خدشہ ہے اگر حکومت تحاریک کو مسترد کرتی ہے تو حکومتی اتحاد میں دراڑیں پڑ سکتی ہیں۔ بصورت دیگر اس تاثر کو تقویت ملے گی کہ حکومت کے ایما پر تحریک انصاف کے ارکان کے خلاف ”چوہے بلی کا کھیل“ کھیلا جا رہا ہے۔
مشاورتی اجلاس کا پاکستان تحریک انصاف نے بائیکاٹ کر کے حکومت پر جلد فیصلہ کرنے کے لئے دباؤ ڈالا ہے۔ مشاورتی اجلاس میں وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، جے یو آئی(ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن،پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے صدر محمود خان اچکزئی، جماعت اسلامی کے رہنماء صاحبزادہ طارق آ،فاٹا کے رہنماء جی جی جمال،ایم کیو ایم کے رہنماء ڈاکٹر فاروق ستار، عبدالرشید گوڈیل، اعجاز الحق، حاجی غلام بلور سر جوڑ کرایک گھنٹہ تک مشاورت کی ہے۔
اس دوران ”کپتان“ کو ابھی تک قومی اسمبلی میں واپس آنے کا حوصلہ نہیں ہوا ان کے ”سیاسی لشکر“ بجھے بجھے چہرے اس بات کی چغلی کھا رہے ہیں کہ وہ انتخابات میں دھاندلی ثابت نہ کرنے پر” شرمندہ شرمندہ “ ہیں۔ شاہ محمود قریشی ایک شکست خوردہ لشکر کے ”جرنیل“ کی جنگ لڑ رہے ہیں قومی اسمبلی میں جے یو آئی (ف) کی رکن نعیمہ کشور خان نے دلچسپ انداز میں استفسار کیا ہے کہ” آج عمران خان کہاں ہیں ، ایوان میں کیوں نہیں آتے ، وہ جس سپیکر کو” سٹے آرڈر“ پر سپیکر رہنے کے طعنے دیتے تھے آج اپنی رکنیت بچانے کیلئے اسی سپیکر سے کس منہ سے ”سٹے آرڈر “ کی بھیک مانگ رہے ہیں ؟ ایسا دکھائی دیتا ہے جمعیت علما اسلام (ف) اور ایم کیو ایم نے تحریک انصاف کو” کنٹینر کی سیاست“ پر سبق سکھانے کے لئے جو تحریک پیش کی ہیں ان پر سپیکر کو آج رائے شماری کرانا پڑے گی۔
ورنہ دونو ں جماعتوں کی تحاریک کو صرف حکومت ہی مسترد کرا سکتی ہے۔ جب کہ دوسری طرف پی ٹی آئی کی قیادت سمجھتی ہے کہ حکومت اسے سیاسی طور پر دباؤ میں رکھ کر اپنی وکٹ پر کھیلنے پر مجبور کر رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے قومی اسمبلی میں انکشاف کیا ہے کہ وزیر اعظم سے ان کی درخواست پر ہونے والی ملاقات میں مسئلہ کشمیر اور مہاجرین کے مسائل کے علاوہ کوئی بات نہیں ہوئی وزیر اعظم نے ان سے تحریک انصاف کے ارکان کو ڈی سیٹ کرنے کی تحریک واپس لینے پر کوئی بات نہیں کی تھی۔
مولانا فضل الرحمنٰ” شرم کرو حیا کرو“ کے نعرے لگانے والوں سے اس بات کا تقاضا کر رہے ہیں کہ وہ بھی ” شرم و حیا کا پاس رکھیں “ لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے تحریک انصاف کسی کی کوئی بات سننے کے لئے بھی تیار نہیں۔ اس دوران مولانا فضل الرحمٰن نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سے ٹیلی فون پر بات چیت کر کے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے اگرچہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ مولانا فضل الرحمن اور ایم کیو ایم کو اس معاملہ پر درگزر سے کام لینے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-08-07

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان