بند کریں
جمعرات جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ستر لاکھ پاکستانی نشہ کرنے لگے، اقوام متحدہ
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے منشیات و جرائم کی پاکستان سے متعلق پہلی جائزہ رپورٹ میں انکشاف کیاگیاہے کہ ملک میں نشہ آور اشیاء استعمال کرنے والوں کی تعداد تقریباً70لاکھ ہے
احمد کمال نظامی:
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے منشیات و جرائم کی پاکستان سے متعلق پہلی جائزہ رپورٹ میں انکشاف کیاگیاہے کہ ملک میں نشہ آور اشیاء استعمال کرنے والوں کی تعداد تقریباً70لاکھ ہے جن میں سے نصف سے زیادہ افراد ہیروئن ‘ افیون اور چرس استعمال کرتے ہیں۔اس رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ صوبہ پنجاب میں نشہ آور اشیاء کا استعمال کرنے والے افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے مگر ایسے لوگوں میں سالانہ اضافے کے اعتبار سے صوبہ خیبر پی کے سرفہرست ہے جہاں منشیات کا استعمال کرنے والے افراد کی شرح11فیصد ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے شماریات و جرائم کے مشیر ڈاکٹر ندیم رحمان نے پاکستان میں نشہ آور اشیاء کا استعمال کرنے والوں کی تفصیل بتاتے ہوئے یہ انکشاف بھی کیاہے کہ پاکستان میں70لاکھ افراد جونشہ آور اشیاء کااستعمال کرتے ہیں‘ ان میں20فیصد تعداد خواتین کی ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ پاکستان میں انجکشن کے ذریعے منشیات لینے والے 30فیصد افراد ایڈز میں مبتلا ہوتے ہیں۔
گزشتہ دنوں فیصل آباد کے بعض ایسے بھیکمنگوں کو گرفتار کیاگیا تھا جو مارفین کے ٹیکے لگاتے ہیں اور ان ٹیکوں کو خریدنے کیلئے بھیک مانگتے ہیں ان کے طبی معائنے کرائے جاتے تو ان میں یقینا ایڈز کے مریض بھی ہوسکتے تھے۔ فیصل آباد شہر ملک کے ان شہروں میں شامل ہے جس میں نہ صرف منشیات کا کاروبار کرنے والوں کے اڈے موجود ہیں اور مختلف تھانوں کی حدود میں علاقہ پولیس کی سرپرستی میں چل رہے ہیں بلکہ ا س شہر میں منشیات کااستعمال کرنے والوں کی تعداد بھی کچھ کم نہیں ہے۔
شہر میں شراب نوشی کرنے والے طبقہ میں شہر کی اشرافیہ کے لوگ بھی شامل ہیں اور شہر کی مسیحی برادری کے اکثر افراد نے ولایتی شراب کے حصول کیلئے پرمٹ بنارکھے ہیں اور وہ شہر کے واحد فور سٹار ہوٹل میں اپنے پرمٹ دکھا کر اپنے اپنے کوٹہ کی شراب خرید کر خود اس کااستعمال کرنے کے بجائے ‘شراب کی یہ بوتلیں مہنگے داموں شہر کے شرفاء کے ہاتھ فروخت کرتے ہیں۔
فیصل آباد میں ہیروئن کے پاؤڈر کی پڑیاں بھی فروخت ہوتی ہیں اور نشہ آور اشیاء کا استعمال کرنے والوں کی اچھی خاصی تعداد چرس کے استعمال سے بھی اپنی نشہ کرنے کی لت کو پوری کرتے ہیں۔ ولایتی شراب مہنگی ہے لہٰذا شہر کے منشیات فروش ‘ غریب اور متوسط طبقوں سے تعلق رکھنے والے شراب سے شغف کرنے والے افراد کو بالعموم دیسی شراب فروخت کرتے ہیں جوز یادہ تر ضلع فیصل آباد کے مختلف دیہات میں تیار ہوتی ہے اور فیصل آباد شہر کے منشیات فروشوں کے ذریعے نشہ کرنے والوں تک پہنچتی ہے۔
چند روز پہلے صوبائی دارالحکومت لاہور سے بعض منشیات فروشوں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی جن سے ہیروئن اور چرس کی اچھی خاصی تعداد برآمد ہوئی تھی۔ فیصل آباد میں نشہ کرنے والوں کاایک طبقہ مارفین کے ٹیکوں کا استعمال کرتاہے۔ اینٹی نارکوٹکس فورس کی ایک خبر کے مطابق کراچی کے علاقہ ملیئر سے چار مارچ کو اس کے عملے نے چار منشیات فروشوں کو گرفتار کرکے ان کے قبضہ سے61کلو گرام ہیروئن برآمد کی تھی۔
یہ منشیات فروش ایک بدنام زمانہ گروہ سے تعلق رکھتے ہیں اور انہوں نے اینٹی نار کوٹکس فورس کے عملہ کے سامنے اعتراف کیاہے کہ وہ ملک کے اکثر شہروں میں منشیات کا دھندا کرنے والے ایک گروہ سے تعلق رکھتے ہیں جو مختلف طریقوں سے صوبہ خیبر پی کے‘ صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ کے زمینی راستوں پر سے‘ کراچی میں ہیروئن کا سٹاک کرکے‘ مختلف طریقوں سے یہ ہیروئن دوسرے ممالک کو بھجواتاہے۔
اینٹی نارکوٹکس فورس کے عملہ نے ہفتہ عشرہ پہلے بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ اسلام آباد پرچار کامیاب چھاپوں کے دوران 4سمگلروں کو گرفتار کرکے ان سے کروڑوں روپے مالیات کی منشیات برآمد کی تھی جن افراد کو پکڑا گیاتھا ان میں سے ایک مسافر مسٹر عبدالحمید سکنہ بہاولپور پی۔کے270کامسافر تھا۔ دوران تلاشی اس کے پیٹ میں ہیروئن کے بھرے ہوئے کیسپولز کی نشاندہی ہوئی تھی اور جب اسے ہسپتال منتقل کرکے اس کے پیٹ میں سے یہ کیپسولز برآمد کئے گئے تو ان کی تعداد60تھی۔
دوسری کارروائی میں اینٹی نار کوٹکس کے عملے نے امارات ایئر لائن 615 کے مسافر محمدنوید ولد عبدالمجید سکنہ ضلع ننکانہ صاحب کو گرفتار کرکے اس کے جوتوں میں چھپائی گئی680 گرام ہیروئن اور 550 گرام ممنوعہ مادہ برآمد کیاتھا۔ تیسری کارروائی میں سعودی عرب جانے والی پرواز پی۔کے369 کے مسافر سرفراز علی ولد بھائی خان سکنہ ضلع شیخوپورہ کو گرفتار کرکے ٹرالی بیگ میں چھپائی گئی ایک اعشاریہ بائیس کلو گرام ہیروئن اور 245 گرام ممنوعہ مادہ برآمد کیاتھا۔
لاہور اور فیصل آباد سمیت پنجاب کے متعدد علاقوں میں جعلی شراب کا دھندہ بھی عروج پرہے۔ فیصل آباد میں ہرماہ لاکھوں روپے کی جعلی شراب مختلف تھانوں کے پولیس کے عملہ کی سرپرستی میں فروخت ہوتی ہے۔ یہ جعلی شراب تیارکرنے والے دیسی ساخت کی شراب میں ایک ایسے خطرناک کیمیکل کااستعمال کرتے ہیں جس سے شراب کانشہ کئی گنا بڑھ جاتاہے۔ پچھلے سال اس قسم کی شراب کے استعمال سے شہر کے محلہ وارث پورہ میں تین درجن کے لگ بھگ افراد لقمہ اجل بن گئے تھے جن میں زیادہ تعداد کرسچین افراد کی تھی اور ان سب نے یہ کیمیکل آلودہ شراب کسی تقریب میں استعمال کی تھی۔
صوبائی دارالحکومت لاہور میں بھی گزشتہ دنوں اس قسم کی شراب کے استعمال سے ایک نئے نویلے دلہا سمیت30سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ کئی لوگوں کے گردے ناکارہ ہوئے اور ان میں سے بعض آنکھوں کی بینائی سے بھی محروم ہوئے۔ ہفتہ دس دن پہلے قومی اسمبلی کے اجلاس میں پارلیمنٹ لاجز کے اندر بڑے پیمانے پرشراب نوشی ہونے کاانکشاف کیاگیاتھا۔ اس سلسلہ میں مظفر گڑھ سے اسمبلی کے آزاد رکن جمشید دستی کے حوالے سے کہاجارہاہے کہ کوئی منچلا جوان کی شراب نوشی کیخلاف آئے روز کی باتوں سے تنگ تھا اس نے موقع ملنے پر اس نے پارلیمنٹ لاجز میں ان کے کمرے کے سامنے شراب کی خالی بوتل رکھ دی۔
جمشید دستی نے شراب کی یہ خالی بوتل پارلیمنٹ لاجز میں تعینات پولیس کے اے ایس آئی کے حوالے کردی اور خود قومی اسمبلی کے اجلاس میں جاکرپھٹ پڑا کہ پارلیمنٹ لاجز میں اکثر پارلیمنٹرینز کے کمروں میں نہ صرف انگور کی پیٹی کے ساتھ شغف رکھنے والوں کی محفلیں لگتی ہیں۔گزشتہ پانچ برسوں میں اسلام آباد میں پکڑی جانے والی منشیات کی ایک رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ اسلام آباد میں پانچ برسوں میں شراب کی ایک لاکھ 38ہزار 141 بوتلیں پکڑی گئی ہیں جبکہ192 کلو گرام ہیروئن‘ 78لاکھ 65ہزار 154کلو گرام چرس بھی پکڑی گئی ہے اور یہ بات تو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ شراب ہو یا دیگرمنشیات ‘ یہ نہ تو تمام کی تمام پکڑی جاتی ہیں اور نہ ہی پولیس پانچ دس فیصد سے زیادہ کی ”برآمدگی“ ڈالتی ہے۔
یہ پکڑ دھکڑ بھی پولیس اپنی کارکردگی کو دکھانے اور اپنے فعال ہونے کے تحریری ثبوت کیلئے کرتی ہے۔ اسلام آباد کی طرح ملک کے دوسرے شہروں‘ کراچی‘ لاہور ‘ ملتان‘ گوجرانوالہ‘ سیالکوٹ‘ حیدرآباد ‘ راولپنڈی اور فیصل آباد میں منشیات کے دھندے بھی ہورہے ہیں اور ان کا استعمال بھی ہورہاہے لیکن پولیس کی طرف سے ان دھندوں میں مبتلا افرادکیخلاف دس فیصد سے زیادہ کبھی کارروائی نہیں ہوتی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ پولیس چوکیوں اور تھانوں کے اہلکاروں ان دھندوں میں مبتلا افراد کے ذریعے اپنی جیبیں گرم کرانے اورمال بنانے کو اپنے”فرائض منصبی“ کاحصہ سمجھتے ہیں اور ہر کالادھند ا کرنے والے اور منشیات کے دھندے میں ملوث ہرشخص سے ان کا ”مک مکاؤ“ ہوتاہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-03-12

(2) ووٹ وصول ہوئے