بند کریں
جمعہ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
23مارچ 1940 ء ”ایک تاریخ ساز دن“
قوموں کی تاریخ اتنے مختصر عرصے میں بہت کم ملتی ہے قردار پاکستان کے اجلاس میں پورے ہندوستان کے نمائندوں نے شرکت کر کے اس با ت کا ثبوت دیا کہ ہندوں اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں
مصنف : رحمت اللہ شباب
67 سال قبل بادشاہی مسجد لاہور کے سائے میں جب پاکستا ن کی بنیاد رکھی گئی تو لاہور لہو رنگ تھا ، سو گوار تھا، خاکسار وں کی شہادت نے ماحول کو سیاہ حاشیئے کے دائرے میں مقید کر دیا تھا۔ کئی رہنماوٴں کی رائے تھی کہ مسلم لیگ کی کانفرنس ملتوی کر دی جائے لیکن قائد اعظم محمد علی جناح کا فیصلہ تھا کہ قوموں کی زندگی میں ایسے لمحات آتے رہتے ہیں اور ان لمحات میں اپنے عقل و ہوش کو قائم رکھتے ہوئے اہم فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔
اس لئے اس کانفرنس کا اس وقت متعقد ہونا ضروری ہے۔ اگر ہم نے یہ کانفرنس ملتوی کر دی تو مسلمانوں کے مخالف عناصر کے عزائم تقویت حاصل کر لیں گے۔ چنانچہ یہ کانفرنس تو مقررہ پروگرام کے مطابق منعقد ہوئی اور ایسے تاریخ ساز فیصلے کئے جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو منزل مراد تک پہچانے میں اہم کردار ادا کیا۔قرار داد لاہور کی منظوری کے بعد سات سال کے مختصر عرصے میں پاکستان قائم ہو گیا۔
قوموں کی تاریخ میں ایسی مثالیں بہت کم ملتی ہیں کہ انہوں نے اتنے مختصر عرصے میں اپنے فیصلوں کو عملی جامہ پہنایا ہو۔ اکثر قوموں نے خوابوں کی تعبیر حاصل کرنے کے لیے صدیوں کا سفر طے کیا۔ اور پھر بھی سنگ منزل ان کی نگاہوں سے اوجھل رہتا ہے۔ لیکن قائد اعظم کی قیادت میں ایک نیا ملک قائم ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی قوموں کی برادری میں ایک نئی قوم کا اضافہ ہو گیا۔

23مارچ 1940ء کی تاریخ اس لیے اہم ہے کہ اس دن حصول پاکستان کی لئے بر صغیر کے دس کروڑ مسلمانوں کی خواہش کا اظہار کیا گیا اور اس سے اگلے دن یعنی 24مارچ1940ء کو اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر جدو جہد کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ لاہور کے اس اجلاس میں پورے ہندوستان کے مسلمانوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔بنگال ، آسام ، ہادر، یوپی، سی پی، مدراس ، بمبئی ، سندھ، بلوچستان، پنجاب، سرحد کشمیر مسلمانوں کے رہنماوٴں نے اس کا نفرس میں اپنے اپنے کا اظہار کیا اور قرار دار لاہور کو مسلمانوں کے دل کی آواز قرار دیا۔
اس اجلاس کی اہمیت کا اندازہ اس طرح لگایا جا سکتاہے۔ کہ اس کے لئے کئی ماہ سے تیاریاں کی جارہی تھیں۔ اسے کا میاب بنانے کے لئے قائد اعظم تازہ ترین حالات سے باخبر رہتے تھے۔ اور مقامی منتظمین کو ہدایات بھی دیا کرتے تھے ۔ کانفرس کے لئے ایک استقبالیہ کمیٹی بنائی گئی تھے س نے متعدد سب کمیٹیاں بنائی تھیں جن میں سے ایک سب کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر مسعود قریشی تھے۔
ان کی کمیٹی کی ذمہ داری یہ تھی کہ بیرون لاہور سے آنے والوں مہمانوں کی آمدورفت کے لئے نموٹر کاریں ان کی تحویل میں تھیں۔ غالباً موٹر کاروں کی تعداد 38 کے لگ بھے تھی اور اس وقت لاہور میں مسلمانوں کے پاس اتنی ہی کاریں تھیں۔تمام ہندوستان کے مسلمانوں کی بگاہیں اجلاس لاہور پر لگی ہوتھیں۔1857 میں انگریزوں کی ریشہ دوانیوں سازشوں اور ہندوستان میں مسلمانوں کو اپنی لپیٹ الٹنے کی کوششوں کے خلاف جہاد ناکام ہونے کے بعد ایک طویل سیاہ رات نے مسلمانوں کو اپنی لپیتٹ میں لے لیا تھا۔
اس دوران آزادی کی متعدد تحریکیں چل چکی تھیں۔ گذشتہ صدی کیآخر مے حالی اور اقبال نے مسلمانوں کو نا امید ی کی دلدل سے نکالنے میں بھر پور کردار ادا کیا ۔ سرسید احمد خان اور سید جمال الدین افغانی نے مسلمانوں کی جدوجہد کو نئی سمت دی۔ اس صدی کے دوران ہجرت اور پھر خلافت کی تحریکیں اگر چہ ناکام ہوئیں۔ لیکن ان کی ناکامی نے مسلمانوں کو اپنی علیحدہ قومیت کے شعر کو مزید تقویت دی اور بالاآخر 23 مارچ 1940ء کی تاریخ ساز تاریخ آپنچی مسلمانوں بر صغیر کی نگاہیں اس روز لاہور پر مرکوز تھیں۔
اجلاس لاور میں میاں بشیر احمد نے اپنی شہرہ آفاق نظم" ملت ا پاسبان ہے۔ محمد علی جناح" پہلی بارپیش کی۔ میاں صاحب نے نہ جانے کس عالم میں اور قبولیت کی کس گھڑی میں یہ نظم لکھی تھی کہ اس کے ایک ایک لفظ نے عملی شکل اختیار کرلی اور میاں صاحب نے اس نطم کے حوالے سے حیات جاو داں حاصل کرلی۔اس اجلاس مے شیر بنگال ابو القاسم نے قرار دار لاہور کی اور قائد اعظم نے حاضرین اور ان کی وساطت سے پورے برصغیر کے مسلمانوں کو اپنے خطاب سے نوازا ۔
قائد عظم کی یہ تقریر بلاشبہ فضاحت و بلاعت کا شاہکار تھی۔ انہوں نے اس تقریر میں برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ کردار اور حال و مستقبل کے بارے میں جو کچھ کہا وہ بھی تاریخی حیثیت اختیار کر گیا۔ آج بھی یہ تقریر روز اول کی طرح تر وتازہ ہے اس کا ایک ایک فقرہ قائد کی اعلی سیاسی بصیرت کی آئینہ دار ہے۔ اس اجلاس کے بارے میں قائیداعظم کے ایک دیر ینہ رفیق کا رسید حسین امام کے تاثرات ملاحظہ فرمائیں۔
"قائداعظم اگر چہ قائداعظم کے عوامی خطاب سے معروف نہیں ہوئے تھے لیکن لاہور کے ا جلاس میں ان کے تقریر اور اس سے قبل لاہور میں خاکساروں کے خواتین غسل کے باوجود اجلاس منسوخ نہ کرنے کا فیصلہ کر کے انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہوہ نازک سے نزاک وقت میں بھی عقل و ہوش کا دامن نہیں چھوڑتے اور صحیح فیصلہ کرنے کی قوت رکھتے ہیں۔ قائد کی اس ترمیم اور فیصلے کی صحیح داد تو علامہ اقبال ہی دے سکتے ہیں۔
کہتے تھے کہ انہوں نے اپنی مومنانہ بصیرت کی بنا پر قائد سے کہا تھا کہ اس نازک وقت میں وہی (یعنی قائداعظم)نر صغیر کے مسلمانوں کی صحیح رہنمائی کرسکتے ہیں۔قائد اعظم کی اس تقریر اور لاہور کے اجلاس نے مسلمانوں کی قسمت کا ستارہ چمکا دیا۔ ہوا کا رخ تبدیل ہوگیا۔ باد مخالف نے باد موافق کی صروت ا ختیار کرلی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے مسلمانوں کی کشتی ساحل مراد سے آلگی۔
23 مارچ 1940کو برصغیر کے مسلمانوں کے لئے اس صدی کی پہلی خوشخبری صبح کی روشنی ہن کر نمودار ہوئی اور اللہ کے فضل و کرام اور قائد اعظم محمد علی جناح کی بصیرت افروز قیامت کے باعث فتح مبین حاصل ہوئی"۔
اجلاس لاہور کے بارے میں قائد اعظم ہی کے ایک رفیق کا ر اور آسام میں مسلم لیگ کے رہنما اور وزیر اعظم سر سعداللہ نے یوں اپنے تا ثرات کا اظہار کیا۔

"جناح صاحب کی قیادت کی صاحیت اور کردار و گفتا کی عظمت کے ہم سب قائل تھے لیکن 23 مارچ 1940ء کے اجلاس اور اس اجلاس مین ان کی تقریر سے ہمیں بر صغیر کے مسلمانوں کے سیاسی شعور اورملی جذبے کے بارے میں بھی پختہ یقین ہوگیا۔ کہ انہوں نے اپنی قیادت کے لئے صحیح شخصیت کو منتخب کیاہے"۔ہمیں 23مارچ 1940ء کو ہئی یقین ہوگیا۔ کہ انشاء اللہ ہم ضرور پاکستان حاصل کرنے میں کا میاب ہوجائیں گے کیونکہ یہ قائد ہے جو ہر گز ناکام نہیں ہوگا۔

23مار چ 14اگست کے درمیان اگر چہ چھ سال گیارہ ماہ کا وقفہ حائل ہے اور قوموں کی زندگی میں اس مدت کو اہمیت حاصل نہیں لیکن بر صغیر کے مسلمانوں نے اس مختصر مدت وہ کا ر نامہ کر دکھایا جس کے لئے قومیں صدیوں انتظار کرتی ہیں اور ان کی انتظار کی سختی ختم نہیں ہوتی۔
تاریخ اشاعت: 2014-03-23

(6) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     رحمت اللہ شباب

رحمت اللہ شباب پشاور میں اُردو پوائنٹ کے نمائندہ خصوصی ہیں۔

رحمت اللہ شباب کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان