بند کریں
ہفتہ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
21ویں آئینی ترمیم
فوج کا اصل امتحان شروع ہو گیا۔۔۔۔ پاکستان کی کشیدہ صورتحال کے حوالے سے بڑا اعتراض یہ بھی اُٹھایا جاتا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردوں کو گرفتار کرتے ہیں لیکن وہ عدالتوں سے رہائی پاجاتے ہیں
مصنف : سید بدر سعید
سید بدر سعید :
فوجی و سیاسی قیادت کی جدوجہد سے آرمی ایکٹ میں ترمیم کے ساتھ ساتھ 21 ویں آئینی ترمیم بھی دونوں ایوانوں سے بھاری اکثریت سے منظور ہو چکی ہے ۔ اس باریوں محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے ملکی حالات بد ل رہے ہیں اور سیاسی نظریات اپنے ماخذ سے ہٹ گئے ہیں۔ یہ بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے گزشتہ دنوں منظور ہونے والے ترمیمی بل اور فوجی عدالتوں کی مخالفت میں ماضی میں فوج کی بی ٹیم سمجھی جانے والی جماعت اسلامی اور جمعیت علما اسلام (ف) پیش پیش رہے جبکہ فوجی امریت کا شکا ر ہونے والی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے فوجی عدالتوں کیلئے بل منظور کروانے میں اہم کردار ادا کیا ۔
وزیراعظم نواز شریف بذات خود بل کی منظوری کے وقت قومی اسمبلی اور سینٹ میں موجود رہے۔
پاکستان کی کشیدہ صورتحال کے حوالے سے بڑا اعتراض یہ بھی اُٹھایا جاتا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردوں کو گرفتار کرتے ہیں لیکن وہ عدالتوں سے رہائی پاجاتے ہیں۔ ایسے متعدد دہشتگردوں کی مثالیں بھی ریکارڈ پر ہیں۔ جو شدت پسند تنظیموں کے اہم کمانڈرز ہونے کے باوجود کافی شواہد کی بینا پر رہا ہو جاتے تھے ۔
اس بارے میں سینئر قانون دانوں کا کہنا ہے کہ عام لوگوں کو عدالتی طریقہ کار کا علم نہیں ہوتا اسلئے ایسے پراپیگنڈے ہوتے رہتے ہیں کہ عدلیہ شدت پسندوں کو رہا کر رہی ہے ۔ حقیقت یہ کہ عدالت جذبات کی بجائے شواہد کی بنیاد پر فیصلہ دیتی ہے۔ اسی طرح انسداد دہشتگردی کی عدالتوں اور سول عدالتوں کے بھی کام کرنے کا طریقہ کار تھوڑا مختلف ہے۔ انسداد ہشتگردی کی عدالتوں کا قیام خاص مقاصد کیلئے ہوتا ہے اور وہ دہشتگردی سے متعلقہ مقدمات سنتی ہیں۔
اسلئے وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پولیس اہلکاروں کی گواہی تسلیم کر لیتی ہیں۔ ان عدالتوں میں آتے ہیں تو صورتحال عموماََ بدل جاتی ہے ۔سول عدالتیں عموماََ پولیس کی گواہی کا اتنا مضبوط نہیں مانتیں۔ اس سلسلے میں ان کا موقف ہوتا ہے کہ پولیس تو خود ایک فریق ہے لہٰذا گواہ غیر جانب دار ہو۔ یہ عدالتی طریقہ کار ہے جس کا مقصد صرف یہ ہے کہ کسی بیگناہ کو سزا نہ ملے او معاملات مکمل شفاف انداز میںآ گے بڑھیں۔
چونکہ عام شہری عموماََ خوف اور عدم تحفظ کے احساس کی وجہ سے گواہی نہیں دیتا اور بعض اوقات گواہ دہشتگردوں کے ساتھیوں کے دباو کی وجہ سے منحرف بھی ہو جاتا ہے ۔ لہٰذا اس کا فائدہ دہشتگردوں کو ہو جاتا ہے۔
دہشتگردی کے حواے سے جہاں شدت پسندوں کی رہائی پر عوام میں اضطراب پھیل رہا تھا وہیں دہشتگردی کی کارروائیوں میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔
متعدد شدت پسندوں کو سزائیں ملنے کے باوجود اُن پر عملد رآمد نہیں ہو رہا تھا اور کئی مقدمات عدالتوں میں لٹکے ہوئے تھے۔ اس صورتحال میں ایسی عدالتوں کا قیام ناگزیر ہو چکا تھا جو صرف دہشتگردی سے متعلقہ جرائم کی تیز تر سماعت کریں اور مکمل شفافیت کے ساتھ فوری فیصلے سنائیں۔ فوجی عدالتوں کے قیام کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف تیزی سے ایکشن لیا جائے اور جلدا ز جلد وطن عزیز میں امن قائم کیا جائے۔
اس سلسلے میں گزشتہ دنوں باقاعدہ بل پارلیمنٹ ار سینٹ سے منظور کروایا گیا ہے۔
پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں یعنی قومی اسمبلی اور سینٹ نے دو تہائی اکثریت سے 21ویں آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ1952 میں ترمیم کی متفقہ منظور دی ہے۔ اس کی مدت دو برس رکھی گئی ہے۔آئین میں کی جانے والی اس ترمیم کے بعد اب دہشتگردوں کے خلاف مقدمات چلانے کیلئے فوجی عدالتیں قائم کی جائیں گی۔
وفاقی حکومت کو اختیار ہوگا کہ وہ کسی بھی فرد یا گروہ کے خلاف مقدمہ ان خصوصی فوجی عدالتوں میں بھیج سکے ۔اسی طرح پاک فوج کو بھی یہ اختیار مل گیا ہے کہ وہ دہشتگردی میں ملوث ہر طرح کے افراد ،عناصر یا گروہ کے خلاف بھر پور کارروائی کر سکے گی۔
یہ بل جب قومی اسمبلی میں پیش کیاگیا تو بل کی منظوری کیلئے 228 اراکین کی حمایت درکار تھی۔ ایوان میں 190 اراکین کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے جبکہ باقی تعداد کیلئے پیپلز پارٹی ، ایم کیو ایم، اور دیگر جماعتوں نے حکومت کا ساتھ دیا جس پر 247 حاضر اراکین نے اس بل کے حق میں ووٹ دے کر اسے منظور کر لیا ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کی مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں آیا باقی اراکین بل کی منظوری کے وقت ایوان میں موجود نہیں تھے۔ تحریک انصاف کے اراکین دھاندلی کی وجہ سے بائیکاٹ کی وجہ سے اسمبلی آہی نہیں رہے۔ اسی طرح شیخ رشید بھی غیر حاضر تھے دوسری جانب جماعت اسلامی اور حکومتی اتحادی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) نے تحفظات کے باعث کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔
قومی اسمبلی کے بعد یہ بل سینٹ میں پیش ہو اتو وہاں بھی اس کی مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں آیا اور 104 رُکنی سینٹ کے 77 حاضراراکین نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔
جمعیت علماء اسلام اور جماعت اسلامی سمیت مذہبی حلقوں نے اس بل پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے ، زیادہ تر تحفظات کا اظہار ترمیم میں کی گئی اُس وضاحت کے حوالے سے ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ فرقہ سے مراد مذہب کا کوئی فرقہ ہے اور اس میں قانون کے تحت منضبط کوئی سیاسی پارٹی شامل نہیں ہو گی۔
مذہبی حلقوں کی جانب سے ڈھکے چھپے الفاظ میں کہا جا رہاہے کہ اس وضاحت سے لگتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز اور عموماََ کراچی کے ٹارگٹ کلرز کے ساتھ تو نرمی کی جائے گی اور مذہبی جماعتوں کے گرد گھیرا تنگ ہو گا۔
یہ بات واضح ہے کہ اس ترمیم کے بعد فوجی عدالتوں میں اُنہی کیخلاف مقدمات چلیں گے جو دہشتگردی میں ملوث ہوں گے یا کسی طرح دہشتگردوں کی مدد کریں گے۔
بنیادی طور پر یہ بل مذہبی جماعتوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ مذہب کے نام پر دہشتگردی کرنے والوں کے خلاف ہے جس کی زد میں فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینے والے بھی آجائیں گے۔ دوسری جانب وضاحت کے ذریعے سیاسی جماعتوں کے تحفظات ہی دور کرنے کی کوشش کی گئی تھی تاکہ یہ واضح ہو کہ اس بل کے ذریعے ”سیاسی انتقام“ نہیں لیا جائے گا اور 2002 کے پولیٹیکل آرڈرز کے تحت رجسٹرڈ جماعتیں اس ترمیم کے زمرے میں نہیں آئیں گی۔

سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس آئین ترمیم پر ملاجلا ردعمل سامنے آر ہا ہے لیکن یہ بھی درست ہے کہ ملکی حالات اب فوری اور ہنگامی اقدامات کا تقاضہ کر رہے ہیں۔ ہم پولیس اور عدالتی نظام کی صورتحال دیکھ چکے ہیں۔ عدلیہ میں پہلے ہی متعدد مقدامات سالہا سال سے لٹکے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں دہشتگردی کے خلاف خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے ۔ دو سال کیلئے فوجی عدالتیں اور آرمی ایکٹ کو آزما لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
البتہ اب آرمی پرمزید حساس ذمہ داری عائد ہو چکی ہے ۔ فوج کو اپنی پیشہ وارنہ ساکھ اور معیار برقرار رکھنے کیلئے اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ فوجی عدالتیں کسی بیگناہ کو سزا نہ دیں اور کوئی شخص ذاتی انتقام کیلئے کسی مظلوم کو نہ پھنسا سکے۔ اس آئینی ترمیم میں یہ بھی واضح ہے کہ وفاقی حکومت کو اختیار ہو گا وہ کسی بھی فرد یا گروہ کے خلاف مقدمہ خصوصی فوجی عدالتوں کو منتقل کر سکے۔ اسی طرح دو سال بعد یہ ترمیم ازخود ختم ہو جائے گی۔ اب فوجی قیادت کا اصل امتحان شروع ہوا چاہتا ہے کیونکہ اُسے دو سال میں نہ صرف وطن عزیز سے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ کرنا ہوگا بلکہ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے بیگناہوں کو سزا سے بھی بچانا ہوگا ۔
تاریخ اشاعت: 2015-01-17

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-