بند کریں
جمعرات فروری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
2014ء، پاک افغان سیاست میں تبدیلی کا سال ہے
2014ء کے آخر تک امریکہ اپنی فوج کا بڑا حصہ افغانستان سے نکالنا چاہتاہے ۔ دوسری جانب صورتحال ایسی ہے کہ انخلاء کے ساتھ ہی افغانستان کے حالات بری طرح متاثر ہونے کا اندیشہ ہے
مصنف : سید بدر سعید

2014ء کے آخر تک امریکہ اپنی فوج کا بڑا حصہ افغانستان سے نکالنا چاہتاہے ۔ دوسری جانب صورتحال ایسی ہے کہ انخلاء کے ساتھ ہی افغانستان کے حالات بری طرح متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ اگر ہمارے پالیسی ساز بروقت اس جانب متوجہ نہ ہوئے تو پاکستان بھی بے شمار سنگین مسائل کا شکار ہوسکتاہے۔
اسی لئے پاک افغان صورتحال نے دنیا بھر کو اپنی جانب متوجہ کررکھا ہے۔

اس میں دورائے نہیں ہے کہ افغانستان کی سرکاری مشینری ہے ۔ افغان حکومت کو نیٹو فورس کی صورت میں ایک بڑا دفاعی کورمل رہا ہے۔ نیٹو فورس نہ صرف یہ کہ افگانستان میں موجود سرکاری اہلکاروں کو تربیت فراہم کرتی ہے بلکہ طالبان کے خلاف لڑائی میں افغان حکومت کا پورا ساتھ بھی دیتی ہے۔ افغانستان میں طالبان کے خلاف استعمال ہونے ولا جدید اسلحہ بھی دراصل نیٹو فورس کے لئے آتا ہے ۔
اگر یہ اسلحہ اور فورس نہ ہوتی تو شاید اتنے طویل عرصہ تک کابل میں موجودہ نظام نہ چل پاتا۔
افغان امور پر گہر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ 2014ء کے آخر میں امریکی انخلاء کے بعد افغان حکومت کو دشوار ترین مراحل کا سامنا کرنا پڑسکتاہے۔ افغانستان میں صدارتی انتخابات بھی ہونے جارہے ہیں لیکن سوال پھر ہی ہے کہ عالمی طاقتوں کی براہ راست مدد نہ ہوئی تو کیا نئی حکومت اپنا وجود قائم رکھ سکے گی۔
افغانستان کے موجودہ نظام کو قائم رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ وہاں کی تمام جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کو قومی دھارے میں شامل کریا جائے اس سلسلے میں اگر ” شریکِ اقتدار فامولا“ طے پاگیا تو حالت بہتر ہوسکتے ہیں لیکن سردست ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔ افغانستان کے موجودہ صدر حامد کرزئی بھی زمینی حقائق بھانپ چکے ہیں اس لئے اب وہ خود کو امریکہ مخالف کے طور پر متعارف کروا رہے ہیں۔
اس سلسل میں انہوں نے کچھ عرصہ قبل بھی ایسے بیانات داغے جو اس سے قبل ان کے حوالے سے سوچے بھی نہیں جاسکتے تھے۔ انہوں نے خود کو افغان عوام کا سچا ہمدرد ظاہر کیا اور عوام پر امریکی ڈرون کی بھی مخالفت کی۔ اسی طرح ایک موقع پر انہوں نے امریکی قیادت سے ملاقات سے بھی انکا رکردیا۔
اس ساری صورتحال کی وجہ یہ بھی ہے کہ طویل جنگ کے باوجود امریکہ نہ تو افگان طالبان کے امیر کو ہلاک یا گرفتار کرسکا اور نہ ہی افغانستان سے ان کا اثر و رسوخ ختم کرسکا ۔
ذرائع کے مطابق اب بھی افغانستان کے متعدد دیہات پر عملاََ طالبان کی حکومت ہے۔ امریکہ انخلاء کے بعد طالبان دوبارہ طاقت پکڑ سکتے ہیں۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ امریکہ انخلاء سے پہلے طالبان کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے۔ اس سلسلے میں افغان حکومت طالبان کو انتخابی عمل میں شامل ہونے کی دعوت دے چکی ہے لیکن طالبان کی صفوں میں اسکی شدید مخالفت پائی جاتی ہے۔
صورتحال انتہائی گھمبیر ہوچکی ہے۔ اگر معاملات جلد از جلد طے نہ پائے تو افغانستان ایک مرتبہ پھر انار کی کا شکار ہوسکتاہے۔
2014ء کے آخر میں امریکی انخلاء کے بعد مقامی دھڑے بندی عروج پر چلی جائے گی۔ اس ھوالے سے بظاہر وہی صورتحال نظر آرہی ہے جو روس کی افغانستان سے انخلاء کے بعد پیدا ہوئی تھی۔ افغانستان میں اقتدار کیلئے طاقت کا استعمال ہوا تو پورا ملک خانہ جنگی کا شکار ہوجائے گا۔
ایسی صورت میں پاکستان بھی اس سے لاتعلق نہیں رہ سکے گا۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان طویل سرحد یعنی ڈیورنڈ لائن سرحد سے زیادہ راہداری کا کام کرے گی تو بڑی تعداد میں ایک مرتبہ پھر افغان مہاجرین پاکستان کا رخ کریں گے۔ پاکستان پہلے ہی افغان مہاجرین کی بڑی تعداد کو پناہ دئیے ہوئے ہے۔ یہ لوگ یہاں جائیدادیں خرید چکے ہیں اور کاروبار کررہے ہیں۔
اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ ان کی افغانستان واپسی سے امکانات انتہائی کم ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے جڑواں شہروں میں زمین کا 60فیصد کاروبار اب افغانیوں کے ہاتھ میں ہے۔ ان کی اکثریت پاکستانی شناختی کارڈ بھی بنوا چکی ہے پاکستان مزید اتنے ہی مہاجرین کا محتمل نہیں ہوسکتا۔
2014ء افغانستان اور پاکستان میں تبدیلی کا سال ہے۔ خطے میں ہونے والی بڑی تبدیلیاں براہ راست عوام کو متاثر کرسکتی ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس حوالے سے پہلے سے ٹھوس حکمت عملی تیار کی جائے اور حالات کے مطابق اپنا لائحہ عمل تیا رکیا جائے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کئے گئے تو پاکستان مزید مشکلات میں گھر سکتا ہے جو کہ پالیسی سازوں کی ناکامی کو ظاہر کرے گا۔

تاریخ اشاعت: 2014-01-08

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-