بند کریں
اتوار جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
2014ء نواز شریف ” طاقتور چیف ایگزیکٹو“ بن سکیں گے؟
اگرچہ حکومت کا ہنی مون پیریڈ ختم ہوگیا ہے لیکن اپوزیشن بالخصوص تحریک انصاف نے بڑی بے صبری کا مظاہری کیا ہے۔ وہ عوام کو سڑکوں پر نکلنے کی کال دے کر ایکسپوز ہوگئی ہے

نواز رضا:
2013ء اپنے پیچھے تلخ و شیریں یادیں چھوڑ گیا ہے۔ اور 2014ء کا سورج نئی امیدوں کیساتھ طلوع ہوا ہے۔ 2013ء پاکستان میں تبدیلیوں کا سال تھا۔ عام انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن) بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی اور نواز شریف تیسری بار وزیر اعظم منتخب ہوگئے۔ اگر چہ تحریک انصاف نے انتخابات میں 76لاکھ ووٹ حاصل کئے لیکن وہ پیپلز پارٹی سے زائد نشستیں حاصل نہ کرسکی۔

اپوزیشن کی کسی جماعت نے تحریک انساف کو اپوزیشن لیڈر کا منصب حاصل نہ کرنے دیا اور خورشید شاہ اپوزیشن لیڈر بن گئے۔ اس پر طرفہ تماشہ یہ کہ سید خورشید شاہ میثاق جمہوریت کے تحت قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چئیرمین بھی منتخب ہوگئے۔ اس لحاظ سے تحریک انصاف گھاٹے میں رہی ہے۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان شروع دن سے فاصلے پائے جاتے ہیں تاہم حکومت کی طرف سے ”ہاڈ لائن“ اختیار کرنے پر اپوزیشن کی یہ دونوں جماعتیں کبھی کبھی ایک ” صفحہ“ پر بھی نظر آتی ہیں۔
قومی اسمبلی میں ان دونوں جماعتوں نے مل کر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے ریمارکس کیخلاف کارروائی کا بائیکاٹ کررکھا ہے۔ اگرچہ حکومت کا ہنی مون پیریڈ ختم ہوگیا ہے لیکن اپوزیشن بالخصوص تحریک انصاف نے بڑی بے صبری کا مظاہری کیا ہے۔ وہ عوام کو سڑکوں پر نکلنے کی کال دے کر ایکسپوز ہوگئی ہے۔ اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ عوام حکومت کے ” سخت فیصلوں“ کی وجہ سے ” نالاں “ ہیں لیکن ان کی موجودہ حکومت سے امیدیں ابھی نہیں ٹوٹیں اور وہ اسے کچھ کرنے کا موقع دینا چاہتے ہیں ۔
تحریک انصاف نے مہنگائی کیخلاف لاہور کے مال روڈ پر ریلی تو نکالی لیکن یہ شو متاثر کن نہیں تھا۔ 2013ء کے اواخر میں پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن کسی حد تک حکومت کیلئے پریشان کن صورتحال پیدا کرسکی ہے لیکن پارلیمنٹ سے باہر حکومت پر دباؤ ڈالنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ شاید تحریک انصاف کو اقتدار میں آنے کی جلدی ہے اور وہ 2014ء کو مڈ ٹرم الیکشن کا سال قرار دے رہی ہے لیکن پیپلز پارٹی نے اس کی مخالفت کر کے تحریک انصاف کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔

جب سے موجودہ حکومت برسر اقتدار آئی ہے، وہ توانائی کے بحران کے خاتمے کے یک نکاتی ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔ حکومت لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے میں جزوی طور پر کامیاب ہوئی ہے لیکن سبسڈی ختم کرنے پر عوام نالاں ہیں۔ اسی طرح گیس کی بھی بدستور قلت ہے جس نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔ مہنگائی میں بھی بے پنا اضافہ ہوا ہے۔ جب میاں نواز شریف نے اقتدار سنبھالا تو ڈالر 98روپے کا تھا ۔
زرمبادلہ کے ذخائر میں خطرناک حد تک کمی روپے کی قدر میں کمی کا باعث بنی اور زرمبادلہ کے ذخائر 4ڈالر ارب رہ گئے تو ڈالر کی قیمت 110روپے تک جاپہنچی لیکن آی ایم ایف کے سامنے کشکول پھیلانے اور حکومتی اقدامات سے زرمبادلہ کے ذخائر قدرے بہتر ہوگئے ہیں۔ 2013ء حکومتی ترغیبات سے ٹیکسوں کی وصولی میں بھی بہتری آئی ہے لیکن وفاقی وزیر خزانہ نے بجٹ پیش کرتے وقت جن اقدامات کا اعلان کیا تھا اس پر وہ عملدرآمد نہیں کراسکے۔
جنرل کیانی کی ریٹارئرمنٹ کے بعد جنرل راحیل شریف کو آرمی چیف اور ننرل راشد محمود کو چئیر مین جوائنٹ چیف آف سٹاف بنا دی گیا ہے۔ 12دسمبر 2013ء کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بھی ریٹائر ہوگئے اور انکی جگہ چیف جسٹس تصدق جیلانی نے لی ہے۔ افتخار چوہدری کی ریٹائرمنٹ کے بعد عدلیہ میں ایک سنہری باب کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ 2013ء کے اواخر تک وزیر اعظم نواز شریف پھونک پھونک کر قدر رکھتے رہے ہیں۔
وہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے ایشو پر خاصے پریشان تھے، تاہم 2014ء میں میاں نواز شریف ایک ” طاقتور چیف ایگزیکٹو“ بن کر ابھریں گے ۔ اب جنوری میں 30سے زائد اداروں کے سربراہوں کی تقرری ہوگی۔ وزیر اعظم آسانی سے اہم سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں اہل افراد کی تقرری کر سکیں گے۔ قانون سازی کے میدان میں حکومت کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے اور پچھلے سات ماہ میں مالیاتی بل کے سوا کوئی قانون سازی نہیں ہوئی۔
دونوں ایوانوں میں پالیمنٹیرینز کی حاضری مایوس کن رہی ہے۔ حکومتی اتحاد کو قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کی حمایت حاصل ہونے کے باوجود ارکان کی عدم دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ حکومت کو کئی بار کورم ٹوٹنے پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ وزیر اعظم بھی پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت نہیں کر رہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ان کیلئے پارلیمنٹ میں کوئی کشش نہیں جس پر اپوزیشن نے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر وزیراعظم پارلیمنٹ میں نہ آئے تو ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کر دے گی۔
وزیر اعظم قومی اسمبلی کے سات سیشنز میں صرف تین چار بارہی آئے جبکہ سات ماہ گزرنے کے باوجود انہوں نے سینیٹ کا رخ نہیں کیا۔ سینیٹ میں اپوزیشن نے چوہدری نثار علی خان کے طرز عمل کیخلاف ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کئے رکھا۔ خدا خدا کر کے اپوزیشن ایوان میں واپس آئی تو اپوزیشن نے چوہدری نثار علی خان کو ایک بار پھر ٹارگٹ بنا کر ایوان کا بائیکاٹ کردیا۔
ساتویں سیشن کے اختتام تک اپوزیشن نے بائیکاٹ ختم نہیں کیا اور وہ مصر ہے کہ جب تک چوہدری نثار ” تماشہ“ کے الفاظ واپس نہیں لیتے بائیکاٹ ختم نہیں ہوگا۔ اس لئے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ پارلیمنٹ میں حکومت اور اپوزیشن کے سدمیان تعلقات کار اچھے نہیں ہیں، تاہم پیپلز پارٹی کسی ایسی تحریک کا حصہ نہیں بننا چاہتی جو جمہوری نظام کو عدم استحکام کا شکار کردے۔
یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی تمام تر اختلافات کے باوجود ” نواز شریف قدم بڑھاوٴہم تمہارے ساتھ ہیں “ کا نعرہ لگا رہی ہے۔ 2014ء کے اوائل میں وزیر اعظم محمد نواز شریف اپنی کابینہ میں توسیع کریں گے۔ بقیہ محکموں کے پارلیمانی سیکرٹریوں کی تقرری بھی عمل میں لائی جائے گی اور قومی اسمبلی کی اجلاس قائم کے چئیر مینوں کا انتخاب ہوگا۔ نیا سال حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا سال بھی ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کسی حد تک ” گڈ گورننس“ قائم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے ؟ اس سوال کا جواب دینے کیلئے حکومت کے پاس 2014ء کا پورا سال موجود ہے۔

تاریخ اشاعت: 2014-01-11

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان