بند کریں
جمعہ جنوری

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
دو بڑے فیصلے
تارکین وطن کا داخلہ بند، بیرونی سرمایہ کاروں کو خوش آمدید رپی یونین کے اکثر رُکن ممالک ایسے تارکین وطن پاکستانیوں پر دہشت گردی کا الزام لگا کر واپس بھیج دیتے ہیں۔ عام طور پر غیر قانونی طور پر یورپ جانے والے وہاں روزگار کی تلاش میں جاتے ہیں
مصنف : سید بدر سعید
گزشتہ دنوں حکومتِ پاکستان کی طرف سے ایک اہم فیصلہ کیا گیا۔ پاکستان عالمی سطح پر دہشت گردی کا ہر وہ دھبہ مٹا نا چاہتا ہے۔ جو اس پر لگانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی پرامن شہری ہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ دنیا انہی افراد میں پاکستان کو دیکھتی ہے جو بیرون ملک موجود ہیں اب وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے بتا یا ہے کہ غیر قانونی طور پر یورپ کا رخ کرنے والے پاکستانیوں کو وطن واپس بھیجنے سے متعلق یوری یونین کے ساتھ پاکستان نے اپنے معاہدے کو معطل کر دیا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ یورپی یونین کے اکثر رُکن ممالک ایسے تارکین وطن پاکستانیوں پر دہشت گردی کا الزام لگا کر واپس بھیج دیتے ہیں۔ عام طور پر غیر قانونی طور پر یورپ جانے والے وہاں روزگار کی تلاش میں جاتے ہیں۔ لیکن گرفتار ہونے پر انکی یہ وضاحت تسلیم نہیں کی جاتی۔ایسے افراد کے بارے میں ریورٹ بنالی جاتی ہے کہ وہ دہشت گردی کے سلسلے میں آئے تھے ۔
اس صورتحال کی وجہ سے پاکستان کا امیج مزیدخراب ہو جاتا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس 90 ہزار غیر قانونی تارکین وطن کو واپس بھجوایا گیا تھا۔ حکومت پاکستان کو اس سلسلے میں بھی تشویش لاحق ہے کہ بعض ممالک اس معاہدے کا غلط استعمال کر رہے ہیں ۔ ان ممالک کے نزدیک داڑھی رکھنا یا حجاب لینا بھی دہشت گردی میں ملوث ہونے کے زمرے میں آتا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے واضح طور پرکہا ہے کہ ہمارے لوگوں پر دہشت گردی کا ٹھپہ لگا کر واپس بھیج دیا جاتا ہے۔
جو قابل قبول نہیں ۔اب اس سلسلے میں حکومت پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ مستقبل میں جب تک حکومتی ادارے ان پاکستانیوں کے بارے میں تحقیق نہ کر لیں اس وقت تک ان پاکستانیوں کو لانے والے یورپی ممالک جہاز کو پاک سرزمین پر اُترنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزیر داخلہ کے اس اعلان کے بعد کہا جا رہا ہے کہ اب اندرون ملک موجود انسانی اسمگروں کے خلاف بھی کریک ڈاوٴن شروع ہونے لگا ہے کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ پاکستان عالمی برادری کے سامنے جس مسئلہ پر ڈٹ کر کھڑا ہو رہا ہے اس مسئلہ پر اندرونی سطح پر ایکشن نہ لے۔

ایک طرف وفاقی حکومت نے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے تارکین وطن کی واپسی کا معاہدہ معطل کر دیا ہے تو دوسری طرف وزیراعلیٰ پنجاب نے بین الاقوامی سرمایہ کاری سیمینار میں سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ انہوں نے واضح طور پ کہا ہے کہ سرمایہ کار ہمارے ماسڑز ہیں ۔ حکومت پنجاب نے سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات اور تحفظ دینے کا بھی وعدہ کیاہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بیرونی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ یہ منافع اپنے ممالک بھی بھجواسکتے ہیں ۔ حکومت پنجاب ایک عرصہ سے بیرونی سرمایہ کاری کی کوششوں میں مصروف نظر آتی ہے۔اس سلسلے میں متعدد اقدامات بھی کئے گئے اور لاہور کے اکثر منصوبے بھی دیگر ممالک کی کمپنیوں سے ملک کر تیار کیے گئے ہیں۔یاد رہے کہ پنجاب میں زراعت ،ٹرانسپورٹ ، انفراسٹرکچر، ہاوٴسنگ ، توانائی، اور کان کنی جیسے شعبوں میں وسیع سرمایہ کاری کی گنجائش ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ شہباز شریف اپنے مقاصد میں کس حد تک کامیاب ہوں گے۔ اگر تو وہ بیرونی سرمایہ کاروں کو یہاں لانے میں کامیاب ہو گئے تو یقینا اس سے روزگار کے نئے موقع پیدا ہوں گے۔ پنجاب میں بیرونی سرمای کاری کے منصوبے کامیاب ہونے پر یقینا دیگر صوبے بھی اس جانب توجہ دیں گے۔ یہ ترقی کاایک نیا سفر ہے ملک میں صنعتی انقلاب کی بنیاد ثابت ہو سکتا ہے اس سلسلے میں ہونے والے اہم اقدامات کا اگلے چند ہفتوں میں معلوم ہو جا ئے گا۔
اسی طرح یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر غیر ملکی سرمایہ کاروں کے سکیورٹی سمیت دیگر تحفظات دور کر دیئے گے تو خوشحالی کا نیا باب شروع ہو گا لیکن اگر غیر ملکی سرمایہ کاروں کے تحفظات دور نہ کئے گئے تو ہم دوبارہ پہلے والے مقام پر آکھڑے ہوں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صرف شہباز شریف ہی نہیں بلکہ ملک بھر کے دیگر ریاست دان بھی اس جانب توجہ دیں اور ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کی بجائے ملکی ترقی کیلئے متفقہ منصوبہ بندی سامنے لائی جائے۔
تاریخ اشاعت: 2015-11-17

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان