بند کریں
بدھ جنوری

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
یوکرائن میں امریکہ روس کشمکش
عالمی صہیونی ساہوکاروں نے یوکرائن میں کساد بازاری کی راہ ہموار کی اس میں شک نہیں کہ روس کی اقتصادی طاقت پکڑے نے میں چین کی سیاسی اور معاشی پالیسیوں کا بڑا دخل رہا ہے
محمد انیس الرحمن:
بہت پہلے یہ کہہ دیا گیا تھا کہ عالمی طاقت کا محور کھسک کر مغرب سے مشرق کی جانب یعنی ایشیا منتقل ہورہا ہے ایسا روس اور چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی طاقت کے پیش نظر کہا جاتا رہا ہے۔ اکسویں صدی میں روس کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی اس جنگ کو نہ تو سرد جنگ کہاجاسکتاہے اور نہ ہی گرم جنگ، حقیقت میں یہ سب کچھ اس پلان کے تحت ہورہا ہے جس کی فکری بنیاد جدید تاریخ میں سابق امریکی قومی سلامتی کے مشیر بریز نسکی نے ڈیوڈ راکفلر کے ساتھ مل کر ڈالی تھی۔
بریز نسکی کا خیال تھا کہ سوویت یونین کی تحلیل کے بعد روس سانس لیکر دوبارہ طاقت پکڑے گا اس لئے امریکہ اور یورپی یونین کو اسے اس کی سرحدوں تک محدود رکھنے کیلئے بہت پہلے سے اقدامات کرنا ہوں گے۔ برزیز نسکی کا سیاسی تجزیہ کسی حد تک ٹھیک بھی تھا لیکن روس کے ساتھ ساتھ چین نے جس قسم کی معاشی اڑان گزشتہ ایک دہائی سے بھری ہے وہ ان صہیونی سیسہ گروں کی غالباََ نظروں سے اوجھل تھی اور اس میں شک نہیں کہ روس کی اقتصادی طاقت پکڑے نے میں چین کی سیاسی اور معاشی پالیسیوں کا بڑا دخل رہا ہے۔
خاص طور پر وسطی اور شمالی افریقہ میں چین اور روس نے کاندھے سے کاندھا ملا کر اقتصادی پیش قدمی کی ہے ۔ اسی پیش قدمی کے آگے بند باندھنے کیلئے امریکہ اور یورپ نے سوڈان سے لیکر شمالی افریقہ تک سیاسی بے چینی کی آج بچھائی۔
یوکرائن میں جاری کشمکش میں ایک طرف یورپی یونین اور امریکہ ہیں تو دوسری جانب روس، چین اور وسطی ایشیا کی روس نواز کچھ ریاستیں ہیں جو اس کشمکش کا حصہ ہیں۔
یہ وہی کشمکش ہے جو سابق صدر بش کے د ور میں پولینڈ پر امریکہ کے ”شیلڈ میزائل سسٹم“ کی تنصیب سے شروع ہوئی تھی۔ پولینڈ میں ناکامی کے بعد روسی فیڈریشن کے جنوب میں واقع جارجیا کی ریاست میں امریکہ اور اسرائیل نے براہ راست مداخلت شروع کر کے وہاں کی ہم نوا حکومت کی منظوری سے ”میزائل شیلڈ سسٹم“ کی تنصیب کی کوشش کی لیکن روس نے براہ راست فوجی مداخلت کے بعد امریکی اور اسرائیلی عسکری ماہرین کو واپس دھکیل دیا۔
عالمی تناظر میں اس وقت اسے روس کی بڑی جرات قرار دیا گیا تھا اور امریکہ کو ایک بڑی قوت کی حیثیت سے خاصی خفت اٹھانا پڑی تھی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ افغانستان میں افغان مجاہدین کی زبردست مزاحمت بھی امریکہ کے پاؤں کی زنجیر بن گئی تھی۔ جارجیا میں نہ صرف امریکہ اور اسرائیل براہ راست مداخلت کررہے تھے بلکہ مغرب کا صہیونی صلیبی اتحاد نیٹو قفقاز کے علاقے میں اسے اپنی ”توسیع“ شمار کررہا تھا تاکہ بحیرہ اسود پر سے روسی کنٹرول ختم کیا جا سکے۔
امریکہ کے میزائل شیلڈ پروگرام کے حوالے سے ہم کئی مرتبہ پہلے بھی اپنے قارئین کو آگاہ کرچکے ہیں کہ یہ منصوبہ اسرائیل کی عالمی صہیونی سیادت کے قیام کے سلسلے میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ عالمی صہیونی سیادت کیلئے مشرق وسطیٰ کے توانائی کے ذخائر پر ہاتھ صرف کئے بغیر یہ دجالی منصوبہ شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا اور اس منصوبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ روس اور چین کو تصورکیا جارہا ہے۔
اس لئے مختلف وجوہات کا پراپیگنڈہ کر کے امریکہ اور اسرائیل اس ” میزائل شیلڈ“ پروگرام کو پولینڈ میں نصب کرنا چاہتے تھے لیکن روس اور اس کے بعد چین کی جانب سے مخالفت کے بعد اس منصوبے کو وقتی طور پر بش دور میں التوا میں ڈال دیا گیا تھا اور اس کیلئے جارجیا میں راہ ہموار کرنے کی کوششوں کا آغاز کیا گای تھا۔ صہیونی منصوبے کے مطابق جس وقت اسرائیل اپنی حیرت انگیز عسکری قوت کے ساتھ عرب ملکوں کی فوجیوں کو مفلوج کر کے خطے کے توانائی کے ذخائر پر قبضہ جمائے گا تو روس اور چین کیلئے اس خطے سے توانائی کا حصول ناممکن ہوجائے گا اس لئے اپنی معاشی سرگرمیاں جاری رکھنے کیلئے روس اور چین اسرائیل کے خلاف بڑا اقدام بھی کرسکتے ہیں لہٰذا اسرائیل کو روس کے دور مار میزائلوں کی زد سے بچانے کیلئے میزائل شیلڈ منصوبہ تیار کیا گیا تھا لیکن روس کے سخت دباؤ کی وجہ سے اس منصوبے کو تنصیب کیلئے زمین نہیں مل رہی۔
۔۔ پولینڈ میں ناکامی کے بعد امریکہ یورپ اور اسرائیل کی بھرپور کوشش تھی کہ جارجیا کی حکومت کو نیٹو کا حصہ بنا کر وہاں پر اس منصوبے کو مکمل کیا جائے، اس مقصد کیلئے اسرائیل اور امریکہ نے دباؤ بڑھانے کیلئے اپنے عسکری مشیر بھی جارجیا روانہ کئے لیکن خطے کے اہم ملک اور قازقستان جسے توانائی کے لحاظ سے خطے کا ”پاور ہاؤس“ بھی کہا جاتا ہے نے روس کا ساتھ دینے کا اعلان کردیا۔
یہ امریکہ ، اسرائیل اور نیٹو کیلئے ایک بڑا دھچکا تھا کیونکہ قازقستان کے اس اقدام سے روس کو بحیرہ اسود کی دو اہم ترین بندرگاہوں پر مزید قدم جمانے کا موقع میسر آگیا تھا۔ انہی دنوں تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ میں ہونے والی وسطی ایشیائی ریاستوں کی کانفرنس کے دوران قازقستان کے اس وقت کے صدر میدیوف نے اس وقت کے روسی صدر رومتری میددیف کو کا تھا کہ ”موجودہ بحران میں روس وسطی ایشیائی ریاستوں کو اپنے ساتھ سمجھے“۔
قازقستان کے اس موقف نے شنگھائی کانفرنس تنظیم کے تمام ارکان کو چین سمیت روس کے پلڑے میں ڈال دیا تھا۔ قازقستان وسطی ایشیا کا ایک انتہائی اہم ملک تصور کیا جاتا ہے اور سوویت یونین کی تحلیل کے فوراََ بعد امریکہ نے توانائی پیدا کرنے والے اس اہم ملک کو خاص اہمیت دینا شروع کی تھی۔ اس کا اندازہ اس ایک بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس وقت قازقستان کے صدر نزر بایوف نے واشنگٹن کا دورہ کیا تو اس وقت کے صدر بش نے وائٹ ہاؤس میں ان کے اعزاز میں تاریخ ساز استقبالیہ دیا تھا۔
اس وقت امریکہ اور یورپ قازقستان کو روس اور چین کے مقابل خطے میں اپنا ایک اہم پارٹنر بنانے کی کوششوں میں تھے لیکن بعد کی پوٹن کی پولیسیوں نے امریکہ کے اس خواب کو شرمندہ تعبیر نہیں ہونے دیا تھا۔ امریکہ اور اسرائیل کا منصوبہ تھا کہ جارجیا پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد بحیرہ اسود سے باکو، تلبیسی تیل کی پائپ لائن کو جس نے ترکی کی بندرگاہ سبحان تک جانا تھا اور وہاں سے اس پائپ لائن کا رخ اسرائیل کی جانب مڑ جانا تھا تاکہ اسے روسی اثر سے مزید محفوظ بنایا جاسکے۔
اس پائپ لائن کے بارے میں کہا جارہا تھا کہ بحریہ قزوین (کیسپین) کی آئندہ امریکین گریٹ گیم میں یہ اہم کردار ادا کرنے جارہی ہے اسی مقصد کے تحت 2003ء میں جارجیا میں رنگین انقلاب برپا کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں امریکہ اسرائیل نواز میخائیل ساکا سفلی نے اقتدار پر قبضہ جمالیا تھا منصوبے کے مطابق اس پائپ لائن نے جارجیا کے جن جن علاقوں سے گزرنا تھا امریکہ کی موجودگی وہاں یقینی بنائی جانی تھی اس کے بعد جارجیان میں بیٹھ کر اگلا قدم قازقستان کو نیٹو کے زیر سایہ لانا تھا لیکن روس نے اس ”رنگین انقلاب“ کے رنگ میں بھنگ ڈال دی۔

اس بات کو ہمیشہ ذہن میں رکھا جائے کہ پولینڈ کے بعد جس وقت جارجیامیں قدم جمانے کی کوشش کی گئی تھی تو اس سے پہلے وہاں بھی معاشی ناہمواری کے خلاف مہم چلائی گئی تھی۔ اس سلسلے میں بنک چونکہ ہمیشہ صہیونیوں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں یہ فضا پید اکی گئی جس کے نتیجے میں عوام مظاہروں نے زور پکڑنا شروع کیا اس مہم کے بارے میں عرب صحافتی ذرائع کا دعویٰ تھاکہ اسے نیوریارک کی وال اسٹریٹ سے ہینڈل کیا جارہا ہے کیونکہ امریکہ سے تعلق رکھنے والا عالمی صہیونی ساہو کار جارج سوروس”رنگین انقلاب“ کے نتیجے میں برسراقتدار آنے والے میخائیل سخاسفلی کو کئی برسوں تک پالتا رہا تھا۔

اسی طرح کا کھیل اب یوکرائن میں کھیلا گیا ہے۔ یوکرائن ایشیا اور یورپ کے سنگم پر واقع ہے اسے روس اور یورپی یونین کے درمیان ایک بفر زون کی بھی حیثیت حاصل ہے۔ مشرقی یوکرائن خصوصاََکریمیا کے علاقے میں روسی بولنے والے روسی نژاد یوکرینین باشندوں کی تعداد زیادہ ہے۔ بالشیوک انقلاب سے قبل یہاں مسلمان آبادی کا سب سے غالب حصہ تھے لیکن اسٹالن کی دہشت گردانہ پالیسیوں کے تحت یہاں کے مسلمانوں کی نسل کشی کر کے یہاں پر تیزی کے ساتھ روسی باشندوں کو بسایا گیا تھااب مسلمان یہاں ایک اقلیت کے طور پر ہیں۔
بہر حال روسی نژاد باشندوں کی اکثریت کی وجہ سے یہاں پر روس نواز عوام کا زیادہ غلبہ ہے جو کسی طور بھی یوکرائن کو یورپی یونین کے رحم و کرم پر چھوڑینے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ اور روس نے اپنا موڈ دکھانے کیلئے اپنی پارلیمنٹ کی منظوری سے کریمیا کے علاقے میں اپنی فوجیں بھی داخل کردی ہیں۔ 46ملین آبادی کے حامل اس ملک میں روس اور یورپی یونین معاشی اور سیاسی غلبے کیلئے آمنے سامنے آچکے ہیں امریکہ یورپی یونین کی پشت پناہی کررہا ہے۔
سابق سوویت یونین کے دور میں یوکرائن اس کا اہم حصہ رہا ہے۔ یورپی یونین نے یوکرائن کے سامنے آزاد تجارت کا دانا ڈال کر اس سے جمہوری اصلاحات کا مطالبہ کیا تھا ۔ اس کے علاوہ روس کی جانب سے یورپی ممالک کو فراہم کردہ قدرتی گیس پائپلائنوں کی بڑی تعداد یوکرائن سے ہی گزرتی ہے۔ خود یوکرائن بھی روس سے اپنی قدرتی گیس کی ضروریات پوری کرتا ہے۔
اس سلسلے میں امریکہ اور یورپ نے یوکرائن کی داخلی سیاست میں دخل اندازی کرتے ہوئے پہلے وہاں کے کچھ سیاستدانوں کو خریدا اس کے بعد روس پر الزام عائد کروایا کہ وہ ان پائپ لائنوں کی اہمیت کی وجہ سے یوکرائن پر سیاسی تسلط قائم کرنا چاہتاہے ، دوسری جانب روس کی سرکاری گیس کمپنی گیزپروم نے یوکرینی حکومت پر عدم ادائیگیوں کا الزام لگایا۔ جس کی وجہ سے روس نے پہلے 2006ء میں اور اس کے بعد 2009ء میں یوکرائن کو وقتی طور پر گیس کی فراہمی بند کردی تھی۔
اس وجہ سے یورپ کو سپلائی کی جانے والی گیس میں بھی خلل پیدا ہوا۔ دوسری جانب مغربی صہیونی بینکوں نے یوکرائن کو ان حالات سے مزید دوچار کرنے کیلئے معاشی پالیسیوں میں دخل دینا شروع کیا جس کی وجہ سے ملکی برآمدات غیر ملکی برآمدات سے کم ہوگئیں اور کساد بازاری نے سراٹھالیا ۔اب اس کے نتیجے میں جو مظاہرے ہوئے ہیں، امریکہ اور یورپ کا کارپوریٹڈ صہیونی میڈیا اسے بڑھا چڑھا کر دنیا کے سامنے پیش کررہا ہے۔
درحقیقت یہ روس کے گرد ایک آہنی حصار بنانے کی جب ہے جسے سمجھنے کیلئے جدید تاریخ اور اسکے فلسفے تک رسائی انتہائی ضروری ہے۔ بنیادی طور یوکرائن کے انتشار کے جو بھی اسباب اس وقت عالمی میڈیا میں بیان کئے جارہے ہیں ان کا اصل مقصد سے دور تک واسطہ نہیں۔ درحقیقت یہ اسی جنگ کا ایک تسلسل ہے جس کی ابتدا پولینڈ اور جارجیا سے ہوئی ہے اور اب اس کا دائرہ کچھ وقفے کے بعد یوکرین تک پھیلایا گیا ہے ۔
اس سے پہلے شام میں جس قسم کے حالات کی ابتدا کی گئی تھی اس کا مقصد یہ تھا کہ جہاں اس سے دیگرکئی مفادات حاصل کئے جائیں وہیں روس کو مجبور کیا جائے کہ وہ بحیرہ اسود کی ایک بندگاہ سے اپنے بحری بیڑے کو شام کی بندرگاہ طرطوس تل لے آئے تاکہ بحیرہ اسود کے علاقے میں روسی بحری وقت کی غیر موجودگی سے فائدہ اٹھایا جائے او راس روسی بحری قوت کی غیر موجودگی سے فائدہ اٹھایا جائے اور اس روسی بحری وقت کو بحیرہ روم میں پھنسا دیا جائے لیکن شام کے مسئلے نے جو شکل اختیار کی اس میں یہ منصوبہ پروان نہ چڑھ سکا۔
اب یوکرائن کے معاملے میں روس نے وہی قدم اٹھا یا ہے جو اس نے اس سے پہلے جارجیا کے معاملے میں اب غازیہ میں اٹھایا یعنی وہاں اپنی فوجیں داخل کردی ہیں جبکہ اوباما روس کو دھمکی دے رہے ہیں کہ روس کو اپنے اس اقدام کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ کون کب اور کیسی قیمت ادا کرتا ہے اس کا پتا تو وقت پر چلے گا لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ مشرق وسطیٰ کے بعد اب یورشیا کے سنگم پر بھی بڑی جنگ کے بادل منڈلارہے ہیں۔ یہ حالات اس وقت پیدا ہورہے ہیں جب پاکستان کے اہم شہر لاہور میں حکومتی سرپرستی میں سروں سے اخروٹ توڑ کر عالمی ریکارڈ قائم کئے جارہے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-03-13

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان