بند کریں
اتوار فروری

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین

فیصل آباد

ٹرسٹ ہسپتالوں کیخلاف مقدمات کے بعد کارروائی روک دی گئی
فیصل آباد میں چند ماہ قبل جب صحت اور صفائی کے معاملات پر حکومت پنجاب نے نظر کرم ڈالنی شروع کی اور مختلف ہوٹلوں ،چائے اور ریسٹورنٹس وغیرہ کے خلاف کریک ڈاوٴن شروع ہوا تو ایک مرحلے پر فیصل آباد میں ٹرسٹ ہسپتالوں کے خلاف
احمد جمال نظامی:
فیصل آباد میں چند ماہ قبل جب صحت اور صفائی کے معاملات پر حکومت پنجاب نے نظر کرم ڈالنی شروع کی اور مختلف ہوٹلوں ،چائے اور ریسٹورنٹس وغیرہ کے خلاف کریک ڈاوٴن شروع ہوا تو ایک مرحلے پر فیصل آباد میں ٹرسٹ ہسپتالوں کے خلاف بھی کارروائی کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا۔ اس دوران فیصل آباد میں ضلعی انتظامیہ کے موقف کے مطابق چار ایسے ٹرسٹ ہسپتال سامنے آئے جنہوں نے سرکاری زمین حکومت سے عوامی رفاہ کے نام پر حاصل کی مگر وہ ہزاروں لاکھوں روپے فیس کا بوجھ مریضوں اور ان کے اہل خانہ پر ڈال کر کمرشل بنیادوں پر ہسپتالوں کو چلانے میں مصروف تھے اور شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے تھے۔
اس ضمن میں سب سے پہلا کریک ڈاوٴن نیشنل ٹرسٹ ہسپتال جناح کالونی کے خلاف اسے سیل کرنے کی صورت میں سامنے آیا۔ جس پر شہریوں میں جہاں خوشی کہ لہر دوڑی وہاں ایک واضح سوچ تھی کہ ہماری انتظامیہ، پولیس میں اتنی سکت نہیں کہ وہ دیرپا اور مستقل بنیادوں پر اس کارروائی کو جاری رکھ سکیں کیونکہ ان ہسپتالوں کو چلانے والے بہت بااثر لوگ ہیں ۔ پہلے پہل اس بات کو تسلیم نہ کیا گیا مگر وقت نے یہی ثابت کیا اور قانون کا دوہرا معیار عملاََ سامنے آگیا۔
نیشنل ٹرسٹ ہسپتال کے بعد فیصل آباد کی ضلعی انتظامیہ نے ڈی سی اور نورالامین مینگل اور کمشنرنسیم نواز کی سربراہی میں کارروائی کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے عزیز فاطمہ ٹرسٹ ہسپتال گلستان کالونی کے خلاف کارروائی شروع کی گئی المیعاد ادویات برآمد ہونے پر اس ہسپتال کا کچھ حصہ سیل کرتے ہوئے ایک مقدمے کا اندراج کیا گیا۔
عزیز فاطمہ ٹرسٹ ہسپتال کو فیصل آباد کے معروف صنعت کار میاں محمد ادریس جو کہ اس وقت فیڈریشن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر بھی ہیں وہ چلا رہے ہیں۔
اس مقدمے کے اندراج کے بعد ضلعی انتظامیہ نے ٹرسٹ ہسپتالوں کے سلسلے میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا مگر دوسری طرف میاں محمد ادریس نے ضلعی انتظامیہ کی اس کارروائی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے فیصل آباد کے تاریخی چوک گھنٹہ گھر میں پریس کانفرنس کرنے اور گرفتاری دینے کا اعلان کیا۔ یہ صورت حال سب کے سامنے آگئی۔ اخبارات میں ضلعی انتظامیہ کی کارروائی اور صنعت کاروں کے موقف پر مبنی شہ سرخیاں شائع ہونے لگیں انہوں نے شدید احتجاج کیا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کیوں قائم نہیں کی جا رہی جس پر دلی دوراست کے مترادف بند کمرے میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی قائم کردی گئی اور اس کمیٹی کی کارکردگی اتنی مایوس کن ہے کہ اس کی کوئی رپورٹ پھاڑ کر ٹوکری کی نذر بھی نہیں کی جاسکتی شاید جو ایسی سرکاری ردی خریدنے کے رسیاہوں وہ بھی اس پر شرما جائیں ۔
یہ قانون کا ایک ایسا مظاہر ہے جس پر ڈاکٹرز کی طرف سے خاموش احتجاج جاری ہے اور شہری ایک مرتبہ پھر ٹرسٹ ہسپتالوں میں کمرشل بنیادوں پر ہونے والی قانون شکنی پر بے بس اور لا چار نظر آر ہے ہیں مگر قانون پر عملدرآمد کروانے والے محافظ اور دعویدار کہیں نظر نہیں آرہے کیونکہ ان کے ہاتھ اتنی خوبصورتی سے باندھ دئیے گے ہیں کہ بعد ازاں فیصل آباد کے ڈی سی او نور الامین مینگل سے ہی عزیز فاطمہ ٹرسٹ ہسپتال میں ایک بلاک کی افتتاحی تقریب میں انہیں مدعو کیا گیا۔
صاف ظاہر ہے کہ وز لیکن اچانک قانون کا وہ خانہ حرکت میں آیاجو غریب اور امیر کے لیے یکساں مختلف ہے۔ اچانک وزیر اعلیٰ پنجاب کے کارخاص اور صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خاں فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ایک تقریب میں پہنچ گئے جہاں سے صلح کا اعلان ہوا اور پھر اس کے بعد رانا ثناء اللہ خاں اکثر و بیشتر فیصل آباد چیمبر میں آنے جانے لاگے مگر دوسری طرف فیصل آباد کے سرکاری ڈاکٹرز جو مختلف تنظیموں میں بھی ہیں اور پرائیوٹ پریکٹس کرنے کی معاشی سکت نہیں رکھتے قانون کی مداخلت کے بعد ڈی سی او قانون کا جھنڈا سر بلند نہیں کر سکتے۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-09

(0) ووٹ وصول ہوئے