بند کریں
بدھ فروری

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ٹریفک کی روانی کیلئے لاہور میں نئی شاہراہوں کی تعمیر
آج جیسے جیسے آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ہر سال کاروں اورموٹر سائیکلوں کی تعدادبھی بڑھ رہی ہے جس سے سڑکوں پر ٹریفک کا اژدھام نظر آتا ہے خاص طورپر سکول و کالج اور دفتری اوقات کے دوران ہر بڑے چوراہے پر
عبدالمجید منہاس
آج جیسے جیسے آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ہر سال کاروں اورموٹر سائیکلوں کی تعدادبھی بڑھ رہی ہے جس سے سڑکوں پر ٹریفک کا اژدھام نظر آتا ہے خاص طورپر سکول و کالج اور دفتری اوقات کے دوران ہر بڑے چوراہے پر بد نظمی کی وجہ سے ٹریفک جام سے مختلف مسائل پیدا ہوتے ہیں موجودہ صوبائی حکومت پنجاب نے عوامی فلاح و بہبود کے کئی منصوبوں پر کام کا آغاز کیا اور آج صورتحال یہ ہے کہ لاہور میں میٹروبس کے اجرا سے شاہدرہ تا گجومتہ روزانہ سینکڑوں افراد سفری سہولت سے استفادہ کر رہے ہیں اور اس سروس کی کامیابی کے بعد اب راولپنڈی اسلام آباد میں میٹرو منصوبہ بھی پایہ تکمیل کو پہنچ رہا ہے اسی طرح ملتان اورفیصل آباد میں بھی عوام کو زیادہ سے زیادہ سفری سہولت بہم پہنچانے کے اقدامات ہو رہے ہیں۔

مسلم لیگ (ن )کی حکومت اپنے منشور کے مطابق عوامی خدمت کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے وسائل قوم کی امانت ہیں اور ان پر عوام کا حق ہے پنجاب حکومت وسائل کی ایک ایک پائی بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے منصوبوں پر شفاف طریقے سے صرف کر رہی ہے چین کے تعاون سے لاہور میں 27 کلو میٹر سے طویل روٹ پر میٹرو ٹرین چلانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ چین کے ساتھ میٹرو ٹرین کے طے پانے والے تاریخ سازمعاہدے پرعملدر آمد سے شہر لاہور گونئی شناخت ملے گی۔
عوام کو جدید اور بہترین سفری سہولیات میسر آئیں گی۔ میٹرو ٹرین منصوبے کا خوش آئندہ پہلویہ ہے کہ چین کی حکومت منصوبے کے لئے سرمایہ فراہمی کا عظیم منصوبے جسے تیز رفتاری، اور اعلیٰ معیار کے ساتھ ریکارڈ مدت میں مکمل ہو گا۔ میٹرو ٹرین منصوبے کے آغاز سے روزانہ تقریباً اڑھائی لاکھ شہری مستفید ہوں گے۔ اسی طرح لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے لاہور میں بہت سے منصوبے مکمل کر کے ترقیاتی کاموں کا ریکارڈ بھی قائم کیا۔
یہ منصوبے وزیراعلیٰ کے ترقیاتی ویڑن، شہریوں کے معیار زندگی میں بہتر سہولتوں کی فراہمی، ٹریفک جام سے نجات، وقت کی بچت، پٹرول میں کفایت اور ترقی کے ثمرات سے سب کو مستفیدکرنے ککے سلسلہ کی کڑی ہیں۔ ان منصوبوں کی نمایاں خوبیوں میں ان کی مکمل شفافیت کے ساتھ کم سے کم وقت میں معیاری تکمیل خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں۔ ترقیاتی کاموں کے سلسلے میں گذشتہ سال کے دوران لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی والٹن فلائی اوور، آزادی چوک انٹر چینج، قیچنی سگنل فری جنکشن، فیروز پور روڈ بل یوٹرن اورچونگی امرسدھو کے مقام پر پاکستان کے پہلے بائیکرز رنگ سمیت چھے میگا پراجیکٹس کا آٹھ ماہ کی قلیل مدت میں پایہ تکمیل کو پہنچنا اس امر کی غماز ی کرتا ہے کہ کوئی بھی کام نہ تو مشکل ہے اور نہ ہی ناممکن صرف ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس سے قبل پاکستان کا پہلا میٹروبس منصوبہ محض 10ماہ کی ریکارڈ مدت میں مکمل ہوا تھا اور کلمہ چوک کے مقام پر پاکستان کا پہلا طویل ترین فل ڈیپٹتھ انڈر پاس بھی 82 دن کی ریکارڈ مدت میں تعمیر ہوا حال ہی میں ایک اور اہم مسئلہ ٹریفک دباوٴ کم کرنے کے سلسلہ میں مولانا شوکت علی روڈ تا کریم بلاک کی طرف توجہ دی گئی کیونکہ یہ منصوبہ کچھ عرصہ قبل فنڈز کی عدم دستیابی اور پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے زمین نہ ملنے کے باعث وقتی طور پر تعطل کا شکار چلا آرہا تھا سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ لاہور نے وحدت روڈ، شیخ زید ہسپتال، پنجاب یونیورسٹی، ملتان روڈ پر ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباوٴکو ختم کرنے کے لئے مولانا شوکت علی روڈ سے علامہ اقبال ٹاوٴن ،کریم بلاک تک سڑک نکالنے کا منصوبہ بنایا جس کے لئے پنجاب یونیورسٹی سے 208 کنال اراضی لینے کیلئے حکومت پنجاب لکھا گیا زمین کے حصول کیلئے یونیورسٹی انتظامیہ سے زمین کے حصول کیلئے مذاکرات بھی ہوئے تھے فنڈز کی عدم دستیابی بھکی وجہ سے منصوبہ وقتی طور پر ختم کر دیا گیا تھا پھر شیخ زید ہسپتال اور پنجاب یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباوٴکوکم کرنے کے لئے پنجاب یونیورسٹی سے اجازت لے کر زمین لی تاکہ مولانا شوکت علی روڈ سے کریم بلاک علامہ اقبال ٹاوٴن تک کشادہ سڑک تعمیر کر کے ملتان روڈ، وحدت روڈ پر ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباوٴکوکم کیا جاسکے لہٰذا پنجاب حکومت کی ہدائت پر فوری طور پر جگہ کی منظوری کے بعد تیزی سے سڑک کی تعمیر کے کام کا آغاز کیا اور تیز رفتاری سے اسکی تعمیر ہوگئی آج عوام کو جناح ہسپتال ماڈل ٹاوٴن اور جوہر ٹاوٴن جانے کے لئے ایک ایسی شاہراہ مل گئی جس کے نتیجہ میں وہ فاصلہ جو آدھ گھنٹہ میں بھی بمشکل طے ہوتا تھا آج چند منٹوں میں طے ہونے لگا ہے۔
اسی طرح ایل او ایس سے سمن آباد گندے نالے کو نہ صرف پختہ کیا گیا بلکہ چند ماہ میں یہاں جو دو رویہ سڑک بنی اس نے نہ صرف اردگرد کی جگہ کی خوبصورتی میں اضافہ کردیا بلکہ فیروز پور روڈ سے ملتان روڈ تک کا فاصلہ بھی کم کردیا آج روزانہ اس سڑک سے استفادہ کرنے والے موجودہ حکومتی اقدامات کو سراہتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-05-25

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان