بند کریں
منگل جنوری

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین

فیصل آباد

تھانوں میں کرایہ داروں کے کوائف کااندراج
یہ ملک کا تیسرا بڑا شہر ہے ، چاروں طرف شہر میں نت نئی کالونیاں تعمیر ہورہی ہے۔ ان میں رہائش رکھنے والوں کی اکثریت ایسے لوگوں کی ہے‘ جو دیہات سے نقل مکانی کرکے شہروں کارخ کرتے ہیں
احمد کمال نظامی:
آج کل حکومت ایک طرف تو کالعدم تحریک طالبان سے مذاکرات کے ذریعے ملک میں امن بحال کرنے کی کوششیں کررہی ہے دوسری طرف پورے ملک میں سکیورٹی ایجنسیوں کوہائی الرٹ رہنے کاکہہ دیاگیاہے۔ یہ ملک کا تیسرا بڑا شہر ہے ، چاروں طرف شہر میں نت نئی کالونیاں تعمیر ہورہی ہے۔ ان میں رہائش رکھنے والوں کی اکثریت ایسے لوگوں کی ہے‘ جو دیہات سے نقل مکانی کرکے شہروں کارخ کرتے ہیں۔
وہ اپنے بچوں کے لئے بہتر روزگار کے مواقعوں کے علاوہ اپنی نسلوں کی بہتر تعلیم کیلئے شہر آکر رہائش پذیر ہوتے ہیں۔ جب نئی کالونیاں تعمیر ہوتی ہیں،نئے لوگ ان کالونیوں میںآ باد ہوتے ہیں ان علاقوں میں بہت سے لوگ پراپرٹی ڈیلرز کے کاروبار میں شامل ہو کر اکثر نئی کوٹھیوں اور عمارتوں کو کرایہ پر دینے کیلئے اجنبی گھرانوں اور نئی تعمیرہونے والی املاک کے مالکوں کے درمیان رابطے قائم کراتے اور کرایہ داروں کو لینڈ لارڈز سے ملا کر ان کوٹھیوں کو کرایہ پراٹھانے کاکاروبار بھی کرتے ہیں۔
اس طرح بہت سے ایسے لوگ بھی مختلف کوٹھیاں اور عمارتیں کرایہ پر لینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جن کا تعلق دہشت گردی تنظیموں سے ہوتا ہے۔ یہ تنظیمیں پہلے مرحلے پر کرایہ کے ایسے گھروں میں اسلحہ اور بارود اکٹھا کرتے ہیں۔جن شہروں میں ان کی رہائشیں ہوتی ہیں۔ وہ اکثر ان شہروں کے اہم مقامات تک پہنچنے اور ان کو بارودی دھماکوں سے اڑانے کامنصوبہ بناتے ہیں۔
کرایہ داری شہر کے مختلف علاقوں میں ہوتی ہے اور دہشت گرد افراد ‘ مختلف علاقوں میں پراپرٹی ڈیلروں کے ذریعے عمارتیں کرایہ پر لے کر ان کو اپنی اقامت گاہوں کے ساتھ ساتھ اپنے ساتھیوں کیلئے بھی ان کے عارضی قیام اور ان کے اسلحہ اور بارود کے ٹھکانوں کے طورپر استعما ل کرتے ہیں‘ ایسے لوگ زیادہ تر شہر کی مضافاتی اور نئی رہائشی سکیموں میں رہائش رکھتے ہیں تاکہ انہیں اڑوس پڑوس کے لوگوں سے زیادہ متعارف نہ ہونا پڑے۔
ان کے معمولات ‘ ان کالونیوں اور محلوں کے رہنے والوں کے علم میں نہ آسکیں۔ بڑے شہروں کی سکیورٹی ایجنسیوں کو بہت سے چیلنج درپیش ہیں۔ دس بارہ سال پہلے یہاں القاعدہ کے ایک انتہائی اہم لیڈر اور اس کے ساتھیوں کو کرایہ دار کی حیثیت سے رہتے ہوئے پکڑا گیاتھا اور اس وقت انکشاف ہوا تھا کہ دہشت گردی کیلئے فیصل آباد کبھی بھی اہم نہیں رہا اور دہشت گرد رہائش گاہیں کرایہ پر لے کر ‘ کسی دوسرے شہر میں بارودی دھماکوں کیلئے ان اقامت گاہوں سے روانہ ہوتے تھے ، صوبائی دارالحکومت یا سرگودھا تک آنے جانے میں ان کو کسی روک ٹوک سے دو چار نہیں ہوناپڑتاتھا۔
القاعدہ کا یہ رکن غالباً ابو زبیدہ تھا گرفتار ہوا تو پوری دنیا میں اس کے متعلق شہ سرخیاں شائع ہوئیں۔ اس کی گرفتاری سے چند برس پہلے فیصل آباد ایئرپورٹ سے ہیروئن کی اسمگلنگ کی ایک کوشش ناکام ہوئی تو اس کوشش کاارتکاب کرنے والے ملزموں میں سے کسی نے انکشاف کیاتھا کہ اس کاتعلق افغانستان سے ہیروئن سمگل کرکے اسے فیصل آباد ایئر پورٹ کے ذریعے بیرون ممالک اسمگل کرنے والے ایک گروہ سے ہے اور اس گروہ کاٹھکانہ شہر کی ایک زیر تعمیر کالونی میں ہے جو ان میں سے کسی ایک نے اپنے خاندان کی رہائش کیلئے کرایہ پر لے رکھی ہے۔
ازاں بعد اس کوٹھی پرریڈکیاگیا۔ یہ کوٹھی خیابان کالونی میں واقع تھی۔ اسی طرح شہر کے ایک تاجر کواغواء برائے تاوان کی واردات میں اٹھا کر لگ بھگ چار ماہ تک مدینہ ٹاؤن کی ایک کوٹھی کے ایک کمرے میں بندرکھا گیا۔اغواء کنندگان کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے تھا اور انہوں نے مدینہ ٹاؤن کا یہ گھرا بتدا میں کرایہ پرحاصل کیاتھاازاں بعد اسے خریدلیاتھا،یہ اس تنظیم کے افراد کا مستقل ٹھکانہ تھا۔
مدینہ ٹاؤن بہت حد تک گنجان آباد علاقہ ہے ان لوگوں کی سرگرمیوں کومشکوک پا کر ان کے متعلق مخبری ہوگئی تھی لیکن پولیس کے چھاپے سے صرف نصف گھنٹہ پہلے یہ لوگ وہاں پر موجود اپنی ساتھی عورتوں سمیت نکل گئے ان کے بھاگنے کے بعد کئی ماہ پہلے سے اغواء برائے تاوان میں پکڑا گیا سعیدکالونی کا رہائشی تاجر وہاں ا یک کمرے میں بندھا ہوا ملا تھا۔ یہ گروہ بعد میں حاجی آباد کے علاقے میں ایک پولیس مقابلے میں پکڑا گیاتھا۔
سی پی او فیصل آباد ڈاکٹر حیدراشرف جو کہ ایک انتہائی سوچنے ہوئے ذہن کے مالک ہیں اور جو اکثر ضلعی پولیس کو انتہائی قابل عمل اقدامات اٹھانے کی ترغیب دیتے رہے ہیں جس کی مثال یہ ہے کہ انہوں نے تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز کو اپنے اپنے علاقہ میں خاندانی جھگڑے اور دشمنیاں ختم کرانے کامشن بھی سونپ رکھاہے اور انہوں نے ضلع کو جرائم پیشہ افراد سے پاک کرنے کیلئے انہیں یہ بھی الٹی میٹم دے رکھا ہے کہ اگر وہ یہاں رہنا چاہتے ہیں تو جرائم سے کنارہ کش ہوجائیں۔
انہوں نے ضلع بھر کے40تھانوں کے ایس ایچ او ز کو ہدایت کی ہے کہ وہ تھانوں میں ایک ایک کرایہ داری رجسٹر رکھ کر اپنے اپنے علاقو ں میں کرایہ داروں کے طورپر رہنے والے افراد کے کوائف اکٹھے کریں تاکہ پولیس کومعلوم ہو کہ ان کے تھانے کی حدود میں رہنے والے کرایہ داروں کاتعلق کہاں سے ہے اور وہ کس غرض سے اپنی کرایہ کی عمارتوں میں مکین ہیں اور کب سے وہاں رہ رہے ہیں اور اپنے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ ان کے کیسے تعلقات ہیں۔
کیا وہ پڑوسیوں کی خوشی و غم کی تقریبات میں شامل ہوتے ہیں۔ اگر مسلمان ہیں توکیاعلاقہ کی مساجد میں نماز اداکرتے ہیں اور ان کاعقیدہ کیاہے۔ وہ کس مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ بریلوی‘ دیوبندی یااہلحدیث ہیں یاشعیہ فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں‘ ان کاکسی مذہبی انتہائی پسند تنظیم سے توکوئی تعق نہیں۔کرایہ داروں کے اس قسم کے کوائف کاریکارڈ متعلقہ تھانوں میں لازمی ہونا چاہئے۔
سی پی او نے تھانوں میں کرایہ داروں کے متعلق رجسٹر رکھنے کی ہدایت کرکے‘ شہر کی سکیورٹی کے حوالے سے نہایت اہم اور صحیح قدم اٹھایاہے۔ اصولاً تمام پراپرٹی ڈیلر زاور لینڈلارڈز کو پابندکیاجانا چاہئے کہ وہ جن لوگوں کو کسی علاقہ میں کوئی گھر یا کوئی بلڈنگ کرایہ پر لے کردیتے ہیں یا وہ لینڈ لارڈز جو پراپرٹی ڈیلرز کے بغیر اپنے گھر کرایہ پردیتے ہیں وہ کرایہ داروں کے کوائف اور کرایہ نامہ وغیرہ متعلقہ تھانہ میں کرایہ داری رجسٹر میں لازمی جمع کرائیں ‘ اگر ایسا ہوجائے تو مشکوک لوگ جوکسی عمارت کو غیر رہائشی یاغیر تجارتی مقاصد کیلئے کرایہ پرلیتے ہیں ان کے سروں پر یہ تلوار لٹکتی رہے گی کہ ان کے کوائف ‘ ان کے قومی شناختی کارڈز کی نقلیں‘ ان کے پاسپورٹ یاڈرائیونگ لائسنس کاتھانے میں اندراج ضلعی انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کو میسر ہوگا۔
اگر ڈی سی او کی طرف سے اس قسم کانوٹیفکیشن جاری کردیاجائے کہ جو لوگ پراپرٹی ڈیلروں کے ذریعے کرایہ نامے لکھوائے بغیر اپناگھرکرایہ پر دیتے ہیں اگر ان کوپابندکردیاجائے کہ وہ کسی نہ کسی پراپرٹی ڈیلر کو کرایہ دار کے کوائف دے کر پانچ سو روپے یاہزار روپے فیس کے عوض اس کرایہ دار کااپنے گاہکوں میں بھی اندراج کرے تو اس طرح تھانے کے علاوہ پراپرٹی ڈیلروں کے پاس بھی کرایہ داروں کا اندراج کئے جانے سے شہر کی سکیورٹی کیلئے ایک مفید پیشرفت ہوجائے گی۔
اس سلسلہ میں پنجاب کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کو بھی تمام اضلاع کی پولیس کو تھانوں کی تعداد کے مطابق انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کے ساتھ تعاون کرناچاہئے۔ رواں مالی سال کیلئے حکومت نے اس کام کیلئے ایک ارب 53کروڑ روپے کی رقم مختص کررکھی ہے۔ توقع ہے کہ حکومت اور تحریک طالبان کے مابین امن مذاکرات کی کامیابی سے ملک میں دہشت گردی کم ہو جائے گی تاہم حکومت کو کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ کوسکیورٹی اداروں کی مدد کیلئے قائم رکھناچاہئے۔
تاریخ اشاعت: 2014-04-02

(0) ووٹ وصول ہوئے