بند کریں
بدھ جنوری

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ترقیاتی منصوبے …ملتان کاچہرہ نکھر رہا ہے!!
ملتان کا نیا ائرپورٹ بھی مکمل ہو چکا ہے او ر اس پر طیاروں کا اُتار اور روانہ کر کے اس کی آزمائش بھی کر لی گئی ہے جو سو فیصد کامیاب رہی۔ اس پر اب بڑے طیارے بھی اتر اور چڑھ سکیں گے
خالد جاوید مشہدی:
وزیراعظم نواز شریف اور وزیر اعلیٰ شہباز شریف کا فروری کے اواخر میں ملتان کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کرنے کیلئے دورہ ایک بار پھر ملتوی ہو چکا ہے کہا جا را ہے کہ بار بار دورے سیکورٹی وجوہ کی بنا پر ملتوی ہو رہے ہیں۔ 200 بستر کا کِڈنی سنٹر بھی فعال ہو رہا ہے او شہباز شریف جنرل ہسپتال بھی مکمل ہو چکا ہے۔ دونوں منصوبوں سے نشتر پر بوجھ کچھ نہ کچھ ضرورکم ہوگا۔
کچھ عرصہ بعد طیب اردگان ہسپتال مظفر گڑھ، جو500 بستروں کا جدید ترین ہسپتال ہو گا بھی مکمل ہو رہا ہے اس طرح منصوبے تو مکمل ہو رہے ہیں اور انشاء اللہ ہوتے رہیں گے مگر پیشہ ور سیاستدانوں کے نام نہاد احساسِ محرومی کا رونا بھی جاری رہے گا۔ کمشنر ملتان کے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے مزید کچھ تفصیلات بتائی ہیں۔ ایک تویہ کہ میٹرو ملتان کے پلان میں کچھ تبدیلی کی گئی ہے۔
اب نادردن بائی پاس چوک سے جوفلائی اوور اُٹھایا جائے گا وہ 12 کلومیٹر طویل ہوگا اور بی سی جی چوک پر اُترے گا جس کی وجہ سے اب 180 کی بجائے 118 کنال زمین کی ضرورت ہوگی۔ اس طرح تو ڑ پھوڑ میں قابل ذکر کمی ہو جائے گی۔ میڑوبس پر 96 ہزار افراد کے روزانہ سفر کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔ دوسرایہ کہ ایک پرانا منصوبہ یعنی ناردرن بائی پا س کوشجاع آباد کینال یعنی سکندری نالہ کے ساتھ ساتھ بڑھا کر شیر شاہ روڈ سے ملانے کے پُرانے منصوبے کو بھی مکمل کیا جائے گا۔
یہ بہت اہم منصوبہ ہے اور اس سے بوسن روڈ پر بوجھ کچھ کم ہو جائے گا کیونکہ بوس روڈ تعمیر ہوتے ہی اندھا دھند ہاوسنگ کالونیاں بننی شروع ہو گئیں جس سے ایک دوسال کے اندر ہی یہ سڑک تنگ محسوس ہونے لگی۔ 20 کلومیٹر طویل اس سٹرک کی تعمیر پر 18 ارب روپے کے اخراجات کا تخمینہ ہے ۔ یہ منصوبہ ملتان ڈویژن کیلئے 51 ارب روپے کے 188 چھوٹے بڑے منصوبوں کے پیکج کا حصہ ہے جس میں بڑا منصوبہ میٹروبس کا ہے۔
ایک اور منصوبہ لاہور کی طرز پر ملتان کے گرد اگردرنگ روڈ کا بھی ہے۔ یہ بھی کافی پرانا منصوبہ ہے جس اک بیشتر حصہ ناردرن اور سدرن بائی پاسز کی شکل میں تعمیر ہو چکا ہے۔ 20 کلومیٹر کا مندرجہ بالا منصوبہ بھی اسی رنگ روڈ کا حصہ ہے چنانچہ اسے دریائے چناب کے پل کے آس پاس کہیں سدرن بائی پاس سے منسلک کر کے رنگ روڈ مکمل کر دی جائے گئی۔ ملتان کا نیا ائرپورٹ بھی مکمل ہو چکا ہے او ر اس پر طیاروں کا اُتار اور روانہ کر کے اس کی آزمائش بھی کر لی گئی ہے جو سو فیصد کامیاب رہی۔
اس پر اب بڑے طیارے بھی اتر اور چڑھ سکیں گئے۔ اس ٹرمینل پر اب بیک وقت 700 مسافروں کو ہنڈل کیا جا سکے گا اور اب ملتان ائر پورٹ پر بھی ایکسیلٹرز، کنوئربیلٹ سمیت بن الاقوامی معیار کی تمام سہولیتں فراہم ہوں گی۔ یہ منصوبہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی دورکا ہے جو انہوں نے خصوصی طور پر منظور کیا تھا اور اس کا تمام ترکر یڈٹ انہی کو جاتا ہے ۔
ملتان کے نادرن اور سدرن بائی پاس کے پراجیکٹ بھی گیلانی دور کی یاد گار ہیں۔ البتہ نئے ہسپتال اور میٹروبس منصوبہ مسلم لیگ(ن) کے عطا کردہ ہیں اور ان منصوبوں سے ملتان کا چہرہ بہر حال نکھر رہا ہے۔
خانیوال لودھراں ہائی وے کی طرح ملتان کی صحافی کالونی بھی وزیراعلیٰ شہباز شریف اور ملتان کے سیاستدانوں کی نظر کرم کی محتاج ہے۔ کم وبیش 7 سال پُرانا منصوبہ ہے جو صرف وزیراعلیٰ پنجاب کے قلم کی جنبش سے حل ہو سکتا ہے ۔
جاوید ہاشمی او ر عبدالوحید ارائیں نے جس طرح چند روز میں اوقاف کی زمین کا تنازع حل کر لیا ہے ملتان کی صحافی کالونی کیلئے بھی آواز بلند کریں۔ خصوصاََ عبدالوحید ارائیں تو وزیر بھی ہیں اگر تھوڑی سی ذاتی دلچسپی لے لیں تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے ضلعی انتظامیہ نے تو صرف میٹھی باتیں کی ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-03-11

(0) ووٹ وصول ہوئے