بند کریں
منگل فروری

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ایشیاء کے سوئٹز رلینڈ۔۔سوات کی سٹرکیں کھنڈر
ہر سیاسی پارٹی سٹرکوں کی بدحالی کے نام پر ووٹ لیتی ہے۔۔۔۔ مینگورہ میں چند گاڑیوں کیلئے بنائی گئی سٹرکوں پر سینکڑوں نظر آتی ہیں
فرحان خان:
وادی سوات کو ایشیا کا سوئیٹرز لینڈ بھی کہا جاتا ہے لیکن بد قسمتی سے مرکزی شہر مینگورہ سمیٹ سوات بھر کے سیاحتی علاقوں کی سٹرکیں حکومت کی لاپرواہی اور غفلت کے باعث کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہیں جبکہ خاص کر سوات کے مرکزی شہر منگورہ کی سٹرکیں عرصہ دراز سے بد حالی کا شکار ہیں مرکزی وصوبائی حکومت توجہ دینے کی زحمت تک گوارا نہیں کرتی ۔
سوات کے مرکزی شہر منگورہ کی سٹرکیں بدحالی کا شکا ر ہیں جس کی طرف سابقہ او موجودہ حکومت نے تاحال کسی قسم کی توجہ نہیں دی ۔ کافی عرصہ قبل چند گاڑیوں کیلئے بنائی گی سٹرکوں پر آج ہزاروں کی تعداد میں گاڑیاں نظر آرہی ہیں جس کے سبب ٹریفک مسائل میں روز بروز اضافہ ہو رہاہے ہر سیاسی پارٹی الیکشن کے وقت یہاں کی سٹرکوں کی بدحالی کو دور کرنے کا وعدہ کر کے عوام سے ووٹ بٹورتی ہے۔
اور اقتدار ملنے کے بعد اپنا وعدہ بھول جاتی ہیں۔ عرصہ دراز سے مسلسل عدم توجہ کی وجہ سے یہاں کی سٹرکیں مزید استعمال کے قابل نہیں رہیں اس وقت یہاں کی سڑکوں پر تارکول کی جگہ خشک مٹی نے لے رکھی ہے جو بار ش کے وقت کیچڑ کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور بارش تھمنے کے بعد یہی کیچڑ دھول اور گردوغبار بن کر لوگوں کیلئے وبال جان بن جاتا ہے۔جبکہ دوسری طرف مینگورہ شہر کی سٹرکیں کھنڈرات میں تبدیل ہو کر عوام کیلئے زحمت بن گئی ہیں۔
وادی سوات سے سیاحتی علاقے مالم جبہ، مدین ، بحرین ،کالام، اتروڑ، مہوڈنڈ، مرغزار، چیل اور دیگر سیاحتی علاقے جہاں پر ہر سال لاکھوں کی تعداد میں سیاح آتے جاتے ہیں لیکن بد قسمتی سے ان سیاحت علاقوں کو جانے والے راستے پر تارکول نام کی کوئی چیز نہیں جبکہ مشہور ہے کہ جس علاقے میں سٹرک نہیں ہوتی تو وہاں پر ترقی ہونا نا ممکن ہے۔ مرکزی وصوبائی حکومت توجہ دینے کی زحمت تک گوارہ نہیں کرتی جس کی طرح سابقہ اور موجودہ حکومت نے تاحال کسی قسم کی توجہ نہیں دی۔
ریاستی دور میں چند گاڑیوں کیلئے بنائی گئیں سٹرکوں پر آج ہزاروں کی تعداد میں گاڑیاں نظر آرہی ہیں جس کے سبب ٹریفک مسائل میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ۔ اسی حوالے سے سوات سے تعلق رکھنے والے سنیئر صحافی ناصر عالم کا کہنا ہے کہ مینگورہ کی سٹرکوں کی بدحالی کو دور کرنے میں حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مرکزی وصوبائی حکومت کے وزراء اور ممبران اسمبلی کرپشن، کمیشن اور ذاتی مفادات کے حصول میں مصروف عمل ہیں جبکہ الیکشن کے دوان عوام سے کئے گئے تمام تر وعدوں کو بھلا کر اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں جبکہ دوسری جانب عوام کو بحرانوں ومسائل او ر مشکلات کے بھنور میں بے یارومددگار چھوڑ دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مرکزی و صوبائی حکومتیں ہر سطح پر ناکام ہو چکی ہیں ہماری بد قسمتی ہے کہ اس قوم کو ابھی تک کوئی مخلص قیادت میسر نہ آسکی۔ اگر حکام نے اس سلسلے میں مزیدغفلت کا مظاہرہ کیا تو سوات کے غیور عوام احتجاج پر مجبور ہو جائیں گے۔ اسی حوالے سے سروے کے دوران ممبران اسمبلی کا کہنا تھا کہ حکومت سوات کی خراب سڑکوں کی تعمیر و ترقی کیلئے اقدامات کر رہی ہے مگر ابھی تک سوات کی سڑکوں کو بدحالی کو دور کرنے میں حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ اگر فوری طور پر سوات کی خراب سڑکوں کی صورتحال پر توجہ نہ دی گئی تو سوات کے عوام کی ترقی، کامیابی، روزگار سب کچھ تباہی کی طرف گامزن ہوگا۔
تاریخ اشاعت: 2015-02-25

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان