بند کریں
بدھ جنوری

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سونیا کی خود سوزی، خودکشی یا قتل
متوفیہ نے ملزم کی منگیتر کو دھمکی کی بھی دی تھی۔۔۔۔ اصل حقائق کب طشت ازبام ہو ں گے؟
مرزا محمد جمیل:
والدین اپنی اولاد کو پالتے پڑھاتے ہیں جب اولاد بڑی ہوتی ہے تو اگر صحیح پرورش کی ہو تو بڑھاپے میں سہارا بن جاتی ہے۔ اگر ذرا سی کوتاہی بھی کی تو اولاد بگڑکر والدین کے لیے عذاب بن جاتی ہے اور پچھتاوے کے سوا اور کچھ نہیں بچتا۔کچھ اسی طرح کا ایک واقعہ ملتان سے بہاولپور روڈ تقریباََ 20کلومیٹر کے فاصلے پر اڈالاڑآتاہے، یہاں سے شجاع روڑ پر جاتے ہوئے ایک لنک روڈ نکلتا ہے اور 3کلومیٹر کے فاصلے پر باقرپور آجاتا ہے، جہاں پر دل دہلانے والا واقعہ ہوا 23/10/2015 کو سونیا نامی لڑکی جس کی عمر 20سال کے قریب تھی آگ سے جھلس کر بارہ دن تک موت و کشمکش نشتر ہسپتال میں برین یونٹ میں رہنے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 2/11/2015 کو نشتر ہسپتال میں چل بسی ۔
ہوا کچھ یوں کہ ملزم لطیف سونیا کا رشتہ دار تھا اور سونیا کے گھر کے سامنے لطیف کی آٹا چکی کریانہ سٹور کی دوکان تھی سونیا کی پانچ بہنیں اور دو بھائی تھے گھر آمنے سامنے ہونے کی وجہ سے سونیا کو لطیف سے محبت ہوگئی اور تقریباََ ایک سال سے افیئرچلتا رہا تھا بلکہ ایک مرتبہ لطیف کے گھر والوں نے سونیا کو خود اپنے ہاتھوں سے رشتہ داروں کی موجودگی میں سونیا کے والد منیر کو کہا اسکو سنبھال لو یہ حد سے زیادہ گزر رہی ہے لیکن سونیا کے والد نے نوٹس نہ لیا۔
جب لطیف کی منگنی ہوئی تو سونیا نے لطیف کی منگیتر کو دھمکی دی کہا اگر تم نے شادی کی تو اچھا نہیں ہوگا جس سے وہ ڈر گی سونیا نے کئی مرتبہ لطیف کو کہا چلو بھاگ چلیں لیکن لطیف نہ مانا اور یہ سانحہ رونما ہوا۔ ملزم لطیف سے جب پوچھ گچھ کی تو اس نے اپنے بیان میں کہا کہ آگ میں نے نہیں لگائی سونیا نے خود لگائی گزشتہ رات وہ مجھ سے ملنے آئی اور کہا چلو بھاگ چلیں لیکن میں نہ مانا جس سے دلبرداشتہ ہو کر سونیا نے خود کو آگ لگا لی جبکہ سونیا کہ والد منیر نے اپنے بیان میں کہا کہ لطیف رات کو ہمارے گھر آیا سونیا واش روم گئی تو پہلے سے چھپے لطیف نے اسکو پکڑ لیاور اٹھا کر اپنی دوکان پر لے گیا اور زبردستی کی کوشش کی ناکامی پر رسیوں سے باندھ کر آگ لگا دی۔
منیر کے والد نے کہا کہ مجھے انصاف چاہیے اس واقعہ کا وزیراعلیٰ نے فوری طور پر نوٹس لے لیا جس پر پولیس بھی حرکت میں آگئی اور فوری طور پر R.P. O طاہر مسعود یٰسین کے حکم پر c.p.o ملتان اظہر اکرم s.s.p آپریشن عاطف اکرام دیگر افسران کے ساتھ سونیا کے گھر باقر پہنچ گے اور تمام حالات کا جائزہ لیا اہل علاقہ سے بھی پوچھ گچھ کی اور جہاں یہ وقوعہ ہواوہاں کا معائنہ بھی کیا اس موقع پر سی پی او ملتان اظہر اکرم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس واقع کی ہر پہلو سے میرٹ پر تفتیش کر رہے ہیں ہر انسان کی جان اتنہائی قیمتی ہوتی ہے واقعہ میں جو بھی ملوث ہوا اسے کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا اولین مقصد مظلوم کو انصاف فراہم کرنا ہے۔ s.s.p آپریشن عاطف اکرام نے کہا کہ تفتیش کو سائنسی بنیادوں پر حقائق کے مطابق آگے بڑھایا گیا ہے۔ اور مقررہ وقت کے اندر عدالت کو چالان بھجوا دیا جائے گا تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کئے جا سکیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حقائق کیا نکلتے ہیں سونیا کو آگ لگائی گئی یا سونیا نے خود لگائی یہ تو تفتیش کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا۔ بر حال ایک جان تو گئی یہ دوسرے والدین کے لیے ایک سبق اور لمحہ فکر یہ ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-11-12

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان